قرآن میں دنیاوی عذاب کا ذکر

438
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ٹارگٹ کیوں؟ 

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ بھی مفتی تقی پر تکیہ اور تقیہ کئے بیٹھے ہیں!

مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں” فقہی مقالات جلد چہارم” اور” تکملہ فتح المہلم” میں لکھ دیا تھا کہ ” علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جبکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے اسکے خلاف فتویٰ لیا تھا۔ پھر جب عرصہ بعد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرپرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے سودکے نام پر اسلامی بینکاری کے خلاف لکھا تو ملک اجمل نے جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء کیساتھ ڈاکٹر صاحب کی جرأت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے حاضری دیدی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا کہ ” میں نے مفتی تقی عثمانی کے خلاف کچھ نہیں لکھا ہے، پہلے بھی میرے ایک شاگرد نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہمارا فتویٰ شائع کیا تو مفتی تقی عثمانی ہم پر بہت برہم ہوگئے تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے مولانا یوسف لدھیانوی پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ مفتی محمود کے حوالہ سے اپنی تحریر میں پان و گولی کھلانے کا ذکر کیوں کیا تھا؟۔ طلاق کے مسئلے پر مفتی نعیم کو بھی مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹا تھا اور مولانا انور بدخشانی مدرس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی ہی کا سکہ چلتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن بھی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو بڑا قابل عالم سجھ رہے ہیں

طلاق وحلالہ کے غلط فتوؤں اور درسِ نظامی کے علاوہ حال ہی میں ” آسان ترجمہ قرآن” میں فاش غلطیوں کے ارتکاب میں مفتی تقی عثمانی نے ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا ہے۔ علماء کرام کو ثالثی کی پیشکش ہم کررہے ہیں۔ صحافی موسیٰ خان خیل شہید کے بھائی مفتی احمدالرحمن کے داماد سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں درسِ نظامی کے نصاب اور طلاق وحلالہ کے حوالہ سے ہماری بات ہوئی تھی لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن کے اکابر علماء پہلے سے ہی اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے تھے ،اسلئے وہاں بحث ومباحثہ کیلئے جانا مناسب نہیں سمجھا۔ وہاں بدمعاش لوگ پہلے بھی صاحبزادہ مولاناسید محمد بنوری کو شہید کرچکے تھے اور اسکا الزام شریف النفس ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر لگا رہے تھے۔ ہم نے ٹانک شہر میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے مقتدر علماء کرام کو بات کرنے کیلئے دعوت دی تھی تو مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع میں رکاوٹ کا خفیہ طور پر اظہار کیا ،پھرہم نے بالمشافہہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ،کافی لیت لعل کے بعد اس نے سید عطاء اللہ شاہ منتظم معارف شرعیہ کو جانے کا حکم دیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان سے علماء کرام وعدے کے باوجود نہیں آئے تھے۔ ٹانک کے اکابر علماء نے میرا مؤقف سننے کے بعد کھل کر حمایت کرنے کا اعلان کیا اور پھر ایک جلسہ عام میں بھی حمایت کردی جس کو ہم نے اخبار میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا تو ڈیرہ کے علماء نے اخبار میں حمایت دیکھنے کے بعد رکاوٹ ڈالنے کا پرواگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جھگڑا کیا۔ پھر طے ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک سے مولانا فتح خان اور مولاناعبدالرؤف بھی آئیںگے اور مولانا علاء الدین کے مدرسہ نعمانیہ میں ایک نشست رکھیںگے لیکن پھر انہوں نے حالات خراب کردئیے اور حکومت نے ٹانک کے علماء پر پابندی لگادی اور ہمیں 16ایم پی اے کے تحت گرفتار کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا

مولانا عطاء الرحمن نے مولانا شیرانی کے سامنے علمی بحث سے راہِ فرار اختیار کی

مولانا شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمیں تھے تو قصر ناز میں مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان سے بھی اچانک ملاقات کا موقع ملا تھا، وہ لوگ ریاستِ پاکستان کا مذاق اڑارہے تھے اور جب مجھ سے رائے پوچھی تو میں نے درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف کا کہا کہ جب تم لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئی کتاب(قرآن) مُراد نہ ہو تو قرآنی آیات اور لکھی ہوئی کتاب کا انکار لازم ہے ،جس کیوجہ سے اس کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دیتے ہو۔جب نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں تو قرآن کی حفاظت کا عقیدہ کہاں باقی رہتا ہے؟۔ جب بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی تو ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ جب بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی تو دوسرے نے کہا کہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کی بات کررہے تھے ، یہ اپنا مقصد قرآن لیکر آگیا۔ حامد میر جب روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر تھے توڈیرہ اسماعیل خان میں علماء کے چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے میرے بھاگنے کی خبر اس نے لگائی تھی اور پھر دوسرے دن میرے جواب کی بھی چھوٹی سی خبر شائع کی تھی۔
اسکائپ کے ذریعے بھی الیکٹرانک میڈیا پر حقائق کو سامنے لانے کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں سے ” سورۂ فاتحہ ” کو پیشاب سے لکھنے کا جواز نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن اسکے بعد وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں” مفتی سعید خان”نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” شائع کی جس میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جوازکا دفاع کردیاہے۔
درسِ نظامی کے نصاب پر امریکہ کی طرف سے کوئی دباؤ ہے یا نہیں لیکن ہم ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیںکہ علماء ومفتیان کودرسِ نظامی درست کرنیکا فریضہ بہر صورت ادا کرنا چاہیے۔

سورۂ مدثر، سورۂ دھر کیلئے قرآن کی دوسری سورتوں کوپیشِ نظر رکھ کرہی سمجھنا ہوگا!

قرآن کی سورۂ القلم میں بسم اللہ کے بعدن والقلم ومایسطرونOوانت بنعمة ربک بمجنون O وانَّ لک لاجرًا غیرممنونO وانک لعلیٰ خلق عظیمOفستبصرویبصرونO بایکم المفتونOان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین O”ن۔ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے۔ نہیں آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون۔ آپ کا مشن اجر ہے نہ ختم ہونے والا۔ اور آپ اخلاق کے عظیم رتبے پر ہیں۔سو عنقریب آپ دیکھ لیںگے اور وہ بھی دیکھیںگے کہ کون مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ جو راہ سے ہٹا ہے اور وہ ہدایت والوں کو بھی زیادہ جانتا ہے”۔اللہ تعالیٰ قلم اور سطروں میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھارہاہے لیکن علماء کو فقہ واصول کی باطل تعلیم سے فرصت نہیں کہ قرآن کی تعریف کا غلط معاملہ سمجھ کر درست کرلیں۔ مشرکین نے نبیۖ کو مجبون قرار دیا، اور کہا کہ عنقریب آپ کا مشن ملیامیٹ ہوجائیگا۔ آپ کے اخلاق اچھے نہیںمگر اللہ نے ان کی سب باتوں کو بالکل رد کردیاتھا۔ہر بات آخرت پر نہیں چھوڑی بلکہ دنیا میں ہی نتائج سے آگاہ کردیاکہ عنقریب پتہ چل جائیگا کہ جنون اور بداخلاقی میں کون مبتلاہے اور کون ہدایت پر اور کون گمراہ ہے۔ سورۂ مدثر، سورۂ دھر میں بھی دنیاوی انقلاب ہی کا ذکر ہے مگر علماء نے اس کی غلط تفسیر کرکے آیاتِ قرآنی کے اصل معانی کو ہوا میں اڑادیا ہے۔ قرآن میں زمینی حقائق کے حوالہ سے بھی قرونِ اولیٰ اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلابات کی خبر یں ہیں۔
جب باطل قوتوں کا غلبہ ہوتا ہے تو ہتھیار کے بغیر بھی اہل حق الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔ شریف کو مجنون، اخلاق وآداب کے منافی قرار دیا جاتا ہے مگر پھر وہ وقت دور نہیں ہوتا ہے کہ اہل حق غالب اور باطل ناکام ہوتے ہیں۔ قرآن میں بہترین رہنمائی ہے۔

سورۂ قلم کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا میں مجرموں کا پتہ چلے گا

اورارشادفرمایا:فلاتطع المکذبینOودّوالوتدھن فیدھنونO و لا تطع کل حلاف مھینOھمازٍ مشائٍ بنمیمOمناعٍ للخیرِ معتدٍ اثیمOعتلٍ بعد ذلک زنیمٍOو ان کان ذامالٍ وبنینٍOاذتتلٰی آےٰتنا قال اساطیر الاولینO سنسمہ علی الخرطومOانا بلونٰھم کما بلونآ اصحٰب الجنة اذا اقسموا لیصرمنھا مصبحینO”لہٰذا ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو۔ یہ توچاہتے ہیں کہ آپ کچھ مداہنت کریں تو یہ بھی مداہنت کریں۔ہرگز بات نہ مانو، ہر ایک بہت قسم کھانے والے ہلکے آدمی کی، طعنہ دینے والے،چغلیاں کھانے والے کی،خیر کیلئے رکاوٹ کھڑی کرنیوالا، حدسے گزرا ہوا گناہ گار، کھاؤ پیو جھگڑالوبدخلق اور بداصل ۔گرچہ وہ مال و اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیںگے۔ ہم نے ان کو اس طرح آزمائش میں ڈالا۔ جس طرح جنت( باغ ) والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ضرور اس کا پھل توڑیںگے”۔
سورۂ قلم کی ان آیات میں جھٹلانے والوں کے دباؤ میں آنے سے منع کیا۔ جو چاہتے تھے کہ آپۖ ڈھیلے ہوں تو وہ بھی ڈھیلے پڑیں۔ باطل گھناؤنی صفات رکھتے تھے۔ مال و اولاد کے زعم میں مبتلاسمجھتے تھے کہ آیات پرانے قصے ہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ” عنقریب اس کی سونڈ کو داغ دینگے” سونڈ سے مراد ناک، چہرہ ہے جو دنیاوی عزت ، جاہ وجلال ہوتاہے۔
سورہ ٔ قلم میں پھر جنت(باغ) والوں کا قصہ ہے جو اپنی نعمت کھونے کے بعد ایکدوسرے کی ملامت کررہے تھے۔ کذٰلک العذاب ولعذاب الاخرة اکبر ”ایسا ہی ہوتاہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے”۔دنیاوی انقلاب بالکل واضح ہے۔

پہلے رکوع کے بعد سورۂ قلم کے دوسرے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ان للمتقین عند ربھم جنّٰت النعیمOافنجعل المسلمین کالمجرمینOما لکم کیف تحکمونOام لکم کتٰب فیہ تدرسونOانّ لکم لما تخیّرونO ام لکم اَیمان علینا بالغة الیٰ یوم القیامة ……”بیشک پرہیزگاروں کیلئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں۔ کیا ہم حق قبول کرنے والوں سے مجرموں کا سا سلوک کرینگے؟۔تمہیں کیا ہوا ہے، کیسا فیصلہ کرتے ہو؟۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس کا تم درس دے رہے ہو؟اور اس میں تمہارے لئے ہے کہ تمہارے پاس اپنے لئے اختیار ہوگا؟۔ یا تمہارا ہمارے ساتھ کوئی عہدوپیمان ہے جو قیامت تک جو چاہو اپنے لئے فیصلہ کروالو؟”۔
فذرنی ومن یکذّب بھٰذالحدیث سنستدرجھم من حیث لایعلمون ….. ……”پس مجھے اور اس بات کو جھٹلانے والوں کو آپ چھوڑ دیں۔ ہم درجہ بہ درجہ انہیں لے جائیںگے جسکا ان کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور میری تدبیر مضبوط ہے۔ کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہو،جسکے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں؟۔کیا ان کے پاس کوئی غیب ہے جس سے وہ لکھ رہے ہوں؟۔ پس آپ اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ بنیں۔جب اس نے پکارا تھا اور پھر مغموم تھا۔ اگر اپنے رب کی نعمت اس کو نہ ملتی تو چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا اور وہ دبوچا ہوا ہوتا۔ پھر اللہ نے اسے چن لیا اور اس کو صالحین میں سے بنایا۔ اور قریب ہے کہ جنہوں نے کفر کیا کہ اپنی آنکھوں سے پھسلادیںجب یہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک یہ مجنون ہے اوریہ اور کچھ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔ سورۂ قلم میں جہاں قرآن کیلئے مہم جوئی کرنیوالے متصدقین اور مخالفین مکذبین کا حال ہے وہاں دنیا میں بھی سزا اور جزاء کی بھرپور وضاحت ہے۔

عذاب وجنت سے آخرت ہی نہیں بلکہ دنیامیں بھی جزاء وسزا مراد ہوتی ہے!

قرآن میں جہاں دنیا کا عذاب یا جنت مراد ہواور اس سے آخرت مراد لی جائے تو قرآن سمجھ میں نہیں آئیگا۔ قرآن صرف آخرت کے عذاب اور جنت کی کتاب نہیں بلکہ اس کامفہوم درست پہنچانے کا نتیجہ دنیاکوجنت بناسکتا ہے اور اسے جھٹلانے کا عذاب دنیا میں مل سکتا ہے۔
قرآن کو جھٹلانے والوں کا سب سے بڑا وطیرہ دنیاوی مفادات اور آخرت کا انکار یا مفت میں اپنے لئے آخرت میں اپنی مرضی کے فیصلے۔ سورۂ قلم میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے۔ اس کو تدبر کیساتھ پڑھنے کے بعد ذہن کھل جائیگا۔ مال اور اولاد کو ترجیح دیتے ہوئے آیات کیلئے پُرانے قصے کہانیوں کی سوچ رکھنے والے کیلئے ہے کہ ” عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے”۔ سورۂ مدثر اور سورۂ دھر کے علاوہ کئی سورتوں میں دنیاوی عذاب، قرآنی انقلاب ، اسلام کی نشاة اول اور نشاة ثانیہ کے حوالے یوم الفصل اور جزاء وسزا کابالکل بہت واضح ذکرہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے مال اور اولاد کیلئے بینکوں کو اپنا ٹھکانہ بنالیاہے۔ سودی نظام کو جائز قراردینے کی معصیت سے توبہ کئے بغیر قرآن وسنت کی طرف رجوع نہیں ہوسکتا۔(

 

جب قرآن وسنت فرقوں، مسلکوںاور گروہوں میں بٹ گیاتو امت کا زوال آیا!

قرآن کریم میں آخرت کا تصور تو بالکل اپنی جگہ پر واضح ہی ہے لیکن قرآن کیلئے مصدقین و مکذبین کا کردار ادا کرنے والے دنیا میں ہی فلاح پاتے ہیں یا اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔جب قرآن موضوعِ بحث تھا تو فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے والے قرونِ اولیٰ کے مسلمان پوری دنیا سے اپنے عقائد اور اعمال کی بدولت ممتاز تھے۔ البتہ جب خلافتِ راشدہ کے بعد حکومت پر بنی امیہ، بنی عباس اور ترکی خاندان سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہوا۔ ہندوستان میں مغل تو افغانستان میں ایکدوسرے کا خون کرنے والے بادشاہ تھے تو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا وجود نہیں تھابلکہ بادشاہوں کے مرغے شیخ الاسلامی کے عہدوںپر قاضی القضاة کا کردار ادا کرتے تھے، جو حق کہنے والوں کو گردن زدنی، جیل، کوڑوں اور جلاوطنی کی عبرتناک سزادیتے۔
اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کردیا تھا مگر جب شاہ ولی اللہکے والد شاہ عبدالرحیم سمیت پانچ سو جید،مستند، معروف اور تقویٰ وپاک دامنی کے نجوم، آفتاب و مہتاب نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تو اس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور ہرقسم کی حد اور سزا معاف کردی اور حیلہ یہ ڈھونڈ نکالا کہ ”بادشاہ تو خود ہی دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے مگر اس پر کون حد نافذ کردیگا؟۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا،اسلئے بلّا دودھ پی جائے تو معاف ہے”۔ انگریز نے تسلط حاصل کیا تو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد جن جماعتوں اور فرقوں نے ایکدوسرے کیخلاف محاذ کھولے ہیں ان میں حق وباطل سے زیاد اپنے گروہی و فرقہ وارانہ مفادات ہیں۔ بریلوی،دیوبندی، اہل تشیع، اہلحدیث ، جماعت اسلامی، پرویزی اور انواع واقسام کے نت نئے فرقے طلوع وغروب ہوتے رہتے ہیں۔ مرزائیوں کو پہلے بھی کافر سمجھا جاتا تھا مگر مولانا احمد رضاخان بریلوی تو دوسروں کو قادیانی جیسا سمجھتے تھے

 

حق وباطل کی کشمکش مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ قرآن کی بنیاد ہے

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد اُمت کے زوال کے دواسباب قرار دئیے۔ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” یہ دراصل ایک ہی سبب ہے۔ قرآن سے دوری۔ فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے”۔ دارالعلوم کراچی میں مفتی شفیع کے داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی کو جاندار کی تصویر ناجائز لگتی ہے جبکہ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ اسکے منافی ہے۔ ایک شادی بیاہ میں تصاویر کھینچوانے پر اپنے مریدوں کو سخت ترین عذاب کی وعیدیں سناتا ہے اور دوسرے کی اپنی ویڈیوز مسجد میںبنتی ہیں۔ایک شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے اور دوسرے نے اسلامی نام پر سودی بینکنگ کا کاروبار اپنا مشن بنایا ہواہے۔ ایک علم آفتاب اور دوسرا تقویٰ کا مہتاب ہے۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔
شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی طرف دعوت دی تو ان کو پاگل اور گمراہ قرار دیا گیاتھا لیکن آخر کار مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی طلب کرلی اور اعلانیہ کہا کہ ”ہم نے قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ مسلکوں کی وکالت کرکے زندگی ضائع کردی”۔ مولانا الیاس نے امت کا درد لیکر تبلیغی جماعت کے ذریعے دنیا میں دعوت کا کام عام کردیا مگر جماعت نے بستی نظام الدین مرکز سے بھی جان چھڑائی اور اب کوئی امیر بھی نہیں ہے۔ جب دارالعلوم دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادوں اور قاری طیب اور مولانا انور شاہ کشمیری کے صاحبزادوں میں مہتمم کے عہدے پر جھگڑا ہوا تو دارالعلوم دیوبند دوٹکڑے ہوگیا۔ آج تک مولانا سید محمد بنوری شہید کے قاتلوں کا بھی سراغ نہیں مل سکا لیکن وہ کونسے بدمعاش ہیں جو اتنے مضبوط بن گئے ہیں؟۔کیامولانا امداداللہ مردانی بتاسکتے ہیں قاتل؟۔

 

مدارس پر بدمعاشوں اور مافیاز کے قبضے ہیں، یہی حال تبلیغی جماعت کا لگتاہے!

مولانا الیاس نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو اپنوں سے زیادہ غیروں نے پذیرائی بخش دی تھی اور یہ بات میں رجماً بالغیب نہیں کہتا ہوں بلکہ بچپن میں جب تبلیغی جماعت میں وقت لگایا تھا تو بریلوی مساجد کے بعض ائمہ بھی تبلیغی جماعت کو غیرمتنازع کہتے تھے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمان کراچی کی جس مسجد میں عصر سے عشاء تک بیان کرتے تھے تو اسکے خطیب وامام مشہور مبلغ مولانا شفیع اوکاڑوی تھے، جس کو تعصبات پھیلانے پر مسجد کے متولی نے بروزِ جمعہ منبر سے اتارا اور حاجی عثمان سے تقریر کرنے کاکہا اور اوکاڑوی صاحب کو بتایا کہ تقریر ان سے سیکھ لو۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا اوکاڑوی نے بستر گول کیااور مسجد نور جوبلی رنچھوڑ لائن کو چھوڑ کر گلزار حبیب مسجد کارُخ کیا۔ جہاں سے مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کا آغاز کیا تھا۔
پہلے تو اکابر اللہ والے ہوا کرتے تھے،اب جوکروں نے مشیخت کا لباس زیب تن کیا ہے۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی اور مدارس کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں کے نیک لوگ امت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں مگر انکے بڑے اکابر نے دانستہ یا نادانستہ طور پر مفادات کو شغل بنایا ہے۔
ہرمکتب فکر، گروہ، جماعت اور تنظیموں میں اچھے برے لوگ ہیں۔ اچھوں کی تعداد بروں کے مقابلے میں زیادہ ہی ہوتی ہے لیکن بدمعاش طبقہ سب پر غالب رہتا ہے اور پیدا گیر قسم کا ٹولہ ہمارے شیخ حاجی عثمان کی خانقاہ پر بھی براجمان تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی حاجی عثمان کے خلیفہ سروربھائی النور والے نے دعوت کی تھی تومجھ سے جمعیت والوں نے پوچھا، میں نے کہا کہ ڈٹ کر کھاؤ، اچھا آدمی ہے۔ پھر ان کو جمعیت کا فیڈرل بی ایریا کا امیر بنانے کی تجویز آئی تو میں نے منع کردیاکہ ”یہ خبیث سدھرے گا، گدھے کی طرح کارکن بناکر اس سے کام لو”۔ میں نے کہا کہ دوسرے خلفاء بھی ایسے ہی ہیں تو سب حیران تھے مگر پھر ثابت ہوا۔

 

حاجی عثمان کے خلفاء ٹی جے ابراہیم اور الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا حال

طیب، جاوید ، ابراہیم نے 1500ر وپے سے چائے کا مشترکہ کام شروع کیا، حاجی عثمان نے دعا دی اور وعدہ لیا کہ اپنی ضروریات کے علاوہ منافع دین کیلئے خرچ کروگے۔ برکت کی انتہاء ہوگئی تو یتیم اور بیواؤں کا سرمایہ بھی شریک کرلیا۔ علماء ومفتیان نے اپنا سرمایہ بھی لگانے کی استدعا کردی۔ حاجی عثمان نے کمپنی کو شرعی قوانین مرتب کرکے اجازت دی۔ مضاربہ کی کمپنی کی یہ شرائط تھیں کہ ” 40 فیصد منافع سرمایہ کار اور60کمپنی کا ہوگا۔سرمایہ واپس لیتے وقت ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا”۔ جبکہ کمپنی کا ایجنٹ بھی سرمایہ کار سے 2فیصد منافع لیتا تھا۔ بڑے علماء ومفتیان سب ایجنٹ بن گئے تھے۔ حاجی عثمان کی خانقاہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ ” رسول اللہ ۖ تشریف لائے اور فرمایا کہ حاجی محمد عثمان کا کوئی مرید ضائع نہ ہوگا،الّاا سکے جو اخلاص سے نہ جڑا۔ خلیفہ اول محمدابراہیم”۔
پھر حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کی طرف سے ٹی جے ابراہیم سے لاتعلقی کااظہار کرنے کے بعد کمپنی کو بند کرنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے نام بدل کر ”الائنس موٹرز” رکھ دیا۔ پھر پتہ چل جانے سے بچنے کیلئے بڑے گر استعمال کئے اور آخر کار حاجی عثمان کو بیماری کا جھوٹ بناکر گھرمیں نظر بند کردیا گیا۔ چہیتوں نے آنکھیں پھیر یں اور بدمعاشی پر اتر آئے۔ اکابر علماء و مفتیان نے الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا ساتھ دیا، لوگوں کا سرمایہ پھنسا بیٹھے تھے لیکن سازش، اسلام کو غلط استعمال کرنیکی بھی حد ہوتی ہے، انہوں نے تمام حدود پھلانگ لئے تھے مگرحاجی عثمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا جو سید عتیق الرحمن گیلانی جیسا مرید بھی عطاء کیا تھا۔ ہم ان فتوؤں پر علماء ومفتیان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکیونکہ حاجی عثمان کی شخصیت کے گرد حصار ٹوٹنے سے کئی بڑوں کے چہروں سے نقاب اترا،البتہ قرآن کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

 

سورہ المطففین کے پہلے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ویل للطففینOالذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفونOواذا کالوھم او وزنوھم یخسرونOالایظن اولٰئک انھم مبعوثونOلیوم عظیمOیوم یقوم الناس لرب العٰلمینOکلا ان کتاب الفجار لفی سجینOوماادراک ما سجینOکتاب مرقومO ویل یومئذٍ للمکذّبینOالذین یکذبون بیوم الدینOومایکذب بہ الاکل معتدٍ اثیمٍOاذا تتلٰی علیہ آیٰتناقال اساطیر الاولینOکلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبونOکلا انھم عن ربھم یومئذٍ لمحجوبون Oثم انھم لصالوا الجحیمOثم یقال ھٰذا الذی کنتم بہ تکذبونO”تباہی ہے کمی کرنے والوں کیلئے جب لوگوں پر بانٹنے کیلئے تولتے ہیں تو پورا پورا حساب شمار کرتے ہیں اور جب چندہ بٹورنے کیلئے ناپ یا تول کا حساب لگاتے ہیں تو اس میں گھٹانے کا کام کرتے ہیں۔ کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ ایک دن ان کی پیشی ہونے والی ہے،ایک بڑے دن کیلئے۔ جس دن لوگ کھڑے ہونگے اپنے رب العالمین کے سامنے؟۔ ہرگز نہیں،فاجروں کا حساب کتاب جیلوں میں ہوگا اور تمہیں کیا معلوم کہ جیل کیا ہے؟۔ لکھے ہوئے رجسٹر ہونگے۔ وہ دن تباہی کاہوگا جھٹلانے والوں کیلئے۔ جو جھٹلاتے ہیں ،آخرت کے دن کے ذریعے( کہ حساب کتاب وہاں ہوگا) اور اس کے ذریعے سے کوئی نہیں جھٹلاتا مگر ہر حد سے گزرا ہوا گناہگار۔ جب اسکے سامنے ہماری آیات کو تلاوت کیا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے قصے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ جو انہوں نے کمایا ہے اسکے سبب۔ ہرگز نہیں ،اس دن وہ اپنے رب سے حجاب میں ہونگے۔ پھر یہ جحیم میں پہنچ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ وہی ہے جسکے ذریعے سے تم جھٹلاتے تھے”۔

 

آج چندہ لیاجارہاہے اور اسلامی انقلاب کے عظیم دن حساب کتاب بھی ہوگا

قرآن بہت واضح عربی زبان میں ہے۔ پوپ فرانس سے لیکر امریکی جوانوں تک مظالم کا احساس ہوگیا ہے۔ کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے چندوں کی ضرورت ہے ،چندہ لینے والے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں نہیں آخرت میں ہم اپنا حساب کتاب دیںگے۔ وہ اپنی بداعمالیوں کو آخرت کی سزا اور جزا سے جوڑ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ برے لوگوں کا حساب کتاب جیل ہے اور انکا اعمالنامہ رجسٹر میں درج ہوگا۔ حکمرانوں ، سیاستدانوں، جرنیلوں،آفیسروں کے علاوہ این جی اوز، مذہبی وسیاسی جماعتوں اورسماجی کارکنوں میں نیک وبدکی تفریق کا حساب دنیا ہی میں سامنے آئیگا۔ نسل، رنگ، زبان، ملک اور مذہب کی تفریق کے بغیر اچھے لوگوں کی قدرومنزلت دنیا ہی میں ہوگی۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنایا ہے۔
عالمی اسلامی نظام کی طرف دنیا کا سفر شروع ہے۔ شدت پسندی ،فرقہ پرستی اورمفاد پرستی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔ انشاء اللہ۔ زنگ آلودہ دلوں کے فتح ہونے کا وقت آگیا ہے اور سب کا اعتقاد قرآن کے مطابق بنے گا کہ ذرہ برابر شرہو یا خیر اس کو انسان دیکھے گا۔

 

سورۂ مطففین میں دنیاوی انقلاب عظیم کا بھی ذکر ہے، علماء ومفتیان غور کرینگے؟

جب رسول اللہ ۖ کے دور میں مکہ فتح ہوا، انقلاب عظیم آگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام کو قبول کرکے اسلام میں داخل ہونے لگے مگر وہ اپنے رب سے حجاب میں تھے۔ ابوسفیان و دیگر افراد کیلئے معافی عام کا اعلان نارِ نمرود سے کم نہیں تھا۔ نبیۖ کا وصال ہوا تو بہت لوگ فوج در فوج پھر اسلام سے مرتد ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام کیلئے کافروں کا فیصلہ جحیم میں ڈالنے کاتھا مگر اللہ نے آگ کو سلامتی والا ٹھنڈا بنادیا۔ نبیۖ نے فتح مکہ پر معافی دی۔ کافر ومؤمن میں یہ فرق ہے کہ کافر آگ میں جھونکتے ہیں اور مسلمان معاف کرنے کوہی اپنا شعار سمجھتے ہیں۔
کلا ان کتٰب الابرار لفی علیینO………………ھل ثوّب الکفار ماکانوا یفعلونO”ہرگز نہیں! نیکی کرنیوالوں کارجسٹر بلند پایہ مقام پر ہوگا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ بلند پایہ مقام کیا ہے؟۔ یہ ایک لکھا ہوا رجسٹر ہے جس کا مشاہدہ مقربین کرینگے۔ (اسلامی انقلاب کے بعد اعلیٰ ترین لوگ) بیشک نیکی کرنے والے مسندوں پر بیٹھ کر نظارے دیکھتے ہونگے۔ انکے چہروں پر آپ نعمتوں کا نظارہ دیکھوگے، ان کو سیل بند اعلیٰ شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی سیل ہوگی۔ اس میں رشک والے ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے۔ جسکاوصف تسنیم ہوگا، یہ چشمہ ہوگا جس سے مقرب لوگوں کو پلایا جائیگا۔ بیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے اور جب انکے قریب سے گزرتے تھے تو اشارہ بازی کرتے تھے۔ جب وہ اپنے گھروں میں لوٹتے تھے تو مزے لیتے تھے۔ جب وہ انکو دیکھ لیتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ وہ گمراہ لوگ ہیں اور ان پر انکو نگران بناکر نہیں بھیجاگیا تھا۔ تو آج ایمان والے کفر والوں پر ہنسیں۔مسندوں پر بیٹھ کر نظارہ دیکھیں۔ کیا کفار کو ثواب مل گیا جو وہ کرتے تھے؟”۔ یہ سورة المطففین عظیم انقلاب کی خبر دے رہی ہے۔ کاش دنیا اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

 

جس انقلاب عظیم سے زمین اور آسمان والے دونوں خوش ہوں تو اسکاذکرہے؟

سورۂ مطففین میںان ایمان والوں کا بھی ذکر ہے جس کو دیکھ کر جھٹلانے والے ہنستے تھے۔ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام میں سیدھے سادے مگر مخلص لوگوں کا بنیادی کردار ہوگا، جن لوگوں نے قرآن کے واضح احکام کے باوجود بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوگا تو کفرکے معنی ہی اصل میں انکار کرنے کے ہیں۔ عربی میں منکرین کا ترجمہ الذین کفروا ہے۔جس جگہ حق کا پرچار کیا جائے تو ایک منکرین کا درجہ ہوتا ہے اور دوسرا مکذبین کا درجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مکذبین کا مقام حاصل کیا ہوتا ہے تو وہ منکرین سے بھی سخت ہے۔
اگر دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو پھر لوگ دو حصوں میں تقسیم ہونگے،ایک فجار(حقوق العباد کو پامال کرنے والے) اور دوسرے ابرار( حقوق العبادکیلئے خدمات انجام دینے والے)۔ ایک عذاب نبوت کی تکذیب کی وجہ سے آتا ہے۔ وماکنا معذبین حتیٰ نبعث رسولا، ”ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کوئی رسول مبعوث نہ کردیں”۔نبیۖ کی ختم نبوت کی وجہ سے اب کسی قوم پرایسا عذاب بھی نہیں آسکتا ہے۔ البتہ ظلم وزیادتی، سود اور مختلف منکرات کی وجہ سے اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ دنیا میں سودی نظام عذاب کا ذریعہ ہے۔ جب پاکستان اور دنیا میں مزارعین کو مفت زمینیں دی جائیںگی اور سودی نظام کا خاتمہ ہوگا تو پھر ایک عظیم انقلاب کی آمد ہوگی۔ جنہوں نے ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کامظاہرہ کرتے ہوئے غریب غرباء کے نام پر زکوٰة ، صدقات ، چندے بٹورے ہیں تو ان کو سونڈ پر داغا جائیگا۔ باقی اگر دنیا میں شراب کی بات ہوتو شرابی ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے اور مفتی تقی عثمانی کی طرح مفتی محمود کی طرف سے بدتر قرار دینے کے باوجود کسی کو اصرار کرکے مشروب نہیں پلائی جائے گی۔اس عظیم انقلاب کے نقشے میں دنیا کی خوشحالی ہوگی۔

 

سورۂ المطففین کے بعد متصل سورۂ انشقاق میں بھی انقلابِ عظیم کا ہی منظر ہے

اذا السماء انشقتOواذنت لربھا وحقتO…….” اور جب آسمان پھٹ پڑیگا اور اسکے رب کی طرف سے اجازت مل جائے گی اور یہی حق ہے۔اور جب زمین کھینچ جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب اُگل دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اسکے رب کی طرف اس کو اجازت ہوگی اور یہی حق ہے۔ …………………”۔ یہ تو طے ہے کہ احادیث میں آتا ہے کہ انقلابِ عظیم کے دور میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی اور آسمان سے خوب بارشیں ہونگی مگریہاں آسمان سے پھٹ پڑنے سے مترجمین اور مفسرین نے قیامت مراد لیا ہے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کریگا”۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ سورۂ الشوریٰ میں آئندہ کے حالات اور آسمان پھٹنے کا پسِ منظر ہے۔ تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO ”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں ،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ :5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ” قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ” مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
اللہ نے شوریٰ میں واضح کیا ہے کہ …. اور فرقو میں مبتلاء نہ ہوئے مگر علم کے بعد آپس کی بغاوت سے۔اگر تیرے رب کی طرف سے لکھا نہ ہوتا توانکے درمیان فیصلہ کرچکا ہوتا۔ بیشک جن کو کتاب کا وارث بنایاگیاانکے بعد تو وہ شک میں پڑے ہیں شبہ کیوجہ سے

 

سورۂ انشقاق سے دنیاوی انقلاب کی خبر مرادہے جو اسکی آیات سے واضح ہے!

سورۂ شوریٰ میں بہت حقائق واضح ہیں جس میں آسمان پھٹنے اور فرشتوں کا زمین والوں کی مغفرت طلب کرنا اور اللہ کا جلال واضح ہوناکہ اگر پہلے سے لکھا نہ جاچکا ہوتا تو کتاب کے بہت نالائق وارثوں پر غضب الٰہی کا آسمان سے فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن اللہ غفور رحیم ہے۔ جب تک آسمان کے پھٹ جانے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ظالموں کو مہلت بھی ہوگی۔ جب آسمان پھٹے گا تو پھر ظالموں کی مہلت بھی ختم ہوگی۔ زمین کے خزانے اُگلنے کی بات تقاضہ کرتی ہے کہ مؤمنوں کیلئے خوشخبری کا پیغام ہو۔اللہ نے فرمایا کہ ” اوراسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی قرآن کی تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو انکے ارد گرد ہیں اور ڈرائیں جمع ہونے والے دن کیلئے جس میں کوئی شک نہیں ہے، فریق فی الجنة وفریق فی السعیر”ایک گروہ جنت (خوشی میں ہوگا) اور دوسرا گروہ سعیر(پاگل پنے میں ہوگا) ۔ (الشوریٰ:7)
ےٰاایھاالانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً فملٰقیہO…..” اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف مشقت اٹھاکر چل رہاہے اور اس سے سامنا کرنا ہے۔ پس جس کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مل جائے تو عنقریب اسکا آسان حساب لیا جائیگا اوروہ اپنے اہل کی طرف خوش ہوکر لوٹے گااورجس کو پیٹھ پیچھے اس کا اعمالنامہ دیا جائے تو وہ موت پکاریگا اور پاگل پن میں پہنچ جائیگا۔ بیشک وہ اپنے اہل وعیال میں خوش تھااور اس کا گمان تھا کہ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔جی ہاں! اللہ اس کے کرتوتوں کو بخوبی دیکھ رہاتھا۔ ( الانشقاق:آیت6تا15)
یہ دنیا میں حساب کتاب اور گھر کے سربراہ کی بات ہے، آخرت میں تو انسان اپنے بھائی، ماں باپ، بیوی اور بچوں سے بھاگے گا۔ سب کا اپنا اپنا حساب ہوگا لیکن دنیا میں گھر کا سربراہ حساب کتاب دیگا۔ بیوی بچوں ،اہل وعیال کا کوئی قصور بھی نہ ہوگاجس پر پکڑ ہو۔

 

سورۂ انشقاق کے آخری حصہ میںبھی پہلے اور درمیانہ حصے کی طرح انقلاب کی خبر!

فلآ اقسم بالشفقOوالیل وماوسقOوالقمر اذا تسق Oلترکبن طبقًا عن طبقٍOفمالھم لایؤمنونO…………” پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور رات کی جب وہ سمیٹ لے اور چاند کی جب وہ کامل بنے۔ تم نے ضرور ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ کی طرف سوار ہو آنا ہے۔ پس ان کو کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے؟اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟۔بلکہ جنہوں نے انکار کیا، وہی لوگ جھٹلاتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا جمع کررکھا ہے۔ پس ان کودردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔مگر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے صالح عمل کئے تو ان کیلئے بدلہ ہے کبھی نہ ختم ہونے والا”۔
رات کی سرخی انقلاب ہے ، جب رات کی طوالت آخری حد کو پہنچ جائے تو سب کچھ سمیٹ لیتی ہے۔ رات جل اٹھتی ہے شدتِ ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
چاند کا مکمل ہوکر طلوع ہونا بھی رات کے اندھیرے میں اچھی علامت ہے۔ حدیث میں نبوت ورحمت کے دور کے بعد امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے بعد پھر طرزِ نبوت کی خلافت کا دور ہے۔ جس کو امت مسلمہ کے سارے طبقات مانتے ہیں مگر پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ہیں؟۔ جب قرآن کی آیات سامنے آجائیں تو پھر بھی اپنے فقہی کمالات بھگارتے ہیں مگر قرآن کی نہیں مانتے ہیں۔ یہی وہ کفر کرنے والے ہیں جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
جب بھی انقلاب عظیم آئیگا تو بڑے بڑوں کی پول کھلے گی۔ ہوسکتا ہے کہ انقلاب زیادہ دور نہ ہو۔ سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ ، سورۂ شوریٰ ، سورہ ٔ مدثر ، سورۂ دھر، سورۂ مطففین، سورۂ انشقاق اور اس سے متصل سورۂ البروج کے علاوہ سورہ الفجر اور سورہ البد وغیرہ میں انقلاب عظیم کی خبر بڑی وضاحتوں کیساتھ موجود ہے مگر قرآنی احکام اور معاملات کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔