قرآن کریم میں اسلام کی نشاة ثانیہ یوم الفصل اور انقلاب عظیم کی واضح خبر موجود ہے۔ عتیق گیلانی

803
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
احادیث صحیحہ میں ایک بڑے انقلابِ عظیم کی خبر موجود ہے۔ شاعر انقلاب مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے کہاکہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
پروفیسر باغ حسین کمال،پروفیسر علی محمد ماہی، پروفیسر احمد رفیق اختر، صوفی برکت علی لدھیانوی کے علاوہ بزرگ حضرات پاکستان کے بارے میں بڑی بڑی پیش گوئیوں کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ استحصالی نظام کے ہوتے ہوئے جس طرح پہلے پاکستان دو لخت ہوا، اب اسکا قائم رہناہی دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ گھناؤنے کردار کے مالک طبقوں کی آشیرباد پر پلنے والے بزرگوں کے دل ودماغوں کیلئے اس قدر فارغ نہیں کہ ان کی زبانوں سے نکلنے والے الفاظ کی لاج رکھ لے۔ جبری جنسی تشدد سے زیادہ مدارس میں ایک ساتھ تین طلاق کے نام پر اللہ کے کلام کی توہین اور اسکی بے گناہ بندیوں کی مذہب کے نام پر عصمت دری ہے۔
قرآن میں نکاح وطلاق کے حوالے سے نہ صرف مرد اور عورت میں بہترین توازن ہے بلکہ عورت کو شوہر کے استحصال سے بچانے میں کمال کی آخری حدوں کوچھولیاگیا ہے۔ ایک طرف مرد کی غیرت کا یہ عالم ہے کہ برطانیہ میں شہزادہ چارلس لیڈی ڈیانا کو طلاق دیتا ہے تو ڈیانا اس کا یہ انتقام لیتی ہے کہ جہاں شاہی خاندان کو ٹھیس پہنچے،وہ وہیں پر شادی کرے۔ پہلے ایک پاکستانی ڈاکٹر سے شادی کی کوشش شروع کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ پھریہ قرعہ ایک عرب دودی الفہد کی قسمت میں آیا۔ ڈیانا فرانس کے شہر پیرس میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئی ،جس پر قتل کی سازش کا کیس عدالت کی زینت بن گیا۔ ترقی اور آزادی سے آراستہ برطانیہ میں مردوں کے اقدار کا حال اس آخری دور میں یہ ہو تو چودہ سوسال سے مسلمانوںمیں غیرت کا تناسب کیا ہوگا؟۔ ہمارے مشرقی اقدار کا تقاضہ کیاہے؟۔ مغرب پر تو بنی اسرائیل کی اجارہ داری ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام پر عزیز مصر کی بیگم نے ہاتھ ڈالا تھا اور پتہ چلا تھا کہ غلطی بادشاہ کی بیگم کی ہے لیکن اس کو تہہ تیغ کرنے کے بجائے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف کے حوالے سے اس بادشاہ کے کلچر کواپنے مذہبی اقدار کی اہم بات سمجھتے تھے۔ جس کے اثرات آج بھی مغربی اقدار میں موجود ہیں۔
ہندوستان میں نوح کے بعد ہندو قوم نے ذوالکفل کو نہ مانا جسے بدھ مت والے گوتم بدھ کہتے تھے۔ عربوں میں اسماعیل کے بعد آخری نبیۖ تک کوئی نبی نہیں آئے۔ ہندو اقدار قدیم ہیں، بابِ اسلام سندھ کی اکثریت نے بدھ مت قبول کیا تھا۔ عرب قدیم اقدار کے مالک تھے۔ نبیۖ پر سورۂ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو مدینہ کے اسٹیک ہولڈرحضرت سعد بن عبادہ نے کہا کہ ہم آیت پر عمل نہ کرینگے، عورتوں کو قتل کرینگے۔ نبیۖ نے انصار سے شکایت کی تو انصار نے کہا کہ یارسول اللہ ۖ درگزر کیجئے! یہ بہت غیرت والا ہے، کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہ کی۔ ہمیشہ کنواری سے شادی کی ، جس کو طلاق دی تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبیۖ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرتمند ہے۔ ( صحیح بخاری)
علماء نے پدرِ شاہی نظام کیلئے اس حدیث کی غلط تعبیر لکھ دی کہ نبیۖ نے حضرت سعد کی غیرت کی تعریف کی۔ حالانکہ نبیۖ نے سچ فرمایا تھا کہ وہ زیادہ غیرتمند ہیں، جبھی تو اللہ نے فرمایاکہ” آپ کی ازو اج سے کبھی بھی نکاح نہ کرو، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے”۔ (القرآن)
نبیۖ کی غیرت کا یہ عالم تھا کہ احادیث کی کتابوں میں لکھاہے کہ آپۖ کو اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ پر اسکے ایک ہم زباں کا شک گزرا تو حضرت علی کو قتل کرنے کا حکم دیا مگر حضرت علی نے اس کو کنویں سے نکالا تو عضو ء تناسل کٹا ہوا تھا ، جس کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا۔ لونڈی سے کئی گنا زیادہ غیرت بیگم پر ہوتی ہے اسلئے کہ قرآن میں جس طرح آزاد بے نکاح عورتوں کے نکاح کرانے کا حکم ہے، اسی طرح سے غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرانے کا حکم ہے۔ قرآن و احادیث میں مستقل نکاح کی طرح سے ایگریمنٹ کی بھی وضاحت ہے۔ ایگریمنٹ اور نکاح آزاد عورتوں سے بھی ہوسکتا ہے اور لونڈیوں سے بھی ۔ آج مغرب اسلام کے زیادہ قریب اسلئے ہے کہ قرآن واسلام کے فطری نظام ہی کے قریب ہے اسلئے علامہ قبال کو مشرق میں مسلمان نظر آتا ہے مگر اسلام نظر نہیں آتا اور مغرب میں مسلمان نظرنہیں آتا ہے مگراسلام نظر آتا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کا انقلاب دنیا میںنشر ہونے کا اعتراف کیا اور مسلمان ہی کو محروم قرار دیا ہے۔ پدرِ شاہی نے قرآن کے الفاظ سے بالکل غلط مفہوم لیا اور ماملکت ایماکم سے نکاح کے قانونی بندھن سے آزاد ایگریمنٹ مرادلینے کے بجائے لونڈیاں مراد لیا۔ جس کی وجہ سے اسلام کے نام پر عیاشی کرنے والا بادشاہ اور اسکے مشیراوروزیر اپنی اپنی خواہشات کے مطابق کئی ہزار اور سینکڑوں دوشیزاؤں کو محل سراؤں میں رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کی سیرت طیبہ کو اعلیٰ نمونہ اسلئے قرار دیا کہ وحی کے ذریعے ہر چھوٹی بڑی بات میں رہنمائی کا اہتمام کیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان عظیم کا معاملہ آیا تو نبیۖ نے شک کی بنیاد پر قتل کرنے کے بجائے آپ کو گھر جانے کی اجازت دی ۔ سورۂ نور میں زناکی سزا اور پاکدامن خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کا حکم نازل ہوا تو بہتان لگانے والوں کو 80، 80 کوڑے لگائے گئے۔
مرد گالی دینے کو عزت سمجھے تو بہتان پر سزا کیوں؟۔ قرآن نے صرف عورت کوتحفظ دیا ۔ یہ سزا اُم المؤمنین پر بہتان لگانے والوں کیلئے بھی تھی اور ایک عام غریب ونادار عور ت پر بہتان لگانے کی بھی یہ سزا تھی۔ قرآن وسنت کا یہ قانون آج نافذ ہوجائے توپھر پدرِ شاہی نظام بالکل دھڑام سے گرے گا۔ پدرِ شاہی نے جن شخصیات اور خاندانوں کی آبیاری کی، ان کی عزت عدالتوں میں اربوںکی ہے اور عوام کی ٹکے کی عزت نہیں۔ منظور پشتین مولوی بن کر نماز پڑھاتا ہے لیکن اسلام کی انصاف پر مبنی بات نہیں کرتا۔ تعصبات کو ہوا دینا پدرِ شاہی نظام کو تقویت دینے کا سبب بنتاہے۔ مذہبی ، قومی، لسانی اورملکی تعصبات پدرِ شاہی نظام کے عالمی استعمار کوہی تقویت پہنچانے کا خواب ہیںلیکن اب انشاء اللہ یہ پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بلیک واٹر کا کردار تھا؟۔
لیکن اس وقت طارق اسماعیل ساگر جیسے لوگ سب سمجھ کر بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ اب افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کے حمایتی قتل وغارتگری کی ذمہ داری بلیک واٹر پر ہی ڈال رہے ہیں۔ دونوں طرف کے بڑے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر امریکہ کے کردار پر بات نہیں کرسکتے اسلئے ایک طرف ہندوستان دوسری طرف پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ اور دونوں ہی شریعت،اسلام اور قرآن کا نام لیتے ہیں۔
ہندوستان کے پاس ہندوازم کا نظام نہیں تھا اسلئے عالمی استعمار کیخلاف کھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ملا لیکن پاکستان کے پاس قرآن اور اسلام جیسی نعمت ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ علماء نے جس طرح اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ عباسی دور میں جس طرح کی اسلام سازی سے آغاز ہوا تھا، وہ اب شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ہاتھوں بالکل آخری حدوں کو چھورہاہے۔ ایک طرف قرض سے فائدہ ہی فائدہ اٹھانے کی بنیاد پربینکنگ کا سودی نظام جائز قرار دیا گیا اور دوسری طرف اپنا چہرہ چھپاکر ویڈیوبھی نشر کردی کہ” لوگ علت اور حکمت کا فرق نہیں سمجھتے۔ اسلئے کہتے ہیں کہ سود کا تعلق ظلم سے ہے ۔جب سود میں ظلم نہ ہو تو پھر جائز ہونا چاہیے لیکن میں کہتا ہوں کہ ظلم سود سے روکنے کی حکمت ہے مگر یہ اس کی علت نہیں ۔ سود کی علت قرض پر نفع حاصل کرنا ہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ لال بتی میں حکمت ٹریفک حادثات سے بچنا ہے مگر اس کی علت لال بتی کا جلنا ہے۔ اگر کوئی ماحول دیکھ کر لال بتی کی خلاف ورزی کریگا تو قانون کی گرفت میں آئیگا، چاہے وہ حادثہ سے بچنے کی حکمت اختیار کرے”۔ مفتی تقی عثمانی۔
دنیا نے سود کو ظالمانہ نظام تسلیم کرلیا۔ شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان”کا ترجمہ ہمارے استاذ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارپرنسپل جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن (نیوٹاؤن) کراچی نے کیا، جس میں دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی طرف سے سودی نظام کو ظلم کہا گیاہے۔ لیکن یہ کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی اور ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کو شہید کرکے جلاکر راکھ کردیا گیا۔
میرے گھر پر حملہ کرکے بہت سوں کو شہید کیا گیا تو میرے لئے تیزاب کے بڑے بڑے کین لائے تھے۔ میری ان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور طالبان کے امیر نے ذمہ داروں سے قصاص لینے کا عزم بھی کیا تھا۔ قوم محسود کے نمائندے معافی تلافی کیلئے تو ساتھ آئے لیکن فیصلے کا وقت آیا تو طالبان نے ان کو کانیگرم نہیں آنے دیا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں ہندوستان کے فوجی طیارے استعمال کرکے باغی کشمیریوں کو نہیں مارتے اور پاکستان کی آرمی نے وزیرستان میں محسود قوم پر بمباری کرکے خواتین اور بچوں سمیت بہت بے گناہ افراد کو بھی شہید کردیا۔ لیکن جب دہشت گرد حملے کے بعد اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں جاتے تھے تو پوری قوم بے غیرت بن کر انکے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ مجھ پر پہلے حملہ ہوا تھا توبھی میرے ساتھ دو معصوم افراد بھی بال بال بچ گئے تھے اورپھر بھی ہمارا گھر اور ہمارے عزیز واقارب طالبان کو سپورٹ کرنے میں بے شرمی اور بے غیرتی محسوس نہیں کرتے تھے۔ کربلا کے بعد بھی طالبان کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بے غیرتی ہو تو پدرِ شاہی اور عالمی استعمار کا نام لینا حقائق سے فرار کی ایک بدترین صورتحال ہے۔
جب برطانیہ کے شہزادہ چارلس کوبھی غیرت کا سامنا تھا جس کی جھلک نجم سیٹھی کی بیگم جگنومحسن کی طرف سے ARYنیوز کے پروگرام میں نیٹ پر ملے گی تو پھر ہمارے شہروں، دیہاتوں اور قبائلی ماحول میں مردانہ غیرت اور خواتین کیساتھ مظالم کا حال کیا ہوگا؟۔ دنیا بھر میں عورت مارچ جنسی تشدد اور حقوق کیلئے آواز بلند کرتا ہے، جس نے پاکستان میں بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
جب ریحام خان مسیج پر طلاق ملنے کے بعد بر طانیہ سے واپسی کا عزم کررہی تھی تو اس کو قتل کی دھمکیاں ملی تھیں لیکن قدرت نے اس قوم سے ایک ایسی تبدیلی کا انتقام لیا کہ عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون بشریٰ بی بی ہی سے خلع لینے کے بعد شادی کرلی تو قوم نے وزیراعظم بنایا اور جب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پختون کا لباس ودستار پہن کر بلاول صاحبہ پکار رہاتھا جس کو فیاض الحسن چوہان، عامر لیاقت، مراد سعید ، شہریار آفریدی اور اجمل وزیر نے بڑی داد بھی دی ہوگی لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ بشری بی بی کا نکاح بھی ایک پختون مفتی محمدسعید خان نے ہی پڑھایا تھا۔ جب بہنوں اور بیٹیوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے تو کوئی غیرت نہیں آتی ہے لیکن جب بیگم گھر میں بیٹھ جائے تو پھر غیرت کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے؟۔ غیرت کا مسئلہ الگ ہے مگر مفادات کو غیرت کا نام دینا الگ ہے۔
ہمارے کانیگرم شہر میں پڑوسی زنگی خان نے شادی کے بعد اپنی بیگم کو بیڑیاں ڈال کر قید کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وزیرستان میں اچانک عورت کا ریٹ بڑھ گیا ۔ اس کو فروخت کرنے والے باپ اور بھائیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ یا نئے ریٹ دو یا پھر طلاق دو اوراپنا پیسہ واپس لے لو تاکہ ہم زیادہ قیمت وصول کرکے اس کو دوبارہ فروخت کردیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور اپنی دہشت و غیرت سے اسلام کی غیرت دنیا پر مسلط کرنے لگ گئے۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جب دوبارہ خلافت قائم ہوگی تواسلام زمین میں جڑ پکڑے گا”۔ قرآن میں یہ انقلاب بہت واضح ہے۔ بہت ساری آیات اور سورتوں میں اس عالمگیر انقلاب کا نقشہ بہت واضح ہے۔ سورہ جمعہ، سورہ محمد اور سورہ واقعہ میں صحابہ کے بعد پھر سے ایک نئی قوم کا ذکر ہے، نئی جماعت کا ذکر ہے اور تھوڑے مقربین اور بہت ہی زیادہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھینے کوشش کی تھی کہ قوم اس طرف توجہ کرے۔ قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا سندھی کی اس کاوش کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن نوکری اور اختیار مل جاتا ہے تو مشکلات کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا ہے۔
غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کی روح کو نہیں سمجھا تھا اسلئے قرآن کی خدمت کے باوجود قرآن فہمی سے محروم رہاتھا۔غلام احمد پرویز سے زیادہ حنفی نصاب میں احادیث سے روگردانی کا قرآن کی بنیاد پرارتکاب ہے لیکن قرآن و سنت نہیں مسالک اورنظریات کی خدمت ہورہی ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ قرآن وسنت کے تابع بننے کے بجائے مسلک پرستی اور نفس پرستی کے تابع اسلام کو بنایا جائے۔
فاذا جاء ت الصاخةOیوم یفر المرء من اخیہ Oامہ وابیہOو صاحبتہ وبنیہ O لکل امری ئٍ منھم شان یغنیہOوجوہ یومئذ مسفرةO ضاحکة مستبشرة Oو وجوہ یومئذ علیھا غبرہ Oترھقہا قترةOاُولئک ھم الکفرة الفجرةO( سورہ ٔ عبس کی آخری آیات)
جب انقلاب کی وہ آواز آئے جو دلوں کے اندھوں کو بھی سنائی دے تو آدمی اس دن اپنے بھائی سے فرار ہوگا۔ اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی، اپنے بچوں سے۔ ہر ایک اپنے سردرد میں مگن ہوگا۔ انقلاب کے داعی اچھے لوگوں کے چہروں پرخوشی نمایاں ہوگی،ان پرہنستے ہوئے بشارت کے اثرات ہونگے اور انقلاب دشمن لوگوں کے چہروں پر مجنونوں کی طرح بھاگنے اور رقص کرنے کی وجہ سے گرد وغبار چڑھا ہوگا۔ ان پر سیاہی کی تہہ چڑھی ہوگی۔ یہ وہی لوگ ہونگے جنہوں نے کفر و فجور کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ قرآنی احکام کو رد کرنے کا نتیجہ وہ بھگت لیںگے۔
اسلامی خلافت علی منہاج النبوة بعض مجرموں کو طوق وسلاسل پہنائے گی لیکن اس کی وجہ انتقام نہیں بلکہ اس دنیا کو انکے شر سے بچانا ہوگا۔ہندوؤں کا حکمران طبقہ زیادہ تر اس کا شکار اسلئے ہوگا کہ ہندوستان میں اسلام کا سورج ہی ہندوؤں کے ہاتھوں سے طلوع ہوگا۔ مودی کے تعصبات لتا حیا شاعرہ جیسے کروڑوں ہندوؤں کیلئے قابلِ نفرت ہے اور پاکستان میں ہندوؤں کیخلاف نفرت کو کوئی ہوا نہیں دی گئی ہے۔ جب پاکستان میں نفرت کی آگ بھڑ کائی گئی تو مشرقی پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھارت کو بھی نفرتوں کی آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جو لوگ امریکی عوام پر مہذب ہونے کا فتویٰ صادر کرتے تھے تو انہوں نے دیکھ لیا کہ کس طرح انسانیت دشمنوں نے بے گناہ لوگوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔ جب تک پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا ہے تو ہماری عوام اور ریاست بھی خطرات کی منڈیر پر طوفانوں کے گھیرے میں رہے گی اور لوگوں کو استحصالی طبقات کے غیرانسانی رویوں پر سراپا احتجاج بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ عدالتوں سے ہم انصاف کی امید نہیں رکھتے۔ سیاسی نظام کٹھ پتلی اور دلالی کا شاخسانہ ہے۔ مولوی کا اسلام فطرت کیخلاف کھڑا ہے۔ میڈیا اشتہار کیلئے مررہا ہے۔میڈیسن کا جعلی ہونا اور ڈاکٹروں کا غریب مریضوں کی کھال کھینچنا تو ایک معمول بن چکا۔ تاجر راہزن اور ٹرانسپورٹر غنڈے بن گئے ۔ ریاست اغواء برائے تاوان کیلئے غائب ہونیوالی ماں بن چکی ۔ جس کا دل دھڑکتاہوگا مگر دودھ اغواء کاروں کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن کریم جہاں آخرت کی خبر دیتا ہے اسلئے کہ سبھی نے موت کا ذائقہ چکھ لینا ہے اور ہر ایک کو قبرو آخرت سے واسطہ پڑنا ہے لیکن ساتھ ساتھ قرآن دنیاوی انقلاب سے بھی لوگوں کو آشنا کرتا ہے۔ یہود، نصاریٰ، ہندو، بدھ مت اور تمام مذاہب میں انقلاب عظیم کی خبر ہے۔ قرآن نے بھی خبردی وماھو بقول الشیطٰن الرجیمOفاین تذھبونOان ھوالا ذکر للعٰلمین ”اور یہ شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔پھر تم کہاں جارہے ہو؟۔ بیشک یہ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔(سورۂ تکویر)
بنوامیہ و بنوعباس کے دور میں سرکاری ملاکی آبیاری ہونا شروع ہوئی۔ خلافت عثمانیہ اور انگریز کے دور سے آج تک ملاؤں اور سرکاری سرپرستی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔جمعہ کے خطبہ میں السلطان ظل اللہ فی الارض من اھان سلطان اللہ فقد اہانہ اللہ کی حدیث پڑھی جاتی ہے۔زمین میں بادشاہ اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو اس نے اللہ کی توہین کی۔ بادشاہ نے چاہے فرعون ونمرود جیسا ظالمانہ نظام نافذ کیا ہو۔ اللہ نور السموات والارض کا بھلے کوئی اپنا سایہ نہ ہو مگر ظالموں کا اعزاز یہی ہے کہ وہ اللہ کا سایہ ہیں۔ وہ کربلاؤں کی تاریخ رقم کریں اور ہم یہ آیت پڑھیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ملک کا مالک بنادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک کو چھین لیتا ہے۔ ایک طرف عوام کو ظالم وجابر حکمرانوں کے سایہ میں رہنا پڑتا ہے تو دوسری طرف انکے گماشتے زمین میں مدظلہ العالی کا استحقاق رکھتے ہیں یعنی انکے سایہ کو اللہ مزید کھینچ کر لمبا کردے۔ حکمرانوں اور مذہبی طبقات کے سایوں کا عوام کو فائدہ ہو نہ ہو مگر یہ ظل الٰہی زبردستی کیساتھ بھی اپنے سایوں کو مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔
جب انقلاب عظیم آئیگا تو دنیا میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ان جھوٹے سایوں سے اس دن چھٹکارا مل جائیگا۔ اس دن انکے سایہ میں پلنے والوں کیلئے سایہ نہیں ہوگا۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ لاظلیل اس دن کوئی سایہ ان مجرموں کیلئے نہیں ہوگا۔ اسی کیفیت کو سورۂ مدثر میں بتایا گیا ہے کہ وہ سقر میں پہنچ جائیںگے۔ القاموس المعجم میں ہے کہ سقر کھلے آسمان تلے اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جب ان سے سورج کی تپش میں رکاوٹ نہ ہو۔ ان لوگوں کی اس خاص تعریف کا ذکر ہے کہ قرآنی آیات سے ایسے بھاگتے ہونگے جیسے گدھے بدک جاتے ہیں شیروں سے۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ بس ان کی اپنی کتابیں نشر ہوتی رہیں، ان کو قرآن کی آیات عام کرنے سے کوئی غرض نہیں ۔
سورۂ دھر میں انقلاب کے بعد ادرک کے مزاج کے مشروبات کا ذکر ہے جس کی خاصیت قوتِ مدافعت اور بادی کا خاتمہ ہے۔ سورہ ٔ جمعہ میں واٰخرین منھم کا ذکر ہے جس سے اہل فارس مراد ہیں تو سورۂ الشوریٰ میں فرمایا کہ نبیۖ کو اللہ نے اہل مکہ اور آس پاس کے علاقوں کیلئے مبعوث کیا اور یوم جمع کیلئے بھی ۔ یوم جمع سے مراد اس دنیاوی انقلاب پر پوری دنیا کا جمع ہونا ہے جس کا ذکر تمام مذاہب کی کتابوں میں بہت واضح طور پرموجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ نبأء میں فرمایا کہ ” اور آپ سے پوچھتے ہیں ایک عظیم خبر کے بارے میں ۔جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے، ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے”۔ قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں عظیم انقلاب کی خبر دنیا سمجھ چکی ہے اسلئے کہ فارس و روم کی سپر طاقتوں کو پہلے بھی مسلمانوں نے شکست دی تھی اور کسی بھی مذہب میں یہ صلاحیت نہیں کہ اس کو اس قابل سمجھا جائے کہ کسی بڑے انقلاب کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوری” کے حوالے سے لکھا ہے کہ شیطان کو صرف اور صرف آئین پیغمبر سے خوف ہے جو حافظِ ناموسِ زن ، مرد آزما ،مرد آفریں ہے۔
قرآن واحادیث میں ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ اسلام نے توہمات، غلط عقیدتوں ، رسم وروایات کے غلط بندھنوںاور استحصالی معاشی نظام کو بیخ وبن سے اُکھاڑ دیا تھا اور دنیا کو حریتِ فکر کا سیاسی نظام سکھادیا تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں بہت بڑی تبدیلی آگئی البتہ مؤمنوں کا اپنا کردار یہود کے احبار اور نصاریٰ کے رھبان والا بن گیا تو دنیا نے چراغ تلے اندھیرے کی کیفیت دیکھ لی ہے۔
ارتغل غازی کے کردار، شخصیت اور ڈرامے کا مجھے کچھ پتہ نہیں ہے لیکن اتنا جانتا ہوں کہ شیطان نے پھر کوئی داؤ کھیل کر امت مسلمہ پر نقب لگادی ہے۔ دنیا میں ہمارا مسئلہ کفار اور مسلمانوں کی جنگ نہیں بلکہ کفر اور اسلام کے درمیان جنگ ہے۔ پہلے بھی طالبان بہت نیک نیتی کے ساتھ اچھے جذبے سے امریکہ کیخلاف کھڑے ہوگئے تھے لیکن پھر نتیجہ یہ نکلا کہ افغان اور پاکستان حکومت کیخلاف بھی جنگ کا دائرۂ کار بڑھادیا۔ جب تک ہم اپنے معاشرہ سے کفر نہیں نکالیںگے اور جب تک ہم اپنے مدارس سے کفر نہیں نکالیںگے اس وقت تک ہم نہ معاشرتی نظام کی اصلاح کرسکتے ہیں اور نہ ملکی اور بین الاقوامی نظام کی کوئی اصلاح کرسکتے ہیں۔مدارس کے نصاب کی اصلاح کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی اور مولانادرخواستی صاحب کی آل اولاد کے ارباب اہتمام و فتویٰ مجھے طلب کرلیں۔ سب کچھ دنوں میں صحیح سمت چلنا شروع ہوجائیگا۔ ہمیں اپنے اساتذہ کرام کا احترام ہے۔
اگر قرآن کی آیات میں ایک طرف عدت کے اندر طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہو، پھر عدت کی تکمیل کے بعد بھی گنجائش ہو اور پھر عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد تک بھی رجوع کی گنجائش ہو تویہ قرآن بہت بڑے تضادات کا مجموعہ بن جائیگا۔ علماء وفقہاء نے اس کی بالکل غلط اور لغو تطبیق کی ہے۔ قرآن میں رجوع کیلئے اصل مدار باہمی صلح ہے اور اسی کو قرآن میں معروف رجوع کا نام دیا گیاہے۔
میاں بیوی میں طلاق کے بعد کسی بھی مرحلے پر صلح کی ترغیب اور گنجائش موجود ہے۔ قرآن کی ہرایک آیت کا مقصد واضح ہے۔ دوسری طرف کسی بھی مرحلے پر صلح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں ہے، اس پربھی قرآن کی ہرآیت کی بھرپور وضاحت ہے۔ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تو قرآن کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انکے درمیان صلح میں رکاوٹ بن جائے۔ اس کی اللہ نے بار بار وضاحت بھی کی ہے۔ البتہ جب عورت جان چھڑانے پر آمادہ ہوتو پھر شوہر کیلئے اس پر زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کی راہ میں کسی اور شوہر سے نکاح کرنے میں رکاوٹ بن جائے۔ پھر کباب میں یہ ہڈی برداشت نہیں ہے جو اپنے معاشرے اور انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ منگیتر کو چھوڑنے کے باوجود اپنی مرضی سے شادی نہیں کرنے دی جاتی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ عورت کو طلاق دی تو پھر دوسری جگہ اس کو شوہر اپنی مرضی سے شادی کرنے نہیں دیتا ہے۔ میرے والد مرحوم نے پاکستان بننے سے پہلے ایک بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی تھی کہ جہاں شادی کرنا چاہے کرسکتی ہے تو اس کو بہت بڑے انوکھے کردار کی حیثیت دی گئی تھی۔ کمزور پر ظلم نہ کرنااصلی اور نسلی ہونے کی نشانی ہے۔ جب انقلاب آئے اور قاتل ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں اور اعتراف جرم کرلیں تو ان پر دسترس حاصل ہونے کے بعد معاف کرنے میں ہماری روح کو بڑی تسکین ملے گی۔ صحابہ کرام اور اسلاف کا فیصلہ اور فتویٰ طلاق کے حوالے سے سوفیصد درست تھاکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر کیلئے اس وقت تک حرام ہے کہ جب تک وہ عورت اپنی مرضی سے نکاح نہ کرلے۔ آیت کا مقصد میاں بیوی کو سزا دینا نہیں بلکہ عورت کی اس ظالم سے جان چھڑانا ہے جو اس کی مرضی کا لحاظ نہیں رکھتا ہے بلکہ اپنی غیرت کیخلاف سمجھ کر اس کو اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔
قرآن وحدیث میں تین طلاق کو تین مراحل کیساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ میں ہے۔ پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے۔ نبی ۖ نے طہرو حیض کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے بھی تین مرتبہ طلاق کے عمل کو اس عدت کیساتھ خاص کردیا جس میں عورت کو حیض آتا ہو۔ بخاری کی کتاب تفسیر سورہ ٔ طلاق ، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں حدیث موجود ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد کی صورت کا ذکر ہے۔ جس میں طلاق کے بعد بیوی سے شوہر کے دئیے ہوئے مال میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے مگر جب دونوں کا اتفاق ہو کہ اگر وہ مخصوص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں کیلئے اللہ کی حدود پر قائم رہنا بڑا مشکل ہوگا اسلئے کہ میاں بیوی نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ۔ دونوں کی راہیں جدا ہیں، الگ الگ شادیاں دوسری جگہ ہوسکتی ہیں۔ پھر وہ چیز ملنے کا ذریعہ ہو تو پہلے سے دونوں کا ایک تجربہ رہاہے جس کی ایکسرسائز ہوسکتی ہے تو پھر وہ چیز واپس کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ معاشرے نے بھی یہی فیصلہ کیا ہو توپھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد بھی عورت کو مرضی کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ اسی کو ہی آیت230 البقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔