خواتین اپنے حقوق کیلئے قرآنی آیات کو ملاحظہ کریں!

504
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ نورالسمٰوٰت والارض مثل نورہ کمشکٰوة فیھا مصباح المصباح فی زجاجة الزجاجة کانھا کوکب دری یوقد من شجرة مبٰرکة زیتونة لاشرقےة ولاغربےة یکاد زیتھا یضی ء ولو لم تمسسہ نارنور علی نور یھدی اللہ لنورہ من یشاء ویضرب اللہ الامثال للناس واللہ بکل شیء علیمO ( سورة النور :35) ”اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے، اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہواور چراغ قندیل میں ہو اور قندیل جیساکہ چمکتا ہوا ستارہ ہو۔جو مبارک درخت زیتوں سے روشن ہورہا ہو۔ یہ قندیل نہ مشرق زدہ ہو اور نہ مغرب زدہ۔ قریب ہے کہ اسکا تیل روشنی دے اگرچہ اس کو آگ بھی نہ چھوئے۔ یہ نور علی نور ہے۔ جس کو اللہ چاہتا ہے اپنے نور کی رہنمائی دیتا ہے۔اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔
اللہ کانور علی نور فقہاء کی خود ساختہ شریعت ظلمات بعضہا فوق بعض کے برعکس بالکل واضح ہے۔ مولانا فضل الرحمن طالبان کی تائید کرتا تھا کہ زبردستی سے بھی مردوں کو داڑھی رکھوانا جائز ہے مگرپاکستان کی شریعت اپنے ماحول کے مطابق بتائی تھی اور اکرم درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر علماء ومفتیان کی بڑی تعدادکے باوجود بھی وزیراعلیٰ بنوادیا تھا۔قاضی حسین احمدنے اپنی بیٹی ہی کو ایم این اے بنوادیا تھا۔
سورۂ نور کی پہلی آیات میں مسائل کو مغرب ومشرق سے بالاتر ہوکر حل کیا گیا۔ 1: عورت اور مرد سب کیلئے یکساں سزا کی وضاحت کردی ۔ 100کوڑے اعلانیہ مارے جائیں تو مساوات کا سبق ملے گا۔ عورت شادی شدہ ہوتی تھی یا کنواری لیکن غیرت کے نام پر قتل کردی جاتی تھی۔ عورت پر بہتان کی سزا 80کوڑے لگانے کا حکم ہے۔ اس میں اشرافیہ اور غریب خواتین کی عزتیں اور ان کی سزائیں برابر ہیں۔ 2: عورت پر بہتان کے بعد چار گواہ نہ لائے جائیں تو بہتان لگانے والے جھوٹے ہیں اور ان کی گواہی ہمیشہ کیلئے قبول نہیں کی جائے گی،یہ سب کیلئے قابل قبول ہے ۔ 3: زناکار مرد نکاح نہیں کرتا مگر زناکار عورت یا مشرکہ سے اور زناکار عورت کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زناکار مرد یاپھر مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے۔ 4: اگر مردوں میں سے کوئی اپنی بیگمات کے خلاف بولیں تو ان کیلئے لعان کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے جس میں مرد اور عورت کی گواہیاں بالکل برابر اور مساوی ہیں۔
قرآن نے سورۂ نور کی ابتدائی آیات میں معاشرتی نظام کا جو نقشہ پیش کیا ہے تو اس میں مشرق ومغرب کا کوئی فرق نہیں ۔ لیکن مردوں نے ان قوانین کی بہت کھل کر خلاف ورزیاں کی ہیں اسلئے خواتین کی بغاوت کا جذبہ بھی فطری ردِ عمل ہے اور اس میں قصور قرآن وسنت سے ناواقف خواتین کا نہیں بلکہ ہٹ دھرم اور بے شرم علماء ومفتیان کا ہے جو قرآن وسنت کی واضح تعلیمات سے بالکل منحرف ہوگئے ۔
میں نے آپ نیوز اور زوم نیوز نیٹ ورک کوالگ الگ انٹرویو دیا تھا مگر مختصر انٹرویوز کو نشر کرنے کی جرأت بھی نہیں کی گئی۔لاہور عورت مارچ میں زیادہ تر لوگ مخالفت ہی کیلئے میدان میں اترے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اس دھمکی کے بعد بتایا جارہاتھا کہ پہلے سے کم تعداد میں خواتین آئی ہیں۔ ہم نے اسلام آباد عورت مارچ کو قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے پروٹیکشن پر اطمینان کے بعد فیصلہ کیا کہ لاہور عورت مارچ کے آرگنائزروں کو کچھ دلائل سمجھاتے ہیں مگر ان سے پریس کلب میں ملاقات طے ہونے کے باوجود بھی ملاقات نہ ہوسکی۔ جب پتہ چلا کہ اسلام آباد میں حالات خراب ہیں ، مرد طلبہ نامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشکل وقت میں 9اور2گیارہ ہونے کی بات کررہے ہیں۔ ایک طرف علماء نے مشتعل ہجوم کے ذریعے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور دوسری طرف عورت مارچ کا انتظامیہ خوف وہراس کا شکار تھا تو ہم نے اسلام آباد پہنچنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
علماء ومفتیان کو مجھے انکے اپنے اسٹیج سے یا خواتین کے اسٹیج سے حقائق سے آگاہ کرنا تھا لیکن نہیں پہنچ سکا۔ پھر ڈی چوک میں بھی اس وقت ہم پہنچے جب پروگرام ختم ہوچکا تھا اور خواتین کو پریس کلب تک جانے میں خوف محسوس ہورہاتھا۔ ہم نے پہنچ کر یہ حق ادا کرنے کی کوشش کی کہ خواتین پر حملہ ہونے سے پہلے ہم اس کی زد میں آجائیں۔ جب پریس کلب سے ڈی چوک جانے کیلئے خواتین گئی تھیں تب بھی ان کے ساتھ ہماری نوشتۂ دیوار کی ٹیم ساتھ ساتھ گئی تھی۔ شاید خواتین کو پہلے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ یہ مولوی حضرات کے بھیجے ہوئے لوگ تو نہیں ہیں۔ ہم نے اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ کوئٹہ، کراچی، سکھر، حیدر آباد، میرپورخاص، نواب شاہ اور خیرپور میں بھی نوشتۂ دیوار کا شمارہ خوب عام کیا تھا جس سے علماء اور مذہبی طبقے کی بہت حوصلہ شکنی ہوئی ہوگی۔ ان کے پست حوصلوں کا نتیجہ ہی یہ نکلا تھا کہ وہ ناکام ہوگئے۔
اگر خواتین نے علماء ومفتیان کے خلاف دھمکیوں ، سازشوں اور ظلم وجبر کا نظام جاری کیا ہوتا تو پھر ہم نے علماء اور مذہبی طبقے کا ساتھ دینا تھا۔ ہماری ہمدرد یاں تمام مظلوم اور مجبور عوام کیساتھ ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے تو وہاں کی لتا حیاء شاعرہ ہندو خاتون نے مودی کے خلاف اپنی آواز بلند کررکھی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ ”حضرت لبید نے اپنی زندگی میں کہاتھا کہ ہم نے بہت زبردست زمانہ دیکھا تھا لیکن اگر وہ لوگ زندہ ہوتے تو کیا کہتے ۔ لیکن اگر لبید نے ہمارا زمانہ دیکھا ہوتا تو کیا کہتے؟”۔ جب ایک خاتون نے طلاق کے بعد تیسرے حیض میں عدت پوری سمجھ کر شوہر کا گھر چھوڑ دیا تو لوگوں نے کہا کہ قرآن کی خلاف ورزی ہوگئی ہے لیکن حضرت عائشہ نے فرمایا کہ قرآن میں عدت کے تین اَقراء سے اطہار مراد ہیں۔اس نے ٹھیک کیا ہے۔ حنفی فقہاء نے حضرت عائشہ کے قول کو قرآن کے منافی قرار دیدیا۔ نبیۖ نے حضرت عائشہ اور ازواج مطہرات سے فرمایا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حضرت عائشہ نے حج بھی کیا اور شام کے لشکر کی قیادت بھی کی۔ حضرت عمر کے بہنوئی مار کھا رہے تھے مگر آپ کی بہن نے للکارا کہ تم خطاب کے بیٹے ہو تو میں بھی خطاب کی بیٹی ہوں اور تم جو کچھ کرسکتے ہو کرڈالو، ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ عمر اپنی بہن کی جرأتمندانہ للکارسے مرعوب ہوکر اسلام لائے۔ علماء دہشت گردوں سے خوف کھا رہے تھے تو بینظیر بھٹو نے للکارا۔ جب نواز و شہبازشریف نے پرویزمشرف کیساتھ ڈیل کی تھی تو نصرت شہباز اور کلثوم نوازنے میدان میں مقابلہ کیا تھا۔ جب ولی خان کو جیل میں ڈالا گیا تو بیگم نسیم ولی نے میدان سنبھالا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو نصرت بھٹو ہی میدان میں اتری تھی۔ حضرت حسین کی شہادت کے بعد تحریک کی روحِ رواں آپ کی ہمشیرہ حضرت زینب نے تحریک کامیدان سنبھالا تھا۔
جب اسلام آباد دھرنے میں ایک بوڑھی خاتون سے کہا گیا کہ آپ چلو یہ لوگ مارینگے تو اس نے کہا کہ”میں بالکل نہیں اُٹھوں گی۔ یہ وہی لوگ تو ہیں جو اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں اور بیگمات کو اپنے گھروں میں مارتے ہیں۔اچھا ہے کہ مجھے بھی یہ لوگ ماریں۔انکے خلاف تو احتجاج کرنے نکلی ہوں”۔جب طالبان دہشتگردوں نے ہمارے گھر میں مہمان اور میزبان مرد و خواتین کو شہادت کی منزل پر پہنچایا تو میری بوڑھی مامی ان سے کہہ رہی تھی کہ تم نے امریکہ کے ڈالر کھا رکھے ہیں اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے ہو ، جس پر انکے سرپر بندوق کے بٹ مارے گئے۔بھارت میں مظالم کے خلاف مرد خاموش ہیں توایک ہندو شاعرہ لتا حیاء خواتین پر فخر کررہی ہیں۔