مولانا فضل الرحمن کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قرآن کے خلاف سازش کرنے پرچیلنج

مولانا فضل الرحمن کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قرآن کے خلاف سازش کرنے پرچیلنج اورچندچشم کشا حقائق جن سے یہ پتہ چل رہاہے کہ چور اُلٹا کوتوال کو ڈانٹ رہاہے،قرآن کیخلاف حقیقی سازش مذہبی طبقات کررہے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہماری ریاست ، حکومت اور صحافت اپنے منافقانہ روئیے کی وجہ سے ہی اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔ مریم نواز کیخلاف نیب کی بدترین پسپائی سے آغاز ہے خدا جانے اب انجام کیاہوگا؟

جنرل قمر جاوید باجوہ کا اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی خواہش کا اظہار بہت خوش آئند ہے لیکن اس کیلئے انتہائی ایمانداری اور دیانتداری سے اقدامات اُٹھانے کی بروقت سخت ضرورت ہے

مولانا فضل الرحمن کی آڈیو تقریر یوٹیوب پر ہے جس میں قرآن کے خلاف سازش کرنے پر جنرل قمر باجوہ کو سخت تنبیہ ہے کہ 65ء میں قوم فوج کیساتھ تھی تو جنگ جیت لی اور (1971) میں فوج اپنی قوم سے لڑرہی تھی تو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ فوج اسلئے نہیں رکھی جاتی ہے کہ وہ اغیار کے ایجنڈے پر عمل کرے ۔مذہبی طبقات کیخلاف اغیار کے ایجنڈے کے تحت اقدامات سے باز نہیں آئے اور قرآن کیخلاف سازش کی گئی تو پھر مذہبی طبقہ میدان میں اُتریگا۔

مولانا فضل الرحمن نے نیب کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا، ہم بھی نیب کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری سے پی ڈی ایم (PDM)کی تمام جماعتوں کے سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا والیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے ہوئے صحافیوں کا جم غفیر وہی انداز اختیار کرتا جوپی ٹی ایم (PTM)نے کیا تھا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی قوم کیساتھ جو کچھ ہوا تھا وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی آخری حد سے گزر چکے اسلئے رعایت کے مستحق تھے اور ان کیساتھ بہت رعایت والا معاملہ ہوا بھی اور پھر حد سے تجاوز کرنے پر روکنے اور کچلنے کی کامیاب کوشش بھی ہوئی۔ پیپلزپارٹی ، محمود اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی، اختر مینگل ، آفتاب شیرپاؤ اوردیگر پی ڈی ایم (PDM) میں شامل جماعتوں اور شخصیات کی خواہش کے برعکس ن لیگ اورمولانا فضل الرحمن نے پی ٹی ایم (PTM) کو آٹے سے بال کی طرح الگ کردیا۔ اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف پی ٹی ایم (PTM) نے جو طوفان کھڑا کیا تھا تو زرداری نے پی ڈی ایم (PDM) کی تشکیل میں ان کو بھی ساتھ ملایا تھا۔ لیکن جب ن لیگ نے گجرانوالہ میں پی ڈی ایم (PDM) کا پہلا جلسہ کیا تھا تو پی ٹی ایم (PTM)کو دعوت نہیں دی تھی۔ گویا وہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف برپا ہونے والے طوفان سے اپنی بہت بڑی اونچی چھت یا منیار پر چڑھ گئی تھی۔

جس طرح کی زبان پی ٹی ایم (PTM) فوج اور لسانی تعصبات کی بنیاد پر پنجاب کے خلاف استعمال کرتی تھی تو اس کی متحمل ن لیگ جیسی اسٹیبلیشمنٹ کی پروردہ اور پنجاب کی نمائندگی کرنے والی جماعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ جب ن لیگ نے پی ٹی ایم (PTM)کو نہیں بلایا تھا تو پی ٹی ایم (PTM) میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ پنجاب نے پختونوں کیساتھ تعصبات کی انتہاء دکھا دی کہ ہمیں پی ڈی ایم (PDM) میں شمولیت کے باجود بھی جلسے میں نہیں بلایا ۔ یہ ن لیگ کی طرف سے اسٹیبلیشمنٹ اورپارٹی ورکروں کیلئے اطمینان کا باعث تھا۔ اگر پی ٹی ایم (PTM) اپنے ایک بیانیہ اسٹیبلیشمنٹ کی مخالفت پر کھڑی رہتی اور پنجاب کی مخالفت چھوڑدیتی تو یہ بڑا بریک تھرو ہوتا۔ اسلئے کہ پی ٹی ایم (PTM)کی بنیاد پشتون قومیت ہے تو یہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف صرف اسلئے ہوسکتی ہے کہ جب پاک فوج سے پشتون قوم کو نقصان پہنچ رہا ہو لیکن اگر پاک فوج سے پشتون قوم کو فائدہ پہنچ رہا ہو تو پھر پی ٹی ایم (PTM)نے پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانا ہے لیکن پنجاب سے دشمنی بین الاقوامی بھی ہوسکتی ہے۔

پنجاب کیخلاف سندھ ، بلوچستان، پختونخواہ اور سرائیکی تک میں بہت بڑی فضاء موجود ہے۔ جمہوریت اور اسٹیبلیشمنٹ دونوں میں پنجاب کی اکثریت ہے اسلئے مقتدر طبقے سے رعایا کے سارے گلے شکوے کامرکز تختِ لاہور بنتاہے۔ ہرقوم میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں، پاک ذات صرف رب کی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں اور اس کے ناپاک بدبودار پیشاب کو بھی پاک سمجھتے ہیں۔ جب کوئی قوم کسی مخلوق کو معبود کا درجہ دیتی ہے تو وہ اس کے پیشاب کو بھی پاک سمجھنا شروع کردیتی ہے اور اس کے گند کو بھی بہت مقدس ماننا شروع ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ شاید مولانا فضل الرحمن، نوازشریف، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری ، آصف زرداری ، ذوالفقار علی بھٹو، عمران خان اور دیگر سیاستدانوں اور پاک فوج کو معبود کی حد تک پاک مانتے ہوں اور انکے گند کو بھی تقدس کا درجہ دیکر پوجاپاٹ کرتے ہوں اسلئے کہ ہماری قوم بھی اپنے اصل کے اعتبار سے گاؤ ماتا کی پجاری تھی اور دیوتا اور دیوی کی تصاویر سے اپنی بے انتہاء عقیدت رکھتے ہوئے تصاویر اور مورتیوںکی پوجاپاٹ کرتی تھی اور یہ نہیں دیکھتی تھی کہ جس کو ہم نے بنایا ہے وہ پوجا پاٹ کے لائق کیسے ہوسکتے ہیں؟ جس کا اظہار علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں کیا کہ اپنے اصل کے اعتبار سے میں سومناتی ہوں۔ اس پوجا پاٹ کی جھلکیاں آج موجود ہیں۔سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر کوئی احتجاج نہیں ،یہ مذہبی طبقات میں منافقت کی آخری انتہاء ہے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا تو لوگوں نے اس کی خاطر اپنے آپ کو جلانا شروع کردیا تھا۔ طالبان کے دہشت گرد اپنے امیر کے حکم پر خود کش کرتے تھے۔ جب جنون کی حد تک کسی سے عقیدت ہوجائے تو پھر بندے کی پوجا پاٹ شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارے مرشد حضرت حاجی عثمان سے جب مریدوں کا تعلق عقیدت والا تھا تو وہ ان کی خاطر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے تھے لیکن جب فتوؤں اور اپنوں کی بغاوت سے عقیدت کا رشتہ ٹوٹ گیا تو پھر حاجی عثمان کو گمراہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ انسان کیلئے دونوں جانب کی شدت مفید نہیں ہوتی ہے۔ کبھی تو ایسی عقیدت کہ اپنے بیوی بچوں اور والدین ،اپنی جان تک اسلئے قربان کرنے کو تیار ہوں کہ حاجی عثمان اس وقت بھی ہمارے حالات سے واقف ہوتے ہیں کہ جب ہم بیوی کیساتھ ہمبستری کرتے ہوں اور پھر جب عقیدت کا غبارہ پھٹ جاتا ہے تو مریدی ہی نہیں شریعت کے دامن سے بھی بھاگ کر جان چھڑا رہے تھے۔ جب مجھے حاجی عثمان کے مریدوں سے پہلی مرتبہ ایک خطاب کا موقع مل گیا تو میں نے کہا تھا کہ ”جو کچھ ہوا ہے بہت اچھا ہواہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا عقیدہ خراب ہوگیا تھا،جو لوگ بھاگ گئے ہیں اب ان کا عقیدہ درست ہوگیا ہے اسلئے کہ انکو پتہ چل گیا ہے کہ حاجی عثمان کے خلاف جن لوگوں نے اتنی بڑی سازش تیار کرلی تو ان کو اس کا بھی پتہ نہیں چلا ہے ۔ اور جہاں تک فتوے کا تعلق ہے تو اس میں ایک خلیفہ اول کے مشاہدے سے انکار کی بنیاد پر فتویٰ ہے۔ جب انکے علاوہ ہزاروں نے مشاہدات دیکھے تو اس شخص پر زبردستی کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اور وہ بھی اتنے مضحکہ خیز طریقے سے”۔

آج ان لوگوں کی عقیدت بھی تہس نہس ہوگئی ہے کہ جن کا پاک فوج پر بڑا نیک گمان تھا۔ براڈ شیٹ میں نااہل جنرلوں کی نااہلی سامنے آگئی ہے اور پرویز مشرف نے جس طرح آفتاب شیرپاؤ کو پکڑنے کے باوجود نہ صرف چھوڑ دیا تھا بلکہ وزیرداخلہ بھی لگادیا تھا۔ آصف زرداری و نوازشریف کی کرپشن کے سامنے آفتاب شیرپاؤ کی کرپشن کیا ہوگی؟ مگر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر؟۔ پی ٹی ایم (PTM) والوں سے کہا جائے کہ بیچارے پٹھانوں پر توبعض پٹھان خوش ہونگے کہ واقعی میڈیا صرف آفتاب شیرپاؤ کا نام کیوں لیتا ہے؟ بڑے بڑے مگر مچھ تو نوازشریف، زرداری اور جنرل کیانی ہیں؟۔ پھر جب ان سے کہا جائے کہ آفتاب شیرپاؤ کو نہ صرف چھوڑ دیا گیا بلکہ وزیرداخلہ بھی بنادیا گیا تو یہ برق تو نہیں گری بلکہ دوسروں کے نصیب کی بارش انکی چھت پر برس گئی توبہت ڈھیلے پڑجائیںگے البتہ ڈھیٹ بن کر کہیں گے کہ دوسرے کرپٹ لوگ ہمیشہ حکومت کرتے رہے ہیں تو آفتاب شیر پاؤ کا تو بھائی حیات شیر پاؤبھی شہید ہوا تھا۔

یہ ابھی بہت اچھی فضاء ہے کہ عوام الناس اور سیاسی کارکنوں میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ سیاسی کارکن اور کرائے کے گلوبٹوں میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اپنے اثاثوں سے متعلق تحریرپڑھ کر تقریر کرتے ہوئے جھوٹ کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ پھر قطری خط لکھ کر اور اس سے انکار کرکے اپنے تابوت میں بھی آخری کیل ٹھونک دی۔ جب پی ٹی ایم (PTM) کو چھوڑ کر گجرانوالہ میںپی ڈی ایم (PDM)کی بہت بڑی اور اُونچی چھت پر چڑھ گئے تو آرمی چیف اورISI چیف کے خلاف تقریر کرکے بہت بڑی چھلانگ بھی لگادی۔ اگر کچھ عرصہ پہلے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع میں نوازشریف نے مکمل حمایت نہ کی ہوتی تو وہ بہت بڑے تیراک لگتے کہ کسی طوفان سے بچنے کیلئے چھت پر نہیں چڑھے بلکہ بہت بڑے مینار سے چھلانگ لگاکر بہت اچھے سیاسی کرتب دکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

جب لاہور میں ن لیگ نے جلسے کی میزبانی کی تو محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل نے پی ٹی ایم (PTM)کی کمی پوری کردی۔ انگریزوں سے پاک فوج تک کے سفر کو عوام کے سامنے رکھا لیکن اس جلسے کو باہر سے آئی ہوئی عوام نے رونق بخشی لیکن لاہوریوں نے گریز کیا۔ جب مریم نواز نے مہنگااور گرم کوٹ پہن کر بھی کہا تھا کہ میری قلفی جم گئی ہے تو پھٹے پرانے کپڑے والے پنجابی اس سرکس کے دیکھنے کو کیوں نکلتے جن کیلئے مریم نواز کے علاوہ کوئی پرکشش شخصیت نہیں تھی اور وہ اس کو پہلے ہی گلی گلی کوچہ کوچہ دیکھ چکے تھے۔ عوام اسلئے نہیں نکلی تھی کہ انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ کل شہبازشریف جس زرداری کاپیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے کے بعد چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا تھا اور ان طالبان کا حامی تھا جو چوکوں پر ہی لوگوں کو لٹکاتے تھے تو پھر وہ منظر پنجاب میں بھی دیکھنے کو مل سکتا تھا۔ جب اس کے برعکس مریم اور بلاول بہن بھائی بن کر مخاطب کررہے تھے تو شہباشریف اور حمزہ شہباز نے اپنے کان اور چوتڑ کھجانا شروع کردئیے تھے کہ لاہوریوں کو ہم کیا منہ دکھائیںگے؟۔ نوازشریف اور مریم نواز تو سیاست نہیں عقل سے بھی پیدل ہیں۔ ایک دن مینار پر چڑھتے ہیں اور دوسرے دن مینار سے زیادہ گہری کھائی میں چھپ رہے ہوتے ہیں۔ ایک بیانیہ یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان چھوٹا آدمی ہے ، ہماری بڑوں سے بات ہوگی اور اب بیانیہ میں اسٹیبلشمنٹ کو چھوڑ کر صرف عمران خان کو بڑابنایا ہوا ہے۔ عوام اس جھوٹ لوٹ کھسوٹ سے تنگ ہے۔ یہ تضادات کی انتہاؤں میں اپنی ٹانگیں کھول کر جمناسٹک کی کونسی حد تک اپنے کرتب دکھا پائیں گے؟ پھٹنا نہیں تو کوئی شرم حیاء وغیرت بھی ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن قادیانی ڈاکٹر مبشر سے دل کا آپریشن کروائیں اور مولانا عبدالغفور حیدری کہے کہ جب ن لیگ کیساتھ اقتدار میں شامل تھے تو قادیانیوں کے حق میں قومی اسمبلی سے بل پاس ہوچکا تھا۔ سینیٹ سے پاس ہوتا تو مجھے چیئرمین کی جگہ اس پر دستخط کرنے پڑتے۔ شیخ رشید اپوزیشن میں تھا بلکہ جب اقتدار میں آیا تب بھی کہتا تھا کہ مولویوں نے قادیانیوں کی حمایت میں سازش میں حصہ لیا تھا اور دو مرتبہ مجھے مار نے کو دوڑے تھے۔ اب وزیرداخلہ کی پوزیشن پر آگئے تو سیاسی مفاہمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مولوی اتنے سادہ اور پاگل نہیں ہیں جتنے دِکھتے ہیں۔ جب مولاناغفورحیدری نے کہا کہ ہم اسمبلیوں میں اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں اور پھر اپنا ماجراء سنایا کہ وہ بال بال بچ گئے ورنہ تو ختم نبوت کیخلاف سازش میں نمایاں دستخط کرنے پر مجبور ہوجاتے تو اپنی نمایاں کارکردگی بھی دکھادی۔ مولانا فضل الرحمن کو ایسا کم عقل اور فرمانبردار آدمی چاہیے تھا جس طرح مولانا غفور حیدری ہیں لیکن وہی اس کی کشتی میں سوراخ بھی کرچکے ہیں۔ جب لوگ اٹھیںگے تو جمعیت علماء اسلام منہ چھپاتی پھرے گی۔

آرمی چیف جنرل باجوہ کو ایک خوف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر جنرل ضیاء الحق کی طرح ان پر قادیانی کے فتوے لگادئیے گئے تو مشکل میں پڑجائیںگے۔ اس وجہ سے نوازشریف نے ان کو ترجیح دی تھی کہ کسی وقت میں جنرل باجوہ پر الزام لگاکر کنارے لگانے میں بھی آسانی ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی حیثیت تو پی ڈی ایم (PDM)میں ڈھول بجانے والے ہمارے کانیگرم شہر جنوبی وزیرستان کے اس میراثی کی طرح ہے جس کی آواز پر قوم نکلتی ہے اور قوم نے اس کو جرنیل کا نام دیا ہے لیکن اپنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر میلے کا سماں ختم ہوجائے تو مولانا فضل الرحمن کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی لیکن ن لیگ نے ان کو ساتھ رکھ لیا تو یہ بھی اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔ لاہور میں بھی ن لیگ کا رویہ دیکھ لیا تھا اور جب پیپلزپارٹی نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو ن لیگ نے بھی کیا اور جب پیپلزپارٹی نے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا تو ن لیگ نے بھی کہا کہ اگر پیپلزپارٹی نے استعفیٰ نہیں دیا تو ہم بھی نہیں دینگے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں۔ سب جماعتوں کا گراف بہت گرچکا ہے۔ عمران خان نے نوازشریف و مریم نواز کو جیل سے آزاد کردیا تو اب سرکس کے بندر پرکیا ڈگڈگی بجاتے رہیںگے؟۔ انقلاب آیا چاہتا ہے۔ ن لیگ نے پی ڈی ایم (PDM)کی مشاورت کے بغیر رمضان کے بعد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور استعفے بھی نہیں دینے ہیں لیکن یہ سب سیاسی ڈرامے بازیاں ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

جواب دیں

Back to top button