مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکرکام کرسکتے ہیں

مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکروہ کام کرسکتے ہیں کہ پاکستان اور سب سنی شیعہ اور تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مسجد نہیں بلکہ دنیا کی امامت کریں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی منیر شاکر پختونخواہ میں اپنے سنی ، دیوبندی اور پنج پیریوں کیلئے بھی ایک انتہائی متنازع شخصیت ہیں لیکن یہ شخص اچھے انداز میں سب کیلئے قابلِ قبول اور بہت زبردست ہوسکتے ہیں

علامہ جواد حسین نقوی اہل پاکستان میں اپنے اہل تشیع کیلئے متازعہ ہیں لیکن اہلحدیث ، دیوبندی اور بریلوی مکتبۂ فکر میں بہت تیزی کیساتھ قابلِ قبول اور انتہائی عروج پر پہنچ رہے ہیں

سنی اور شیعہ اپنے اپنے مؤقف پر مضبوطی سے ڈٹنے کا حق رکھتے ہیں اسلئے کہ نسل در نسل ہندو، سکھ اور عیسائی کو اپنے آبائی مذہب سے بدلنا آسان نہیں ہے اور جہاں شدت پسندی آتی ہے تواللہ نے ملائکہ کے استاذ عزازیل علیہ الصلوٰة والسلام کو بھی اپنے مقام ومرتبہ سے اُتار کرابلیس لعین الی یوم الدین ہمیشہ کیلئے لعنت اللہ علیہ والملائکہ اجمعین بنادیاہے۔ نورانی ملائکہ نے بھی اعتراض کیا کہ حضرت آدم کو خلیفہ بنانیکی کیا ضرورت ہے جو زمین پرخون بہائے اور فساد پھیلائے ؟ لیکن اللہ نے کہا کہ ”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔ فرشتوں کا لاعلمی میں سوال اُٹھانا اخلاص کی دلیل ہے ، گستاخانہ لہجے کی نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا جہالت ہے لیکن معصومانہ سوالات کا اظہار کوئی گناہ نہیں ہے۔ جبکہ شیطان اسلئے راندۂ درگاہ ہوا کہ اس نے شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ، تمہارے حکم پر میں اسکے آگے سجدہ نہیں کروں گا۔سب ملائکہ نے سجدہ کیا تھامگر ابلیس نے نہیں کیا۔
آج ہم نے بنی آدم کو فساد پھیلانے اور خون بہانے کے شیطانی عمل سے روکنے کیلئے عدل واعتدال اور صراط مستقیم کا راستہ اپنانا ہے۔ رسول اللہۖ نے حضرت عثمان کے نا حق قتل کی خبر پر صحابہ کرام سے احرام کی حالت میں جہاد کیلئے بیعت لی تھی لیکن جب پتہ چلا کہ خبر جھوٹی ہے تو صلح حدیبیہ کی شرائط پردستخط کئے اور اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ پر مخالف فریق مشرکینِ مکہ کا اقتدار تسلیم کرلیا ہے۔ اولی الامر کی حیثیت سے مشرکینِ مکہ نے یہ شرائط رکھی تھیں کہ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لاؤگے۔ تین دن سے زیادہ قیام نہ کروگے اور جب بھی نکلنے کیلئے کہا جائے تو نکلوگے۔ ایکدوسرے کیساتھ خفیہ اور اعلانیہ دشمنی نہیں کرینگے۔ اگر قریش کا کوئی فرد مسلمانوں کے پاس آجائے تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی فرد قریش کے پاس آجائے تو اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
آج جوغیرملکی مسلمان سعودی عرب میں رہتے ہیں ،ان کو عیسائی ممالک کی نسبت بہت کم انسانی حقوق حاصل ہیں۔ رسول اللہۖ نے اسلام کے بدترین دشمنوں یہود اور مشرکینِ مکہ کیساتھ بھی میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ کے معاہدے ریاستِ مدینہ کے داخلی اور خارجی محاذ پرفرمائے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام سلامتی اور ایمان امن کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ہمیں فرقہ وارانہ مسائل کی دلدل سے فرصت مل جائے تو اسلام کی ایک ایک بات سے پوری دنیا میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اسلام میں آزادیٔ رائے کا بھرپور حق ہے اور اس حق سے معاشرے میں امن وسلامتی اور آزادیٔ رائے کی اعلیٰ مثال نظر آسکتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں حضرت عائشہ پر بہتان طرازی کے مرتکب حضرت حسان، حضرت مسطح اور حضرت حمنہ بنت جحش نے اسّی اسّی (80،80) حدِ قذف کے کوڑے کھائے اگر اسلام نے برائی کو ہاتھ اور زبان سے روکنے کا حکم دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں ہے کہ اگر قانونی چارہ جوئی کیلئے کسی کے خلاف حق کی گواہی دی جائے تو اس پر اسّی (80)کوڑے حدِ قذف کی سزا بھی مسلط کی جائے۔
خلیفہ ٔ دوم حضرت عمرنے بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ کے خلاف گواہی دینے پر تین افراد کو کوڑے مارے تھے اور چوتھے فرد کی گواہی ناقص قرار دی تھی۔ اسلام کے چہرے سے جب تک اجنبیت کی یہ اُلجھنیں دور نہ کی جائیں اس وقت تک مسلمانوں کا کسی عقیدے اور نظام پر اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔
اگر دنیائے کفر کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے کہ مسلمان چوری اور سینہ زوری کے مرتکب ہیں تو وہ مسلمانوں کو امامت کے قابل سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے بلکہ اپنے اسلامی اقدار کیمطابق زندہ رہنے کا حق دینا بھی ان کیلئے مشکل ہوگا۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے علامہ سعد رضوی نہیں بلکہ وہ چھوٹے بیٹے جو بہت سیدھے سادے لگتے ہیں۔ اس کی رہائش فرانس یا کسی دوسرے مغربی ملک میں ہو۔ ایک بیگم اسلامی تعلیمات کے مطابق عیسائی یا یہودن ہو۔ اگر تین افراد اس پر چشم دید گواہ بن جائیں کہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب پائی گئی ہے لیکن وہ اعتراف جرم سے انکاری ہوجائے تو کیا اسلامی تعلیمات کا تقاضہ یہی ہوگا کہ ان گواہوں پر اسّی اسّی (80،80)کوڑے برسانے کا قانون بھی نافذ کیا جائے؟۔
دنیا میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسلام کا تقدس بالکل مصنوعی ،چوری اور سینہ زوری پر مبنی ہے لیکن ہم نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقت کو واضح کرنا ہوگا کہ مغیرہ ابن شعبہ پر الزام لگنے اور گواہوں پر کوڑے برسانے اور ام المؤمنین حضرت اماںعائشہ صدیقہپر بہتان لگانے والوں میں بڑا اور بنیادی فرق تھا۔ دونوں معاملات کو خلط ملط کرنے سے دنیا میں اسلام کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔ اسلام میں برائی کو روکنے اور آزادیٔ اظہار رائے کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کیخلاف پوری قوت اور شدومد سے آواز اٹھائی گئی۔ اگر واقعی جرم کی مرتکب ہوتیں تو قرآن نے امہات المؤمنین کیلئے فحاشی پر دوہری سزا کی وضاحت کردی ہے ۔عام عورت کو سو( 100)کوڑے کی سزا تو ان پردو سو (200)کوڑے کی سزا نافذ ہوتی۔ دوسری بات یہ ہوتی کہ ان کا نکاح بدکار یا کسی مشرک سے کردیا جاتا۔ کیونکہ طیب طیبہ اور خبیث خبیثہ ایک ساتھ ہوسکتے ہیں مگر بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کو مؤمنین پر حرام کردیا گیا ہے۔ اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہر مشرک مرداور مشرکہ عورت بدکار ہوتے ہیں لیکن ان کا قانون یہ تھا کہ مشرکین کے ہاں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے ایسے جوڑوں کی کھلی چھوٹ تھی۔ ویسے تو حضرت ام ہانی کے شوہر بھی مشرک تھے اور صحابہ جب مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے تو تب بھی بہت سے لوگ اچھے کردار کے مالک تھے۔
جب حضرت یوسف علیہ االسلام پر زلیخا نے بہتان لگایا تھا تو ایک بچے نے شواہد کے ذریعے سے غلطی اور جبر کی مرتکب حضرت زلیخا کو مجرم ثابت کیا تھا کہ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹ گئی ہے تو یوسف علیہ السلام مجرم ہیں اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹ گئی ہے تو حضرت یوسف پاک اور وہ زلیخا مجرم ہے۔ جب کسی کوبات کرنیکی اجازت نہ ہو تو پتہ نہیں کیا کیا قیامت ڈھائی جائے گی؟ اور جب نبی اور انکے حرم پر بات کی گنجائش ہو تو ان سے بڑا پھنے خان کوئی نہیں۔
حضرت عائشہ کی پاکدامنی کی گواہی بہتان لگانے والی حمنہ بن جحش کی سگی بہن ام المؤمنین حضرت زینب نے بھی دی جو مقابلہ رکھنے والی سوکن بھی تھیں۔ ایک ایک گوشے سے نبیۖ نے تسلی فرمالی توپھر وحی اُتری تھی۔ اسلام بڑا زبردست دین اسلئے ہے کہ ایک تو رائے کی آزادی ہے تاکہ برائی کہیں بھی پنپ نہ سکے اور دوسرا یہ کہ ام المؤمنین اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا بالکل یکساں ہے تاکہ کوئی مذہبی اور طاقتور شخصیت اسلام کے دامن میں جھوٹی پناہ نہ لے سکے۔ معاشرے میں بے لاگ اظہار رائے کی آزادی سے پاکدامن اور خبیث کے درمیان تفریق قائم کرنے میں بالکل بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔جب بلاخوف ماحول کا جائزہ لیا جائے توپاک اور پلید کی نشاندہی بہت آسان ہے۔
اسلام وحی کے ذریعے سے معاشرے کی اصلاح کے اصول بتاتا ہے لیکن معاشرے کی اصلاح صرف عقائد، نظریات اور الفاظ سے نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کیلئے صالح اعمال کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے صالح اعمال کا تعلق انفرادی اور اجتماعی معاملات سے ہوتا ہے۔ ایمان، صالح اعمال ، تلقینِ حق اور تلقینِ صبر انسان کو خسارے سے بچانے کیلئے ضروری ہیں۔ (سورۂ عصر) غلط گواہی دینے پر قرآن نے انسان کے دل کو گناہگار قرار دیا ہے۔ جب کوئی درست گواہی دیتا ہے تو معاشرہ اس کی سچائی کا قدر شناس ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے عصر کی نما ز دو رکعت پڑھائی تو کچھ لوگوں نے سمجھا کہ چار رکعت سے نماز کم ہوگئی ہے، کچھ لوگوں نے نبیۖ کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کی لیکن ایک شخص نے نبیۖ کے سامنے کہا کہ دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ شروع میں اس شخص کی بات پر نبیۖ نے یقین نہیں کیا لیکن جب تفتیش کرنے کے بعد بتایا گیا تو نبیۖ نے دو رکعت مزید پڑھائے اور فرمایا کہ ذی الیدین نے سچ کہاہے۔ انسانوں میں بعض اوقات سچ کہنے اور بے باکی میں فرق ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کی کلپ مشہور ہے کہ رسول اللہۖ کو میں اسلئے نہیں مانتا ہوں کہ میرے چچازاد یا خالہ زاد بھائی ہیںبلکہ اللہ کے حکم کی وجہ سے آپۖ کو مانتا ہوں۔ آپۖ کے والد عبداللہ، والدہ آمنہ، دادا عبدالمطلب ، چچاابوطالب کو میں نہیں مانتا ہوں۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی نے کہا ہو کہ آمنہ نے یہ فرمایا ہے۔ نبیۖ اللہ کے رسول ہیں اسلئے ہم آپۖ کو مانتے ہیں۔
مفتی منیر شاکر کی اس بات سے بہت سے لوگوں نے زبردست اختلاف کیا ہے اور کچھ لوگ اسکے حق میں بھی ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ ہمارے لئے صرف قرآن وحدیث معتبر ہے۔ مفتی صاحب مولانا حسین علی کی جماعت اشاعت التوحید والسنة کے قائل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مولانا طاہر پنچ پیری کے بیٹے مولانا طیب طاہری نے حق کے مشن سے انحراف کیا ہے اسلئے وہ مخالف پیر سیف الرحمن اور مولانا طیب طاہری میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔
جب لعان کی آیات نازل ہوئی تھیں تو انصارکے سردار سعد بن عبادہ نے کہا کہ میں قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے لعان نہیں کروں گا بلکہ بیوی اور اس کیساتھ ملوث شخص کو قتل کردوں گا۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز نے ہندوؤں کی رسم ستی کو ختم کردیا کہ جب وہ خاوند کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو جلاڈالتے تھے۔ بلوچوں کی رسم تھی کہ چور کو اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے آگ کے انگاروں سے گزرنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں میں یہ رسم تھی کہ بیوی کو فحاشی میں مبتلا دیکھ موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا، انگریز نے بھی تعزیراتِ ہند میں غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیدی تھی اور اب بھی یہ رسم موجود ہے۔
مفتی منیرشاکر ایک غیرتمند پختون اور مسلمان خود کو سمجھتا ہے لیکن اگر قرآن میں اللہ نے اور سنت میں رسول ۖ نے حلالہ کی لعنت پر عمل کرنیکا حکم نہ دیا ہو بلکہ اس رسمِ جاہلیت کو بالکل بنیاد سے ختم کردیا ہو توپھر نام نہاد اکابرعلماء و مفتیان کو احبار ورہبان کی طرح اپنا ارباب بنانا کیاجائز ہوگا کہ لوگوں کو رسم جاہلیت کے حلالے پر مجبور کیا جائے؟۔ مشرکینِ مکہ میں حلالہ کی رسمِ جاہلیت بے غیرتی کے لحاظ سے ہندوؤں کی رسم ستی سے بدرجہا بدترین تھی۔ آج بھی غیرتمند عورتیں ہندوؤں کی رسم ستی کو قبول کرلیںگی مگر حلالہ کی لعنت کو قبول نہیں کریں گی۔
پچھلے سال اسلام آباد میں پورا الیکٹرانک میڈیا، مذہبی وسیاسی لیڈر شپ ، حکمران اور اپوزیشن اورعمران خان ، مولانا فضل الرحمن، ن لیگی رہبران اور سبھی آٹھ (8)آزادی عورت مارچ کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔روڈکے ایک طرف کپڑے پیچھے کے خواتین تھیں اور دوسری طرف پر جوش مذہبی طبقہ تھا۔ خون آلود ہونے کی خبر خواتین نے اپنے کیمپ کے حوالے سے دی لیکن ایف آئی آر ایک بے غیرت کاکڑ مولوی نے اپنے زخمی ہونے کی کٹوائی تھی ۔ ان کو کاٹو تو ایک قطرہ ٔ خون بھی غیرت کا نہیں نکلے گا۔ قرآن نے طلاق سے رجوع کیلئے شرط عدت اور اصلاح کی رکھی ہے مگر یہ قرآن کے فطری حکم کا انکار کرکے نہ صرف کفر کے مرتکب بلکہ انتہائی بے غیرتی، بے شرمی، بے حیائی، بے مروتی، بے حسی، بے ضمیری اور بے تکے الفاظ ومعانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر میری کتابوں کا مطالعہ کرکے دلائل سے مطمئن ہوکر قرآن کی آیات سے لوگوں کو آگاہ کرسکتے ہیں۔
علامہ عابد شاکری کہہ سکتے ہیں کہ مفتی صاحب ! اگر آپ نے یزید کو ماننے کی بجائے ابوطالب کو مانا ہوتا تو حلالہ سے خواتین کی عزتیں تارتار نہ ہوتیں۔ ہوسکتا ہے کہ ابوطالب نے اسلام کو بھی قبول نہیں کیا ہو کہ سجدوں میں چوتڑ ہم سے نہیں اٹھائے جاتے ہے مگر غیرت پاسبان رہتی تو حلالہ کی بے غیرتی اور یزید کے مظالم تک کم ازکم بات نہ پہنچتی۔علامہ ساجدنقوی ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جب سعد بن عبادہ نے ان کی خلافت کو نہ مانا، تب بھی سعد بن عبادہ کی صحابیت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ اگر جن نے ان کو شہید کیا اور وہ جن زندہ ہے تو جنات سے اسکو سزائے موت دی جائے۔ علامہ ساجدنقوی کہتے ہیںکہ توحیدورسالت کی گواہی کوفہ ،عراق اور کربلا میں ہے مگر شہادت ثالثہ ”علیاً ولی اللہ وخلیفہ بلا فصل” وہاں نہیں جو پشت درپشت ائمہ اہلبیت سے منسلک ہیں اسلئے برصغیر پاک وہند کے شیعہ بھی اپنی اس بدعت سے باز آجائیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button