قرآن کریم کی مشکل ترین آیات کی سب سے آسان تفہیم اور تفسیر: از سیدعتیق الرحمن گیلانی

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولا نبیٍ الا اذا تمنّٰی القی الشیطٰن فی اُمنیتہ فینسخ اللہ ما ےُلقی الشیطٰن ثم ےُحکم اللہ اٰیتہ واللہ علیم حکیم OلیجعلOو لیعلم (سورة الحج52،53،54)

اور ہم نے نہ بھیجاکسی رسول اور نہ کسی نبی کومگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے القاء کیااس کی تمنا میں ،پس اللہ نے مٹادیا جو شیطان نے القاء کیاپھر آیات کو محکم کیااور اللہ علیم حکیم ہے

تاکہ بنادے جو شیطان نے القاء کیاان لوگوں کیلئے فتنہ جنکے دلوں میں مرض ہے اور جنکے دل کھوٹے ہیں اور بیشک ظالم بہت دور کی بدبختی میں ہیں۔اور تاکہ جان لے وہ لوگ جن کو علم

دیا گیا ہے کہ بیشک حق تیرے ربّ کی طرف سے ہے۔پس اس پر ایمان لائیںاور انکے دل اسکے آگے جھک جائیںاور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتا ہے۔(الحج)
سورۂ حج آیت(52) پر ابولاعلیٰ مودودی نے” تفہیم القرآن” میں ”تمنا ” کے دو معانی اور تفسیر لکھی۔مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ” رسول اللہۖ نے سورۂ النجم کی تلاوت میںجب افر ء یتم اللٰت والعزیٰ ومنوٰة الثالة الاخرٰی۔ پر پہنچے تو یکایک آپۖ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے : تلک الغرانقة العلیoوان شفاعتھن لترجی۔( یہ بلند پایہ دیویاں ہیں ،ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے)۔ اس کے بعد آگے پھر آپۖ سورۂ نجم کی آیات پڑھتے چلے گئے ،یہاں تک کہ جب اختتام سورہ پر آپۖنے سجدہ کیا تومشرک اور مسلمان سب سجدے میں گرگئے۔ کفار قریش نے کہا کہ اب ہمارا محمدۖ سے کیا اختلاف باقی رہ گیا ؟۔ ہم بھی یہی کہتے تھے کہ خالق اور رزاق اللہ ہی ہے ،البتہ ہمارے یہ معبود اسکے حضور ہمارے شفیع ہیں۔ شام کو جبریل آئے اور انہوں نے کہا : یہ آپ نے کیا کیا؟۔ یہ دونوں فقرے تو میں نہیں لایا تھا۔ اس پر آپۖ سخت مغموم ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جو سورۂ بنی اسرائیل ، رکوع آٹھ (8) میں ہے کہ وان کادوا لفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ …….ثم لاتجد لک علینا نصیرًا۔یہ چیز برابر نبیۖ کو رنج وغم میں مبتلاء کئے رہی، یہاں تک کہ سورۂ حج کی یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں نبیۖ کو تسلی دی گئی کہ آپۖ سے پہلے بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہوتا رہاہے۔ اُدھر یہ واقعہ کہ قرآن سُن کر آنحضرتۖ کے ساتھ قریشِ مکہ کے لوگوں نے بھی سجدہ کیا ، مہاجرین حبشہ تک اس رنگ میں پہنچا کہ آنحضرتۖ اور کفارِ مکہ میں صلح ہوگئی ہے۔چنانچہ بہت سے مہاجرین مکہ آگئے ۔مگر یہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ صلح کی خبر غلط ہے۔ اسلام اور کفر کی دشمنی جوں کی توں قائم ہے۔
یہ قصہ ابن جریراور بہت سے مفسرین نے اپنی تفسیروں میں، ابن سعد نے طبقات میں، موسیٰ بن عقبہ نے مغازی میں ، ابن اسحاق نے سیرت میں اور ابنِ ابی حاتم ، ابن المنذر، بزار، ابن مردویہ اور طبرانی نے اپنے احادیث کے مجموعوں میں نقل کیا ہے۔ جن سندوں سے یہ نقل ہوا ہے۔محمد بن قیس، محمد بن کعب قرطبی،عروہ بن زبیر،ابوصالح، ابولعالیہ، سعید بن جبیر،ضحاک، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث ، قتادہ، مجاہد ، سُدی بن شہاب زہری ، حضرت ابن عباس۔ ابن عباس کے سوا ان میں کوئی صحابی نہیں۔ قصے میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو چھوڑ کر دو بڑے اختلافات ہیں۔ ایک یہ کہ بتوں کی تعریف میں جو کلمات نبیۖ کی طرف منسوب کئے گئے ہیںوہ قریب قریب ہر روایت میں دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم نے اس کا استقصا کرنے کی کوشش کی تو (15)عبارتیں الگ الگ الفاظ میں پائیں۔ دوسرا بڑا اختلاف یہ ہے کہ کسی روایت میں یہ الفاظ دورانِ وحی میں شیطان نے آپۖ پر القاء کردئیے اور آپۖ سمجھے کہ یہ بھی جبریل لائے ہیں۔کسی روایت میں ہے کہ یہ الفاظ اپنی خواہش کے زیر اثر سہواً آپۖکی زبان سے نکلے۔ کسی میں ہے کہ آپۖ کو اونگھ آگئی تھی اور اسی حالت میں یہ الفاظ نکلے۔ کسی کا بیان ہے کہ آپۖ نے قصداً استفہام ِ انکاری کے طور پر کہے۔ کسی کا قول ہے کہ شیطان نے آپۖ کی آواز میں آواز ملاکر یہ الفاظ کہہ دیے اور یہ سمجھا گیا کہ آپۖ نے کہے ہیں اور کسی کے نزدیک کہنے والا مشرکین میں سے کوئی تھا۔
ابن کثیر، قاضی عیاض ، ابن خزیمہ، قاضی ابوبکر ابن عربی ، امام رازی، قرطبی، بدرالدین عینی، شوکانی، آلوسی وغیرہ حضرات اس قصے کو بالکل غلط قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر نے کہا کہ جتنی روایتوں سے یہ نقل ہوا ہے ،سب مرسل اور منقطع ہیں۔ مجھے کسی صحیح متصل سند سے یہ نہیں ملا۔ بیہقی کہتے ہیں کہ ” ازروئے نقل یہ قصہ ثابت نہیں ہے”۔ ابن خزیمہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ”یہ زنادقہ کا گھڑا ہوا ہے”۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ ” اس کی کمزوری اسی سے ظاہر ہے کہ صحاح ستہ کے مؤلفین میں سے کسی نے بھی اس کو اپنے ہاں نقل نہیں کیا اور نہ کسی صحیح، متصل، بے عیب سند کے ساتھ ثقہ راویوں سے یہ منقول ہوا ہے ”۔ امام رازی ، قاضی ابوبکر اور آلوسی نے اس پر مفصل بحث کرکے اسے بڑے پُرزور طریقے سے رد ّکیا ہے۔ لیکن دوسری طرف حافظ ابن حجر جیسے بلندپایہ فقیہ اور ابوبکر جصاص جیسے نامور فقیہ اور زمحشری جیسے عقلیت پسند مفسر اور ابن جریرجیسے امام تفسیروتاریخ وفقہ اس کو صحیح مانتے ہیں اور اسی آیتِ زیر بحث کی تفسیر قرار دیتے ہیں۔ ابن حجر کا محدثانہ استدلال یہ ہے کہ :
” سعید بن جبیر کے طریق کے سوا جن طریقوں سے یہ روایت آئی ہے وہ یا تو ضعیف ہیں یا منقطع، مگر طریقوں کی کثرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی کوئی اصل ہے ضرور۔ علاوہ بریں یہ ایک طریقے سے متصلاً بسند صحیح بھی نقل ہوا ہے، جسے بزار نے نکالا ہے ( مراد ہے یوسف بن حماد عن اُمیہ بن خالد عن شعبہ عن ابی بِشر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس)اور دو طریقوں سے اگرچہ مرسل ہے مگر اس کے روای صحیحین کی شرط کے مطابق ہیں۔ یہ دونوں روایتیں طبری نے نقل کی ہیں۔ ایک بطریق یونس بن یزید عن ابن شہاب ، دوسری بطریق معمر بن سلیمان وحماد بن سلمہ عن داؤد بن ابی ہند بن ابی العالیہ”۔
جہاں تک موافقین کا تعلق ہے وہ اسے صحیح مان ہی بیٹھے ہیں۔ لیکن مخالفین نے بھی اس پر تنقید کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ ایک گروہ ا سے اسلئے ردّ کرتا ہے کہ اس کی سند اس کے نزدیک قوی نہیں ہے ۔ اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ اگر سند قوی ہوتی تو یہ حضرات اس قصے کو مان لیتے۔ دوسرا گروہ اسلئے رد کرتا ہے کہ اس سے تو سارا دین ہی مشتبہ ہوجاتا ہے اور دین کی ہر بات کے متعلق شک پیدا ہوجاتا ہے کہ نہ معلوم کہاں کہاں شیطانی اغوایا نفسانی آمیزشوں کا دخل ہوگیا ہو۔ حالانکہ اس نوعیت کا استدلال ان لوگوں کو تو مطمئن کرسکتا ہے جو ایمان لانے کے عزم پر قائم ہوں مگر جو لوگ پہلے سے شکوک میں مبتلاء ہیں یا جواَب تحقیق کرکے فیصلہ کرنا چاہتے ہیںکہ ایمان لائیں یا نہ لائیں؟۔ ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا کہ ایک نامور صحابی اور بکثرت تابعین وتبع تابعین اور متعدد راویانِ حدیث کی روایت سے ایک واقعہ ثابت ہورہاہے تو اسے صرف اس بنا پر کیوں رد کیا جائے کہ اس سے آپ کا دین مشتبہ ہواجاتاہے؟۔اس کے بجائے آپ کے دین کو مشتبہ کیوں نہ سمجھا جائے۔ جب یہ واقعہ اسے مشتبہ ثابت کررہاہے؟۔
(تفہیم القرآن جلد سوئم، صفحہ نمبر240۔ سید ابولاعلیٰ مودودی)

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button