سورۂ النجم کے حوالے سے شیطانی القا کی طرح بخاری وابن ماجہ وغیرہ میں قرآن کی حفاظت کے منافی احادیث کو بھی مسترد کرنا ہوگا

سورۂ النجم کے حوالے سے شیطانی القاکی طرح بخاری وابن ماجہ وغیرہ میںقرآن کی حفاظت کے منافی احادیث کو بھی مسترد کرنا ہوگا،اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ پورا کیا ہے مگر شیعہ سنی ایکدوسرے پر تحریف قرآن کا الزام لگاتے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی شیعہ کتب میں تحریف کا عقیدہ موجود ہے اور ایکدوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے ان من گھڑت روایات کو بہت کھلے انداز میں اپنے دل اوردماغ سے نکالنے کی ضرورت ہے

امام جعفر صادق،امام ابوحنیفہ ،امام مالک ،امام شافعی اورامام احمد بن حنبل سب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں کسی اور قرآن کو رواج نہیں دیا،سب اسی قرآن پر متفق ہیں

مدینہ منورہ میں ایک کتب خانے والے سے میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں تو انہوں نے کہا کہ الحمد للہ ہم سنی ہیں۔ میں نے کہا کہ الحمدللہ میں شیعہ ہوںالحمدللہ کہنے سے تو کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ،شیعہ سنی میں فرق کیا ہے؟۔ اس نے کہاکہ سنی شیعہ میں بہت فرق ہے، شیعہ قرآن کو نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ آپ قرآن کو مانتے ہیں؟۔ اس نے کہا کہ الحمدللہ ہم مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ابن ماجہ اٹھانا اور ابن ماجہ میں رضاعت کبیر کی روایات دکھائی کہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ” جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو آپۖ کی چار پائی کے نیچے دس آیات پڑی تھیں۔ جن میںرجم کرنے کا اور بڑے شخص کو دودھ پلانے کا ذکر تھا تو بکری نے کھاکر ضائع کردیں”۔یہ دیکھ کر اس کا رنگ اُڑگیا۔ میں نے کہا کہ ہم نہ سنی ہیں اور نہ شیعہ،بلکہ مسلمان ہیں۔ اس نے کہا ہم بھی بس مسلمان ہیں۔
سنیوں نے اپنے لوگوں کے دل ودماغ میں یہ بھردیا ہے کہ شیعہ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں اور شیعہ اب لوگوں کے دل ودماغ میں یہ بھر رہے ہیں کہ سنی قرآن کی تحریف کے قائل ہیں۔ حقائق کے بجائے مذہبی وسیاسی اتحاد کی بات کرنا اسلام اور ملت کا تقاضہ نہیں بلکہ منافقت کا شاخسانہ ہے۔ ابن ماجہ اور صحیح مسلم میں کس کا درجہ اونچا ہے؟۔ ظاہر ہے کہ صحیح مسلم کا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”اگر مجھے لوگوں کا خوف نہ ہوتا کہ وہ کہیں گے کہ اللہ کی کتاب پر اضافہ کیا ہے تو رجم کی آیات کو قرآن میں لکھ دیتا”۔ ابن ماجہ میں ہے کہ بکری کے کھا جانے کی وجہ سے رجم کی آیت و رضاعت کبیر کی آیات ضائع ہوگئیں اور صحیح مسلم میں ہے کہ اگر رجم کا حکم قرآن میں درج کیا جائے تو پھر لوگ اسکو قرآن میں اضافہ سمجھ لیں گے۔ حالانکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئی ہیں تو قرآن میں درج کرنے پر کیوں اعتراض ہوتا؟۔
سوال یہ ہے کہ رجم ورضاعت کبیر کا حکم قرآن میں تھا یا پھرحدیث میں؟۔ اگر قرآن میں تھا تو پھر جس کا حکم موجود تھاتو اس کی تلاوت منسوخ کیسے ہوگئی؟۔ اہلحدیث حضرات امام ابوحنیفہ اور ائمہ فقہ کے سخت مخالف ہیں لیکن وہ یہ مسائل کبھی حل نہیں کرسکتے ۔ اہلحدیث کایہ مسلک ہے کہ” بڑا آدمی کسی عورت کا دودھ پی لے تو پھر ان کا آپس میں پردہ نہیں رہتا ہے لیکن اگر نکاح کرنا چاہیں تو پھر آپس میں نکاح کرسکتے ہیں”۔ جسطرح مدینہ منورہ میں کتب خانے والے نے ابن ماجہ میں قرآن کی تحریف کی آیت دیکھ کر سنی ہونے سے بھی برأت کا اعلان کردیا،اسی طرح اہلحدیث اپنے مسلک کی تقلید سے بھی پکی توبہ کرلیںگے۔
قرآن کے بارے میں حدیث ہے کہ سات حروف پر نازل کیا گیا ہے اور ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرطاس میں کتابت کی شکل میں نازل نہیں کیا تھا اور ایک حرف کو پڑھنے کا لہجہ مختلف تھا۔ جس طرح پختون اور بلوچ ف پر پ کا تلفظ کرتے ہیں۔ فعل کو پعل کہتے ہیں۔ انگریزوں ، عربوں اور ہندوستانیوں کا لہجہ بھی حروف میں مختلف ہے۔ فون کو اسلئے (Fone)کے بجائے(Phone) لکھا جاتا ہے۔ تاکہ پ اور ف دونوں سے پڑھنے کا آپشن باقی رہے۔ ہماری پشتو زبان کے بعض حروف میں دونوں طرح کے لہجے کی گنجائش ہے۔پشتو اور پختو پڑھ سکتے ہیں۔ جئی اور زئی،لژ اور لگ ، سہ اور چہ وغیرہ لکھنے میں ایک ہیں لیکن پڑھنے میں تلفظ بالکل مختلف ہے۔ بعض عرب ق کو ج اور غ بھی پڑھتے ہیں۔ امارات میں شارجہ لکھنے میں شارقہ ہے اور لیبیا کے صدر قذافی کسی افریقی عرب کا قرآن سن رہے تھے تو اناانزلنٰہ فی الیلة القدر کو لیلة الغدر پڑھا جارہا تھا۔ مصری ج کو گ پڑھتے ہیں۔ انگریزی میں بھی (G)گ اور ج کی آواز دیتا ہے۔
صحابہ کرام نے قرآن کے مصاحف پر کوئی اختلاف نہیں کیا تھا ۔ جہاں کسی کے مصحف میں کوئی اضافہ ہے تو یہ اس کی تفسیر ہے۔ جس طرح جلالین اور کسی اور تفسیر میں اضافہ قرآن کا اختلاف نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تورات، زبور اور انجیل کے علاوہ افلاطون کی کتاب کیلئے کاغذ اور محفوظ راستہ تھا مگر ہماری روایات میں قرآن ہڈیوں ، پتھروں، درخت کے پتوں پر لکھا جاتا تھا اسلئے اپنے قرآن کی حفاظت کے بارے میں اپنی روایات سے شکوک ڈال دئیے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ نبیۖ نے قرطاس ایک وصیت لکھنے کیلئے مانگا تھا لیکن قرآن کیلئے قرطاس نہیں تھا جس کا ذکر قرآن کی آیت میں بھی ہے؟۔
قرآن کی حفاظت کیلئے قرآن کی داخلی آیات بھی کافی ہیں لیکن احادیث کی کتب میں قرآن کی حفاظت کیلئے بخاری کی ایک ہی سب سے مضبوط روایت ہے کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ رسول اللہۖ نے ہمارے پاس مابین الدفتین ”دو جلد کے درمیان قرآن” کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ صحیح بخاری کی اس روایت پر وفاق المدارس کے صدر مولاناسلیم اللہ خان نے اپنی شرح ”کشف الباری” میں لکھ دیا ہے کہ ” امام اسماعیل بخاری نے یہ روایت شیعوں کے رد میں لکھ دی کہ تمہارا عقیدہ غلط ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے ، حالانکہ صحیح بخاری کا اپنا عقیدہ اور سنیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن ایک نہیں ہے ۔جب حضرت عثمان نے قرآن جمع کیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود کی رائے شامل نہیں کی ۔ جس کی وجہ سے ابن مسعود ناراض تھے اور حضرت عثمان کی طرف سے کسی کنواری لڑکی سے شادی کی پیشکش بھی اسلئے قبول نہیں کی تھی”۔
مولانا مودودی کی تفسیرتفہیم القرآن، علامہ غلام رسول سعیدیکی تفسیر تبیان القرآن اور علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر عثمانی میں لکھا ہے کہ ” عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں آخری دو سورتیں نہیں تھیں اسلئے کہ وہ اس کو قرآن نہ سمجھتے تھے”۔ روایات میں آخری دو سورتوں کے علاوہ یہ بھی ہے کہ سورۂ فاتحہ کو بھی مصحف میں نہیں لکھا تھا۔ جس طرح سورۂ نجم کے حوالے سے شیطانی القا کی آیات پر بہت بڑا اختلاف ہے، یہی اختلاف حضرت ابن مسعود کی طرف سورتوں سے انکار پر بھی موجود ہے۔ مولانا مودودی نے اس کی تردید بھی نہیں کی ہے۔ حالانکہ جب کسی آیت سے انکار کفر کا موجب ہے تو سورتوں سے انکار کفر کا موجب کیوں نہیں ہوگا؟ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف کو جن لوگوں نے دیکھا تھا تو اس کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا جس کی وجہ سے سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتیں اس میں موجود نہیں تھیں۔ حضرت مولانا حافظ مفتی محمدحسام اللہ شریفی کے پاس اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن موجود ہے، اس میں فاتحہ اور آخری پانچ سورتیں نہیں ہیں اسلئے پہلا اور آخری دو صفحے پھٹ چکے تھے لیکن اس کا یہ مطلب لینا ہرگز درست نہیں کہ وہ قرآن کی آخری سورتوں کے منکر تھے۔
دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ، جماعت اسلامی اور اہل تشیع مل بیٹھ کر اپنے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے غلط فہمیاں دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور تفاسیر میں قرآن کے نص اور سورتوں سے متعلق اپنی غلطی کی بھرپور نشاندہی کرکے عقیدے کی صحت کیلئے ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کریں۔ اگر عوام کی طرف سے مذہبی طبقات کے خلاف رد عمل آنا شروع ہوگیا تو نہ صرف ان کے مدارس بند ہوں گے بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوجائیں گے۔
ہم بہت تسلسل کیساتھ ان ڈھیٹ قسم کے لوگوں کو سمجھا رہے ہیں لیکن انکی بھلے ٹیٹ نکل جائے مگر راہِ راست پر آنے کیلئے تیار نہیں ہورہے ہیں۔ چھوٹے علماء کرام اور مسلمان عوام کے نزدیک قرآن محفوظ ہے لیکن بڑے بڑے ڈھیٹ بنے پھرتے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنے دانت بدل دئیے ہیں اور اپنے شاگرد مفتی زبیر صاحب کے ہاں فارغ التحصیل علماء سے خطاب کیا ہے کہ ”آج بعض افراد سے بہت لوگ متأثر ہورہے ہیں لیکن معتزلہ وغیرہ فرقے آج کہاں ہیں؟۔ غلام احمد پرویز کی باتوں کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے۔ آج پرویز کہاں ہے، اسی طرح یہ نئے لوگ بھی تاریخ کا حصہ بن جائیںگے”۔
دارالعلوم دیوبند کے سب سے بڑے مدرس شیخ الحدیث مولانا سیدانورشاہ کشمیری نے آخر ی عمر میں فرمایا تھا کہ ” میں نے فقہ کی الجھنوں میں اپنی ساری زندگی تباہ وبرباد اور ضائع کردی۔ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے الائنس موٹرز میں حیلہ کرکے زکوٰة کے پیسے تجارت کیلئے دئیے۔ وقف مال شریعت میں بیچنے اور خریدنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے لیکن اس نے مدرسے میں اپنے لئے گھر بیچا اور خریدا۔ اسکے استاذ مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ وقف مال بیچنے اور خریدنے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے ۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ بیچنے والا اور خریدنے والا ایک ہی شخص ہو۔ مفتی محمد شفیع اپنے بچوں کیلئے دارالعلوم کی وقف زمین بیچنے والا بھی خود ہو اور خریدنے والا بھی خود ہو توپھر اپنی اصلاح کرنے کے بجائے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی نے اپنے استاذ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی تاریخی پٹائی لگائی تھی۔ ہمارے استاذ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا شیر محمد صاحب اور ان کے ساتھ دوسرے طلباء نے اپنے استاذمفتی رشید احمد لدھیانوی کی مارپٹائی سے سوجھے ہوئے چہرے کو دیکھا تو بدلہ لینے کی پیشکش کردی تھی لیکن مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے اجازت نہیں دی اسلئے کہ اس کو جان کا خطرہ بھی ہوسکتا تھا۔ یزید نے صحابیوں کے بیٹوں سے حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کو اقتدار کیلئے شہید کروایا تھا۔ بینکوں کی سودی زکوٰة، بینکوں کو اسلامی قرار دینے کے معاوضے، وقف مال پر اپنا ذاتی کاروبار اور حلالہ کی لعنت میں گرفتار لوگ ہی تاریخ کا حصہ بنیں گے ۔ انشاء اللہ
قارئین کرام! بہت مجبوری کے تحت اصل موضوع پر تفصیل سے بات کرنا ادھوری رہ جاتی ہے۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے قرآن کی لفظی تحریف کا اعتراف نہیں کیا ہے بلکہ اس کی نشاندہی فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی جس طرح بھی گزاری لیکن خاتمہ بالخیر ہوگیا تھا۔ ہماری جوانی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی فضل سے قبول فرمائی اور ہم سے دین کے تحفظ کی خدمت لے لی ہے۔ حضرت مولانا انورشاہ کشمیری نے قرآن میں بہت زیادہ معنوی تحریف کا انکشاف کیا تھا تو یہ معنوی تحریف ہی دراصل وہ شیطانی القا ہے جس کا ذکر سورۂ حج کی آیت(52) میں موجود ہے۔ اصل موضوع کیلئے جگہ کم ہے لیکن قارئین سمجھ جائیںگے کیونکہ اس معنوی تحریف پر ہم نے کتابوں اور اخبار میں بہت وضاحتیں لکھ دی ہیں۔
یہ شکر ہے کہ کراچی کے اکابر علماء ومفتیان نے حضرت حاجی محمد عثمان پر فتویٰ لگادیا تھا ۔ ورنہ مخالفت کی فضاؤں میںشاہین کو اونچی اُڑان کا موقع نہ ملتا ۔ تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اڑانے کیلئے
سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے صرف اہلحدیث ہی مخالف تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے شرح صحیح مسلم میں فتاویٰ شامیہ کیخلاف لکھ دیاتھا تو انہوں نے مجھے خود بتایا کہ بریلوی مسلک کے علماء نے اس کو گردن سے پکڑلیا تھا کہ وہ کون ہوتا ہے ،علامہ شامی کے خلاف لکھنے والا۔ اگر میں بھی باطل کی ہاں میں ہاں ملاتا اور سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز پر اہلحدیث کا منہ بند کرنے کیلئے کہتا کہ اہلحدیث کے نزدیک دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک ہے تو پھر اس پاک پیشاب پر سورۂ فاتحہ لکھنے میں کیا حرج ہے؟۔ اگر میں باطل کا دفاع کرتا تو مدارس اور مساجد کے علماء مجھے اپنے سرکا تاج بنادیتے لیکن میں نے کسی فرقے اور مسلک سے نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول ۖ اور قرآن وسنت سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح اور مفتی تقی عثمانی کو شکست سے دوچار کردیا۔ ایم کیوایم کے بعض لوگوں کو پہلے استعمال کرکے ہمارے ساتھیوں کو خانقاہ چشتیہ ،مدرسہ محمدیہ ،یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین اور مسجد الٰہیہ سے نکال دیا تھا لیکن جب ایم کیوایم کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی طرف سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی جسارت دیکھ لی تو ہمارا ساتھ دیا۔
لبنا ن کے مشہور دانشور خلیل جبران نے کیا خوب کہا ہے کہ ”اگرمذہب محض جنت کی بشارت کا نام ہے، حب الوطنی ذاتی مفاد کیلئے ہے اور علم کا مقصد دولت اور آسائش کا حصول ہے تو میں کافر، غدار اور جاہل کہلانا پسند کروں گا”۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button