قرآن وسنت کے احکام کا معاملہ

442
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کی تفسیر میں نقل کے علاوہ ڈھیر ساری جہالتوں کا مظاہرہ بھی کیا گیاہے!

قرآن کی تفسیر میںجس طرح علماء وفقہاء اور مفسرین نے مفہوم کو بگاڑنے میں کافی کردار ادا کیا ہے،اسی طرح مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی نے بھی حقائق کو مسخ کرنے میں اپنی جہالت کی وجہ سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تمام مکاتبِ فکر کے مذہبی طبقات کے بڑوں کو مل بیٹھ کر اپنی غلطیاں ٹھیک کرناسخت ضروری ہیں۔ رسول اللہ ۖ قیامت کے دن شکایت فرمائیںگے کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجورًا ” اور رسول (ۖ) عرض کریںگے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔قرآن
جے یوآئی کے مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے سراج الحق،تحریک لبیک کے علامہ خادم حسین رضوی ، اہلحدیث علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، اہل تشیع کے علامہ شہنشاہ حسین نقوی کے علاوہ تمام مکاتب فکر نمائندوں کو قرآن کے ترجمہ وتفسیر کے حوالہ سے مل بیٹھ کر معاملات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ توبہ کرنے کا مقصد تب ہی پورا ہوسکتا ہے کہ جب قرآن کے اندر جو معاملات مذہبی طبقات نے بگاڑدئیے ہیں پہلے انکی اچھی طرح اصلاح ہوجائے۔

قرآنی آیات پر مسلکی تضادات، عجیب واقعہ اور مولانا سیدمودودی کی جہالت!

حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے حاکم تھے تو انکے خلاف چار افراد نے زنا کی گواہی دی تھی، جن کے نام صحیح بخاری وغیرہ میںہیں۔ ان میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ بھی تھے اور آخری گواہ زیاد نے کہا تھا کہ میںنے دیکھا کہ سرین نظر آرہی تھی، لپٹے ہوئے سانسیں لے رہے تھے، اس عورت کے پاؤں مغیرہ کے کانوں پر ایسے لگ رہے تھے جیسے گدھے کے دوکان ہوں اور اسکے علاوہ میں نے کچھ اور نہیں دیکھا، جس پر حضرت عمر نے کہا کہ گواہی مکمل نہیں ہوئی ۔ باقی تین گواہوں کو حدقذف کے 80،80کوڑے لگائے گئے اور پھر یہ پیشکش کی گئی کہ اگر تم کہہ دو کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا تو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔ حضرت ابوبکرہ نے پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا اور باقی حضرات نے پیشکش قبول کرلی۔ جمہورآئمہ حضرت امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل کے نزدیک حضرت عمر کی پیشکش ٹھیک تھی اور قرآن میں جھوٹی گواہی دینے کے بعد حدقذف کے علاوہ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی لیکن توبہ کرنے والوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حضرت عمر کی پیشکش غلط تھی ، جھوٹ کی گواہی دینے والے کی گواہی ہمیشہ قبول نہیں کی جائے گی اور توبہ کا تعلق آخرت کے عذاب سے معافی کیساتھ ہے۔ جس واقعہ پر مسالک کی بنیاد رکھی گئی اور قرآن کی جو متضاد تفسیر کی گئی ہے اس کی شکایت قیامت کے دن رسولۖ اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن کرینگے۔ مسلکی رسہ کشی سے نکل کر حقائق کی بنیاد پر دنیا میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے پہلے فکری مرحلے کو درست کرنا ہوگا اور پھر عمل کا مرحلہ آسکے گا۔ جبکہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” وہ عورت حضرت مغیرہ ابن شعبہ کی اپنی بیوی تھی” ۔ حالانکہ حضرت مغیرہ کو معزول کردیا گیا تھامگر مودودی ایک پڑھے لکھے جاہل تھے۔

عثمانی خلیفہ کی 4500 لونڈیاں بمقابلہ موجودہ برطانوی وزیراعظم کی گرل فرینڈ

کرونا وائرس میں مبتلاء برطانوی وزیراعظم کی حاملہ گرل فرینڈبھی کرونا کا شکار ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ سمجھتا ہوگا کہ دونوں اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب کا شکار ہیں ، اگر خلافت قائم ہو تو شادی شدہ وزیراعظم کو سنگسار اور کنواری گرل فرینڈ کو 100کوڑے اور1سال جلاوطنی کی سزا دی جاتی۔ اگر اسی مذہبی طبقے سے پوچھ لیا جائے کہ عثمانی خلیفہ کی4500 لونڈیا ں جائز تھیں تو یہ فتویٰ دینگے کہ قرآن میں بیگمات کی محدودتعداد مقرر ہے لیکن لونڈیوں کی تعداد متعین نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں اسلامی خلافت کا یہ مذہبی تصور کافروں کیلئے تو بعیدازقیاس ہے مگر مسلمانوں کی اکثریت کیلئے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ پھر جس سے زمین وآسمان والے سب خوش ہوں ،کونسی طرزِ نبوت کی خلافت کا تصور ہوسکتا ہے؟۔صحیح بخاری میں رسول اللہۖ ہی نے قرآنی آیت لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت کی تفسیر کرتے ہوئے متعہ کو جائز قرار دیاہے۔ برطانوی وزیراعظم کی گرل فرینڈ کی حیثیت کو قرآن وسنت سے متعین کرنا ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے لونڈی بنانے کو آل فرعون کا وطیرہ قرار دیا ہے جو بنی اسرائیل کیلئے بڑی سخت آزمائش تھی۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے آیت کی تفسیر میں بخاری کی حدیث نقل کرنی تھی مگر تفہیم القرآن میں عیسائیوں کی رہبانیت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔قرآن میں لونڈی کوامہ اور غلام کو عبد قرار دیا گیا ہے اور ان سے نکاح کا تصور اور حکم بھی اجاگر کیا گیاہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ماملکت ایمانکم سے کیا مراد ہے؟ تو اسکا معنی ایگریمنٹ ہے اور اس ایگریمنٹ کا تعلق آزاد عورت کیساتھ بھی ہوسکتا ہے اور لونڈی وغلام کیساتھ بھی ۔ انسانی حقوق کی وجہ سے ہی دنیا میں مسلمانوں کو عروج حاصل ہوا تھا لیکن خاندانی بادشاہتوں نے نظریات کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا۔ ہم نے پہلے قرآن وسنت کے حقائق کو اجاگر کرنا ہوگا۔

قرآن وسنت میں کمزور کو حقوق دلانے میں بہت جلد جان چھڑانے کا تصورہے

مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔مزارعین کو پوری فصل دینے کا حکم ہے۔ عورت کی جان چھڑانے کیلئے عدت تک مصالحت کرنے کا حکم ہے ۔خلع کی صورت میں عورت کی عدت صحیح حدیث میں صرف ایک حیض ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے بھی اگر عورت کو طلاق دی جائے تو مقرر کردہ نصف حق مہر دینے کا حکم ہے اور عورت پر عدت نہیں ہے۔ میاں بیوی کے درمیان ہی نہیں بلکہ عوام کے کسی بھی دو طبقے کے درمیان اللہ کے نام پر عہدوپیمان ، حلف اور کسی بھی قسم کے لغو الفاظ کو رکاوٹ ڈالنے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے مگر مسلم اُمہ بالکل الٹے پاؤں قرآن کے احکام کے برخلاف چل رہی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ بہت واضح الفاظ کے قرآنی احکام اور معاملات کو انتہائی غلط طریقے سے بگاڑ دیا گیا ہے۔
دورِجاہلیت کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ ” جب عورت سے طلاق کے الفاظ کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا تو وہ لامحدود مدت تک بیٹھی رہتی تھی”۔ دورِ حاضر کی عدالتوں میں بھی کمزور و مظلوم کو بہت رُلایا جاتا ہے مگر ہمارے ضمیر پر یہ بوجھ اسلئے نہیں بنتا کہ خواتین کیساتھ اسلام کے نام پر یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ بیوی سے ناراضگی ہو تو جب تک شوہر طلاق نہ دے تو وہ بیٹھی رہے گی۔
قرآن نے دورِ جاہلیت کا یہ تصور طلاق کے مسائل میں سرفہرست حل کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو لوگ اپنی بیگمات سے ناراض ہیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے، اگر انہوں نے صلح کرلی تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر انہوں نے طلاق کا عزم کیا تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے”۔ (البقرہ: آیت227,226)۔اگر طلاق کا عزم تھا اور پھر اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے۔ اسلئے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں انتظار کی عدت4 ماہ نہیں3 ماہ ہے ،ایک ماہ کی اضافی مدت کی تکلیف پر طلاق کے عزم کی صورت میں پکڑ ہے۔ قرآن بالکل واضح ہے۔

فقہی مسالک کے نام پر قرآن کی واضح آیات سے انحراف نے تباہی مچائی ہے!

سورہ ٔ البقرہ کی آیات228,227,226,225میں یہ بالکل واضح ہے کہ اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو عورت کی عدت 4ماہ ہے اور اگر طلاق کا اظہار کیا تو 3 مراحل یا 3 ماہ ہے۔اور اگر طلاق کا عزم تھا اور پھر اس کا اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پراللہ کی پکڑ ہوگی۔
اسلام فطرت کا دین ہے اور قرآن کی یہ آیات فطرت کے مطابق بالکل واضح اور سب ہی کیلئے قابلِ قبول ہیں لیکن ان کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ یہ ناراضگی نہیں صرف قسم کی صورت میں ہے جو بہت بڑی زیادتی ہے۔ امام مالک مدینہ کے باشندے تھے ،ان کے نزدیک بھی ایلاء کا تعلق قسم سے نہیں بلکہ قسم کے بغیر ناراضگی کو بھی ایلاء کہتے ہیں۔ مولانا سید مودودی نے بھی اس کا تفہیم القرآن میں ذکر کیا ہے۔ قرآن میں ابہام اور تضادات کا سوال پیدا نہیں ہوتاہے لیکن جمہور اور حنفی مسلک کے نام پر تفسیر کو جو غیرفطری رنگ دیا گیاہے وہ بڑاافسوسناک ہے۔
چنانچہ احناف کے نزدیک چار ماہ گزرتے ہی عورت کو طلاق واقع ہوجائے گی۔ پھر تعلق جائز نہیں ہوگا اور جمہور کے نزدیک جب تک طلاق کا اظہار نہیں کیا جائے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اختلاف کے نتیجے میں ایک طرف عورت نکاح سے نکل چکی ہوگی اور اس سے ازدواجی تعلق حرامکاری ہوگی اور دوسری طرف عورت بدستور نکاح میں ہوگی ، کسی اور سے نکاح کیا تو حرامکاری ہوگی۔ جب معاشرے میں ایک عورت کو جو کسی کی ماں ہوتی ہے، کسی کی بیوی ہوتی ہے ، کسی کی بہن ہوتی ہے اور کسی کی بیٹی ہوتی ہے اس قدر مشکلات میں ڈالا جائیگا تو یہ اسلام غیرمسلموں کیلئے قابلِ قبول ہوگا۔ ان اُلّوکے پٹھے علماء ومفتیان اور مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والوں کو ریمانڈ دینے کی ضرورت ہے جنہوں نے قرآن کو غیرفطری تعلیم سے نقصان پہنچایا تھا۔ اب بھی ڈھیٹ اور مینسڑیں بنے بیٹھے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

قرآنی آیات کی غلط تفسیر کرنے کی اصل وجہ کیاہے؟۔ یہ سمجھ کر حیران ہوںگے!

قانون کا مقصد کمزور کا تحفظ ہوتا ہے۔ اللہ نے ناراضگی اور طلاق کی صورت میں عدت کا جو حکم دیا ہے تو عدت کا تعلق عورت سے ہی ہے اور عورت ہی کو تحفظ دینے کیلئے انتظار کی عدت ہے مگر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار میں بیٹھے ہوئے گمراہ فقہاء نے کمزور عورت کو بحث سے بالکل خارج کردیا ۔ حنفی فقہاء کہتے ہیں کہ شوہرنے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے 4ماہ گزرتے ہی عورت طلاق ہوگئی اور جمہور کے نزدیک شوہرنے اپنا حق استعمال نہیں کیا اسلئے عورت بدستور نکاح میں ہے۔ کیا اللہ کی واضح آیات کے احکام میں اتنا بڑا تضاد ہوسکتاہے؟۔ نہیں !ہرگز نہیں!۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے عورت ہی کی عدت بیان کی ہے۔ اگر عورت چاہے توپھر اس عدت کے بعد آزاد ہے، دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر عدت کے بعد بھی اپنی مرضی سے شوہرکیساتھ رجوع پر راضی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
جن آیات اور احکام کی بدولت قرآن کے قوانین کو پوری دنیا میں رائج کیا جاسکتا ہے ان کا حلیہ بگاڑنے میں مذہبی طبقے نے نہ صرف اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے بلکہ اس غلط روش پر آج بھی اڑے ہوئے ہیں۔ ایک معاملے میں نہیں بلکہ معاشرتی حقوق ومعاملات کی ہر چیز بالکل تہہ وبالا کرکے رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف عورت کی جان چھڑانے کیلئے آخری حد تک اس معاملے کی انتہاء کردی ہے اور دوسری طرف بار بار عدت میں ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد رجوع کی گنجائش باہمی رضامندی سے رکھی ہے۔ دلائل پر دلائل ، مضامین پر مضامین اور کتابوں پر کتابیں شائع کردی ہیں لیکن حلالہ کی لعنت سے ان کی جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ہمارا معاشرتی نظام قرآن کے مطابق ہوتا تو دنیا کیلئے قابل فخر ہوتا مگرفقہاء نے قرآن کو پسِ پشت ڈال کر امت کو دنیا وآخرت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑ اکیا