قرآن میں مختلف مذاہب کیلئے گنجائش ہے تو کیا مسلمان فرقے ایک دوسرے کیلئے اسکا مظاہرہ کریں گے؟

ان الدین عنداللّٰہ الاسلام : بیشک اللہ کے ہاں فقط اسلام دین ہے۔اسلام کا معنی تسلیم یعنی اللہ کو ماننا اللہ کی ماننا!
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم اٰخر وعمل صالحًا..

بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی اور عیسائی اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر خوف نہ ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن نے جس فراخ دلی سے مختلف مذاہب کیلئے گنجائش نکالی ہے تو کیا مسلمان بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ کیلئے پاک وہند میں اس فراخ دلی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں؟۔

اہل تشیع اسلام کی ایک ایسی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ اسلام میں بارہ امام تھے اور پہلے امام سے آخری امام تک سب کا ایسے حالات سے سامنا پڑا تھا کہ آخر کار آخری امام حضرت خضر کی طرح ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ غائب ہوگئے ہیں۔ حالانکہ امام کا کام منصب اقتدار سنبھالنا ہے ،اگر اقتدار سنبھالنا نہیں ہے تو پھر اہل اقتدار سے زیادہ الجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کے بارہ امام کا سلسلہ آئندہ آنا باقی ہے۔ جس طرح نبوت و خلافت کا سلسلہ پہلے بنی اسرائیل میں تھا، پھر قریش میں منتقل ہوا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی ، حضرت حسن کے بعد بنوامیہ اور بنوعباس تک جاپہنچا اور پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔ محمود غزنوی کی حکومت کا دور ختم ہوا تو مغل سمیت مختلف خاندانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے۔
ہندوستان کی آزادی کا پروانہ جاری ہوا تو علماء دیوبند کی اکثریت نے تو متحدہ ہندوستان کے حق میں تحریک چلائی ۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے مسلمان ایک ہوتے تو کشمیریوں پر مظالم نہ ہوتے۔ لیکن متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت کی وجہ سے ہمیشہ ہندوؤں کی حکومت رہتی۔ اہل تشیع کی سمجھ بوجھ کے مطابق کافر ومرتد نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے زیر دست انکے ائمہ اہلبیت نے مجبوری کی زندگی گزاری ہے لیکن مذہب کی قیادت وسیادت کا تمغہ حکمرانوں اور اہل اقتدار کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔ اہل تشیع کے مراجع ائمہ اہل بیت ہی رہے ہیں۔ امام کی غیبت کبریٰ کے بعد مسلک اہل بیت کی آبیاری اہل تشیع کے فقہاء ومجتہدین نے آیت اللہ کی طرح جاری رکھی ہے۔
جس طرح ہندوستان کی آزادی کے بعد اقتدار کی باگ ڈور سیکولر ہندو کے ہاتھ میں تھی اور دیوبند، بریلوی اور اہلحدیث کے شیخ الاسلام اپنے اپنے تھے لیکن یہاں ووٹ کے ذریعے جمہوریت کا نقشہ تھا اور وہاں خاندانی تسلط کا راج قائم ہوتا تھا۔ اہل اسلام کیلئے بظاہر یہ جبری بادشاہت سے چھٹکارا تھا لیکن انگریزی نظام کی گرفت نے مضبوط جبری نظام کی آخری حدپار کردی۔
پہلے تو جائز وناجائز ، حلال وحرام اور قانونی وغیرقانونی معاملات کا بہت معروف تصور تھا۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کی زینت سے معاشرہ مزین ہوتا تھا۔ مثلاً ایک آدمی کاگھر، اس کی زمین اور دکان کی قانونی حیثیت معروف تھی اور اس پر ناجائز قبضوں کا تصور پہلے تو تھا نہیں لیکن اگر کوئی ظالم حق تلفی کی کوئی کوشش کرتا تھا تو مظلوم کو قانون سے تحفظ مل جاتا تھا۔ قانون کے علاوہ بہت بڑا تصور معاشرتی اخلاقیات کا بھی ہوتا تھا کہ کوئی گھر ، دکان، زمین کسی ایک کی ملکیت ہوتی تھی ،دوسرے افراد کرایہ کے بغیر فائدہ اٹھاتے تھے۔
انگریز نے جس نظام کو ہماری قوم کو غلام بنانے کیلئے تشکیل دیا تھا ہم نے اس کو جب سے اپنا قانون بنالیا ہے تو اخلاقیات کا جنازہ نکلنے میں کیسے دیر لگ سکتی تھی کہ جب قانون طاقت اور سرمائے کا غلام بن گیا ہے؟۔ پاکستان میں جس ڈھٹائی سے طاقتور لوگوں کو غلط قانون نے معاشرے میںننگا کرکے رکھ دیا، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہوگی لیکن ہمارے لئے یہ شعور ایک بہت بڑا سرمایہ ہے اور یہ بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔
معروف اینکر پرسن سید محمد بلال قطب نے دینی مدارس میں بھی 7سال کا کورس کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کیساتھ بھی رہے ہیںاور اسلامی اسکالر بھی ہیں لیکن اسکے باوجود مولانا طارق جمیل کے ناقل مولانا آزاد جمیل سے سوال پوچھا کہ سسرالی رشتہ داروں کوحدیث میں آگ اور موت قرار دیا گیا ہے تو کیا جب عورت کا شوہر مرجائے تو اس کا نکاح اپنے سسر سے ہوسکتا ہے؟۔
مولانا آزاد جمیل نے جواب دیا کہ اگر مجبوری ہو تو ہوسکتا ہے۔ سیدبلال قطب نے کہا کہ یہ کیسا مسئلہ ہے کہ جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس عورت کی اس سسر سے شادی ہو جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس کیلئے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوگا؟۔ اس پروگرام میں دوسرے مکتبۂ فکر کے علامہ صاحبان بھی بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور یہ پروگرام رمضان میں افطاری سے پہلے نشر ہوا ۔ پھر سحری کے وقت نشر مکرر میں بھی چلا،دیکھا تو یقین نہیں آتا تھا کہ اتنی بڑی جہالت کا مظاہرہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ قرآن میں واضح الفاظ کے اندر جہاں محرمات کا ذکر ہے وہاں وحلائل ابناء کم ”جو تمہارے بیٹوں کیلئے حلال ہوں”۔ جس میں بہو کے علاوہ بیٹے کی لونڈی وغیرہ شامل ہیں۔
اگر فقہ واصولِ فقہ کی کتابوں کے علاوہ احادیث کی شروحات کے تناظر میں حرمت مصاہرت اور دوسرے مسائل دیکھ لئے جائیں اور ان کو پارلیمنٹ میں میڈیا کے سامنے لایا جائے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر علماء کی شلواریں واقعی گیلی ہوجائیں گی۔ کہیں لکھا ہے کہ غلطی سے بھی سوتیلے بچے کو شہوت کا ہاتھ لگ گیا تو بیوی حرام ہوجائے گی اور کہیں لکھ دیا ہے کہ بیوی کے سوتیلے سے لواطت کا فعل کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں بھی بہت شرمناک قسم کے مسائل لکھے ہیں۔
پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی ہوسکتی ہے۔ قبل از اسلام جاہلیت کے دور میں سوتیلی ماؤں سے نکاح کیا جاتا تھا۔پھر اسلام نے روک دیا اور یہ واضح کیا کہ الا ماقدسلف ‘مگر جو پہلے ہوچکا ہے’۔ علماء وفقہاء نے بعد میں اسلام کے نام پر جو مسائل گھڑے ہیں وہ تو جہالت کو بھی مات دے گئے ہیں۔ گدھوں کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ اس سے پہلے پہلے کہ غیر مسلم ہم پر مکمل قابو پالیں اور پھر علماء مشائخ سے آپریشن کا اہتمام کروائیںاور مسلمانوں کو اسلام سے بدظن کریں،ہم نے بروقت اپنے دین کا دفاع کرنا ہوگا۔ قرآن اور اسلام کا محافظ مولوی نہیں اللہ ہے۔
قائداعظم کے دادا نے اسکے باپ کا نام پونجا جناح رکھا تھا۔ ہندوستانی اپنی اردو میں پوجا کو پونجا بھی کہتے ہیں۔ یہ اہل تشیع کے گھوڑے ذوالجناح کی طرف منسوب ہے وہ جو امام حسین کے نام پر محرم میں نکالتے ہیں۔ قائداعظم آغا خانی شیعہ تھے ۔ پارسی مذہب سے آغا خانی بن گئے تو شکر ہے کہ رتن بائی پارسی خاتون سے شادی کرلی۔ آغا خانی سیکولر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا ہے۔ سید بلال قطب کا یہ حال ہے تو پھر ان کا کیا حال ہوگا؟۔ ہمارے کانیگرم میں ہمارے خاندان کے بڑوں کا ایک دوست تھا۔ جو بہت پکا قسم کا کانگریسی تھا۔ قائداعظم کا بہت سخت مخالف تھا جو گالی گلوچ کی حد تک بھی آجاتا تھا۔ جب اس کو چھیڑا جاتا تھا تو کہتا تھا کہ میں اس کی اس بیوی کی ایسی کی تیسی کردوں جس کو وہ اپنی بہن کی جگہ پراپنے ساتھ گھماتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بڑوں کا آپس میں مذاق ہوتا تھا۔
آج قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان، مادرملت فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو ملٹری ڈکٹیٹرشپ نے نقصان پہنچایا یا سیاسی طبقات نے؟۔ اس بحث میں ہماری قوم الجھی رہے گی اور آخر کار سقوط بغداد میں جس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان کی قوم نے مسلمانوں کا حشر نشر کردیا جو لایعنی فقہی مسائل، فرقہ وارانہ تعصبات اور ماضی کی یادوں میں گم تھے اور حال کی خبر لینے کی صلاحیت سے قاصر تھے۔ ارتغرل غازی کے ڈرامے سے قوم کی نشاة ثانیہ کیلئے کوئی کردار ادا نہیں ہوسکتا ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا نے انکشاف کیا کہ مولانا احمدرضاخان بریلوی کا فتویٰ ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے اور دیوبندی ، اہلحدیث، شیعہ اور قادیانی ہزار بار بھی اللہ کانام لیکر کسی جانور یا پرندے کو ذبح کریں تو وہ حلال نہیں۔ مولانا احمد رضاخان کے پیروکاروں کی پنجاب میں اکثریت ہے علامہ آصف جلالی کو اہل تشیع نے تائب کردیا تو اس کا سارا غبار دیوبند کیخلاف نکل رہاہے دوسری طرف علامہ سعدرضوی کے قافلے میں اوریا مقبول جان جیسے دیوبندی بھی شامل ہورہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ پنجاب میں دیوبندی واہلحدیث اور بریلوی تصادم کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ ہماری ریاست نے مجاہد تنظیموں اور سپاہ صحابہ سے سبق سیکھ لیا کہ نقص امن کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو پاکستان میں اسلام کی روح زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔علامہ اقبال نے دعا دی تھی کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے کہ تیرے بحرکی موجوں میں انقلاب نہیں
جب شیخ مجیب الرحمن نے الیکشن جیت لیا تو ذوالفقار علی بھٹو اقتدار منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ”ادھر تم اور ادھر ہم ” کا غم کھارہاتھا جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں انتہائی کربناک شکست کا سامنا کرکے ایک طوفان سے پاکستانی قوم آشنا ہوگئی ۔ پھر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بن رہی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی بلوچ وپشتون قوم پرستوں کی۔ لیکن مفتی محمود اور نیشنلسٹ مافیا نے ساز باز کرکے اپنی جمہوریت اور طاقت کیساتھ منافقانہ کھیل سے بلوچستان میں بلوچ نیشنلسٹ اور سرحد میں مفتی محمود کی حکومت قائم کردی۔ بلوچستان کی حکومت نے نوابی اور سرداری نظام ختم کرنے کا ایجنڈہ پیش کیا تو اس وقت کی اسٹبیلشمنٹ اور ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر بلوچستان حکومت ختم کرکے سردار اکبر بگٹی کے ذریعے گورنر راج قائم کیا۔ جس کے نتائج بلوچستان میں طوفان کی شکل میں آسمان والوں نے دیکھ لئے ہیں۔ پھر بھٹو کی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اپوزیشن کو مضبوط کیا گیا اور بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنوں کو روس کیخلاف جہاد کے مشن پر لگایا گیا اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم سے طوفان اٹھانے کی خدمات لی گئیں کراچی میں کشت وخون کے بعد ابھی معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ طالبان کی مخالفت اور حمایت کرکے پختون قوم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔
اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور پختونخواہ میں نیشنلسٹ حکومت ہوتی تو پھر یہ پاکستان مخالف عناصر تھے۔ جس طرح فتح مکہ تک بنوامیہ نے ابوسفیان کی قیادت میں ڈٹ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا اسی طرح یہ مذہبی اور قوم پرست طبقہ کہتا تھا کہ ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ جس طرح بنی امیہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد خلافت پر قبضہ کرلیا تھا ،اسی طرح نیشنلسٹ اور جمعیت علما ء ہند کے پیروکار وں کی طرف سے بھی پاکستان پر قبضہ ہوجاتا تو پھر پاکستان کو ہندوستان سے الگ کرنے کا تک بھی باقی نہیں رہتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو تو پہلے نیشنل عوامی پارٹی میں بھی شامل ہونے کیلئے تیار تھے لیکن اس نے جنرل سیکرٹری کا عہدہ مانگ لیا تھا۔
بریلوی خود کو مؤمن ، دیوبندیوں کو یہودی، اہلحدیث کو نصاریٰ اور شیعہ کو صابئین کا درجہ دینے کیلئے تیار ہوجائیں تو بھی غنیمت ہوگی۔ اسی طرح دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ بھی خود کو مؤمن اور دوسروں کو دیگر مذاہب کی طرح مان لیں تو اچھے نتائج برآمد ہونگے اور لوگوں کو الجھاؤ سے نکالنے کیلئے ہمیں قرآن وسنت کی طرف جلدسے جلد رجوع کرنا ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button