بڑاسوال ہے کہ اسلام نے لونڈی و غلام کا نظام ختم کیا تو پھر یہ سلسلہ جاری رکھ کر اسلام پر عمل نہیں کیا گیا؟

بڑاسوال ہے کہ اسلام نے لونڈی و غلام کا نظام ختم کیا تو پھر حضرت عمر کے قاتل ابولؤلو فیروز سے محمود غزنوی کے غلام ایاز تک کا معاملہ کیا تھا؟، کیا اتنے عرصے میں غلاموں اور لونڈیوں کا سلسلہ جاری رکھ کر اسلام پر عمل نہیں کیا گیا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امریکہ کے ابراھم لنکن نے لڑکپن میں غلاموں و لونڈیوں کو دیکھ کر یہ سلسلہ ختم کرنے کا ارادہ کیا اور(1964ئ) میں انسانوںکی غلامی پر پابندی لگائی لیکن اسلام اتنے عرصہ میں نہ کرسکا!

جب قرآن میں لاتعداد لونڈیاں رکھنے کی اجازت ہے تو مسلمان لونڈی کے نظام کو کس طرح سے ختم کرسکتے تھے؟۔دنیا کو خوف ہے کہ اگر خلافت قائم ہوگی تولونڈیاں بنائی جائیں گی

دنیا میں ہماری تباہی وبربادی کی سازشیں ہیں اور ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی خلافت نے سپر طاقتوں فارس و روم کو پہلے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اگر لوگوں کا مذہب کی طرف رحجان ہوتا ہے تو اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب ایسا نہیں ہے کہ تعلیم یافتہ دنیا اس کو قبول کرلے۔ مغرب میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کا مستقبل عالمی خلافت ہوگا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ جو دہشت گرد بارود سے اپنی مساجد کو اُڑانے اور مسلمانوں کو سنگسار کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں ،ہماری خواتین کو لونڈیاں بنانے سے پھر وقت آنے پر کیوں گریز کریںگے؟۔
مسلمان خواتین بھی ہرگز نہیں چاہیں گی کہ خلافت قائم ہونے کے بعد کافر خواتین ہمارے مردوں کی لونڈیاں بن جائیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی مثال فارمی مرغوں و مرغیوں اور پسماندہ ممالک میں جنگجو لوگوں کی مثال اصیل مرغوں کی ہے۔ اگر فارمی مرغیوں کی محفوظ پناہ گاہوں میں لڑاکو قسم کے اصیل یا کم اصل دیسی مرغے ڈال دیئے جائیں تو پہلے تو وہ انکے جراثیم سے بیماری میں مبتلاء ہوکر مرکھپ جائیںگے لیکن اگر زندہ بچ بھی گئے تو دیسی مرغے ان کا کیا حشر نشر کریںگے؟۔ مغرب اپنے خوف سے ہماری نسل کشی کو اپنی بقاء کی جنگ سمجھتا ہے۔ وسائل پر قبضہ تو یہودی کمپنیاں کررہی ہیں اور عیسائی ممالک جنگوں میں نقصانات اُٹھا اُٹھا کر دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ انتخابات کے بعد تباہی سے بال بال بچ گیا ہے۔ اگر مغرب کی عوام کے دلوں سے اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا خوف بھی نکل جائے تو عوام اپنے حکمرانوں کو ووٹ اور نوٹ دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ سرِعام بازاروں میں منہ کالا کرکے گھمائیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس اسلام نے لونڈی اور غلام کا تصور قرآن میں دیا اور پھر خلفاء راشدین ، ائمہ اہل بیت کے غلاموں سے لیکر محمود غزنوی کے ایاز اور برصغیر پاک وہند میں خاندانِ غلاماں کے اقتدار تک غلام ولونڈی کا تصور ختم نہیں کیا جاسکا ۔ اب دنیا میں اسلامی خلافت قائم ہوگی۔ جنگلی مخلوق سے بدتر علماء ومفتیان ہیں جو حلالہ کی لعنت سے مدارس میں شادی شدہ باعزت خواتین کی عصمت دری سے نہیں رُک سکتے ہیں تو پھر انگریز لڑکیوں اور خواتین کو لونڈی بنانے سے کیسے رُک جائیںگے؟۔
ہمیں دنیا کو سمجھانا ہوگا کہ ہمارے بھوکے وحشیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کا دھندہ چھوڑ دو، یہاں شریف لوگوں کو ٹھگانے، لُٹانے اورمروانے کی ضرورت نہیں۔ شریف لوگ ہی کردار ادا کریں گے تو دنیا کی بچت ہوگی ورنہ تو خیر کی توقع کون رکھ سکتا ہے؟۔ یہود جب مدینے میں اپنے مضبوط قلعوں پر نازاں تھے تو مسلمانوں کوتوقع نہ تھی کہ وہ اتنی جلد بوریا بستر اُٹھانے پر ذلت کیساتھ مجبور ہوکر نکل جائیں گے۔
ابراھم لنکن نے جو نیک کام کیا کہ امریکہ میں غلاموں کی درآمد پر پابندی لگادی تو یہ بہت خوش آئند تھا۔ اس شخص کی نیکی سے ہی آج امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت بن گیا ہے۔ اب تو اقوام متحدہ نے انسانی غلامی پر عالمی پابندی لگادی ہے جو بہت ہی خوش آئندہے۔ مسلمانوں کی تو ایسی اوقات نہیں کہ انکے خوف سے یہ پابندی لگانے کا دعویٰ کیا جائے۔ البتہ ہم نے اسلام کا اصل چہرہ بھی دنیا کو دکھانا ہوگا اور آئندہ کے خوف سے بھی دنیا کو نجات دینے کا سامان بہم پہنچانا ہوگاتاکہ مسلمان سرخرو ہوں۔
اب ایک بے رحم تجزئیے کی طرف آئیے کہ کیا امریکہ نے غلاموں کی درآمد پر جو پابندی لگائی تھی تو کیا اس سے دنیا میں غلاموں کے مسائل حل ہوگئے؟۔ اگر امریکہ کی طرف سے غلاموں کو بنیادی انسانی حقوق دیدئیے جاتے تو کیا اس سے غلاموں کے مسائل حل ہوتے؟۔ جب امریکہ میں کالوں کو حقوق مل گئے تو بارک حسین اوبامہ بھی امریکہ کاکثیرالمدتی آٹھ سالہ صدر بن گیا تھا۔ اس کی کالی بیگم خاتون اول بن گئی تھی اور یہ تصور بھی اس وقت نہیں کیا جاسکتا تھا جب کالوں کو حقوق نہیں ملے تھے۔
اسلام نے دو بنیادی کام کئے تھے۔ ایک غلام اور لونڈی بنانے کی فیکٹریاں ختم کردیں تھیں۔ جاگیردارانہ نظام سے مزارعین لونڈی اور غلام بن کر شہری منڈیوں میں پہنچتے تھے۔ مزارعت کی مشقت سے جہاں اس جدید دور میں بھی بنیادی انسانی حقوق کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بھارت میں جابرانہ ڈکٹیٹر شپ نہیں جمہوریت ہے تو کاشتکار اپنے حقوق کیلئے دہلی پہنچ گئے ہیں۔ ہماری عمران خانیہ ڈکٹیٹر شپ نے لاہور میں تشدد سے مزارعین کو حال ہی میںاحتجاج سے رکنے پر مجبور کردیاتھا۔ جاگیرداروں کا ٹولہ پی ڈی ایم (PDM)مزارعین کا آقا ہے جن کی لڑائی ریاست سے اپنے مفادات کیلئے ہے۔
جب قرآن میں سود کی حرمت کے حوالے سے آیات نازل ہوئیں تو رسولۖ نے مزارعت کو سود قرار دیکر مسلمانوں کو اس سے روک دیا تھا۔ مدینہ کی زر خیز زمینوں سے مسلمان مزارعین جلد سے جلد غربت کی لکیر سے نکل کر خوشحال لوگوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ جب غریب اور امیر کواپنی محنت کا یکساں فائدہ ملنے لگا تو غریب کی غربت ختم ہوگئی اور امیر طبقہ محنت کش ہوگیا۔ مدینے میں جہاں زمیندار اور کاشتکار کی قسمت بدل گئی وہاں تاجروں کیلئے بھی ترقی وعروج کے راستے وسیع تر ہوگئے۔ جہاںمحنتی کاشتکار خوشحال ہوگا وہاں تاجروں کی بھی چاندی ہوگی۔ جہاں مزارعین کی حالت غیر ہوگی اور چندجاگیرداروں کو عیاشی کا موقع ہوگا تو عام تاجر بھی اپنی اشیاء کی فروخت میں مکھیاں مارنے کیلئے بیٹھے گاکیونکہ چند جاگیردار کتنے جوتے، دوائیاں اور کپڑے وغیرہ کے علاوہ اپنی ضروریات کی چیزیں خرید سکیں گے؟۔ جالب نے کہا:
ہر بلاول ہے ہزاروں کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
پھران غریبوں نے ہی دہشت گرد بن کر بینظیر بھٹو پر خود کش دھماکے بھی کئے تھے۔
اسلام نے سب سے بڑا بنیادی کام یہ کیا تھا کہ مزارعت کو سودی نظام قرار دیکر غلامی کی بنیادیں ختم کردی تھیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود ہے۔ جو قرآن میں اللہ اور اسکے رسولۖ سے جنگ ہے۔ اگر ائمہ عظام کے فتوؤں کے مطابق بنوامیہ اور بنوعباس اپنے ہاں اور دنیا میں مزارعت کا نظام رائج کرنے کے بجائے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے تو پھر خلافت کو اپنے خاندان کی لونڈیاں بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہمارے بچپن میں یہ افواہ اُڑائی گئی کہ روس پاکستان پر قبضہ کریگا تو ہمارے مزارع کے چھوٹے بیٹے نے اپنے باپ کا نام لیا کہ اس کی کونسی زمینیں ہیں، روس آئے یا امریکہ ہم نے مزارعت کا کام ہی کرنا ہے۔ جب لوگوں کو انصاف تک نہیں ملتا ہے تو ریاست کیسے چلے گی؟۔
پاکستان میں مزارعت کو ختم کردیا جائے اور لوگوں کو زمینیں مفت میں دی جائیں تو صرف پاکستان نہیں بلکہ ہندوستان اور دنیا کی تقدیر بدلنے میں بھی دیر نہیں لگے گی اور پہلے جہاں افراد کی غلامی ہوتی تھی تو اب خاندان کے خاندان غلام بن گئے ہیں۔ علماء الو کے پٹھوں نے لکھا کہ ” اسلام نے مزارعت کو اسلئے ناجائز قرار دیا تھا کہ اس سے لوگوں میں غلامی پیدا ہورہی تھی، جب غلامی نہیں پیدا ہورہی ہے تو جائز ہے”۔ اب تو شیخ الاسلاموں اور مفتی اعظم پاکستانوں نے بینکاری کے سودی نظام کو جواز بخش دیا ہے۔ سارے مدارس اور علماء ومفتیان کی مخالفت کے باجود یہ فتویٰ اسلئے چل پڑا ہے کہ ریاست کی قوت اس کی پشت پر ہے۔ پہلے فقہ کے ائمہ کو اپنے شاگردوں کی طرف سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج مفتی محمدتقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے بھی اپنے مسلک کے تمام مدارس اور اپنے اساتذہ کرام کو شکست سے دوچار کیا ہے۔
اسلام نے دوسرا بنیادی کام یہ کیا کہ غلام اور لونڈی کو انسانی حقوق سے نواز دیا۔ حضرت زید نے اپنے چچاؤں اور باپ کیساتھ جانے سے انکار کردیاتھا۔ سیدنا بلال نے آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے وطن حبشہ کا رُخ نہیں کیا۔ حضرت اسود نے بڑاسفر طے کرکے اسلام کی آغوش میں پناہ لی تو شادی کی خواہش رہ گئی۔ نبیۖ نے حکم دیا کہ کلاب قبیلے کے سردار سے بیٹی کا رشتہ مانگ لو۔ سردار پہلے اپنی سعادت سمجھ کر بڑا خوش ہوا لیکن رشتے کی بات سن کر خاموش ہوگیا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو سردار کی بیٹی نے کہا کہ مجھے رشتہ پسند ہے۔ نبیۖ نے شادی کیلئے ضروری سامان خریدنے کیلئے رقم دی تو جہاد کے منادی کی آواز سن لی۔ دولہے نے سامان حرب خریدا اور ذرا ہٹ کے قافلے کیساتھ چلا، جب میدان جہاد میں شہید ہوا تو پتہ چلا کہ اسود نے ایک نقاب اوڑھ رکھا تھا تاکہ نبیۖ دولہے کو دیکھ کر واپس جانے کا حکم نہ فرمادیں۔ محموداور ایاز کا قصہ تو مشہور ہے کہ سارے مشیروں اور وزیروں میں ایاز کو فوقیت بھی حاصل تھی اور ایاز شاہی محل جیسے گھر میں اپنا پرانا لباس پہن کر آئینے میںخود کو مخاطب کرتا تھا۔
غلام اور لونڈی وہ بے سہارا ہوتے تھے جن کے آبا اور خاندان کا بھی پتہ نہیں ہوتا تھا۔ نبی ۖ نے زید کیلئے فرمایا کہ یہ میرا لڑکا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جن کے باپ کا پتہ چل جائے تو ان کو انکے باپ کے نام سے پکارو اور جن کے باپ معلوم نہیں ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اللہ نے آزاد مشرک ومشرکہ پر غلام مؤمن اور لونڈی مؤمنہ کو زیادہ قابل ترجیح قرار دیا اور فرمایا کہ ان سے نکاح مت کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔ اللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ اپنی طلاق شدہ وبیوہ خواتین اور نیک غلاموں و لونڈیوں کا نکاح کراؤ۔ اہل تشیع کے کئی ائمہ کنیزوں کی اولاد ہیں۔ آزاد عورتوں سے نکاح و ایگریمنٹ کی اجازت دی گئی تو یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ لونڈیوں سے بھی نکاح وایگریمنٹ کی اجازت دی گئی ہے۔
جنگ میں قید ہونے والوں کو غلام یا لونڈی بنانا ممکن نہیں۔ کیاحضرت عمر نے قیدی کو غلام سبنایا تھا جس نے شہید کردیا تھا؟۔ قیدیوں کو غلام اور لونڈی ہرگز نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اگر جنگ کا قیدی غلام ہو توپھرموقع ملتے ہی خدمت کرنے کی جگہ جان لے لے گا۔بدر یا احد کے قیدیوں میں کسی ایک کو بھی غلام نہیں بنایا گیا اور نہ اس طرح کا رسک لینا ممکن تھا۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جن فتوحات کے بعد جنت کانقشہ پیش کیا تھا لوگوں نے اس کو آخرت پر محمول کردیا ہے۔ سورۂ طور میں جس طرح اسلام کو جھٹلانے والوں کو دنیا میں ہی عذاب کا مژدہ سنادیا گیا ہے جنہوں نے اسلامی فتوحات کے بعد دیکھ لیاتھا کہ اسلام کی پیشین گوئیاں ہوبہو بالکل درست ثابت ہوگئیں۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی دنیا میںہی یقین کرلیا کہ اللہ نے وعدوں کے عین مطابق زبردست نوازشات کی برسات کردی تھی۔ خستہ حال مسلمانوں کے حالات کو بہت کم مدت میں اللہ نے بدل دیا تھا۔
عربی میں ”حور” شہری عورتوں کو کہتے ہیں۔ جب مسلمان دنیا کی امامت کررہے تھے تو اہل کتاب کی خواتین نے بھی نکاح کی پیشکشیں شروع کردی تھیں۔ حضرت عمر نے ان پر پابندی بھی لگادی تھی کہ پھرعرب خواتین شادی کے بغیر رہ جائیں گی۔ عبداللہ بن عمر نے فتویٰ جاری کردیا تھا کہ اہل کتاب بھی مشرک ہیں جو تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن ان کی بات کو حرفِ غلط کی طرح رد کردیا گیا تھا۔ فتوحات کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبیۖ پر پابندی لگادی کہ آئندہ کسی بھی عورت سے نکاح نہیں کرنا ہے بھلے کوئی اچھی لگے،پھر ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے نبیۖ کی طرف اٹھائیس (28)ازواج کی نسبت کی ہے لیکن ان میں سے بعض محرم تھیں جیسے حضرت امیر حمزہ کی بیٹی جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میرے دودھ شریک بھائی کی بیٹی ہیں، بعض سے ایگریمنٹ تھا ،ام ہانی جس کیلئے اللہ نے نکاح کے حوالے سے فرمایا کہ وہ چچاکی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی۔خیبر کی فتح کے بعد حضرت صفیہ کے حوالے سے بخاری میں تصریح ہے کہ اگر پردہ کروایاتو نکاح ہے اور نہیں کروایا تو پھر ایگریمنٹ ہے۔ کسی عورت کا ایک مرد سے جنسی تعلق ہوسکتا ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک کی لونڈی یا ایگریمنٹ والی ہو اور دوسرے کے نکاح میں ہو؟۔
جب قرآن میں اللہ نے نکاح اور ایگریمنٹ کا معاملہ جدا جدا کردیا تو بعضوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ بعض محرمات کا معاملہ ایگریمٹ کے حوالے سے جدا ہے جس کی واضح نظیر حضرت ام ہانی ہی کا معاملہ تھا۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے سوتیلی بیٹیوں کو پیش کیا تو نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ صحیح بخاری کایہ عنوان ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ قرآنی آیات ، بخاری کی احادیث اور فقہ کی کتابوں میں غلط فہمی کا ازالہ کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اسلام کا معاشرتی نظام بہت مثالی ہے مگر ہمارے مذہبی طبقات پیچیدگیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا رہے ہیں۔ملکت ایمانکم کا اطلاق غلام ولونڈی پر بھی ہوتا ہے اور ایگریمنٹ پر بھی۔ ایگریمنٹ مراد ہو تو ایگریمنٹ لیا جائے اور یہ بھی واضح ہے کہ غلام ولونڈی پر پر بھی ایگر یمنٹ ہی کا اطلاق کیا گیاہے اسلئے کہ اس کی وجہ سے ان کو تمام حقوق حاصل ہیںاور بہت معاملات میں رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button