لولی، لنگڑی، اندھی، بہری سیاست کو چھوڑ کر اس قرآن کی طرف آؤ جومردہ قوم میں زندگی کی روح دوڑادے گا

لولی، لنگڑی، اندھی، بہری اور دل ودماغ سے عاری سیاست کو چھوڑ کر اس قرآن کی طرف آؤ جومردہ قوم میں زندگی کی روح دوڑادے گا، جس سے ریاست، عدالت، سیاست اورصحافت میں چلتی پھرتی لاشیں دردِ دل والے انسان بنیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

معصوم بچیوں کو بدکاری کے بعد قتل پرکسی مردہ لاش کے ہاں کوئی حرکت نظر نہیں آتی جو روز کا معمول بن چکا ہے، ایک دن کوہاٹ سے کرک کا جنازہ اٹھتا ہے دوسرے دن فیصل آباد سے!

مستونگ بلوچستان دھماکے میں دو سو (200)سے زائد افراد شہید ہوگئے مگر میڈیا نوازشریف کی آمد دکھا رہاتھا کہ شہباز شریف احتجاجی استقبالیہ جلوس گلیوں میں گھماتا رہامگر ائرپورٹ نہیں پہنچا

ہماری سیاست اور صحافت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب نوازشریف کو عدالت سے سزا ملی تو میڈیا میں یہ تأثر پھیلایا گیا کہ عدالت کی سزا کے خلاف اپیل کیلئے نوازشریف کا ملک میں موجود ہونا ضروری ہے اور اگر نوازشریف نہیں آیا تو سزا بھی پکی ہوجائے گی اور اس کی سیاست بھی ختم ہوجائے گی۔
نوازشریف اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے تو شہباز شریف نے اپنا احتجاجی جلوس لاہور ائرپورٹ پہنچانا تھا۔ پوری رات گزرگئی لیکن شہباز شریف کو ائرپورٹ پہنچنے کی بجائے جلوس کو بھول بھلیوں میں گھمانا تھا اور مبصرین پہلے سے اپنا یہ تجزیہ بھی دے چکے تھے کہ شہباز شریف نے پہنچنا نہیں ہے۔ اس دوران پھر مستونگ میں دھماکہ ہوا اور پاکستان کے جھنڈے کیلئے قربانی دینے والے اسلم رئیسانی(پیپلزپارٹی) لشکری رئیسانی (ن لیگ) کے بھائی سراج رئیسانی نشانہ بن گئے اور اس میں دو سو (200)سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ میڈیانے اس بڑی خبر کو بھی کوریج نہیں دی اور نوازشریف کی آمد اور شہباز شریف کا ائرپورٹ پہنچنے کا تماشہ دکھاتا رہا۔ میڈیا کی اس بے غیرتی پر ہم نے شہ سرخی کیساتھ احتجاج کیا تھا لیکن زید حامد کی بیوقوفی پر کارٹون کا اثر پڑسکتا تھا مگر میڈیا کو پرواہ نہ تھی۔
نوازشریف کو سپورٹ کرنے والا میڈیا بھی کیا میڈیا ہے کہ جب کلثوم نواز بیمار تھیں تو خدمت کیلئے حسن نواز اور حسین نواز تھے جو اپنی ماں کی لاش کیساتھ بھی پاکستان عدالت کے خوف سے نہ آئے اور جب نوازشریف بیمار تھا تو تیمارداری کیلئے بیٹے حسن و حسین کی جگہ بیٹی مریم نواز کی ضرورت تھی۔ عمران خان کی بک بک میں اسٹیبلیشمنٹ کی مخالفت کی جھلکیاں منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔ ریاستِ مدینہ بھی بھول گیا، جنہوں نے حفیظ شیخ کی جگہ یوسف گیلانی کو ووٹ بیچا ان کی بھی خبر لینے کے بجائے اعتماد کا ووٹ لیکر بے غیرت بیٹھ گیا۔ زرداری جس ق لیگ کو بینظیر بھٹو کا قاتل لیگ کہتا تھا ،اپنی حکومت بچانے کیلئے چوہدری پرویز الٰہی کو راجہ پرویز اشرف کیساتھ نائب وزیراعظم بنادیا۔ شہبازوں اور نوازشات کی سیاست کا حال بھی کسی سے ہرگزڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی اور اسفندیار خان وغیرہ کی سیاست تو لے پالکوں کی گود میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ اگر اسٹیبلیشمنٹ کی اہلحدیث یا سکھ کی طرح بہت لمبی داڑھی ہوتی تو بڑی بڑی پارٹیوں کے لیڈر گود میں بچوں کی طرح نظر آتے اور ان بچوں کے ہاتھوں یہ چھوٹی پارٹیاں کھلونے کی طرح کھیلتے دکھائی دیتیں۔ گودی بچے اور ان کے کھلونے کبھی داڑھی پر لٹکتے کہ انقلاب لاتے ہیں تو کبھی اس کے پیچھے چھپ جاتے کہ عوام کیساتھ کھیل رہے ہیں۔ باپ یا بزرگ کی داڑھی نوچی جائے اور وہ بھی اپنے بچے کے ہاتھوں تو تکلیف تو ہوگی نا؟۔
اگر مولانا فضل الرحمن چاہتے کہ پی ڈی ایم (PDM) میں اتحاد برقرار رہے اور عمران خان پر پریشر اور دباؤ مزید بڑھے تو منی مریم کو سمجھا سکتے تھے کہ پیپلزپارٹی نے سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کو شکست دیکر عمران خان کے پاؤں سے زمین اور چوتڑ سے قالین نکال دی ہے،سینیٹر اور سینیٹ چیئرمین کیلئے یوسف رضا گیلانی کی نامزد گی پر ن لیگ اورپی ڈی ایم (PDM)کی جماعتوں نے کوئی قربانی نہیں دی بلکہ پیپلزپارٹی نے چیلنج قبول کرکے عمران خان کو چت کردیا ہے ، اگر چیئرمین سینیٹ کیلئے ہماری جماعتوں نے اپنے ووٹ ضائع کرکے وفا نہیں کی تو صادق سنجرانی نے بھی اپنی حیثیت کھو دی ۔ عددی اقلیت کے باوجود صادق سنجرانی کا چیئرمین بنے رہنا اس جمہوری سرکس کابڑاتماشہ ہے جس کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ پھر جنہوں نے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے میں پی ڈی ایم (PDM)کے قائد کی جماعت کے نمائندے مولانا عبدالغفور حیدری کو شرمناک شکست سے دوچار کردیا تو اخلاقی قدروں کا تقاضہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم (PDM)کی قیادت پیپلزپارٹی ہی کو دی جائے۔ جو سینیٹر ڈپٹی چیئرمین کیلئے ووٹ نہیں دے سکتے ہیں وہ استعفیٰ کیا دیں گے؟۔ جب عمران خان دُم اُٹھائے اُٹھائے گھومتا تھاکہ ارکان استعفیٰ دیں گے تو جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن دوسرا کوئی بھی اب استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہوگا اور پھر وہی ہوا تھا، اسپیکر قانون کے مطابق ارکان کو علیحدہ علیحدہ استعفیٰ دینے کیلئے طلب کررہاتھا اور وہ کہتے تھے کہ ہم اجتماعی طور پر ایک قبر میں دفن ہوں گے۔ آخر کار عمران خان سمیت سب پارلیمنٹ میں پہنچے اور کوئی شرم بھی ہوتی ہے، کوئی حیا بھی ہوتی ہے اور کوئی غیرت بھی ہوتی ہے والی طعنہ خیزتقریر سننے کو مل گئی۔ جس کی گونج سے آج بھی لوگوں کے کان لبریز ہیں۔
جس طرح سندھ کے تھرپارکر اور پنجاب کے ڈسکہ میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایکدوسرے کی اکثریت کا احترام کیا ،اسی طرح سے سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کیلئے اکثریتی پارٹی پیپلزپارٹی کی تھی لیکن جس طرح اے این پی (ANP) کے خلاف نوشہرہ میں پی ڈی ایم (PDM)کے نام پر جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ غلط تھا لیکن ن لیگ جیت گئی تو اسی طرح پیپلزپارٹی اوراے این پی (ANP)کے خلاف سینیٹ میں جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ غلط تھا جس میں پیپلزپارٹی جیت گئی ہے۔ یہ اتحاد اپنے منہ کا نوالہ ایکدوسرے کو دینے کیلئے نہ تھا بلکہ تحریک انصاف کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے تھا۔ جب پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں اکثریت تھی پھر بھی اپوزیشن کی جماعتوں نے اسکے ساتھ ہاتھ کیا اور اس سے بڑا ہاتھ مولانا کی جماعت کے ڈپٹی چیئرمین کیساتھ ہوا تو ن لیگ کسی اور وجہ سے شور مچارہی ہے۔ ن لیگ کو خوف لاحق ہوگیا کہ پنجاب، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت نے اپنی اکثریت کھودی ہے اور لانگ مارچ سے اس کی رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی تو استعفوں کے ایشو کو جان بوجھ کر اٹھایا کیونکہ اس نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ مرکز میں عمران خان، پنجاب میں عثمان بزدار اور سینیٹ میں صادق سنجرانی بہتر ہیں اور اگر تبدیلی آگئی تو پھر پیپلزپارٹی بھی ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ تحریک انصاف سے زیادہ ن لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی گود میں پیدا ہوئی ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپا گزارا ہے۔ جلاوطنی کے بعد بھی یوسف رضا گیلانی کے مقابل کالا کوٹ پہن کر نوازشریف کس طرح عدالت میں حاضر ہوا تھا؟۔ شہباز شریف سے بڑا مہرہ عمران خان بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر زرداری نے اسٹیبلیشمنٹ سے لڑائی لڑنے کیلئے نوازشریف کو وطن واپسی کی دعوت دی ہے تو اس میں کیا براتھا؟ اور جب مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کو جان کا خطرہ ہے تو پول کھل گیا کہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ بزدلی ہے۔ مریم نواز کو یہ تونظر آتا ہے کہ مشرف عدالت سے بھاگا ہوا ہے لیکن اپنا ٹبر نظر نہیں آتا ہے کہ بزدل نوازشریف اسکے بیٹے حسن ،حسین، صمدی اسحاق ڈاراور بہادر بھانجا عابد شیرعلی سب بھاگے ہیں۔
اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف جیل بھرو تحریک کیلئے جیل سے بھاگے ہوئے قیادت کریںگے؟۔ مریم نواز کو ابھی اپنے چھوٹے سے آپریشن کے بہانے جانا تھا مگر سیاسی فضاء کا انتظار ہے۔ جو گیدڑ کی طرح کبھی معاہدہ کرکے سعودیہ بھاگ لیں اور کبھی بیماری کا ڈرامہ کرکے لندن بھاگ لیں ان جعلی شیروں اور ان کی اولاد کو مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ راستہ دینے کی دیر ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی صلاحیت ان لوگوں پر ضائع نہ کریں جن کی ہڈیوں کے گودے میں بھی انقلاب کا کوئی تصور نہیں۔ مسلم لیگیوں کا ڈی این اے (DNA) انقلابی اور جمہوری نہیں ۔ ڈرائینگ روم کی سیاست میں جنم لینے والے مردِمیدان نہیں ہوسکتے ہیں۔ مولانا نے پہلے بھی ایک نہتی لڑکی بینظیر کے پیچھے اپنی جماعت کے بزرگوں کو بخرے کرکے رکھ دیا تھا لیکن جب غلام اسحاق خان کے مقابلے میں نوابزادہ نصراللہ خان صدارت کیلئے کھڑے ہوگئے تو نوازشریف اور بینظیر بھٹو دونوں نے غلام اسحاق خان کو سپورٹ کیا تھا،اپنے دائیں بائیںبلاول بھٹو اورمریم نواز کو دیکھ کرخوش ہونے کی ضرورت اس وقت ٹھیک ہوتی جب یہ لوگ واقعی انقلابی ہوتے۔ بلاول بھٹو نے تو پھر بھی اپنے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کی قربانی دیکھی ہے ، پھانسی سے بچنے کیلئے ڈیل کرتا تو بچ سکتا تھا اور پھر بینظیر بھٹو نے جان پر کھیل کر قربانی دی، سرائیکستان کا غیرتمند صحافی رؤف کلاسرا بھی کہتا ہے کہ زرداری نے بینظیر کے قتل کی تفتیش میں سازش یا خوف کا مظاہرہ کیا ہے اور رانا ثناء اللہ بھی کہتا ہے کہ زرداری نے کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے میں ڈرتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ اور ن لیگی مافیا یہ مہربانی کرے کہ مریم نواز کے قتل کا جعلی ڈرامہ نہ رچائیں۔ نوازشریف اور اس کی بیٹی میں غباروں کی طرح ہوا بھرکر کم از کم جعلی شیر اور شیرنی بنانے کا ڈرامہ نہ کریں۔
مولانا فضل الرحمن دونوں کو ساتھ ملائیں یا دونوں کو خیرباد کہیں۔ ن لیگ کا ایک ہی شہید ہے وہ بھی نوازشریف کے قافلے کے نیچے کچلاجانیوالا معصوم شہر ی تھا جو کچلا گیا مگر قافلہ بھی نہ رکا اور عدالت تک جس کا ہاتھ اسٹیبلیشمنٹ کی وجہ سے نہیں پہنچ سکتا تھا تو مجھے کیوں نکالا ؟ کی رٹ لگاکر نکلا تھا۔ جنہوں نے عدالت پر حملہ کیا تھا تو مکافات عمل کے نتیجے میں ان ن لیگی کا بس چلے تو جی ایچ کیو (GHQ) پر بھی ہلہ بول دینے سے گریز نہیں کرینگے لیکن اس کیلئے ان کو مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے کارکن چاہئیں۔ کرایہ کے گلوبٹ کمزوروں کو دبا سکتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر طاہر القادری سے دھرنے کا خطرہ ہو تو پولیس کے ذریعے مرواسکتے ہیں اور جب وہی طاہر القادری پیپلزپارٹی کے خلاف دھرنا دینے گیا تھا تو اس کو کھلی چھوٹ دیدی تھی۔ زرداری کا خوف بجا ہے کہ پیپلزپارٹی والے پھانسی پر چڑھتے ہیں، کوڑے کھاتے ہیں اورکارساز دھماکوں کی نذر ہوجاتے ہیں اور لیاقت باغ میں بینظیر کی شہادت سمیت کارکنوں کی قربانی دیتے ہیں اور پھر بھی اپنے ایک ہی اکلوتے بیٹے کو میدان میں اتارتے ہیں جبکہ نوازشریف اپنے بیٹوں کے نام حسن اور حسین رکھ کر بھی رفو چکر ہوجانے کے عادی بناتے ہیں۔ میڈیا سے کہتے ہیں کہ عدالتوں کو جواب دیںگے اور عدالتوں سے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اس ٹبر کو چھوڑ دیں اور مولانا محمد خان شیرانی ، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اور مولانا شجاع الملک کو اپنے ساتھ ملائیں، اطمینان بخش الیکشن کروائیں تاکہ نظریاتی لوگوں کے بخرے نہ ہوں۔ مولانا حق نوازجھنگوی کی شہادت کے بعد سپاہ صحابہ کے قائد مولانا ایثار الحق قاسمی نے آئی جے آئی کی ٹکٹ پر جھنگ سے الیکشن لڑا تھا، جس کی حمایت یافتہ اس سیٹ پر پہلے مولانا حق نوازجھنگوی کو شکست دینے والی شیعہ عابدہ حسین تھی جو جھنگ کی دوسری سیٹ پر آئی جے آئی کی ٹکٹ پر لڑرہی تھی۔ اگر مولانا محمد خان شیرانی کی بات اس وقت مان لیتے کہ مولانا حق نوازجھنگوی کی انجمن سپاہ صحابہ ختم کرکے جمعیت میں ضم کی جائے تو سپاہ صحابہ کی شکل میں دل کا اتنا بڑا ٹکڑا جے یو آئی سے جدا نہ ہوتا اور اب اس مریم نواز کی حمایت میں جنون کی حد تک جانا ان بزرگوں کو کھونے کا باعث بن رہاہے جو جمعیت علماء اسلام کا دماغ ہیں۔ یہ وہی ہیں جو وعدے کے باوجود بھی لاہور میں استقبال تو بہت دور کی بات ہے ملاقات کیلئے بھی آمادہ نہیں تھے۔
جمعیت علماء اسلام کے گروپوں ، جمعیت علماء پاکستان، جماعت اسلامی اور تمام مذہبی جماعتوں کو لیکر سب سے پہلے اسلام کے واضح احکام کو اجنبیت سے نکالا جائے۔ قرآن کے واضح احکام کی فہرست پیش کی جائے۔ ریاست کی نعمت موجود ہے۔ انتخابات ہوسکتے ہیں، عوام کے ذہن پلٹ سکتے ہیں۔ غریبوں نے اسلام کیلئے بہت کچھ قربانیاں دی ہیں۔ قرآن وحدیث اور جہاد کیلئے امیروں اور جرنیلوں کے بچوں نے کبھی قربانی نہیں دی ہے۔ فوجی چھاؤنیوں کیساتھ لال کرتیوں کے باسیوں اور فوجی پیرول پر چلنے والی سیاسی پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مدارس کے بچوں کو فضول کی سیاست کی نذر کرنے کا فائدہ نہیں ۔
نبیۖ نے فرمایا کہ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا ، یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا ،پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے۔
جرنیل بدلتے رہتے ہیں اور سیاستدان وہی رہتے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جرنیل غلط اور غلیظ ہوں اور ان کی پیداوار سیاستدان پاک اور پاکیزہ ہوں؟ اورجنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق پر لعنت کی جائے اورپھربھٹو اور نوازشریف کو شاباش دی جائے۔ اس مخمصے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علماء ومفتیان اور مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ خلفاء راشدین کے بعد دورِ آمریت سے جبری حکومتوں کے موجودہ دور تک جس طرح اسلام اجنبیت کی منازل طے کرتا آیا ہے اس کو اجنبیت سے نکالا جائے۔ آمریت کی ٹانگوں میں جننے اور پلنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ہی بہترین راستہ ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button