قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا

130
0

اسلام کا قانونی اور معاشرتی نظام پوری دنیا کیلئے رول ماڈل ہے لیکن قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا، جب خود مؤمن محروم یقین ہوگا تو باقی دنیا کے سامنے اسلام کو پذیرائی کسطرح ملے گی؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

یہ سراسر جھوٹ ، منافقت اور کھیل ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔ ہمارامعاشرتی، معاشی، قانونی ، سیاسی ، مذہبی، سماجی ، ریاستی اور حکومتی نظام کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں

جب اسلام کا نظام صحرائے عرب کے بادہ نشینوں نے اپنایا تھاتو دنیا کی سپر طاقتیں اسلام کی شرافت پر نچھاور کرنے کیلئے انسانیت نے قربانی دیں لیکن آج انسانیت ہے ہم انسان نہیں

انسانوں میں فطرتی طور پر خیر کا مادہ زیادہ اور شر کا مادہ کم ہے۔ جنات میں فطری طور پر شر کا مادہ زیادہ اور خیر کا مادہ کم ہے۔ جب انسانوں کو اچھا ماحول ملے گا تو زمین میں ایک اچھی فضاء بھی قائم ہوجائیگی پھر انسانوں کیساتھ ساتھ جنات کا ماحول بھی اچھا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ سورۂ فاتحہ کے بسم اللہ اورالحمد للہ رب العالمین سے لیکر سورۂ فلق کے من شر ما خلق اور سورۂ الناس کے من الجنة والناس تک قرآن کا ایک ایک لفظ ،ایک ایک جملہ، ایک ایک آیت اورایک ایک سورت سراپا ہدایت ہے مگرہم نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
مذہبی طبقات نے قرآن کی صاف صاف اور واضح واضح باتوں کو معاشرے میں رائج کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مکڑی کے جالے بُن دئیے ہیں۔ اگر ہمت کرکے ان جالوں کو صاف کرلے گا تو خیر اور شر کی تفسیر کھل کر سامنے آجائے گی۔ جب مولوی نے بھی قرآن کی طرف رجوع کرنے کی بجائے فتوؤں کی کتابوں سے فتویٰ مرتب کرنا ہو کہ باہمی رضامندی کی صورت میں میاں بیوی کا رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ تو پھر دیگر مسائل کا کیا حال بنارکھا ہوگا؟۔ علمائِ حق کو میدان میں اترنا ہوگا ورنہ جب عوام کا غیض وغضب جہالتوں کی پرورش میں جوش مار کر طوفان کھڑا کرے گا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی؟۔ اس سے پہلے پہلے کہ لسانی، فرقہ وارانہ اور دیگر فتنوں کے شعلے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں شعور اور بیداری کی فضاؤں کا کھل کر ساتھ دینا ہوگا۔ مذہبی جماعتیں اسلام اسلام تو کرتی ہیں لیکن جمعیت علماء اسلام کے چیتے اور تحریک لبیک کے زیبرے وغیرہ وغیرہ نے موٹر وے کو زیبرا کراسنگ بناکر رکھ دیا ہے۔جہاں ٹریفک کی روانگی کا کوئی سوال نہیں۔ ایک کا اسلام محترمہ مریم نواز کے دوپٹے میں لپٹ یا اٹک گیا ہے اور دوسرے نے فرانس کے سفیر کو ڈیڈ لائن دینے کے مشغلے کو اپنا شغل بناکر رکھا ہے۔ اوریا مقبول جان سے پوچھا جائے کہ جمہوریت کفر ہے لیکن جناب نے جس نظام میں زندگی گزاری ہے اور آج اس کی پینشن کھارہے ہیں یہ اسلامی ہے؟۔ ہمارے ہاں کلمہ پڑھانے کیلئے اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے علاوہ کوئی نہیں ملتا؟۔ جس بھی نوزائدہ نومولود تنظیم کے ایک کان میں آذان دینی ہو تو عامر لیاقت اور دوسرے کان میں اقامت پڑھنی ہو تو اوریا مقبول جان کی خدمات ہی پتہ نہیں کیوں لی جاتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر (DGISPR)نے ٹھیک کہاہے کہ جن فوجیوں نے احسان اللہ احسان کو چھوڑنے کا جرم کیا تھا ،ان کو سزا دی جاچکی ہے۔ اگر وہ کسی طرح قید میں رکھے گئے ہیں تو آذان واقامت کیلئے اوریا مقبول جان اور عامر لیاقت بھی ضرور حاضر خدمت ہیں۔ البتہ میڈیا پر ان نالائقوں کو وکالت کی خدمت نہ سونپی جائے۔ شہیر سیالوی پتہ نہیں انگریز کے کونسے بٹ مینوں اور کتے نہلانے والوں کو سبق سکھانے کا کہہ رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے بھی اس کی تائید کردی ہے۔
اگر واقعی اسلامی نظام ملک میں نافذ ہوتا تو پھر شاہ فیصل مسجد میں امام ، مؤذن ، خادم کی خدمات ڈاکٹرعامر لیاقت، اوریامقبول جان اور شہیر سیالوی سے بھی لی جاتی تو بہترین کام ہوسکتا تھا۔ حالانکہ پیشہ ، تعلیم اور سند کے لحاظ سے عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ جس طرح کوئی غیرسید اپنے نام کا حصہ سید کوبھی بنالیتا ہے وہ اسی طرح کے نام کے ڈاکٹر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے سورۂ نور کی ایک ایک آیت میں وہ نور بھر دیا ہے کہ اگر اس سے روشن کردیا جائے تو مشرق ومغرب میں طلوع شمس کا منظر ہوگا۔
وانکحوا الایامیٰ منکم والصٰلحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO
” اور نکاح کراؤتم میں جو بیوہ وطلاق شدہ ہیں۔ اور جو تمہارے نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ۔ اگر وہ فقراء ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے دولتمند بنادے گا اور اللہ وسعت دینے والا جاننے والا ہے”۔
دورِ جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم یہ تھی کہ دس (10)یا اس سے کم متعدد افراد کسی عورت سے تعلق رکھتے تھے، جب اولاد پیدا ہوتی تھی تو وہ افراد ایک لائن میں کھڑے ہوجاتے ، جس کی طرف عورت اشارہ کرتی وہی مرد بچے کا باپ بن جاتا تھا۔ دوسری قسم یہ تھی کہ کوئی عورت اپنے گھر پر جھنڈا لگادیتی تھی اور لاتعداد لوگوں کا اس کے پاس آنا جانا ہوتا تھا۔ پھر جب اس کا کوئی بچہ پیدا ہوتا تو چہروں کا علم رکھنے والے ماہرین قیافہ شناسوں کی ٹیم طلب کی جاتی تھی اور جس سے چہرہ ملتا تھا ،بچے کو اسی شخص کا قرار دیا جاتا تھا۔ تیسری قسم یہ تھی کہ کوئی شخص اپنی بیگم کسی اچھے نسل والے کو دے دیتا تھا،پھر جب اس کو حمل ٹھہرتا تو عورت اپنے شوہر کو واپس کردی جاتی اور یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ نسل اچھی ہوگئی ہے۔جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم وہ بھی ہے جو درست تھی اور اسلام نے اس کو باقی رکھا۔ (صحیح بخاری)
بخاری کی صحیح حدیث کو نقل کرنے پر بھی بعض لوگ چیں بہ جبیں ہونگے کہ اخلاقیات سے گری باتوں کو یہاں نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ حالانکہ ہمارا معاشرتی نظام تو جاہلیت سے بھی زیادہ گیا گزرا ہے۔ بغیر ماں باپ کی شناخت والے جھولوں کے بچوں کی بہت بڑی تعداد پیدا ہورہی ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی اور اسطرح کے دوسرے لوگ یہاں ایک مسیحا کے روپ میں بیٹھے ہیں جو بھیک مانگ کر زکوٰة خیرات سے ان بچوں کے باپ بن رہے ہیں۔ ایام جاہلیت میں ماں کے ساتھ ایک باپ پر بھی بچے کی ذمہ داری ڈال دی جاتی تھی تو یہ بچے اور معاشرے کیلئے خوش آئند تھامگر جب ماں باپ دونوں سے محروم بچے معاشرے کا حصہ بن رہے ہوں تو یہ جاہلیت کے معاشرے سے ہزار درجہ بدتر ہے۔
جب دین اسلام آیا تو ناجائز حرام کاری کی روک تھام اور انسانی شرافت کا بہت اعلیٰ ترین معیار قائم کردیا ۔ اس زمانے میں بیوہ وطلاق شدہ سے نکاح کو اتنا معیوب سمجھا جاتا تھا کہ بچے اپنے آباء کی متروکہ منکوحہ عورتوں سے مجبوراً شادی کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰبائکم من النساء الا ما قدسلف ”اورنکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا ء نے نکاح کیا مگر جو پہلے گزرچکا ہے”۔اصولِ فقہ میں اس پر اتنا گند پھیلایا گیا ہے کہ اگر عوام کو پتہ چل گیا اور ڈنڈے والی سرکار کو حکومت مل گئی تو اسلام کے نام پر غیر فطری تعلیم دینے والوں کو سوٹے مارمارکرباز آنے پر مجبور کریںگے۔ جن خواتین کی ایسی حیثیت ہو ، جو اپنے لئے بیوہ ہونے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کو اپنی توہین سمجھ رہی ہوں تو محرمات کی فہرست مانکح آباء کم اور حرمت علیکم امہاتکم سے شروع ہے تو اس کا خاتمہ والمحصنات من النساء پر کردیا ہے۔ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ جب انسانی معاشرے میں ایک خاتون کو ایسی عزت کا مقام حاصل ہو کہ وہ بیوہ بننے کے بعد شادی نہیں کرنا چاہتی ہو اور لوگ اسکو پیغام ِنکاح کے انبار لگانا شروع کردیں۔ رسول اللہ ۖ کی حیثیت مسلم معاشرے میں مسلمہ تھی تو اللہ نے ہمیشہ کیلئے آپ ۖ کی ازواج سے نکاح کرنے کی بات کو بھی ناجائز اور اذیت کا باعث قرار دیا تھا۔
حدیث میں کنواری کے مقابلے میں الایم کا ذکر آیا ہے۔ کنواری سے شادی کرنے میں کوئی عار اور مشکل نہیں تھی اسلئے اللہ تعالیٰ نے بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاشرے میں ان کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہو تو اس سے بہت مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ریحام خان سے عمران خان کا نکاح اس اصول کے مطابق بڑا اچھا فیصلہ تھا۔ البتہ معاشرے میں نکاح کیلئے شادی شدہ سے نکاح کرنے کا اقدام بہت معیوب ہے۔ عورت شوہر سے راضی نہ ہو تو پہلے خلع لیا جائے اور پھر دوسرے سے نکاح کی بات ہو تو پھر بھی مدینہ کی ریاست بنانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ جب جوان بچوں کو معلوم نہ ہو کہ ماں نے انکے باپ سے خلع لیکر کسی اور سے شادی رچالی ہے اور پھر وہ میڈیا میں کسی معروف شخصیت سے شادی کی تردید کریں تو اللہ ایسی آزمائش سے ہمارے گرویدہ نہیں بلکہ دشمن ہندؤوں کے بچوں کو بھی بچائیں۔ پھر یہ الزام کہ عدت میں شادی ہوئی ہے اور مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے گھر کو ریگولرائزکردیا ہے اب ایک اور چیز کو ریگولرائز کرنے کا معاملہ باقی رہ گیا ہے۔
جب اللہ نے شادی کی طلبگار اور ضرورت مند بیوہ وطلاق شدہ خواتین کی شادی کرانے کا حکم دیا ہے تو اس سے معاشرے پر کتنے زبردست اثرات مرتب ہوںگے؟ اللہ نے صرف طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نہیں بلکہ غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔ نوشہرہ کی معروف سیاسی شخصیت ہمارے علاقہ کے مولانا گل حلیم شاہ کنڈی نے ایک مرتبہ بالمشافہہ ملاقات میں مجھ سے کہا کہ ایک عورت بہت بوڑھی تھی، کمزور اور بہت لاغر جسم کی وجہ سے اسکا بیٹا ٹوکری میں رکھ کر اپنے سر پر حج کے دوران گھما رہا تھا۔ ایک شخص نے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ، اس نے کہا کہ اتنی بوڑھی کا نکاح سے کیا کام ہے ؟۔ تو بوڑھی اماں نے کہہ دیا کہ میرا نکاح کسی سے کردو۔ مولانا نے فقہ کی کسی کتاب کا حوالہ بھی دیا تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ نے ان خواتین کا بھی قرآن میں ذکر کیا ہے جن کوپکی عمر کی وجہ سے نکاح کی حاجت نہیں رہتی ہے۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ بوڑھیا اپنے بیٹے کے سرسے بوجھ ہٹاکر کسی دوسرے کے کاندھے پر ڈالنا چاہتی ہو اور مولوی نے سوچا ہو کہ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموا ھما کی زد میںکہیں یہ بڑھیا اور کوئی بوڑھا نہ آجائے۔ اسلئے کہ جوانوں پر تو یہ حد نافذ ہونے سے رہی ہے اور نہ اسکے الفاظ یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ جوانوں پر اسکا اطلاق ہوکیونکہ یہ اقتضاء النص بھی نہیں ہوسکتا ہے۔
جس معاشرے میں غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی تعلیم ہو تو وہ معاشرہ سپر طاقت کیسے نہیں بنے گا؟۔ کوئی ملحد یہ بکواس کرسکتا ہے کہ دشمن کو دبانے کیلئے ابوجہل اور ابولہب کے مقابلے میں سیدنا بلال کا درجہ بڑھادیا گیا تھا ورنہ تو مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ مہاجر قریش صحابہ نے اولین سبقت لے جانے والے انصارکے سردار کو بھی خلافت کے قابل نہیں سمجھا تھا۔ رسول اللہۖ کے کفن دفن کو چھوڑ کر خلافت کے استحقاق پر لڑتے لڑتے رہ گئے تھے۔ پھر حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ بہت کم عرصہ میں پیش آیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عثمان اور حضرت علی کے جھگڑے کا ذکر ہے ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ حضرت عمر نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے پر پابندی لگائی ہے اور کہا ہے کہ میں کسی کو احرام اس نیت سے باندھنے نہیں دوں گا، نہیں دوں گا، نہیں دوں گا۔ حضرت علی نے اعلانیہ طور پر کہا کہ میں رسول اللہۖ کی سنت کے مطابق ایک ساتھ احرام کی نیت کرتا ہوں توکوئی مجھے روک کر دکھائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور احناف نے بھی حضرت عمر کے اقدام کی مخالفت کی اور بنوامیہ کے ظالم گورنر ضحاک نے جب کہا کہ حج وعمرے کااکٹھا احرام باندھنا جہالت ہے تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ضحاک یہ بات مت کرو۔ میں نے نبیۖ کو خود اپنے مشاہدے سے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھتے دیکھا ہے۔
جس قوم کی جہالت کا یہ حال ہو وہ ایک غلام کو کس طرح خلیفہ بناسکتے تھے؟۔ امریکہ نے بہت کم عرصہ ہوا ہے کہ کالوں کو گوروں کی طرح حقوق دیدئیے تو بارک حسین اوبامہ صدر اور مشعل اوبامہ خاتون اول بن گئی ؟۔ خلافت کو خاندانی لونڈی بنانے والے غلام کو کبھی بھی اپنا خلیفہ نہیں بناسکتے تھے۔ کہنے والوں کو بہت کچھ کہنے کا حق ہے لیکن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو اسلام کی ایک ایک بات سے لوگ مطمئن ہوجائیں گے۔ رسول اللہۖ نے اپنے غلام حضرت زید ہی کو اپنا جانشین بنایا تھا۔ اگر وہ شہادت کی منزل کو نہ پہنچتے تو انہی کو خلیفہ نامزد کرنے پر دل وجان سے اتفاق ہوسکتا تھا جو نہ قریش تھے اور نہ انصارمیں سے تھے۔ رسول اللہۖ نے انہی کے بیٹے اُسامہ کو لشکر کا آخری سپہ سالار بھی مقرر فرمایا تھا۔ جن پر بعض صحابہ نے اعتراض کیا لیکن نبیۖ نے انکا اعتراض مسترد کردیا تھا۔ نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب سے شادی بھی کرادی تھی لیکن جب اس شادی کی ناکامی میں جاہلانہ ماحول نے اپنا کردار ادا کیا تو نبیۖ نے اس طلاق شدہ کو بھی اللہ کے حکم سے شرف زوجیت بخش کر ام المؤمنین بنادیا تھا۔
جہاں تک ایک ساتھ احرام باندھنے کی بات ہے تو رسول اللہۖ نے رسم جاہلیت توڑنے کیلئے حج وعمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا تاکہ جنہوں نے عمرے کی کوئی نذر مانی ہو تو ان کیلئے اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے۔ منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے شادی کا حکم بھی اللہ نے نبیۖ کو اسلئے دیا تاکہ مؤمنین کیلئے راستہ آسان ہوجائے۔ جس کی قرآن نے وضاحت کردی ہے۔ حضرت عمر نے ایک ساتھ احرام پر جو پابندی لگائی تھی تو حضرت عمر کے دشمن اس سے یہ تأثر پھیلانے کی کوشش میں کامیاب ہیں کہ اسلام کے احکام کی جگہ جہالت لائی جارہی تھی۔ حالانکہ حضرت عمر یہ فیصلہ نہ کرتے تو پھر جاہل سنت سمجھ کر بڑے پیمانے پر حج کی فضاء کو بدبودار پسینوں سے متعفن بناسکتے تھے۔
اسلام کے ہرے بھرے کھیت اور کھلیان کو نااہلوں ،فرقہ بازوں ، مسلک سازوں اور مفاد پرستوں نے کھائے ہوئے بھوس کی طرح روند اور کچل کر رکھ دیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat