مرزائی اور نبوت کے دعویدار کا قتل اور اس کا حکم

388
0
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
قرآن کریم نے دنیا کو چیلنج کررکھا ہے کہ ” قرآن کی طرح دس سورتیں بناکر لاؤ۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ آیات بناسکے ”۔
رسول اللہ ۖ کے دور میںابن صائد نے نبیۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں تمام جہانوں کا نبی ہوں۔ لیکن نبیۖ نے اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ فرمایا کہ اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔( صحیح :بخاری)
کوئی شخص اگر موجودہ دور میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دماغ خراب ہوسکتا ہے اسلئے اس کو پکڑ کرڈاکٹر سے اس کا علاج کرانا چاہیے۔ اور اگر وہ پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک میں سازش کرکے ایسی فضاء بنانا چاہتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کیا جاسکے تو اس کی سازش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔
فیصل خان عرف خالد خان غازی نے جس مرزائی کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر قتل کیا تو اس پر ایک عجیب فضاء بنائی گئی۔ کیا صحابہ کرام اور نبیۖ میں ایمان نہیں تھا نعوذ باللہ من ذٰلک کہ ابن صائد نبوت کے دعویدار کو قتل نہیں کیا تھا؟۔
بخاری کی حدیث ہے کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہاہے مگر مبشرات اور وہ نیک خواب ہیں۔ بعض روایات میں نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ باقی رہنے کی خبر ہے۔ اگر نبوت سے مراد اصطلاحی نبوت لی جائے تو پھر ختم نبوت پر بھی ایمان باقی نہیں رہے گا۔ اسلئے کہ بہت بڑا حصہ اس کا باقی سمجھا جائے گا۔
حدیث میںنبوت مراد نہیں بلکہ غیب کی خبر ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: عم یتسا ء لونO عن النبأِ العظیمOالذی ھم فیہ مختلفون Oکلاسیعلمون Oثم کلاسیعلمونOالم نجعل الارض مھٰداO والجبال اوتادًاO ” کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں؟۔ بڑی خبر کے بارے میں۔ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیںگے۔ پھر ہر گز نہیں وہ عنقریب جان لیںگے۔ کیا ہم نے زمین کو جھولا نہ بنایا ؟اور کیا پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟”۔ ان آیات میں بڑے انقلاب کی خبر ہے اور جس سے نبوت مراد لینا بہت کم عقلی ہے، اسی طرح سے نیک خوابوں کی تعبیر سے بھی خوشخبری لینے کے بجائے نبوت مراد لینا انتہائی کم عقلی ہے۔ آج دنیا میں ایسے جھولے ہیں جیسے زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے اور اپنے محور کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ اس طرح کے جھولے بھی ایجاد ہوچکے ہیں اور دنیا کے پارکوں میں لگے ہیں کہ جو دونوں محور پر گھومتے ہیں۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زمین میں پہاڑ وہی میخوں والے کام کرتے ہیں جو قرآن نے بتایا ہے۔ ہندو، عیسائی، مجوسی، بدھ مت اور مسلمان سمیت پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب کی خوشخبری ہے لیکن یہ اسلام ہی کے ذریعے سے پوری ہوگی۔ جس کا عنقریب دنیا کو بھی پتہ چل جائیگا۔ کسی کواس حوالے سے اچھے خواب آتے ہیں تو اس کو حدیث میں غیب کی خبر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا نبوت کے اصطلاحی معنی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اگر عورت کے حقوق واضح ہوتے تو مرزا کو محمدی بیگم زبردستی مانگنے پر ضرور قتل کردیا جاتا جب عیسیٰ بننے کا شوق چڑھا تو حیض بھی آنے لگا ۔خود اپنے سے جن لیا۔ مرزا کا جانشین اتنا کم عقل ہے کہ کہتا ہے کہ قرآن مؤمنوں کی مثال میں دو عورتوں کا حوالہ ہے اسلئے مرزا کو بھی حیض آگیا۔ پھر توخلیفہ کو بھی حیض آتا ہوگا؟۔ چیک کیا جائے!