مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

571
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020
قل ےٰا ایھاالناس قد جاء کم الحق من ربکم فمن اھتدٰی فانّما یھتدی لنفسہ ومن ضلّ فانما یضل علیھا وما انا بوکیل Oواتبع ما یوحٰی الیک واصبر حتّٰی یحکم اللہ و ھو خیر الحٰکمینO
ترجمہ”کہہ دیجئے (اے میرے رسول !)کہ اے لوگو! بیشک تمہارے پاس حق آگیا تمہارے ربّ کی طرف سے۔پس جو ہدایت لینا چاہے تو اپنی جان کیلئے ہدایت لیتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی اسی پر پڑے گی اور میں کوئی وکیل نہیں ہوں ۔ آپ اتباع کریں اس کی جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرلیں ،حتی کہ اللہ فیصلہ فرمادے۔ اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں بہترین ہے۔ (سورہ ٔ یونس)
فرمایا:” اپنے عہد کو ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام میں صلح کراؤ”۔(البقرہ آیت 224)۔آیت نے مذہب کے نام پر صلح نہ کرنے کی جڑ کاٹی ۔ اَیمان کے کئی معانی ہیں ۔ ملکت ایمانکم لونڈی ،غلام، معاہدہ، حلف ، حلیف۔نکاح و معاہدہ آزاد عورت ومرد، لونڈی وغلام سے ہوتاہے۔ میثاق غلیظ بیگم سے ہوتاہے۔ طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ اَیمان ہیں۔ ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم ” یہ تمہارے عہد کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ” ۔ (المائدہ)
فرمایا: ”اللہ تمہیں لغو عہدپر نہیںپکڑتا مگر جو تمہارے دل نے کمایا اس پر پکڑتا ہے۔ جو لوگ اپنی بیگمات سے لاتعلقی اختیار کرلیں تو 4ماہ کا انتظار ہے۔ اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اگر طلاق کا عزم رکھتے ہوں تو اللہ سننے جاننے والا ہے (آیت225،226،227البقرہ)۔ آیات سے واضح ہے کہ الفاظ نہیں نیت پراللہ پکڑتا ہے ۔ اگر طلاق کے عزم کا اظہار نہ کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اظہار نہ کیاتوعدت چار ماہ ہے اور اظہار کی صورت میں تین ماہ ہے۔ اللہ نے ایک ماہ کی مدت بڑھانا گناہ قرار دیا ہے۔ فقہاء نے عورت کے حق اور اذیت کو نہیں دیکھا اسلئے قرآن کی تفسیر میں اُلٹے سیدھے تضادات کا شکار ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ چار ماہ تک عورت کے پاس نہ جانا عزم کا اظہار ہے، شوہر نے حق استعمال کرلیااور عورت طلاق ہوگئی۔ کسی نے کہا کہ طلاق کے عزم کا اظہارہی مرد کا حق ہے اور مرد نے حق استعمال نہیں کیا اسلئے طلاق نہیں ہوئی۔ کتے بھونکتے اور گدھے ڈھینچو ڈھینچو کرتے مگر اللہ کے واضح احکام میں تضادات پیدا نہ کرتے۔ قرآن کوبازیچۂ اطفال بنادیا۔
میاں بیوی میں علیحدگی کی زیادہ سے زیادہ تین اقسام ہیں۔1: دونوں جدائی چاہتے ہوں تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بلکہ طلاق کے بعدبھی شوہر اس عورت کو اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا۔ اس رسمِ بد کا خاتمہ اللہ نے آیت230البقرہ کے زبردست الفاظ میں کیا ہے۔2: شوہر نے طلاق دی ، بیوی الگ نہیں ہونا چاہتی تو پھر عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر چھوڑنے کا حکم ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کو ضرر پہنچانے کیلئے رجوع نہ کرو۔ طلاق کی دوسری قسم یہ آیت231البقرہ اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ہے۔ 3: شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا مگر بیوی خلع سے طلاق لے لیتی ہے۔ عدت کی تکمیل کے بعد عورت واپس جانا چاہتی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ جب دونوں معروف طریقے سے راضی ہوں تو عورت کے اپنے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ مت بنو۔ یہ تیسری قسم آیت232البقرہ میں ہے۔ اندھو، بہرو، لنگڑو، لولو۔ اُٹھو ! پڑھو اورکچھ تو سوچو!۔
فقہ میں طلاق کی اقسام1:طلاق احسن۔ 2: طلاق حسن 3: طلاق بدعت حنفی فقہاء کی بکواس ہے۔ جو حنفی ومالکی فقہاء کے نزدیک طلاق بدعت وگناہ ہے وہ شافعی فقہاء کے نزدیک طلاقِ سنت اور مباح ہے۔جس کو حنفی فقہاء نے طلاق احسن قرار دیا ،اسی کی وجہ سے غلام احمد پرویز، جاوید غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک گمراہ ہوئے۔
امام شافعی کے نزدیک عویمر عجلانی پر لعان کے بعد نبیۖ ناراض نہ ہوئے اسلئے اکھٹی تین طلاق سنت ہیں۔جبکہ فحاشی پر فارغ کرنے کا سورۂ طلاق میں جواز ہے لیکن عام حالات میں اکھٹی تین طلاق دیکر فارغ کرنا جائز نہیں،یہ امام ابوحنیفہ و امام مالک کی دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ رسولۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟جبکہ میں تم میں موجود ہوں۔ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کردوں؟ ۔ (ترمذی) یاد رہے کہ یہ عبداللہ بن عمر والا واقعہ تھا۔زیادہ مضبوط روایت ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھے مستندشخص نے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاقیں دیں۔ 20سال تک مجھے کوئی مستند شخص نہ ملا جو اس کی تردید کرتا۔ 20 سال بعد زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ابن عمر نے ایک طلاق دی۔ (صحیح مسلم) احادیث کی کتابوں میں یہ مہم جوئی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق ثابت کیا جائے۔ چنانچہ فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے درج کیا ۔ حالانکہ حدیث صحیحہ میں الگ الگ طلاق دینا ثابت ہے جبکہ ضعیف احادیث میں آن واحد میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ صحیح وضعیف احادیث کی یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ آن واحد میں تین طلاقیں دی ہوں اور پھر اس کو ایک شمار کرکے مرحلہ وار بھی تین طلاقیں دی ہوں۔ امام بخاری ابوحنیفہ کو پسند نہیں کرتے تھے اسلئے انکے مقابلہ میں امام شافعی و جمہور فقہاء کے دلائل کے ثبوت پیش کرنے کی کوشش فرمائی۔ ”جس نے تین طلاق کو جائز کہا”عنوان میں دیا کہ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔الآےة 229البقرہ ”۔ حالانکہ اس آیت میں اکٹھی تین کے بجائے الگ الگ طلاق کی خبر ہے۔امام بخاری نے رفاعة القرظی کے واقعہ کو بھی ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کیلئے پیش کیا، حالانکہ یہ واقعہ ابوحنیفہ و مالک وشافعی کی بھی دلیل نہیںمگر افسوس کہ جب جمہور کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کی بات آجاتی ہے تو پھر ان واقعات کو بھی حدیث کی کتابوں میں نقل کیا گیا جنکے بارے میں واضح تھاکہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی گئی۔ رفاعة القرظی کے بارے میں بھی بخاری میں واضح ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی۔ وفاق المدارس کے صدر محدث العصر نے نہلے پر دھلا یہ کردیا کہ ” جس روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے اس سے یہ ثابت ہے کہ رفاعة القرظی نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور واقع ہوتی ہیں۔جس روایت میں رفاعة القرظی سے مرحلہ وار تین طلاق کا ثبوت ہے تواس سے پتہ چلتا ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دینی چاہیے۔ (کشف الباری) یہ تو ایک بڑے محدث العصر کا حال تھا اور اب تو معاملہ صاحبزادگان کے حوالے ہوتا چلا جارہاہے۔
رفاعة کی تین طلاق وعدت کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح اور خلوت اختیار کی ۔ دوپٹے کا پلو دکھاکر کہا کہ شوہر کے پاس ایسی چیز ہے اور نبیۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعہ کے پاس نہیں جاسکتی جب تک دوسرا تیرا ذائقہ اور تو اس کا ذائقہ نہ چکھ لو، جس طرح پہلے کا چکھاتھا۔ کیا نامرد کے ذریعہ حلالہ ہوسکتا ہے؟۔ وہ تو رفاعة کی نہیں دوسرے شخص کی بیگم تھی، وہ طلاق چاہتی تھا ،رفاعة سے صلح کا معاملہ نہیں تھا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ”یہ خبرواحد ہے۔اس حدیث میں اتنی صلاحیت نہیں کہ آیت پر نکاح کے علاوہ جماع کا اضافہ کریں ،احناف نکاح سے جماع مراد لیتے ہیں اس حدیث سے جماع کی شرط نہیں لگاتے۔ (کشف الباری) کیا احناف کواپنا مسلک نظر نہیں آتا ہے ؟۔ قرآن میں عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کو باربار واضح کیا گیا ہے۔ لیکن علماء قرآن کی طرف نہیں دیکھتے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی