قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ اور اولی الامر کی حیثیت سے رسول اللہۖ سے بھی اختلاف کی گنجائش ہے مگر امامیہ میں اختلاف کی گنجائش نہیں!

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولٰکنّ اللہ حبّب الیکم الایمان و زےّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان

(اُولٰئک ھم الرّٰشدونO) اور جان لو ! کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول ہے، اگر بہت سے امور میں وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خود ہی مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں…

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا” اور جان لو! بیشک تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات اکثر امور میں مان لیں تو تم مشکل میں پڑجاؤ۔اور لیکن اللہ نے تمہارے اندر ایمان کی محبت ڈالی اور اس سے تمہارے دلوں کو مزین کردیااور تمہیں کفراور فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا اور یہی لوگ راشدین ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو انکے درمیان صلح کراؤ۔ اور اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پس جب پلٹ آئے تو انکے درمیان صلح کراؤ عدل کیساتھ۔اور انصاف کرو۔بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند فرماتا ہے، بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔اور اللہ سے ڈرو ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں کسی دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ اپنی جانوں پر طعن وتشنیع کرو۔ اور نہ ایکدوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ برا ہے فسق نام بعد ایمان کے۔ اور جو اس روش سے توبہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! زیادہ گمان سے اجتناب برتو۔بیشک بعض ظن گناہ ہوتے ہیںاور نہ کوئی ایکدوسرے کی غیبت کرے۔ کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے؟۔ توتم اس سے کراہیت کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم والا ہے۔ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں برادری و قبائل میں تقسیم کردیا تاکہ تمہاری شناخت ہو۔ بیشک تمہارے اندر زیادہ عزتدار وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والاخبروالا ہے۔ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے اور لیکن تم کہو کہ ہم اسلام لائے۔ اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ۔پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا۔ اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا، اللہ کی راہ میں۔ وہی لوگ سچے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کا بتا رہے ہو؟۔ اور اللہ جانتا ہے جوکچھ آسمانوںاور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ آپ کو جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔کہہ دیجئے کہ مجھے مت جتاؤ اپنے اسلام کو بلکہ اللہ نے تمہارے اُوپر احسان کیا ہے کہ ایمان کیلئے رہنمائی کی ہے اگر تم سچے ہو۔ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کررہے ہو۔ (سورۂ الحجرات آیت7 سے آخر تک)

اہل تشیع نے اپنی عوام کو اس قدر متنفر کردیا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان ، ایران، افغانستان، ہندوستان اور عرب وعجم میں عوام کی حیثیت بالکل اعرابیوں کی طرح ہے۔ وہ قرآن سے اپنی اصلاح نہیں چاہتے بلکہ اپنا اسلام کیش کرکے مسلط کررہے ہیں۔ بلکہ اعراب سے بھی کئی درجے آگے نکل چکے ہیں۔

سورۂ محمد کے حوالے سے ان باتوں کی نشاندہی کردی جسکے مخاطب آج کے دور سے لیکر پہلے دور کے مسلمان اور مؤمنین ہیں۔ بنی امیہ کے جن حکمرانوں نے تاریخی مظالم کئے ہیں وہ اہلسنت کی مستند تاریخ اور احادیث کی کتب میں بھی ہیں۔ فرقہ واریت اور سینہ زوری ایکدوسرے کو قرآنی آیات کی تفہیم سے بھی دُور کررہی ہیں۔

سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے رسول اللہۖ سے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری صاحب سے کہا کہ رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی ؟۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سورۂ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا۔ قرآن میں سورۂ مجادلہ کی آیات پڑھ لینے کے بعد علامہ نے کہا کہ یہ متشابہات ہیں۔ محکم آیات ہیں کہ رسول سے اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ پھر میں نے بدر ی قیدیوں کے بارے میں فدیہ کا حوالہ دیا۔ اُحد کے موقع پر بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا حوالہ دیا۔ عبداللہ بن مکتوم کے حوالہ سے آیات کا حوالہ دیا اور جب کل کسی چیز کے بارے میں کوئی وعدہ کریں تو انشاء اللہ کہنے کا حوالہ دیا اور ان آیات کی اہل تشیع کے ہاں امام کیلئے بھی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ جوہری صاحب نے کہا کہ میرے تحفظات اپنی جگہ پر لیکن آپ اپنی محنت کریں ہوسکتا ہے کہ ہمارے لئے بھی آسانی پیدا ہوجائے۔ وہاںکافی لوگ موجود تھے۔

قرآن میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ اہل تشیع کے ہاں کسی امام سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآنی آیت کی انتہائی گمراہ کن تحریف کی حد تک غلط ترجمہ وتشریح کی اور حدیث سے بھی انتہائی مضحکہ خیز نتائج نکالے ہیں۔ ان کی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے کتاب غائب کی ہو۔ معروف شیعہ سنی عالم کی خستہ حالی اسلئے بتارہاہوں کہ یہ پہلے دور کے اعرابیوں سے بڑھ کر اعرابی بنے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات کی آیات میں صحابہ کرام سے فرمایا کہ ” جان لو!اللہ کے رسول ۖ تمہارے اندر ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہاری مان کر چلیں تو تم مشکل میں پڑجاؤگے”۔ کوئی شک نہیں ہے کہ حدیث قرطاس میں حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو وصیت لکھنے میں اپنی بات منوائی تھی اور اس کی وجہ سے صحابہ کرام کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ انصار ومہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر فتنہ وفساد برپا ہونے کی مشکل کھڑی ہوگئی تھی اور اہلبیت وصحابہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئے تھے۔ رسول اللہۖ جنگوں میں جھنڈے کی خدمت جس ترتیب سے صحابہکے حوالے کرتے ،اسی ترتیب سے صحابہ نے باری باری جھنڈا اٹھایا تھا۔

اہل تشیع یہ بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ رسول اللہۖ سے اپنی بات منوانے کی بھی اللہ نے قرآن میں کہیں اجازت دی ہوگی اور اسکے باوجود اللہ نے یہ بھی فرمایا : ” اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈالی ہے اور تمہیں کفر، فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا ہے اور یہی لوگ راشدین ہیں ۔ اللہ کے فضل اور نعمت سے”۔ اہل تشیع کے ہاں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ امام سے اختلاف رکھنے والے کو اتنی رعایت کا مستحق سمجھا جائے جتنا اللہ نے رسول اللہ سے اپنی اکثر بات منوانے والوں کو بھی رعایت نہیں بلکہ اپنے فضل سے بہترین صفات کا حامل قرار دیدیا ہے۔

اہل تشیع میں اتنا ظرف بھی نہیں کہ مؤمنوں کے دوگروہوں میں لڑائی کے باوجود دونوں کو مؤمن قرار دے۔ اگر دونوں میں صلح ہوجائے اور صلح کیلئے کردار ادا کرنے والا اہل تشیع کا اپنا دوسراامام ہو تب بھی اہل تشیع کو یہ بات مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ مؤمنوں کے دونوں گروہ کو آپس میں قرآن بھائی بھائی قرار دیتا ہے مگر اہل تشیع تک ان کے بڑوں نے قرآن کی یہ تعلیم پہنچانے کی زحمت نہیں کی۔ ہزارہ برادری پرمظالم ہوتے ہیں تو ہمارا دل دکھتا ہے لیکن فرقہ واریت کو ہوا دینے والے کو اپنی فیس کی پڑی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایکدوسری قوم کا مذاق اڑانے سے روکا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بہتر ہو جس کا مذاق اڑایا جارہاہے لیکن ہمارے اندر یہ حس بھی بیدار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا ہے۔ دونوں فرقوں میں ایکدوسرے سے اچھے اور ایکدوسرے سے برے ہرطرح کے لوگ موجود ہیں۔

سنی شیعہ کو کھٹمل اور شیعہ سنی اکابرکو کیا کہتے ہیں؟۔ لیکن اللہ نے اس برائی سے روکا ہے اور ایمان کے بعد ایسے فسق کے ناموں سے پکارنا بہت برا قرار دیا ہے۔ لیکن یہ تو ایمان والے نہیں اسلام والے اعرابیوں کی طرح ہیں۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ جو ان حرکتوں سے توبہ نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ظن سے بھی اجتناب کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بہت سارے ظن گناہ ہوتے ہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں سے ایک گمان کرتے ہیں اور یہود آپ کے بارے میں ولد الزنا کا ظن رکھتے ہیں۔ اہلبیت وصحابہ کے حوالہ سے شیعہ سنی اپنے بہت سارے ظنوں میں افراط وتفریط کا شکار ہوکر گمراہ ہوگئے ہیں۔

اللہ نے تجسس اور غیبت سے بھی منع کیا اور غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پھر اللہ نے ایک ہی آدم و حواء کی اولاد قرار دیکر واضح کیا ہے کہ برادری اور قبائل محض شناخت کیلئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ پھر اعرابیوں کا ذکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایمان نہیں وہ اسلام لائے ہیں۔ ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ کہ جب تک اللہ پر ایمان لانے اور اسکے راستے میں مال اور جان سے جہاد کی آزمائش سے نہ گزرا جائے تو ایمان کا دعویٰ بہت مشکل ہے البتہ ان کے اچھے اعمال میں ان کیلئے کوئی کمی نہیں کی جائیگی۔ ہمارے مولوی تو تحائف لینے کے عادی ہیں۔

سورہ حجرات کی ابتدائی آیات رہ گئیں ۔ان میں اللہ فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کے درمیان اپنی حیثیت کو مت بڑھاؤ۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے اُونچا مت کرواور نہ آواز سے آپ ۖ کو اس طرح سے پکارو ، جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ بیشک جو لوگ اپنی آواز اللہ کے رسول کے حضور پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کیلئے چن لیا ہے۔ ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ بیشک جو لوگ حجرات کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں اکثر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں اور اگر یہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ انکی طرف نکلتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ غفور رحیم ہے۔اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس فاسق آئے ، کوئی خبر لے کر تو اس کی تحقیق کرلو۔ کہیں کسی قوم کو نادانستہ نقصان نہ پہنچادو۔ پھر اپنے کئے پر تم ندامت کرنے والوں میں سے ہوجاؤ”۔( الحجرات)

اُمت مسلمہ میں جتنی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان میں فاسقوں کا بڑا کردار ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چلے تو اچھے لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہونگے۔ سالہا سال سے ایکدوسرے کیخلاف پروپیگنڈے کی مہم جاری ہے اور اگر فرقہ پرستی کی آگ بجھے تو جن کو فرقہ کے نام پر ورغلایا گیا ہے وہ ان لوگوں کو چندے دینا بند کردیں گے۔

اگر علماء وذاکرین کیلئے معاش کا درست بندوبست ہوجائے تو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی محنت بھی نہیں ہوگی۔ جب حضرت حسین کے بعد ائمہ اہلبیت نے اپنے قیام کی جنگ نہیں لڑی اور مہدی غائب کا خروج ایرانی انقلاب کے باوجود بھی نہیں ہورہاہے تو اہل تشیع اپنے اعتقادات پر یقین رکھیں لیکن اہلسنت کا اس وقت ہی قصور ہوگا کہ جب ان کا ظہور ہو اور وہ نہ مانیں۔ جب جنگی آلات کی اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی تب بھی غیب کبریٰ میں گئے تھے تو اب ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ہم ایکدوسرے کے اکابرین کیلئے دلائل کی بنیاد پر بات کریں، سب وشتم نہ کریں۔ آج صلح کے ماحول میںہی ایکدوسرے کو سنی شیعہ حقائق پہنچا سکتے ہیں۔اغیار ماحول کو خراب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو افغانستان، عراق اور شام کی طرح قتل قتال سے افہام وتفہیم کا موقع نہیں ملے گا۔ امریکہ نے عراق میں صدام کے خلاف ماحول بنایا اور شیعہ و کردوں نے ساتھ دیا۔ پھر داعش بن گئی تو امریکہ نے اس کو رستہ دیاتھا۔ اب پاکستان میں سازش کامیاب ہوگئی تو ہماری ریاست کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

Leave a Reply

Back to top button