مولانا فضل الرحمن اور مذہبی طبقے کا وائرس

306
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور ریاستی اداروں کو تنبیہ کردی ہے کہ جب علماء اورمذہبی طبقہ حکومت اور ریاستی احکام کیساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں تو مساجد اور تبلیغی جماعت سے امتیازی سلوک کیوں کیا جارہاہے؟۔ تبلیغی جماعت ایک پرامن جماعت ہے، اس پر تشدد کرنا بہت غلط ہے، جبکہ بازاروں اور دوسری جگہوں پر رش لگارہتا ہے وہاں کچھ نہیں ہورہاہے۔
حالانکہ میڈیا پر ہرچیز عیاں ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر لوگوں کو مرغا بنایا گیا، مرد ہی نہیں خواتین اہلکاروں کے ذریعے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کی بھی سرزنش کی گئی، کسی نے بھی مزاحمت نہیں کی۔ البتہ تبلیغی جماعت کے کارکن نے لیہ میں پولیس ایس ایچ او کو دوچھریاں ماریں اور کراچی میں خطیب وامام مسجد کے اکسانے پر نمازیوں نے پولیس پر ہلہ بول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سؤر کے گوشت اور مردار کھانوں کو حرام کہاہے مگر ضرورت کے وقت نہ چاہتے ہوئے اور حدسے تجاوزکے بغیر اجازت بھی دی ۔ جبکہ البقرہ آیت239میں نہ صرف مساجداور اجتماعی نمازوں سے خوف کی حالت میں استثناء دی ہے بلکہ چلتے چلتے اور سواری پر رکوع اورسجود نہ کرنے تک کا بھی کھلے لفظوں میں حکم دیا ہے۔ علماء و مفتیان کا اندھا پن یہ ہے کہ بدترین شرح سود میں اپنا معاوضہ شامل کرکے اسلام کا نام دیاہے اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے وبا کیلئے میڈیامیں واضح کیا تھا کہ ” فقہاء کامطالعہ کیا مگر کہیں مساجد میںباجماعت نماز چھوڑنے کا فتویٰ نہیں مل سکا”۔ جب ڈنڈے کا خوف ہوا تو پھر دارالعلوم سے گھروں میں نماز پڑھنے کا بھی فتویٰ جاری ہوا۔قرآن وسنت کسی کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں۔تبلیغی جماعت اپنے طریقۂ کار کو قرآن وسنت اور علماء ومفتیان فقہاء کی آراء کو قرآن وسنت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔مذہبی طبقات نے مذہب کو کاروبار بنالیا۔