پچپن (55) منٹ تک گالیاں دیکر میرا دل چھلنی کردیا

88
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پچپن (55)منٹ کی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے انتہائی معذرت خواہانہ لہجہ اپنایا اور بلال شہید کو مطمئن نہ کرسکے تو اس پر بہت مدلل اور بیباک انداز میں بات کی جائے۔ تاکہ آئندہ غلطی نہ ہو۔اگر صاف اور دو ٹوک مؤقف نہیں آتا تو معاملہ بنے گا نہیں!۔
بلال شہید کا مؤقف تھا کہ آپ شیعہ کو مسلمان کیوں سمجھتے ہیں؟۔ تحریف قرآن، صحابہ پر کفر کا فتویٰ لگانے، عقیدۂ امامت والے کافر نہیں؟۔ مولانا طارق جمیل مسلسل کہتے رہے کہ تبلیغی جماعت کا طریقہ فتویٰ لگانا نہیں۔ یہ علماء ومفتیان کاکام ہے۔ اکابر کے فتوؤں سے متفق ہوں۔ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ ہمارا اپناطریقہ کارہے ، ہم سب کے پاس جاتے ہیں اور میری وجہ سے بریلوی اور شیعہ علماء دیوبند کے قافلے میں شامل ہوئے ہیں۔ بلال شہید نے مولانا طارق جمیل کے ہر عذر کو ”عذر گناہ بدتر ازگناہ ” قرار دیکر مسترد کردیا۔
بلال شہید کے بھائی کمیل احمد معاویہ نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل نے منع کیا تھا کہ اس ویڈیو کو وائرل نہ کیا جائے لیکن کچھ دوستوں کو بطور امانت یہ ریکارڈ کیلئے دی گئی تھی اور اب میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ میرے سامنے یہ بات چیت ہوئی تھی۔
اب مولانا طارق جمیل صاحب کو چاہیے کہ ایک اور فون کرکے معاویہ صاحب سے گفتگو کریں اور پھر اس کو وائرل بھی کردیں تاکہ معاملات بالکل واضح ہوجائیں۔
میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت اور علماء دیوبند سے تھا۔ بعض اکابر نے حاجی صاحب پر فتوے بھی لگائے تھے۔ ان فتوؤں کے باوجود مولانا عبداللہ درخواستی کے گروپ اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت والے حاجی عثمان کی حمایت کرتے تھے۔ غالبًا سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے حاجی عثمان پر فتوؤں کی اخبارات میں مذمت بھی کی تھی۔ میرے مشکوٰة شریف کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نواسۂ مولانا عبداللہ درخواستی فتویٰ کے بعد بیعت ہوئے تھے۔ جب مولانا حق نواز جھنگوی کو شہید کیا گیا تو حاجی عثمان نے خبر سنتے ہی میرے سامنے چائے کا کپ چھوڑ دیا اور کہا کہ ” ایک ہی حق اور صحابہ کرام کا دفاع کرنے والے عالمِ دین رہ گئے تھے ان کو بھی ظالموں نے شہید کردیا۔ بہت زیادہ اس خبر پر دکھی ہوگئے تھے۔
جہاں تک شیعہ کو کافر قرار دینے کا معاملہ ہے تو مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے بہت قربانیاں دیکر اس مشن کو اُٹھایا تھا۔ جب ایرانی انقلاب کی وجہ سے لٹریچر میں بڑا مواد صحابہ کرام کے خلاف آنا شروع ہوا تو انجمن سپاہ صحابہ واقعی اس کے ردِعمل میں سامنے آئی تھی اور پہلے وہ جمعیت علماء اسلام ف کی ہی ذیلی تنظیم تھی۔ بلال شہید نے جو معلومات سامعین کو دی ہیں، ان میں غلطیاں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت دو گروپ میں اسلئے تقسیم ہوگئی کہ مولانا درخواستی نے مفتی محمود کی جگہ مولانا عبید اللہ انور صاحبزادہ مولانا احمد علی لاہوری ہی کو جمعیت کا جنرل سیکرٹری بنانا چاہا اور اکثریت نے مولانا فضل الرحمن کے حق میں فیصلہ دیا۔ جمعیت ف نے ایم آر ڈی (MRD)میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ درخواستی گروپ جنرل ضیاء الحق کا سپورٹر تھا۔قاری طیب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اپنا بیٹا مقرر کرنا چاہتے تھے اور شوریٰ مخالف تھی جس کی وجہ سے قاری طیب کے بیٹے نے دارالعلوم دیوبند وقف کی بنیاد رکھی۔ اگر درخواستی کی بات مان لی جاتی تو آج مولانااجمل قادری جمعیت کے قائد ہوتے ، جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی تھی۔
زندگی جہد مسلسل ہے کوئی تماشہ تو نہیں
وہی جیتے ہیں جو لڑتے ہیں طوفانوں کی طرح
مولانافضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق اور قاضی عبدالطیف کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کو جب مسترد کردیا تو میرے مرشد حاجی عثمان نے بہت جلال میں آکر جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ کر کہا کہ ایک بڑے اللہ والے مفتی صاحب کے بیٹے نے علماء حق کا شریعت بل مسترد کیا ہے تو اس کا نکاح کہاں باقی رہا؟۔ لوگوں کی چیخ نکلی کہ ”اللہ” لیکن میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ میں نے مرشد کو سمجھایا کہ شریعت بل سے نہیں آئے گی، شریعت نظام ہے اور مارشل لاء الگ نظام ہے۔ تو مرشد نے کہا کہ بھیا! ہم تو جاہل ہیں ، مجھے کیا پتہ تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت ف پنجاب کے نائب امیر تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کیا تو کراچی کے اکابر علماء نے ریفرینڈم کے حق میں فتویٰ دیا لیکن مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی تھی۔ مجھے میرے استاذمولانا فضل محمد استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ آپ اکابرعلماء ومفتیان کی مخالفت کررہے ہیں تو حاجی صاحب آپ کو خانقاہ سے نکال دینگے۔ میں نے کہا کہ سیاست مفتی اور پیر کا کام نہیں ہے۔ مولانا فضل محمد مرشد کے خلیفہ بھی تھے۔ پھرمرشد سے سوال پوچھاگیا کہ مفتیان کا فتویٰ ہے کہ ریفرینڈم کے حق میں ووٹ فرض ہے۔ مرشدنے جواب دیا کہ فتوے پرنہ جاؤ۔ آٹھ (8)سالوں سے تم نے آزمایا ،اگر یقین نہیں ہے تو ووٹ نہ دو، میرا گمان ہے کہ اسلام نافذ نہیں کریگا۔
مولانا حق نوازجھنگوی نے زندگی جمعیت ف میں گزاری۔جمعیت کے اسٹیج سے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگایا۔ مولانا محمد مکی حاجی صاحب کے پاس فتوؤں کے بعدبھی آتے تھے۔ مولانامکی نے راز سے پردہ اٹھایا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کہا کہ یا توسیاست کرو یا پھر مذہبی نعرہ لگاؤ۔ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کچھ راز کی بات ہوئی تھی لیکن اب میں بتانہیں سکتا۔ جمعیت ف کا کہنا تھا کہ جھنگوی نے سپاہ صحابہ کو جمعیت ف میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جھنگوی شہید کے بعد علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید مولانا فضل الرحمن کے حامی تھے لیکن مولانا ایثارالحق قاسمی نے آئی جے آئی (IJI) کے ٹکٹ پر جھنگ کے حلقے سے الیکشن لڑا۔جبکہ دوسرے حلقے سے عابدہ حسین آئی جے آئی (IJI)کے ٹکٹ پر کھڑی تھیں ۔ جمعیت ف کو تشویش تھی کہ اتنے دفاتر اور اتنا پیسہ کہاں سے آرہاہے؟۔ مولانا ایثارالحق قاسمی نے سعودی، قطر، عراق اور عرب امارات وغیرہ کے دورے کئے اور اسمبلی میں بیان دیا کہ” ایرانی انقلاب کا راستہ ہم نے روکا ہوا ہے”۔
مولانا اعظم طارق کا دور آیا تو مولانا فضل الرحمن نے بیان دیا کہ سپاہ صحابہ دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے۔ سپاہ صحابہ نے مولانا سمیع الحق سے اتحاد کیا۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا اجمل خان مولانا فضل الرحمن سے مل گئے۔ مولانا اعظم طارق اور مولانا مسعود اظہر ایک تھے ،پھر مقابل آئے تو وجہ مولانا فضل الرحمن نہیں ہوسکتے تھے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی یہ سیاست مان گیا ہوں کہ سپاہ صحابہ سے جان چھڑائی ۔
ملی یکجہتی کونسل میں سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ نے ایکدوسرے کی تکفیر نہ کرنے پر دستخط کئے ۔ جمعیت ف کا فعال کردار نہیں تھا اسلئے کونسل کامیاب نہ ہوسکی۔اگر حافظ حسین احمد کے ذریعے مولانا اعظم طارق نے مولانا فضل الرحمن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو جمعیت ف کو شبہ تھا کہ حافظ حسین احمد کا کرداربھی مشکوک تھا۔ مولانا اسکے ذریعے ظفر اللہ جمالی کی جگہ وزیراعظم بن سکتے تھے مگر مولانا نے ملنا گوارا نہیں کیاتو تفصیل حافظ حسین احمد بتائیں۔ یہ جمعیت ف کیلئے اعزاز ہے یا ندامت ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے اکابر کو چھوڑ کر ایم آر ڈی (MRD)کو ترجیح دی اور پھر عمران خان اور ن لیگ کے ووٹ لیکر وزیراعظم بننا پسند کیا لیکن مولانا اعظم طارق کی حمایت نہیں لی؟۔ بینظیر بھٹو سے لیکر مریم نواز تک اتحاد کے سفر میں مولانا نے اپنی جہدمسلسل جاری رکھی۔ مولانا سمیع الحق کو سبزی والی چھریوں سے شہید کیا گیا اور بلال شہید بھی موت کے گھاٹ اتاردئیے گئے۔ کون جادۂ حق کا مسافر ہے اور کس نے کس مشن کیلئے اپنی زندگی کی کیسے قربانی دی ہے؟۔یہ فیصلہ کون کرے گا؟۔
اگر مولانا طارق جمیل بلال شہید سے اتنا کہہ دیتے کہ میرا شیعہ کو کافر کہنے یا نہ کہنے سے کیا اثر پڑسکتا ہے؟۔ سعودی عرب کی حکومت شیعہ کو حرم میں داخل ہونے دیتی ہے اور یہ سلسلہ چودہ سوسال سے جاری ہے پھر سعودی عرب کے خلاف مہم کیوں نہیں چلاتے ؟۔ مولانا طارق جمیل کے اس جواب سے بلال شہید کا لہجہ ٹھیک ہوجاتا لیکن مولانا طارق جمیل نے معذرت خواہانہ لہجہ جاری رکھا تو بلال شہید نے اپنے مؤقف کو مزید زیادہ مضبوط سمجھ لیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران سے سپاہ صحابہ نے اتحاد کیا اور زلفی بخاری کو عمران خان نے اپنی سوتیلی بیٹی بھی دی ۔ مولانا طارق جمیل سے الجھنے والے اگر سعودی عرب اور عمران خان کی طرف دیکھتے تو شاید شدت میں بہت کمی آجاتی۔ متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیم المدارس میں شیعہ سنی مذہبی اور سیاسی اتحاد کا مولانا طارق جمیل نے حوالہ دینا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے متحدہ مجلس عمل کے نام پر ووٹ لئے تو مولانا اعظم طارق کے کہنے پر علامہ ساجد نقوی کو کیسے چھوڑسکتے تھے؟۔ ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا تو مشہور شیعہ عابدہ حسین کے شوہر فخر امام کو مشرف دور میں قومی اسمبلی کا اسپیکر بنادیا گیا تھا۔ مولانا اعظم طارق نے شیعہ اسپیکر کو ووٹ دیا تو مولانا فضل الرحمن توقع رکھتے؟۔ شیعہ کو کافر نہ کہنے پر مولانا فضل الرحمن کو کافر کہنے والے سعودی عرب والوں کو کافر نہ کہیں تو پھربات مذہب نہیں مفادات کی بن جاتی ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانا اور نہ انکے پیچھے نماز پڑھی تو کیا ان پر کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے؟۔اور جس مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف فتویٰ لیا تھا تو اس کا بیٹا مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اب اس فتویٰ کے خلاف کھڑے ہیں۔ جس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا تھا ،اس نے پھر متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیمات المدارس کے حق میں فتویٰ دے دیا تھا۔
شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”منصب امامت” میں وہی عقیدہ لکھا ہے جو اصولی طور پر شیعہ کا ہے تو کیا ان کو کافر قرار دیا جائیگا؟۔ جہاں تک قرآن کی تحریف کا معاملہ ہے تو شیعہ سے زیادہ سنی اصولِ فقہ اور حدیث کی کتب میں تحریف کا عقیدہ موجود ہے۔ جب شیعہ پر بنوری ٹاؤن اور پورے پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت کے معروف مدارس نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا تب بھی دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی نے اس فتوے کی حمایت نہیں کی تھی لیکن اسکے باوجود جب مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے شیعہ کے حق میں بیان دیا تھا تو مولانااحمد لدھیانوی نے اس کو دبایا تھا۔ دیوبندی جب بریلوی کو مشرک سمجھتے ہیں تو کیا مشرک مسلمان ہوسکتا ہے؟۔ مفتی زر ولی خان نے تو مولانا منظور مینگل پر مولانا خادم حسین رضوی کی حمایت اور اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنے والوں کیلئے نکاح کی تجدید کا فتویٰ بھی جاری کردیا تھا۔
جس طرح امام حسین یا امام حسن پر ہم اہلسنت کے فقہ ، حدیث، تفسیر، تصوف ، تاریخ اور مساجد کے تمام ائمہ کو قربان کرسکتے ہیں ،اسی طرح شیعہ کے تمام مجتہدین اور موجودہ دور کے تمام افراد کو حضرت ابوبکر یا حضرت عمر پر قربان کردیںگے۔ اگر شیعہ ابوبکرو عمر سے نفرت کریں یا ان کی تکفیر کریں تو سپاہ صحابہ والے شیعہ کی تکفیر کریں ،ہماری ہمدردیاں ظاہر ہے کہ سپاہ صحابہ کیساتھ ہوں گی۔ لیکن کیا طوطے کی طرح کافر کافر کے فتوے لگانے سے شیعہ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟۔ اگر ہم نے ان کو کافر قرار دیا تووہ آزاد ہونگے۔لیکن اگر ہم نے ان کے ذہن صاف کردئیے تو ہمیشہ کیلئے معاملہ حل ہوجائے گا۔ جس زبان میں بلال خان نے مولانا طارق جمیل سے بات کی تھی ،یہ تو پھر بھی بہت مجبوری اور غنیمت والا لہجہ تھا لیکن جس زباں میں علامہ سید جواد نقوی کو اہل تشیع نے گالیاں دی ہیں وہ تو انتہائی غلیظ ذہنیت سے علامہ جواد نقوی کی جان کے دشمن اور خون کے بالکل ہی پیاسے نظر آتے ہیں۔
علامہ طالب جوہری نے کہا تھا کہ امام ابوحنیفہ سے لیکر مفتی نظام الدین شامزئی تک سنی مکتبۂ فکر میں سید عتیق الرحمن گیلانی کی طرح کا بڑا عالم نہیں آیا ہے۔ اس نے گھبرا کر لکھا تھا کہ گیلانی صاحب اتحاد کی بات کریں انضمام کی بات نہ کریں۔ اور یہ بھی کہاتھا کہ سپاہِ صحابہ تو کچھ بھی نہیں ہے، یہ اتنا خطرناک ہے کہ کوئی شیعہ شیعہ نہیں رہے گا۔ ہم نے اسکے باوجود بھی اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ اسکے منہ پر بولا کہ رسول اللہۖ سے قرآن میں اختلاف کی اللہ نے اولی الامر کی حیثیت سے گنجائش رکھی ہے اور تم اپنے ائمہ کیلئے بھی نہیں سمجھتے ہو۔ جسکا مثبت جواب آیا تھا۔ سپاہ صحابہ میرے ساتھ ہوتی تو معاملہ کب کا حل بھی ہوچکا ہوتا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana