قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں

563
0
Quran, Pakistan and Universal Predictions

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کی انتہائی بدترین اور بہت ہی قابلِ رحم حالت

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے علماء ومفتیان کا بڑا نمائندہ اجلاس طلب کیا اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں میڈیا کے صحافیوں کے سامنے اپنے انتہائی بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریری اعلامیہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھ کر سنایا تو اس میں ایک مطالبہ رکھا گیا تھا کہ مساجد سے لاک ڈاؤن کی پابندی ختم کی جائے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن ختم ہے۔ صحافی نے کھلے تضاد پر سوال اٹھادیا۔ مفتی تقی عثمانی نے مائک ہاتھ سے مفتی منیب الرحمن کی طرف کردیاتومفتی منیب الرحمن نے اپنی بات دہرادی کہ لاک ڈاؤن آج سے ختم ہے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے سوال کے جواب میں تحریری مطالبہ دہرایا لیکن جب صحافیوں نے ابہام ختم کرنے پر زور دیا تو علماء نے مزید گفتگو سے بھاگ کر جان کی امان پائی۔ پھر شاہ زیب خانزادہ نے کھینچ تان کر بہت اگلوانے کی کوشش کی کہ مفتی منیب کے بیان کی کیا حیثیت ہے؟ مگرمفتی تقی عثمانی نے آخری حد تک ٹال مٹول سے کام لیکر کہا کہ ہمارا حکومت سے معاہدہ ٹوٹ چکا تھا۔ البتہ آئندہ کیلئے ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

مفتی منیب الرحمن نے اپنے رویہ کو چھوڑ کر بہت ہی قابلِ تحسین اقدام اٹھایا ہے

جب مشترکہ اعلامیہ کے بعد مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن ایکدوسرے سے کھلم کھلا تضاد رکھنے کے باوجودصحافیوں کو اطمینان بخش جواب دینے سے کنی کترا رہے تھے تو پھر کسی اور مؤقف پر ان سے واضح مؤقف رکھنے اور عوام کو رہنمائی فراہم کرنے کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟۔ افسوس کہ مذہبی طبقات پھر بھی سوشل میڈیا پر انکے دفاع کی خدمت کررہے ہیں۔
قرونِ اولیٰ اور قرون اُخریٰ کے ادوار کا تفصیل سے قرآنی آیات میں ذکر ہے لیکن فرقہ واریت کے رنگ بدلتے ہوئے گرگٹوں نے کبھی اس پر توجہ نہ دی اور آج بھی ان سے توقع نہیں کہ حقائق کو ایمان کے تقاضوں کے مطابق مان لیںگے۔قرآن میں صحابہ کرام کو واضح طورپر رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا تمغۂ امتیاز دیا گیا ہے مگر شیعہ سنی کا صحابہ پر اختلاف ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء راشدین المھدیین ” تم پر میری سنت کی اتباع لازم ہے اور خلفاء راشدین مہدیوں کی سنت کی اتباع لازم ہے”۔
جب حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی کے راشد ومہدی ہونے پرہی شیعہ سنی کا اتفاق نہیں تو آئندہ کے مہدیوں پر کیسے اتفاق ہوسکتا ہے؟۔بس اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا میں امام مہدی تشریف لائیںگے اور ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا۔ کیا اس انقلاب کا ذکر بہت واضح انداز میں قرآن کریم میں نہیں ہوسکتا ہے؟۔ ہے اور بالکل واضح طور پر ہے!۔ نبیۖ نے امیر معاویہ کیلئے بھی دعا مانگی تھی کہ ” اے اللہ اس کو ہادی اور مہدی بنادے”۔ مگر اہل تشیع کا مؤقف یہی ہوسکتا ہے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی۔ جبکہ اہلسنت کے نزد ابوطالب کیلئے نبیۖ نے ہدایت کی دعا مانگی مگر اللہ نے فرمایاانک لاتھدی من احببت ۔ہمیں پہلوں کے بارے میں بحث چھوڑ کر اپنا مستقبل گمراہی سے بچانے کی فکر کرنا ہوگی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری اور مفتی رفیع عثمانی بھی حدیث پراب غلطی کا ازالہ کریں

ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح قرآن کریم قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کیلئے بھی رشد وہدایت اور مقربین بارگاہ الٰہی کا ذریعہ بن گیا تھا،اس طرح قرون اُخریٰ میں کم تعداد ہی کیلئے سہی مگر مقربین بنانے کا ذریعہ بن جائیگا اور بڑی تعداد میں لوگوں کے رشدو ہدایت کا ذریعہ آخری دور میں بھی بنے گا۔ جسکا سلسلہ اس درمیانہ دور یانصف آخر سے لیکر بالکل آخری دور تک چلتا رہے گا۔ نبی ۖ نے بارہ خلفاء کا ذکر فرمایا جن پر امت نے متفق ہونا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ” الحاوی للفتاویٰ” میں اس حدیث کی یہ تشریح لکھ دی کہ ” ابھی تک یہ بارہ خلفاء آئے نہیں ہیں جن پر امت کا اتفاق ہوا ہو”۔ ڈاکٹر طاہر القادری و مفتی رفیع عثمانی نے علامہ جلال الدین سیوطی کی اس کتاب کے حوالہ جات نقل کرکے بہت بڑی خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ مہدی کے بعد پھر قحطانی امیر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ مہدی چالیس تک رہیں گے۔ پھر قحطانی امیر منصور ہوگا، جسکے دونوں کان میں چھید ہوگا۔ وہ مہدی کی سیرت پر ہوگا۔ پھر نبیۖ کے اہل بیت میں سے آخری امیر ہوگا جو نیک سیرت ہوگا”۔ڈاکٹر طاہرالقادری اورمفتی رفیع عثمانی نے ان روایات کے اندراصلی روایت مہدی اور قحطانی کو چھوڑ کر پھر تشریحی روایت سے صرف آخری امیر کا ذکر لے لیا۔ ہم نے اپنی کتابوں میں مسلسل احتجاج کیا کہ اس خیانت سے اعلانیہ توبہ کی جائے مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ علامہ یوسف بنوری کے شاگرد نے اپنی کتاب میں مہدی کے حوالہ سے بہت تفصیل سے روایات کا ذکر کیاہے جہاں مہدی اور قحطانی امیر منصور کے درمیان بھی کافی واقعات ،انقلابات اور امیر مقرر کرنے کا ذکر ہے مگر پھر ملاعمر سے مہدی و منصوربھی مراد لیا ہے۔ علماء ومفتیان اور دانشور مل بیٹھ کر اچھے نتیجے پر پہنچ جائیں۔


عالمی پیشین گوئیاں نامی کتاب میں پاکستان کی دنیا پر حکمرانی کا معاملہ واضح!

قرآن کریم میں پندرھویں صدی ہجری میں طلوع فجر اسلام اور انقلاب عظیم کی خبر

تعارف: جناب علی محمد ماہی صوفی با صفاء بزرگ صحافی، معروف ادیب اور عارف شاعر ہیں۔ جناب ماہی صاحب نے 1988ء میں اپنی تصنیف لطیف ”سر الاسرار” المعروف یوم الفصل 1989۔ 1999پیش کرکے صاحبان علم و حلم اور اہل عرفان سے قلبی اور لسانی داد حاصل کی ہے۔ ”یوم الفصل” میں آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی روشنی میں جناب ماہی صاحب نے پورے ایمان کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ 1989ئ سے 1999ء تک ”دنیا” میں کیا ہوگا۔ خصوصاً اسلام اور اسلامیان عالم پر کیا گزرے گی۔ کتاب ”یوم الفصل” کے مندرجات کو ”فیصل” تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ 1991ء سے 1999ء تک کے حالات بھی ہمیں سر الاسرار یوم الفصل کے آئینہ میں اسی طرح دکھائی دیں گے یا پیش آئیں گے جیسا کہ ”سر الاسرار” میں بیان کیا گیا ہے۔ (عالمی پیشین گوئیاں)۔ میں نے اس کی کئی پیشگوئیاںاپنی کتاب” صحیفۂ انقلاب ”میں پاکستان سے متعلق درج کردی تھیں۔

جناب علی ماہی کی کتاب ”سرالاسرار المعروف یوم الفصل” قرآن کی بنیاد پر ہے

جناب علی محمد ماہی نے سن عیسوی1988ء کے مطابق اپنی کتاب ” سرالاسرار المعروف یوم الفصل” میں قرآنی سورتوں کی ترتیب کیساتھ ذکر کیا۔ ہم نے اسکا ذکر غالبًا94ء میں دیکھا اور اپنی تحریک سے مناسب اسلئے لگی کہ 91نمبر سورہ الشمس ہے اور ہم نے 1991ء میں عالمی انقلاب کا اعلان کیا۔پھر اپنے مرشد حاجی محمدعثمان کیساتھ پیش ہونے والے حالات کا جائزہ لیا جو1987ء ،1988ء ،1989ء اور 1990ء سے بہت مناسبت لگ رہی تھی۔
ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا پریشان ہے اوردوسری طرف امام مہدی کے ظہور کی گردان ہے۔ طارق اسماعیل ساگر نے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر کا ہیڈ کواٹر امریکہ میں ہے اور اسکے اہلکاروں کی تنخواہ امریکی آرمی چیف کے برابر ہے۔ پاکستان میں بھی بہت زیادہ رقم لگائی ہے۔ قبائلی علاقہ میں بھی بہت خرچہ کرنے کا پروگرام تھا۔پاکستان کے خلاف بڑی عالمی ساشوں کے علاوہ وزیرستان کو جس طرح سے تباہ وبرباد کرنے کی کوششیں کی گئیں ہیںیہ سب ایک طرف شیطانی قوتوں کا جال تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنی چال چل رہا تھا۔
قرآن میں کچھ آیات محکمات ہیں اور کچھ متشابہات ہیں۔ محکمات پر عمل کرنا اہل علم وایمان کا کام ہے اور متشابہات کے پیچھے پڑنے سے گمراہی کا خدشہ ہوتا ہے۔ مفسرین اپنی اپنی عقل کا تیر چلاتے ہیں مگر ان کی بات غلط ہوتی ہے جب زمانہ قرآن کی درست تفسیر کردیتا ہے۔ تفسیر بالرائے کی مذمت ہے۔ معاملہ واضح نہ ہو تو اسکے پیچھے پڑنے میں علمی موشگافیوں کے سواء کچھ نہیں ملتا اسلئے راسخون فی العلم کا کہنا یہی ہوتا ہے کہ بس ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ مولانا بدر عالم میرٹھی نے امام مہدی کے حوالہ سے حاشیہ لکھا کہ ”حدیث میں جتنی بات ہے، ہم اسی قدراس کو نقل کریں، جب وقت آئیگا تو ہر بات تفصیل سے سامنے آئیگی”۔

لھوالحدیث کا وجودقرآن کے نزول کے وقت نہیں تھا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی

سورۂ ابراہیم، بنی اسرائیل اورالحجر میں اہل مکہ اورآخری دور کے انقلاب عظیم کا جو نقشہ ہے تو آیات کو دیکھ کر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح چودہ سوسال پہلے ان کا نازل ہونا ،پھر ثابت ہوجانا بڑا حیرت انگیز تھا، آج اسی طرح اتمامِ حجت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اور یہ معلوم ہوتاہے کہ جس طرح آج کے دور ہی میں بعض آیات نازل ہوئی ہوں۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیرتعلیم تھے تو مولانا ابوالحسن علی ندوی نے نیوٹان مسجد میں تقریر کی تھی۔ ایک بات یہ کی تھی کہ قرآن میںانّ ھٰذا لشئی عجاب پرایک یہودی نے اعتراض کیا تھا کہ اس جملے کا عربی لغت سے تعلق نہیں ہے تو ایک اعرابی سے اس نے کہا کہ بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا، پھر کہا کہ اٹھ جاؤ،تو وہ اُٹھ گیا۔ متعدد مرتبہ اٹھک بیٹھک کرانے کے بعد اس سے کہا کہ اب جاؤ تو اس اعرابی نے کہا کہ انّ ھٰذا لشئی عجاب تو وہ یہودی مان گیا تھا۔مولانا ندوی نے دوسری بات یہ کہی تھی کہ قرآن میں لیشتری لھوالحدیث کا ذکر ہے جبکہ اس دور میں بات کو خریدنے یا فروخت کرنیکا کوئی تصور نہیں تھااسلئے کہ آڈیو کا تصورتو بہت بعد کی پیداوار ہے۔ اللہ کے کلام کا یہ اعجاز ہے کہ جو چیز وجود میں نہیں آئی تھی اس کا ذکر اتنا عرصہ پہلے کردیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اور رسول (ۖ) کہیں گے کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (القرآن)۔جب قرآن نازل ہواتھا تو اس وقت قرآن چھوڑنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا مگر دیوبند کے اکابرعلماء کے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسن جب مالٹا کی قید میں چند سال رہے تو اپنے درسِ نظامی اور علمی موشگافیوں کو قرآن چھوڑنے اور فرقہ واریت کا ذریعہ سمجھ لیا ، جس کی وجہ سے امت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلانے کی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ رنگ دینا معروضی حقیقت ہے۔

سورۂ ابراہیم میں تاریخ کے ادوار کا نقشہ پیش کرکے اندھیرے سے روشنی کا سفر!

سورۂ ابراہیم میں امت مسلمہ موجودہ حالات کو دیکھ کر اپنی تبدیلی کا فیصلہ کرے ۔اسلئے کہ فرمایا: الرٰ کتٰب انزلٰنہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الیٰ النور ………… .” الف، لام ، را۔کتاب ہے جو ہم نے آپ(اے محمدۖ) کی طرف نازل کی ہے تاکہ آپ اسکے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں۔……………..”۔
فرمایا: کافروں کیلئے ہلاکت ہے شدید تباہی سے ، جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں۔ یہی لوگ دُور کی گمراہی میں ہیں اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس کی قوم کی زباں سے،تاکہ کھول کرسمجھائے ان کو۔ …… ہم نے موسیٰ کو بھیج دیا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاؤ۔ اور ان کو اللہ کے ایام سے یاد دلادے۔ (تاریخی اعتبار سے معرکۂ حق وباطل میں دن بدلے گئے ہیں) بیشک ان میں نشانی ہر زیادہ سے زیادہ صبر اور شکر کرنے والے کیلئے اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو تمہارے اوپر اللہ نے کی ہیں ۔ جب تمہیں آل فرعون سے ہم نے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کوزندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف بہت بڑی آزمائش تھی۔اور موسیٰ نے کہا کہ اگر انکار کروتم اور جو زمین میں ہیں سب، تو اللہ بے پرواہ قابل تعریف ہے۔ کیا تمہیں خبریں نہیں آئیں تم سے پہلوں کی؟۔ قوم نوح، عاد، ثمود اور جو ان سے بعد آئے ان کی۔ ان کو کوئی نہیں جانتا مگر اللہ۔ انکے پاس ہمارے رسول آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنی منہ کی طرف موڑ دئیے اور انہوں نے کہا کہ جس کو تم لائے ہوہم اسکا انکار کرتے ہیںاور بیشک ہم شک میں ہیں جس کی طرف ہمیں بلاتے ہو ، ہم شبہ میں ہے۔سورہ ابراہیم

قرآن کا مقصد پہلوں کی نشاندی سے مستقبل کی رہنمائی اور حجت کا اتمام ہے!

ارشاد باری؛”رسولوں نے کہا کہ کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کو بنانے والے (کے کلام) میں شک ہے؟۔ جو تمہیںگناہوں کی مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور تمہیں مقررہ مدت مہلت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو ہماری طرح بشر ہیں۔تم لوگ چاہتے ہو کہ ہمیں روک دو، اس سے جس کی ہمارے آباء واجداد پوجا کرتے تھے۔پس کوئی کھلی نشانی لیکر آجاؤ۔ رُسل نے ان سے کہا کہ ہم نہیں مگر تمہاری طرح بشر لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے فضل فرما دے۔ہمارا کوئی اختیار نہیں کہ کوئی نشانی لائیں مگر اللہ کے اذن سے۔ پس اللہ پر مؤمنوں کو بھروسہ ہوتا ہے۔ منکروں نے رُسل سے کہا کہ ہم تمہیں ضرور اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم نے ضرور ہماری ملت میں واپس لوٹنا ہوگا۔پس اللہ نے ان کو بتادیا کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ پھر انکے بعد تمہیں اس زمین میںٹھکانہ دینگے۔ یہ اس کیلئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا۔اور وعید سے ڈرے۔ پس انہوں نے فتح مانگ لی اور ہر جابر عناد رکھنے والا خاکستر ہوا۔ پھر اسکے پیچھے جہنم ہے۔ پیپ کا پانی سے پلایا جائیگا جس کو اتارنے کی کوشش کریگا اور مشکل سے اتریگااور موت ہر طرف سے آئے گی مگر وہ مرتا نہیں ہوگا اور اسکے بعد بہت سخت عذاب اسکے پیچھے ہے۔ ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب( کے احکام) کا انکارکیا،انکے اعمال اس راکھ کی مانند ہیں جس کو طوفان کے دن ہوا نے شدت سے اڑا دیا ہو، وہ اپنی کمائی پر قادر نہیں ہوسکیںگے۔(نماز ، روزے، خدمت) یہی وہ دُور کی گمراہی ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق بنایا۔اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لیکر آجائے۔ اور یہ اللہ کیلئے کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔ یہ سب ہی اللہ کیلئے بے نقاب ہونگے۔ کمزور لوگ بڑائی کے طلبگاروں سے کہیں گے کہ کیاتم ہمیں اللہ کے عذاب سے نجات دلاسکتے ہو؟۔تو (نام نہاد اکابر) کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہدایت دی ہوتی تو تمہیں ہدایت دیتے۔ ہم پر برابر ہے کہ واویلا کریں یا صبر کریں ،ہمارے لئے کوئی چھٹکارا نہیں۔

انقلاب عظیم برپا ہوگا تو ظالم چند دن کی مہلت مانگیںگے مگر غریب کا حق دینا پڑیگا!


اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکا ہوگا (جب حالات انقلاب سے بدل جاتے ہیں ) کہ بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا حق کاوعدہ اور میں نے وعدہ دیا مگر میں نے اسکے خلاف کیا۔ مگر میری تمہارے اوپر کوئی زبردستی نہ تھی مگر یہ کہ تمہیں دعوت دی اور تم نے قبول کی میرے لئے۔ پس تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفسوں کو ملامت کرو۔میں تمہارے لئے چیخ سکتا ہوں اور نہ تم میرے لئے چیخ سکتے ہو۔ بیشک میں انکار کرتا ہوں جس بنیاد پر تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنارکھا تھا۔(اللہ کے احکام کی بجائے میری مانتے تھے) بیشک ظالموں کیلئے دردناک عذاب ہے۔اور جنہوں نے ایمان لایا اورنیک عمل کئے،انکو باغات میں داخل کریگا جسکے نیچے نہریں بہتی ہونگی جس میں وہ ہمیشہ رہیںگے،اپنے رب کی اجازت سے( فرعون کی طرح نہیں)ان کا استقبال اس میں سلام ہوگا۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کیسے مثال دی پاک کلمے کی پاک درخت سے جس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوں،وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے رب کی اجازت سے دیتا ہے۔ (اہل حق کی تحریکوں کے نتائج اچھے نکلتے ہیں) اور مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ سبق لے لیں۔ اور خبیث بات کی مثال خبیث درخت کی طرح ہے جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے اور اس کیلئے کوئی استحکام نہیں ہوتا ہے۔اور اللہ ایمان والوں کو ثابت قول کے ذریعے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت کردیتا ہے( جیسے پہلے صحابہ کرام اور آخر میں واٰخرین منھم:سورہ جمعہ میں اہل فارس انقلاب عظیم والوں کو کریگا) اور آخرت میں بھی۔اور ظالموں کو اللہ گمراہ کردیتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

انقلاب کے بعد خریدوفروخت اور دوستی کا فائدہ نہ ہوگا، پہلے خرچ کریں!

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل ڈالا( علماء ومفتیان نے قرآن کو اور حکمرانوں نے لوٹ مار کے ذریعے ملکی وسائل کو) اور اپنی قوم کو پہنچا دیا ہلاکت کے گھر میں(دہشت گردی، افلاس، قرضے، کرایہ کی جنگ، لٹیرے مافیاز) جہنم ہی میں یہ پہنچیںگے اور یہ بدترین جائے قرار ہے۔اور اللہ کیلئے ہمسر بنادئیے تاکہ لوگوںکو راہ سے گمراہ کردیں۔ کہہ دیجئے کہ فائدہ اُٹھالو مگر تم نے آگ کی طرف ٹھکانہ بناناہے۔ کہہ دیجئے میرے بندوں کو جو ایمان لائے کہ نماز کو قائم کریںاور خرچ کریں جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے چھپ کر اور اعلانیہ اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے کہ جس میں خرید وفروخت اور دوستی نہیں رہے۔ (انقلاب عظیم کے بعد جنت کا سا ماحول ہوگا، خریدوفروخت کی حیثیت نہ ہوگی اور مفاد پرستانہ دوستی ختم ہوگی۔ ریاست کے اہلکار محافظ ہونگے اور لٹیروں کو فارغ کردیا جائیگا) اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اورآسمان سے پانی برسایا، جس کے ذریعے پھل نکالے ،جوتمہارے لئے رزق ہے اور تمہارے لئے کشتیوں کو مسخر کردیا تاکہ تم سمندر میں تیر سکو اسکے حکم سے اور تمہارے لئے نہروں کو مسخر کردیا ہے۔ تمہارے لئے سورج اور چاند کو ہمیشہ سے مسخر کررکھا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کیا ہے اور جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے اس سے مانگا۔اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہتے ہو تو اسکا شمار نہیں کرسکتے۔ بیشک پھر بھی انسان بہت ظالم اور ناشکرا ہے”۔ (سورۂ ابراہیم ) ایک ایک آیت میں انقلاب کا نقشہ اور ہدایت ہے۔پاکستان میں آزادی کے بعد کوسنی نعمت نہیں؟۔ اگرحیدر آباد کی جھیل سے ہی کراچی کیلئے نہرنکالی جائے اور سہراب گوٹھ کی بہت ساری مشینری اس پر لگ جائے تو کراچی کی عوام خوشحال ہوجائینگے۔ عمران خان کالاباغ کی بات کیوں نہیں کرتا ہے؟۔

مجذوب فرنگی مرزا غلام قادیانی اور عمران خان کے ذریعے انقلاب خام خیالی!

مجذوبِ فرنگی مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے دور میںغلط انقلاب کا خواب دکھانے کی کوشش کی تھی اور عمران خان نے کانیگرم وزیرستان کے لوگوں کو غلط طور پر ماموں بنایا تھا جو بعد میں کراچی والوں کو ماموں بنانے کی کوشش کررہاتھا کہ میری ماں مہاجر ہے۔ اوریا مقبول جان نے کسی کا خواب بتایا کہ رسول اللہ ۖ نے جنرل باجوہ کو تحفہ دینا چاہا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لینے کی کوشش کی ،جس پر حضرت عمر نے جنرل قمر باجوہ کو دائیں ہاتھ پر تحفہ لینے کا کہا اور پھر اس نے دائیں ہاتھ سے تحفہ وصول کیا۔ پاکستان کیلئے نوازشریف اور اسکے بعد عمران خان کی لیڈر شپ کا انتخاب اچھا نہیںثابت ہورہاہے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہاتھ پر ہی کوئی معجزہ رونما ہوسکتا ہے۔ جعلی اہلبیت مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم جیسے غیر انسانی اور غیراخلاقی روش کا مظاہرہ کرکے بھی مہدی ومسیح ونبوت کا دعویٰ کردیا اور عمران خان نے نیازی چھوڑ کر اپنی ماں سے کبھی کانیگرم کا برکی اور کبھی ہندوستان کا مہاجر خود کو بنایا لیکن نسب باپ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ باپ مقامی ہو تو بیٹا مقامی اور باپ مہاجر ہو تو بیٹا مہاجر، اگرباپ نیازی ہو تو بیٹا نیازی ۔ ماں سے کوئی برکی یا مہاجر نہیں بنتا ہے۔ پاکستان میں اس انقلاب عظیم کی آمدہوگی انشاء اللہ جس کی بنیاد پرپوری دنیا کی اقدار بدل جائیں گی۔سورہ ابراہیم میں اللہ نے ابراہیم کا تذکرہ کرنے کے بعدفرمایا:” گمان نہ رکھیں کہ اللہ غافل ہے ظالموں کے عمل سے۔ ہم ان کو ٹال رہے ہیں اس دن کی طرف جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیںگی۔ سر اٹھائے بھاگتے ہونگے اور ان کی طرف ان کی نظریں نہیں لوٹتی ہونگی۔انکے دل ہوا ہوں اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ کہ جب عذاب آئے تو ظالم کہیں کہ ہمیں قریب کی مہلت دیدو۔ ہمیں آپ کی دعوت قبول ہے اور رُسل کی اتباع کرتے ہیں۔کیا تم قسمیںنہیںکھایا.

ہند کے ظالم مودی اور اسکے یاروں کو زنجیروںمیں جکڑا جائیگا۔ انشاء اللہ

کرتے تھے کہ تمہارے لئے زوال نہیں ؟(سیاسی ، اسٹیبلشمنٹ، مذہبی اثرورسوخ کی بنیادپر) اور تم ان لوگوں کے ٹھکانوں میں رہے جنہوں نے ظلم کیا اور پھر ان کوتم پر واضح کیاکہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟۔ اور ہم نے تمہیں مثالیں دیں۔ تحقیق انہوں نے اپنی چالیں چلیں اور اللہ کے پاس ان کی چالیں ہیں اور اگرچہ ان کی چالوں سے پہاڑ ہل جائیں(تورا بوراکا منظر اور اس سے زیادہ کی صلاحیت کفار میں موجود ہے)اور گمان مت رکھو کہ اللہ اپنے وعدے کی مخالفت کریگا اپنے رسولوں سے (قرآن میں اہل حق کا عظیم غلبہ موجود ہے) بیشک اللہ غالب ہے انتقام والا ہے۔ اس دن ہم زمین کو بالکل دوسری زمین سے بدل ڈالیںگے اور آ سمانوں کو اور سب کچھ ظاہر ہوا ایک اللہ کیلئے جو قہار ہے، اس دن مجرموں کو دیکھوگے کہ زنجیروں میں جکڑے ہونگے( ہند کے ظالم حکمران مودی اور اسکے یاروں کی شامت آسکتی ہے)اور انکی شلواریں اس دن گندھگ کی ہوں گی( گرم گرم ہوائیں خارج ہورہی ہوں گی) اور انکے چہروں کو شعلے چھپارہے ہونگے۔ تاکہ ہر انسان کو اس کی کمائی کا بدلہ مل جائے۔ بیشک اللہ بڑا جلد حساب لینے والا ہے۔ یہ لوگوں تک ایک پیغام ہے اور اسکے ذریعے لوگوں کو ڈرایا جائے۔ اور اسکے ذریعے لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ واحد الہ ہے اور عقل والے اس سے نصیحت لیں”۔
سورۂ ابراہیم کے علاوہ سورہ الحجر ، سورۂ بنی اسرائیل ، سورۂ شوریٰ وغیرہ میں بھی بہت واضح دلائل ہیں۔ قرآن موجودہ دور کے انقلاب کا سب سے بڑا اور بنیادی ذریعہ ہے۔ محکم آیات پر بھی ہمارے ہاں عمل نہیں ہورہاہے۔ علماء ، سیاستدان اور حکمران دنیا کی بدولت آخرت اور برائی کی بدولت اچھائی کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اگر شلوار میں مرچ کا خوف ہو تو کوئی بھی لوٹ مار اور نااہلی کا مظاہرہ نہیں کریگا۔ جب تک درست سزاؤں کا عمل نہ ہو کوئی قوم سدھر نہیں سکتی ہے۔