شعور کے عروج کا دور شروع ہوچکا ہے

306
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن کا گھر میں نماز پڑھنے کا پیغام دانشمندی کاہی ثبوت ہے!

والفجرOولیال عشرOوا لشفع والوترOوالّیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرٍO ” قسم ہے خصوصی فجر کی اور دس راتوں کی اور خاص جفت اور طاق کی اور رات کی جب رخصت ہورہی ہو۔ کیا اس میںدانشور کیلئے کوئی قسم ہے؟”۔(سورة الفجر)
شعور کی مقدس صبح اس قابل ہے کہ اس پر قسم کھائی جائے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا آگ سے نجات ہے، یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اسکے آخری عشرے کی جفت اور طاق راتوں میں لیلة القدر کی تلاش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس سال بے شعوری کی رات رخصت ہورہی ہو تو اس کی بھی اہمیت ہے۔ اس مقدس پیغام میں کسی بھی دانشور کیلئے قسم کی واقعی بڑی اہمیت ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کیساتھ نماز، تراویح پڑھنے کے ذریعے قوم کو پیغام دیا کہ علماء ومفتیان کا عوام کو اجتماعی نمازوں کے ذریعے وبا کے خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔اسلام اور ایمان کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ اس خوف کارسک لیاجائے،جس نے دنیا کو لپیٹ میں لیاہے۔

 

کورونا میں جہاں مسلم اہل دانش کی آزمائش ہے وہاں کافروں کی الٹی گنتی شروع

الم ترکیف فعل ربّک بعاد Oارم ذات العمادOالتی لم یخلق مثلھا فی البلادOوثمود الذین جابوا الصخر بالوادOوفرعون ذی الاوتادOالذین طغوا فی البلادOفاکثروا فیھا الفسادO فصب علیھم ربک سوط عذاب Oان ربک لبالمرصادO”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد ستونوں والے ارم کیساتھ کیا کیا؟جس کی طرح قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ اور ثمود کیساتھ جو چٹانیں وادی میں تراشتے تھے۔ اور فرعون کیساتھ جو میخوں والا تھا۔جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی تھی۔ اور اکثر اس میں فساد کرتے رہتے تھے۔ پھر تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ بیشک تیرا رب گھات لگائے بیٹھا ہواہے( انتظار ہے کہ ظالموں کا کب خاتمہ کردیگا) ۔ (الفجر)
جب تک شعور کی صبح طلوع نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو عذاب نہیں دیا ۔ امریکہ اور پوری دنیا میں یہ احسا س اُجاگر ہورہاہے کہ انتہائی مظالم ، فخر وغرور اور مفادپرستی کی سزا مل رہی ہے۔ پہلے مذہبی طبقات صالح، تقویٰ دار اور اچھے لوگ ہوتے تھے۔ اب تو بلیک واٹرتنظیم کے کارندوں نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم سودی بینکوں پر معاوضہ لیکر اسلام کا ٹھپہ لگاتے ہیں،جھوٹے تاجروں نے مذہبی لبادے کو اپنا ہتھیار بنالیا ۔تبلیغی جماعت کا نعیم بٹ کہتا ہے کہ حبشہ سے خواتین کی جماعت آئی ہے جس میں حضرت بلال حبشی کی نسل والی عورت ہے۔ حالانکہ سیدنا بلال حجاز میں بچپن، جوانی ، ضعیف العمری اور وصال تک آباد رہے۔ مولانا الیاس کے پڑپوتے کا تو خیال رکھا نہیں۔ مولانا طارق جمیل کو اس بنیاد پر تبلیغی جماعت والے فحش گالیاں دیتے ہیں کہ اہلبیت کی احادیث بیان کرتاہے۔ لاؤڈاسپیکر پر آذان ونماز سے گریز کرنے والے ویڈیو میں جھوٹ بولنے سے نہیں شرماتے۔

 

مذہبی طبقے اس انقلاب میں اپنی روش کی تصویر بھی ضرور دیکھ لیںکہ کیا چاہتاہے

فاما الانسان اذا ما ابتلاہ ربہ فاکرمہ و نعمہ فیقول ربی اکرمنO و اما اذا ماابتلاہ فقدر علیہ رزقہ فیقول ربی اھاننO کلا بل لاتکرمون الیتیم O و لا تحاضون علی طعام المسکینOو تأکلون التراث اکلًا لماOوتحبون المال حبًا جمًا Oکلااذا دکت الارض دکًادکًاO وجاء ربک والملک صفًا صفًاO وجیی ء یومئذٍ بجھنم یومئذٍ یتذکرالانسان وانّٰی لہ الذکرٰیOیقول یالیتنی قدمت لحیاتی Oفیومئذٍ لایعذب عذابہ احدOولا یوثق وثاقہ احدO یآایتھاالنفس المطمئنةOارجعی الٰی ربک راضےة مرضےةOفادخلی فی عبادیOوادخلی جنتیO ”اور جب انسان کو اسکارب آزماتا ہے اور اس کو عزت دیتا ہے اور اس کو نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا اور اس کو آزماتا ہے اور رزق اس پر کم کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔ ہرگز نہیں بلکہ تم نے یتیم کا اکرام نہ کیا اورنہ مسکینوں کیلئے ایکدوسرے کو کبھی اُبھارا۔ تم میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہواور مال سے جم کر محبت کرتے ہو۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ بنایا جائیگا اور تمہارا رب آجائے اور فرشتے صف در صف۔ پھر سامنے لایا جائے جہنم کو اس دن۔اس دن انسان نصیحت حاصل کرلے گا اور اسی کیلئے تو نصیحت ہے ۔ وہ کہے گا کہ کاش اپنی زندگی کیلئے کچھ تو آگے کرتا۔ اس دن کوئی دوسرا اس کو عذاب نہیں دیگا۔ اور اس کو کوئی دوسرا نہیں باندھے گا( بلکہ اپنے ضمیر کے عذاب اور جھکڑ کا شکار ہوگا)اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ جا۔ راضی خوشی سے۔پس میرے بندو میں داخل ہوجاؤ اور میری جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الفجر)۔ انقلاب کے بعد دنیا کا یہ نقشہ بن جائیگا۔

 

پاک فوج نے لاک ڈاؤن میں ایک بنیادی کردار ادا کیا مگر جاہلوں کی ضدہے!

تبلیغی جماعت کے اکابر اور ترجمان اپنی غلطی ماننے کے بجائے دوسروں کو ٹوپی پہنا رہے ہیں اورتکلیف پہنچنے پر چوہدری پرویزالٰہی اور پاک فوج کے تعاون کا شکریہ ادا کررہے ہیں مگر یہ بات نہیں سمجھتے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہی نے تو اپنی قوم کو وبا کی مصیبت کے رحم وکرم پرنہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر تبلیغی جماعت کو بروقت مسجدوں میں قرنطینہ کرنے کا کریڈٹ کسی کو جاتا ہے تو یہ فوج کے ISPRکی جانب سے وزیراعظم کی خواہشات کے برعکس فیصلہ تھا اور اب عمران خان اور علماء ومفتیان کے مشترکہ رویہ سے صدر عارف علوی نے جاہلانہ فیصلہ کیا ہے تو اسکے نقصان کی تمام تر ذمہ داری احمقوں کی جنت میں رہنے والی مخلوق پر عائد ہوگی۔
مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماعی فیصلے کا خیرمقدم کرنے کے بجائے اس سے اختلاف کو ایک ذاتی رائے کی حیثیت سے بے معنیٰ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ” اجتماعی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے”۔ مگر بذات خود اپنے گھر والوںبھائیوں ، بیٹوں، بھتیجوں سمیت اپنے گھر میں ہی نماز پڑھنے کو واضح کیاہے۔ جو اپنے لئے آدمی پسند کرتا ہے وہ دوسروں کیلئے بھی پسند کرتا ہے۔ اگر جمعیت علماء اسلام کے کارکن اور رہنما ایک سخت اپوزیشن کے باجود حکومت کے امدادی کاموں میں رضاکارانہ طور پر پیشکش کرتے ہیں اور نماز گھروں میں پڑھتے ہیں تو اس کا زبردست اثر بھی مرتب ہونا چاہیے بلکہ جمعیت علماء اسلام کی شوریٰ کے ذریعے عوام کو گھروں ہی میں نمازپڑھنے کی تلقین ایک بہت جرأتمندانہ فیصلہ ہوتا۔ یہ ریاست کا کام ہے کہ لوگوں کو زبردستی موت کے منہ میں جانے سے بچائے مگر مذہبی طبقے کے سامنے ریاست ٹھنڈی ہے اسلئے کہ وزیراعظم کی اپنی روش بھی مختلف ہے۔ مذہبی طبقے کے سامنے لیٹنا مجبوری نہیں خوشی ہے، کل اگر خدانخواستہ بڑے پیمانے پر نقصان ہوگیا توذمہ دار طبقے کیابری الذمہ ہونگے؟۔

 

قرآن میں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کی بھرپور وضاحت ہے مگر…..

کوئی بھوک سے مرتا ہے اور کاروبار کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کی بات اپنی جگہ ہے مگر جب مساجد سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے خوف کی صورت میں نماز باجماعت سے دُور رہنے کی بالکل واضح آیات میں تلقین کردی ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب عوام اور علماء کرام کوقرآن کی افادیت سے آگاہ کردیا جاتا۔ مولانا بشیر فاروقی سیلانی ویلفیئرٹرسٹ سے خیرات بانٹ رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے ۔ تبلیغی جماعت کا بھی اپنا ایک ٹرسٹ ہونا چاہیے تھا جو نظر آتے کہ غریب عوام مسکینوں اور یتیموں کا یہ لوگ بھی احساس رکھتے ہیںلیکن بشیر فاروقی کو ٹی وی پر آتے وقت اعلان کرنا چاہیے تھا کہ تصویر کے معاملے میں شریعت ناکام ہوگئی ہے اور اس پر عمل کرنا ممکن نہیں رہاہے یا یہ اعلان کرنا چاہیے کہ تصویر جائز ہے یا پھر اپنی کوتاہی کو واضح کرتا کہ مجھے بھی اپنی شکل دکھانے کا شوق خوامخواہ میں سوجھا ہے۔ جب اسکے بقول حضرت علی نے یہودی سے کہا کہ تیری داڑھی، میری داڑھی کے گنجان آباد ہونے یانہ ہونے کا ذکر قرآن میں ہے۔اللہ اچھی زمین سے اچھا سبزہ اُگاتا ہے اور خبیث سے ناقص ۔ حالانکہ اس کی زد تو بعض صحابہ کرام ، علماء ومشائخ اورمسلم عوام پر بھی پڑتی ہے ، چین،جاپان، کوریا سب اس کی زد میں آتے ہیں لیکن شاباش ہوالیکٹرانک میڈیا کو کیسے کیسے جاہلوں کو بولنے کا موقع دیتے ہیں مگر قرآن کی ایک بہت واضح آیت اور حدیث کو پیش نہیں کرتے کہ خوف کی حالت میں مسجد کی نمازباجماعت سے قرآن نے چھوٹ دی ہے اور اس حدیث میں اسکی وضاحت ہے جس کا سب سے زیادہ اطلاق اس عالمی وبا کورونا وائرس پر ہوتا ہے۔ یہ زبردست موقع ہے کہ قرآن امت کو اجتہاد کے بغیر جو رہنمائی فراہم کرتاہے جس پر لوگ علماء ومفتیان کے محتاج نہیں ۔ علماء کو عوام کے ایمان وروحانی غذاء کی فکر نہیں بلکہ پیٹ کی آگ دماغ پر شعلہ زن ہے۔

 

دنیا میں ہی اس انقلاب کا نقشہ ہے جس میں رجعت پسند اور انقلابی کا حال ہے

سورۂ الفجر میں عقل والوں کیلئے قسم میں سمجھ کی بات کا داعیہ کیوں پیدا کیا گیا ہے؟۔ جب ایک طرف کم عقل علماء ومفتیان ہوں اور دوسری طرف اہل دانش ہوں تو اہل دانش ہی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے قابل ہوں گے۔سورۂ فجر کی اگلی آیات میں گزشتہ طاقتور قوموں کی داستانوں اور ہلاکتوں کی طرف واضح پیغام دینے کے بعد یہ واضح کیا کہ ”تمہارا رب گھات میں بیٹھا ہے”۔ پھر انسان خاص طور پر مسلمان حکمرانوں، علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کے علاوہ عام لوگ سب کے سب انسانوں کی عمومی روش کو واضح کیا ہے کہ جب اس کو عزت ملتی ہے اور نعمت ملتی ہے تو کہتا ہے کہ پروردگار! (اس قابل تھا)تو نے مجھے اکرام کے قابل سمجھا۔ اور جب تھوڑا آزمائش میں ڈال دیتا ہے اور رزق کم کردیتا ہے تو کہتا کہ پروردگار تونے مجھے ذلیل کردیا۔بھلے کی آزمائش اچھی لگتی ہے اوربرے کی آزمائش پر تلملا اٹھتا ہے۔ لیکن جب دیکھو تو یتیموں کا کوئی اکرام نہیں کرتا۔ مسکینوں کے کھانے کی تحریک نہیں چلاتا۔ وراثت میں ناجائز حق کھا جاتا ہے۔ مال سے جم کر پیار کرتاہے۔ (ایسے میں اپنی نمازوں کو گھاس کی طرح کھا جائے اوران نمازیوں کیلئے ہلاکت ہے جو نماز کے مقاصد بھول جاتے ہیں)پھر اللہ نے انقلاب کا نقشہ قرآن میں کھینچاہے کہ جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کی جائے گی اور تیرا رب آجائے اور ملائکہ صف درصف۔ اور جہنم کا نقشہ سامنے ہوگااسلئے کہ اسکے خیال میں دین کا تعلق صرف آخرت کیساتھ ہے دنیا کیساتھ نہیں۔پھر اس دن وہ نصیحت لے گا اور نصیحت تو ہے ہی اس کیلئے۔ مگر افسوس کریگا کہ اپنی اس زندگی کیلئے کچھ تو آگے کرتا۔ اس دن کوئی طعنہ نہ دیگا مگر اپنے ضمیر کے عذاب اور قید کا شکار ہوگا۔ انقلابی مخاطب ہوگا کہ اطمینان والا! اب خوشی راضی سے اپنے رب کی طرف لوٹ ! میرے بندوں، میری جنت میں داخل ہوجاؤ۔

 

قرآن کے مقاصد سے غافلوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کیا فضول تعلیم دیتے ہیں؟

یقینا اب دنیا کے کافر بھی بڑے پیمانے پر اسلام کی حقانیت جان کر تمنا کرینگے!

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اسلئے نازل نہیں کیا کہ لوگ دم تعویذ،پیشاب سے علاج کیلئے لکھنے کی جسارت کریں ، اس بات پر درسِ نظامی کے اسباق پڑھائیں کہ تحریری شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔ فرقہ واریت اور مسلکانہ تعصبات کی لعنت میں پڑیں۔ مفادپرستی کیلئے ٹولہ بازی اور گروہ بندیوں میں تقسیم ہوں۔ جماعتوں اور تنظیموں سے امت کا بٹوارہ کرتے پھریں اور مختلف ممالک کی شکل میں قابض طبقات اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کریںبلکہ قرآن سے ایسا لگتا ہے کہ جس طرح موجودہ حالات میں فرقہ پرستوں اور قرآن کو چھوڑنے والوں پر ہی اب تازہ تازہ نازل ہوا ہو۔عربی میں حِجر عقل کو اور حَجر پتھر کو کہتے ہیں۔ وائل ابن حِجر صحابی تھے۔ علامہ ابن حجرکا معنیٰ دانشمند ہے جس طرح ابن سبیل مسافر ہوتاہے۔ علماء نے علامہ ابن حجر کو پتھر بناکر اسکے حافظے کو پتھر سے مشابہ قرار دیا ہے۔ قرآن میں سورۂ حجر کے اندرایک قوم کا ذکرہے جو اپنے ذہنی کمالات کی وجہ سے ترقی یافتہ تھی۔ کورونا نے ملکوں کے درمیان دشمنی کا ماحول ختم کرکے انسانیت کی فلاح کیلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔
سورۂ الحجر میں بڑے حقائق ہیںلیکن مختصر حوالہ جات کافی ہیں۔ الرٰ تلک اٰےٰت الکتٰب و قراٰن مبینOربمایود الذین کفروا لو کانوا مسلمینOذرھم یاکلواو یتمتعوا ویلھھم الامل فسوف یعلمونOومااہلکنا من قرےة الا ولھا کتاب معلوم Oماتسبق من امة اجلھا ومایستأخرونOو قالوا یٰایھاالذی نزل علیہ الذکر انک لمجنونO ”الف ،لام ،را ،یہ کتاب کی آیات ہیں اور واضح قرآن ہے۔ قریب ہے جن لوگوں نے کفر کیا کہ وہ چاہیں کہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔ ان کو چھوڑ و، کھائیں اور فائدہ اٹھائیں، ان کو اُمید نے غفلت میں ڈالا ہوا ہے۔ ہم کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتے مگر اس کیلئے ایک مقررہ وقت ہے۔ کسی قوم کا وقت مقدم اور تاخیر کا شکار نہیں ہوسکتا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ اے جس پر وحی نازل ہوئی ہے آپ واقعی میںمجنون ہیں”۔ (سورہ حجر)
یہ سورة انقلابِ عظیم کے وقت کی نشاندہی کیلئے کافی ہے کہ جب کفر سے محبت کرنیوالا طبقہ دنیا میں ہی مسلمان ہونے کی تمنا کریگا۔ کافروں کو بہت عرصہ تک ڈھیل ملتی رہی ہے ، مسلمان بھی کوئی قابلِ قدر کردار ادا نہیں کرسکیںہیںلیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن ضائع ہونے کیلئے نازل نہیں کیا بلکہ اس سے عنقریب ہدایت کے وہ چشمے پھوٹیں گے کہ دنیا حیران ہوگی۔انشاء اللہ
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور قوموں کی تاریخ کا تذکرہ اور بہت اہم باتوں کا ذکر کیا اور پھر فرمایا: ولقد کذّب اصحاب الحجر المرسلینO……………. ” اور تحقیق کہ اصحابِ الحجر نے رسولوں کو جھٹلایا۔ہم نے اپنی آیات ان کو دیں تو انہوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ پہاڑ تراش کر مکانات بناتے تھے، امن امان کی حالت میں رہتے تھے۔ پھر ہم نے ان کو صبح کے وقت دھماکوں سے پکڑلیا۔ جو انہوں نے حاصل کیا تھا وہ ان کو بچا نہیں سکا اور ہم نے نہیں بنایا آسمانوں اور زمین کو مگر حق کیساتھ اور بیشک مقررہ (انقلاب کا) وقت ضرور آئیگا( آسمان و زمین کی موجودگی میں) پس آپ اچھے انداز سے درگزر سے کام لو۔ بیشک تمہارا رب بہت ہی اخلاق والا جاننے والا ہے۔ اور بیشک ہم نے آپ کو سات (آیات) دُوہرانے والی دی ہیں اور قرآن عظیم۔ آپ اپنی آنکھوں کو اس پر نہ لگائیں جو ہم نے متاع کے اقسام دئیے ہیں اور ان پر زیادہ غم بھی نہ کھائیں اور مؤمنوں کیساتھ انتہائی عاجزی والا برتاؤ اپنائیں اور کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ایک کھلا ڈرانے والا ہوں” ۔ (سورہ الحجر)ان آیات میں موجودہ ترقی یافتہ دور کے لوگوں کیلئے بہت کچھ ہے مگران کو قرآن سے رہنمائی کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔

 

گویا قرآن انہی لوگوں پر ہی نازل ہوا ہے جنہوں نے اس کو ٹکڑے کیا ہے!

فرمایا: کماانزلناعلی المقتسمیںOالذین جعلوا القراٰن عضینOفو ربک لنسئلنھم اجمعینO عما کانوا یعملونO…………………”گویا ہم نے تفرقہ بازی میں مبتلا ہونیوالے پر (یہ کلام ) نازل کیا ہے۔ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ۔ پس تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیںگے جو وہ عمل کرتے تھے۔( گدھوں سے قرآن کے حقائق اور رازوں کا نہیں بلکہ انکے اپنے عمل کا پوچھا جائیگا)پس اے نبی! آپ اعلان کرڈالیں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں سے پہلوتہی برت لیں۔ ہم کافی ہیں مذاق اڑانے والوں کیلئے ،جنہوں نے اللہ کیساتھ دوسرے معبود بنارکھے ہیں۔ عنقریب یہ سمجھیں گے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ انکی باتوں سے آپ کے سینے میں تکلیف اُٹھتی ہے۔پس پاکی بیان کر اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اور سجدوں والوں میں سے ہوجاؤ۔ اپنے رب کی بندگی کر یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آجائے۔ (اہل حق کو اللہ غلبہ دلادے)۔ (سورہ حجر)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی مختلف آیات میں واضح کیا ہے کہ فرقہ بندی علم کے بعد آپس ہی کی بغاوتوں سے آئی ہے۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہم پہلے والوں اور آخر والوں کو جانتے ہیں اور یہ معلوم تھا کہ یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر چل کر مسلمانوں نے بھی قرآن کی معنوی تحریف کا ارتکاب کرنا ہے اسلئے کہ قیامت تک حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے ظاہری الفاظ کی لی ہے۔ شاباش مولانا مودودی جیسے عالم نے بھی قرآن کو ٹکڑے کرنے کی ذمہ داری امت کے سر رکھ دینے کے بجائے یہود یوں کا قرآن مراد لیا ہے۔جماعت اسلامی منصورہ میں اجلاس بھلاکر علماء کو کردار ادا کرنے پر متوجہ کرے۔ مولانا مودودی نے نکاح سے درست معنی مراد لئے ہیں مگر حنفی علماء نے اصولِ فقہ میں نکاح کے حوالہ سے شریعت اور فطرت کی دھجیاں بکھیر دی ہیں!۔