اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے

171
0

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے جو پاکستان میں دیانت دارانہ نظام ہی کے ذریعے سامنے آسکتا ہے جس سے دنیابھر میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم اور آسمان وزمین والے خوش ہونگے

ہر شاخ پہ اُ لو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟۔ اسٹیک ہولڈروں کے بجائے گدھا گاڑی والوں کو مختلف طبقات پر مسلط کیا جاتا تب بھی حرص وہوس اور ایسی نالائقی کا کبھی مظاہرہ نہ ہوتا

پتہ نہیں کس خمیر کے جنرلزکو ترقی دیکر آرمی چیف اور ذمہ دار عہدوں پر بٹھایا جاتاہے اور کس خمیر کے سیاستدان عوام کے ووٹوں سے اسمبلی اور ممبران کے ووٹوں سے سینیٹ پہنچتے ہیں ؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی جنت اور جہنم کے تصور کا ذکر کیا ہے اور اس کی ایسی وضاحت ہے جس سے آخرت مراد لینا ممکن نہیں ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان اس کی بالکل صحیح تصویر بن سکتا ہے۔پوری دنیا میں ایسا بڑا بہترین دریائی نظام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عنایت فرمایا ہے لیکن اس میں نہری نظام کا بنانا حکومتِ پاکستان کا کام تھا۔ انگریز نے نہری نظام کو پاکستان میں اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا لیکن پاکستان نے اس کو نظرانداز کردیا ۔ قدرتی اور مصنوعی جھیلوں کا ہم بسہولت بڑا جال بچھاسکتے ہیں اور بہت آسانی کیساتھ پورے پاکستان کو نہری نظام سے مزین کرسکتے ہیں۔

قرآن میں سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامت اور پھر سورۂ دہر ہے۔ جب اسلام نازل ہواتو اللہ نے نبیۖ کو سورۂ مدثر میں مخاطب کیا ہے۔ سورۂ مدثر میں بھی دنیاوی انقلاب اور آخرت کے حوالے سے واضح رہنمائی ہے ۔ پھر سورۂ قیامت میں صرف آخرت کے حوالے سے رہنمائی ہے اور پھر سورۂ دہر میں صرف زمانے اور دنیاوی انقلاب کے حوالے سے بھرپور رہنمائی ہے۔

رسول اللہ ۖ کے حوالے سے مؤمنین اور کفار نے ابتدائی مکی دور کا بھی مشاہدہ کیا تھا اور آخر میں مدنی دور اور انقلاب کا زمانہ بھی دیکھ لیا تھا۔ سورۂ مدثر کی آیات کو شروع سے آخرتک غوروفکر کیساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت ساری باتوں سے شروع دور کی مشکلات اور بعدکی فتوحات بہت واضح طور پر نظر آئیں گی۔ پہلے تیرہ (13)سال مکی دور کے اور پھر چھ (6)سالہ مدنی دور کے بعد جب صلح حدیبیہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح مبین قرار دیدیا۔ یہ اُنیس (19)سال کی مدت مشکلات کا زمانہ تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے۔ دس سال تک صلح حدیبیہ کا معاہدہ بہت بڑی فتح کی بنیاد تھی۔

اللہ تعالیٰ نے ایک طرف نبیۖ کے کردار کو پیش کیا ہے، دوسری طرف مخالفین کے سرغنے کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ” ہم آپ لوگوں کو آزمائیںگے، کچھ خوف سے، بھوک سے، اموال، جانوں اور ثمرات کی کمی سے ، پس بشارت دیدو صبر کرنے والوں کو”۔

ثمرات سے مراد پھل اور میوے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اموال ہی ہیں بلکہ ثمرات ان نتائج کو کہتے ہیں جو خیرکے کاموں کے نتیجے میں نکلتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایاکہ فلا تمنن تستکثر ”احسان کے بدلے ان سے زیادہ خیر کی توقع نہ رکھیں”۔ یہ ایک عام کلیہ ہے کہ اچھائی کے بدلے میں اچھائی کی توقع رکھی جاتی ہے۔ نیکی کا ثمرہ نیکی ہوتی ہے۔ جزاء الاحسان الا احسان” احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے”۔

مفتی محمدتقی عثمانی نے اپنی تفسیر ” آسان ترجمۂ قرآن” میں سورۂ مدثر کی آیت سے سودکا نتیجہ نکالا ہے کہ نبیۖ کا احسان کے بدلے خیرکثیر کی توقع بھی سود کے زمرے میں آتا تھا اسلئے اللہ نے منع فرمایا۔ حالانکہ احسان کے بدلے احسان کی توقع فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جاہلوں سے خیر کے بدلے شر کی توقع تھی اسلئے سورہ مدثر میں اپنے رب کیلئے صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ نے خبر دی کہ جب مکہ میں انقلاب کا نقارہ اللہ مسلمانوں کے ذریعے بجا دے گا تو یہ دن مشکل ہوگا اور کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ سورۂ مدثر میں اللہ نے جو نقشہ پیش کیا وہ دنیا میں انقلاب کے ذریعے دکھا بھی دیا تھا۔

جو دشمن کا سردار تدبیریں ڈھونڈتا تھا،اللہ کی وحی کا انکار کرتا تھا ، اس کو سحر قرار دیتا تھا اور اسکو بشر کاکلام کہتا تھا ، ایک دن اسکو اللہ نے ”سقر ” میں پہنچانا ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ کہ سقر کیا ہے؟۔وہ ایسا انقلاب ہے کہ جس میں کوئی رورعایت باقی نہ ہوگی اورنہ کوئی عذرچھوڑا جائے گا۔ (رنگے ہاتھوں سب مجرم پکڑے جائیںگے) اللہ تعالیٰ نے اُنیس (19)سال کی مدت کے بعدصلح حدیبیہ کے ذریعے فتح مکہ سے پہلے چند سال آخری اتمامِ حجت کیلئے سب کو دیدئیے تھے۔ حضرت خالد بن ولید اور دیگر حضرات فتح مکہ سے پہلے اسلام کی آغوش میں آگئے تھے۔ قرآن میںاُنیس (19)کے عدد کو علم الاعداد کے اعتبار سے بھی حیرت انگیز حیثیت حاصل ہے۔ جس پر تحقیق کرنے والے نے بڑا کام کیا ہے اور کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی ایسے کمال کی ترتیب قرآن کی سورتوں اور حروف میںممکن نہ تھی۔

کرونا کی بیماری کواکیسویں صدی کے اکیسویں سال میں بھی اُنیس (19)ہی کے سال کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں پارلیمنٹ کو فوج کا تحفظ دینا بھی نظام کی ناکامی کی دلیل ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کا مسلط ہونا اور پاکستان کے آوے کا آوا بگڑنا بھی کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ لگتا ہے۔ مشرکینِ مکہ نہ صرف ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے بلکہ ان کی پوجا کا بھی تصور رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ زمین پر اللہ کی نمائندگی کیلئے کسی بشر رسول کی بعثت ممکن نہیں ہے، نوری فرشتوں کا یہ منصب ہے جو انکے خدا ہیں۔

جب مکہ فتح ہوا تو فتح مکہ سے قبل اور فتح مکہ کے بعد کے مسلمانوں میں وہ واضح فرق تھا جس کی وضاحت قرآن میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کے آخر میں حق سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ

فما لھم عن تذکرة معرضین

کانھم حمرمستنفرة

فرت من قسورة

” اور ان کو کیا ہے کہ نصیحت سے اعراض کررہے ہیں؟۔ وہ لوگ جیسے بدکے ہوئے گدھے ہوں جو بھاگ رہے ہوں ببرشیر سے”۔

ابوجہل وابولہب اور دیگر سردارانِ کفارنے نبی ۖ اور قرآن سے اسی طرح کا رویہ اختیار کررکھا تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ دن ایسے بدل جائیں گے کہ فتح مکہ کے بعد ابوجہل کا بیٹا حضرت عکرمہ بھاگنے کے بعد سچے اورپکے مسلمان بن جائینگے۔ حضرت ابوسفیان اور حضرت ہندہ اسلام قبول کرلیں گے اور نبیۖ معافی تلافی دیکر فرمائیںگے کہ مجھے اپنا چہرہ مت دکھانا تجھے دیکھ کر اپنے چچا(سیدالشہدائ) امیرحمزہ یاد آتے ہیں۔ رسول ا للہۖ کے بعد بعض لوگ پھر مرتد بھی ہوگئے تھے۔ حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر کے دور میں بڑی خوشحالی آئی تھی۔ اہل ایمان خوشحالی کی حالت میں تھے اور مجرمین کی حالت غیر تھی۔ مجرموں سے بزبان حال پوچھا جاتا کہ تم اس قدر مشکلات کی دلدل میں کیوں پھنسے ہو؟۔ اسلئے کہ ان پر مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا دروازہ بھی بند کردیا گیا تھا۔ مجرمین کہتے تھے کہ ” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم مخمصے میں پڑنے والوں کے ساتھ مخمصہ میں پڑے رہتے تھے اور ہم آخرت کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتی کہ ہمیں یقین آگیا۔ پس شفاعت نفع نہ دیگی ان کو شفاعت کرنے والوں کی”۔ صحابہ کرام کی سیرت کے واقعات میں ہے کہ مروان بن حکم کو نبیۖ نے جلاوطن کردیا تھا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے دور میں مروان کو مدینہ نہیں آنے دیا گیا تھا۔ پھر حضرت عثمان نے مروان کو داماد بنایا۔ حضرت امیر معاویہ نے مروان کو مدینے اور مکے کا گورنر بنایا تھا اور اس نے صحابہ کرام پر بڑا ظلم کیا تھا۔ رسول اللہۖ نے حضرت ابوسفیان کو عزت بخشی تھی لیکن یزید کے دور میں کربلا کا واقعہ ہوگیا تھا اورحضرت عمر بن عبدالعزیز مروان کا پوتا تھا جس کو دوسری صدی ہجری کا مجدد اور انکا دور خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ تاریخ اور احادیث کو درست طریقے سے مرتب کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

سورۂ مدثر میں بڑے حقائق پوشیدہ ہیں لیکن علماء کی ایسی ٹیم ہونی چاہیے جو تعصبات کے بغیر قرآنی آیات سے امت مسلمہ کو قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کرے۔ سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامة اور پھر سورۂ دہر ہے۔ یہاں اصل مقصد سورۂ دہر سے کچھ حقائق کی طرف توجہ دلانا مقصود تھی۔ جبکہ قیامت اور الدہر بالکل الگ الگ موضوعات ہیں۔ قرآن کا مقصد بھی دونوں سورتوں میں الگ الگ مضامین کی وضاحت ہی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سورۂ قیامةسے جیسے دنیا اور زمانے کے حالات مراد لینا بے معنی اور غلط ہے ،اسی طرح سے سورۂ الدہر سے بھی زمانے کے بجائے قیامت مراد لینا غلط اور بے جا ہے۔ سورۂ دہر کے تناظر میں ہم اپنے ملک پاکستان کو جنت کی نظیر بناسکتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اسلام کے غلبے اور پوری دنیا میں دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی ہے۔

اگر نالائق طبقہ اپنی نالائقی بدل کراپنی لیاقتوں کے جوہر دکھائے تو ہم پھر نہ صرف امت مسلمہ میں بلکہ پوری دنیا میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ مروان و یزید کا اقتدار نالائقی اور نااہلی کے باوجود خاندانی اور موروثی پسِ منظر کی وجہ سے تھا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اچھا کردار ادا کیا تو موروثیت نے کوئی نقصان آپ کے کردار کو نہیں پہنچایا۔ افواج پاکستان میں آرمی چیف کے بیٹے کو آرمی چیف نہیں بنایا جاتا ہے لیکن بادشاہت کے علاوہ ہمارے اس نام نہاد جمہوری نظام میں نالائقی اور نااہلی کے باجود موروثی نظام کا عمل دخل ہے۔

پاکستانی قومی ترانے میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔ علماء کی نااہل اولاد کو موروثیث کی وجہ سے اپنے باپ کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ جس کی اسلام اور جمہوریت میں قطعی طور پر گنجائش نہیں ۔ اگر آرمی چیف کا بیٹا آرمی چیف بنتا تو پاک فوج کب سے اپنی اہلیت کھو دیتی؟۔ جمہوری پارٹیاں بھی اپنے اندر جمہوریت اور میرٹ کی روح پیدا کرلیتیں تو پاکستان کی ترقی میں سیاسی پارٹیاں اپنی مظلومیت کا واویلا نہ کرتیں۔جب اہل کا نااہل بیٹا یا پوتا یا نواسہ وارث بنتا ہے تو مدرسے کا مہتمم یا پارٹی کا سربراہ اچھے اچھوں کی محنت ، صلاحیت اور قربانیوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔جب مدارس عوام کے چندوں اور پارٹیاں عوام کی صلاحیتوں سے بنتی ہیں تو ان پر موروثی اعتبار سے قبضہ شرعی اور دنیاوی لحاظ سے کہاں جائز اور مناسب لگتاہے؟۔ غریب کو تعلیم کے مواقع نہیں ملتے اور امیر میں صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی