قبائلی علاقوں میں گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور کب ختم ہوگا؟

قبائلی علاقوں میں گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور کب ختم ہوگا؟، پاک فوج کی کیا مجبوری ہے کہ گڈ طالبان کو سپورٹ دیکر معاشرے میں بدترین بے چینی کی فضاء پیدا کئے ہوئے ہیں؟،ہم اپنی سمجھ اور معروضی حقائق کے مطابق بتاتے ہیں!

جب تک ہماری قوم طالبان بننے کی صلاحیت رکھے گی تو ان میں گڈ اور بیڈ پیدا ہوتے رہیںگے اور دونوں طرف سے استعمال بھی ہونگے اورآسمان سے کوئی بجلی نہیں گرے گی کہ روکے

جب تک اس علاقے میں پراکسی جنگ ختم نہ ہوگی اسوقت تک یہ خطہ اور اس میں بسنے والی پشتون قوم اس عذاب سے نہیں نکل سکتی مگر ہمت کرنے سے بہت کچھ کرنا بھی بالکل آسان ہوگا!

سوشل میڈیا میں نوازشریف کے تنخواہ دارآر ایم ٹی وی (RMTV) کے راشد مراد کھریاں کھریاں میں کہتا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں جنرل راحیل شریف ملوث تھا، اس وقت کا وزیراعظم نوازشریف تھا جس نے جنرل راحیل کیخلاف سب کو متحد کردیا تو کیا ایسے بزدل وزیراعظم کو دوبارہ ہم اپنے ملک پر مسلط ہونے دیں اور جمعیت علماء اسلام کا حافظ حمدللہ اور مولانا غفور حیدری کہتے ہیں کہ مولوی ڈرتا نہیں ہے تو پھر مفتی کفایت اللہ کیا مولوی نہیں ہے؟۔ جھوٹ سے داڑھی رکھ کر مفتی اور مولانا کا اعزاز حاصل کیا ہے اور ڈرتے نہیں تو چھپ کیوں گئے ہیں؟۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔ پہلے طالبان کے بڑے حامی اور فوج کے خلاف تھے مگر پھر کہا کہ طالبان فوج نے مسلط کئے ہیں۔ پھر قوم کا دانشور اور نوجوان طبقہ عمران خان پر جان نچھاور کرتا تھا کہ تبدیلی سرکار بڑا انقلاب لے آئیگا مگر جب عوام نے دیکھا کہ تبدیلی سرکار گدھے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر قلابازی کھارہاہے تو کہتے ہیں کہ فوج نے اس کو ہم پر مسلط کیا۔ جب بڑے دانشور اور سول بیوروکریسی کے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والوں نے عمران خان کی سچائی اور دیانت سے مسلسل دھوکے کھائے تو کیا پاک فوج آسمان سے اترے ہوئے فرشتے ہیں کہ کوئی دھوکہ نہیں کھائیںگے؟۔ حضرت ابوبکر کے دور میں زکوٰة نہیں دینے پر ریاست نے اپنی رعایا کے خلاف طاقت کا استعمال کیالیکن حضرت عمر نے جاتے جاتے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ہم رسول اللہۖ سے پوچھ لیتے کہ زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال جائز ہے یا نہیں؟۔ ائمہ اربعہ نے قرار دیا کہ زکوٰة کے مانعین کے خلاف قتال جائز نہیں ہے لیکن نماز نہ پڑھنے والوں کا قتل ، زدو کوب اور قید کرنا ضروری ہے۔
طالبان نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کیلئے جہاد اور قتال کرنا فرض ہے اور جب اعتماد کی فضاء موجود نہیں تھی تو عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام حضرت طلحہ وزبیر نے بھی خلیفہ راشد حضرت علی سے جنگ لڑی ہے۔ پھر اس وقت کے خوارج جو حضرت علی کے پہلے اپنے ساتھی تھے انہوں نے بھی حضرت علی سے جنگ لڑی ہے۔ ہم اپنے دور والوں کا کیا رونا روئیں؟۔ لوگوں کو اسلئے مذہب سے نفرت ہوگئی ہے۔
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دال میں کیا کالا کالا ہے کہ جانی خیل بنوں میں کئی دنوں تک شمالی وزیرستان کی وزیر قوم کے چار بچوں کو بہیمانہ انداز میں قتل کرکے لاشوں کو مٹی کے نیچے دبایا گیا اور پھر کتوں اور جانوروں نے ان کو نکالا اور نوچ کھایا۔ لواحقین اور علاقہ کے مکینوں نے کئی دنوں تک احتجاج کیا اور ان لاشوں کو اسلام آباد لے جانے کی کوشش کی۔ ساری مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بشمول پی ٹی ایم (PTM) کے احتجاج کرنے والوں سے اظہار یکجہتی کیا ۔ مفتی عبدالشکور بیٹنی اگر احتجاج والوں کیساتھ شریک نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ یہ پی ڈی ایم (PDM) کا مسئلہ نہ تھا تو قومی اسمبلی میں ضرور چند آنسو بہاتے ہوئے رونے کی حسرت پوری کرتا۔
جب کوئٹہ کے ہزارہ برادری کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج ملے اور پشتونوں پر پابندی ہو تو کنٹرول میڈیا کا تأثر اور پشتون قوم کی مظلومیت کا جواز بنتا ہے۔ اورجب قومی میڈیا پر کوئی بات نہیں آتی ہے تو سوشل میڈیا پر ہرقسم کی باتوں میں بڑا وزن لگتا ہے ،چاہے وہ پروپیگنڈہ کتنا ہی جھوٹ پر مبنی کیوں نہ ہو۔یہ صورتحال پشتون قوم کو مزید اندھیرے میں جینے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ معصوم لڑکوں کا قتل بھی غلط ہے اور اگر یہ لوگ واقعی دہشت گرد تھے تو بھی قانون کی گرفت میں لیکر ان کی ذہن سازی کی ضرورت تھی لیکن فوج اور پولیس نے کس کی تربیت کرنی ہے۔ طالبان گڈ ہوں یا بیڈ معاشرے کیلئے ناسور سے کم نہیں ہیں۔ جب سرکار کی سرپرستی میں گڈ طالبان نہ صرف پرورش پارہے ہوں بلکہ اُلٹے سیدھے کاموں میں بھی ملوث ہوں تو پھر لوگوں کیلئے گڈ اور بیڈ ایک ہی ہوتے ہیں۔
سب سے بڑا بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ ہماری ریاست نے گڈ طالبان کو کیوں رکھا ہے؟ وزیرستان کاایک محسود اور وزیر یہ جانتا ہے کہ ہمارے علاقے کا یہ شخص کون ہے؟، کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور کیا کام کرتا ہے؟۔ اگر کوئی یہ ظاہر نہ بھی کرے کہ وہ دوبئی ، اسلام آباد، کراچی یا لاہور میں کچھ عرصہ سے رہ رہا ہے تب بھی وہاں کے باشندوں کو پتہ چلتا ہے کہ اس پر آثار کیا بتا رہے ہیں کہ وہ کہاں رہ کر آیا ہے اور کس کام سے وابستہ ہے۔ جس طرح کراچی کے رہائشیوں میں پتہ چلتا ہے کہ یہ کورنگی کا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی جوانی،ادھیڑ عمر اوراپنا بڑھاپا یورپ میں گزارا ہوتا تب بھی کراچی والوں کو پتہ چلتا تھا کہ یہ کورنگی کے رہائشی ہیں۔ پہلے نانک واڑہ اور اب برمی پاڑہ کے قریب رہائش ہے تو مفتی تقی عثمانی پر اپنے اپنے علاقے کی فضاؤں کے اثرات بھی ضرور مرتب ہوتے۔ اور مفتی زرولی خان ایک عرصہ سے گلشن اقبال میں رہے تھے تو ان کی شکل وصورت پر گلشن اقبال کے اثرات نمایاں تھے۔ لالوکھیت لیاقت آباد ایک علاقہ کے دو نام ہیں۔ ایک بدمعاشی سے کہتے ہیں کہ میں لالو کھیتی ہوں ، پاکستان کی حکومتوں کی تبدیلی میں ہمارا بہت کردار تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ میں لیاقت آباد کا رہنے والا ہوں اور وہ لالوکھیت کے نام پر شرم محسوس کرتا ہے۔ کراچی کے باسی جانتے ہیں کہ کون لالو کھیتی ہے اور کون لیاقت آبادی ہے۔ لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے رہائشی کو کراچی کے باشندوں میں یہ تمیز نہیں ہوسکتی ہے کہ شاہ فیصل کالونی، کورنگی، ملیر، لانڈھی، ڈیفنس، لیاری، اورنگی ٹاؤن اور کراچی کے باسیوں میں کیا فرق ہے؟۔
جب حاجی عثمان پر آزمائش کا دور آیا تو مرید فوجی اپنی گاڑیوں میں ہمارے ساتھیوں کو پکڑ پکڑ کر تھانے لے جاتے تھے۔ شفیع بلوچ کو فوجی افسر نے دھمکی دی تو اس نے کہا کہ جو رات قبر میں ہو وہ باہر نہیں بسر ہوسکتی ہے جو کرنا ہو کرڈالو۔ اور جب عبدالقدوس بلوچ نے بدمعاشی کرنے والوں سے پنجہ آزمائی کی تو حضرت حاجی عثمان نے غصے میں فرمایا کہ ”اوہ لیاری تم کیا کررہے ہو؟”۔
وزیرستان میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ طالبان کو ختم کرنے کیلئے جب تک اسی قوم کے افراد نہیں رکھے جائیں تب تک پنجاب، سندھ، بلوچستان سے آئے ہوئے فوجی تو بہت دور کی بات ہے خیبر پختونخواہ کے سیٹل علاقہ سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی دہشت گردوں اور شریفوں کی پہچان نہیں رکھتے ہیں اور اس مجبوری کو قومی سیاسی ومذہبی جماعتوں اور پارٹیوں کے علاوہ امریکہ اور نیٹو کی افواج بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بھی افغانستان میں اسی طرح جنگ لڑی تھی اور اب تک نہ ان کی جان چھوٹ سکی ہے ، نہ افغانوں کی اور نہ ہماری جانیںآج تک محفوظ ہیں۔ اس جنگ سے نکلنے کیلئے مذہبی طبقات اور سیاسی جماعتوں نے بہت اہم کردار ادا کرنا تھا لیکن دونوں نے کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے گریز کیا اور اپنی جانوں کو مشکلات میں ڈالنا بہت مشکل ہے۔
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی طرف سے گھر ٹھیک کرنے کی بات درست ہے۔ اگر نوازشریف اور آر ایم ٹی وی (RMTV)کے راشد مراد سمجھتے ہیں کہ جنرل راحیل نے آرمی پبلک سکول کا واقعہ کروایا ہے تو کھلم کھلا اعلان کردیں ۔ وہ لندن میں بیٹھ کر اپنی اس جان کو بچائیں جو بچپن سے بڑھاپے تک فوج کی ٹانگوں میں گزری ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کے فیڈر اور نپل پر زندگی بھر گزارہ کیا ہے اور ہم مقابلہ کریں گے لیکن اگر یہ بات نہیں ہے تو راشد مراد جیسے کتوں کو بھونکنے سے منع کردیں۔ اس قوم کی سب سے بڑی کم بختی بد اعتمادی ہے۔ پاکستان جیسی قوم دنیا بھر میں نہیں ہے۔ لیکن چند اشرافیہ نے اس کو تباہ کردیا ہے۔ ہماری فوج، ہمارے سیاستدان ، ہمارے صحافی، ہمارے دانشور، ہمارے تاجر، ہماری عوام ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ حقائق سمجھنے سے قاصر عوام کو معروضی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
جب طالبان شروع میں آئے تو شمالی وزیرستان میں حکیم خان اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے عوام کا جینا دوبھر کیا تھا۔ پولیٹیکل انتظامیہ اور قبائلی ملکان ان کے سامنے بے بس تھے۔ طالبان نے ان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا تو دوبئی میں بھی لوگ ان ویڈیوز کو بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ طالبان کی وجہ سے نامی گرامی بدمعاش بھی توبہ تائب ہوکر طالبان کا حصہ بن گئے۔ ابوجہل وابولہب کو مسلمان بننے سے کون روک سکتا تھا لیکن وہ خود مسلمان نہیں ہوئے ، فتح مکہ کے بعد ابوسفیان نے اسلام قبول کیا تو اس کو عزت بھی بخشی گئی اور یہ وہ قیامت کا منظر تھا کہ جب کافر کہتے تھے کہ کاش ہم اس سے پہلے مٹی میں مل چکے ہوتے۔
یہ ضمیر ضمیر کی بات ہوتی ہے، پہلے ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان نے اسلام اور نبی رحمتۖ کے خلاف جنگ کو اپنے مشرکانہ ایمان اور جاہلانہ غیرت ہی کا تقاضہ سمجھ لیا تھا مگر فتح مکہ کے بعد ابوسفیان کے پاس اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔پہلے بھی اس میں صداقت تھی، قیصرروم سے نبیۖ کا حال بالکل درست بیان کیا تھا۔ جبکہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کا بھی پیچھا کیا گیا تھا۔ اگر کوئی غلیظ قسم کی ذہنیت رکھنے والا شخص ہوتا تو ابوسفیان نے قیصر روم کو درست حال بتانے کے بجائے گمراہ کرنا تھا۔ سورۂ نجم کے حوالے سے تفاسیر کی کتابوں میں شیطانی آیات اس غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ تھے جو پہلے غلیظ مشرکوں نے کیا تھا۔ جس کی وجہ سے حبشہ کے لوگ بھی ہجرت سے واپس آگئے تھے۔ آج کے دور میں غلط پروپیگنڈے کا بڑا زور ہے جو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہے۔ جب تک اپنے حالات کو نہیں سدھاریںگے تو کوئی آسمانی فرشتہ نہیں آئے گا۔
جب طالبان سے پہلے وزیرستان میں حالات خراب تھے تو لوگوں کے ہاں ایک بدمعاش گو خان کی وہ حیثیت اور عزت تھی جو سرکاری قبائلی عمائدین کی نہیں تھی۔ پھر بدمعاشوں کی جگہ طالبان نے لے لی تو عوام میں مقبولیت کے معیار پر بدمعاش طالبان لیڈر پہنچے۔ سرکاری ملکان کی انگریز کے وقت سے طالبان تک ایک کٹھ پتلی جاسوس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں تھی۔ مجھ سے لنگر خیل قوم کے خان نے پوچھا کہ ممتاز بدمعاش کے خلاف ہم نے صاف کاغذ پر پولیٹیکل انتظامیہ کو دستخط کرکے دئیے تھے تو ہم سے حلف اُٹھانے کا کہہ رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ آپ کو زبردستی سے قرآن کا حلف اُٹھانے پر مجبور کرے تو اس نے کہا کہ وہ طالبان بن گیا ہے۔ میں نے کہا کہ پھر تم بھی طالبان بن جاؤ۔ پھر وہ لوگ طالبان میں شامل ہوگئے۔ بہت لوگ اس طرح مجبوری میں طالبان بن گئے۔ لیکن پاک فوج کو یہ پتہ نہیں تھا کہ سرکاری ملکان کے ذریعے طالبان کو راہِ راست پر لانے کیلئے کتنا مؤثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے؟۔ پرویزمشرف نے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے سے قبائل میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالی تھی لیکن اس وقت طالبان اور سرکاری ملکان کے ہاتھوں معاملات خراب ہوچکے تھے۔
قاری حسین کو اپنے علاقہ کے نامور علماء کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نہیں جانتے تھے لیکن ہمارے طالبان عزیزوں سے اسکے اچھے تعلقات تھے۔ پاک فوج نے جن مجبوریوں کی وجہ سے گڈ یا سرنڈرطالبان کو رکھا ہے ان کے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ دہشت گردی سے بچاؤ کا یہ واحد راستہ تھا ۔اگر قبائل میں درست عوامی نمائندوں کا تصور ہوتا تو پھر گڈ طالبان کو رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ کٹھ پتلی سرکاری جاسوس ملکان عوامی نمائندے نہیں تھے ،انگریز کی طرف سے قوم کو یہ ناسور موروثی انداز میں ملا تھا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ وہاں لوگ خانوں ، سرداروں اور نوابوں کو مانتے ہیں اور ہمارے سیٹل ایریا میں بھی نوابوں کی حیثیت تھی لیکن قبائل میں تو انگریزوں کی جاسوسی کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں تھا۔ ہمارا قریبی پڑوسی مثل خان بھی سرکاری ملک تھاجس پر کسی طرح سے بھی نمائندگی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔
جب تک عوام کے سامنے دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل کے معاملے کو اچھی طرح سے واضح نہیں کیا جائیگا تو لوگ معروضی حقائق سے بے خبر ہونگے اور ہر قسم کے دیدہ ونادیدہ افواہوں کے ذریعے سے وزیرستان کے محسود اور وزیر قوموں کو بدنام کیا جائیگا۔ میرے والد صاحب مرحوم سرکاری ملک نہیں تھے لیکن عوام کے بہت نمایاں نمائندے تھے۔ میرے دادا انگریز سے بہت نفرت کرتے تھے لیکن محسود قوم کا ان پر ایک اعتماد تھا۔ طالبان اور سرکاری ملکان قومی نمائندے بن گئے اور اصل نمائندوں کو قتل کیا گیا تو منظور پشتین جیسے لوگوں نے خلاء کو پورا کردیا۔ اگر باہمی اعتماد کیساتھ اچھے لوگوں کو منتخب کرکے قیادت سپرد کردی جائے تو پھر گڈ اور بیڈ طالبان سے جان چھوٹ جائے گی اور اس کیلئے اسلام کا درست تصور اجاگر کرنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani

جواب دیں

Back to top button