سیدابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ حج کی آیت 52 میں معتبر مفسرین کی متضادرائے سے اختلاف کرکے جہالت کا مظاہرہ کیا ہے۔

سیدابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ حج کی آیت (52) میں معتبر مفسرین کی متضادرائے سے اختلاف کرکے عالمانہ کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر آیت کی اصل تفہیم وتفسیر کا مسئلہ بھی جوں کا توں چھوڑ دیا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بظاہر سیدمودودی کی تفسیر میں بڑا وزن ،سمجھ وفہم لگتا ہے لیکن قرآن وسنت کے وسیع ذخیرے سے کم علمی اور جہالت کا اتنا بڑا مظاہرہ پہلے علماء مفسرین نے بھی نہیں کیاجو انہوں نے کیا ہے!

اگر آیت کے مفہوم کی وضاحت میں بہت بڑی ٹھوکر نہیں کھائی جاتی اور اس ٹھوکر سے اُمت مسلمہ کا بیڑہ غرق نہ ہوتا تو ہم صرف نفسِ مسئلہ کو واضح کرکے مولانامودودی پر تنقید نہ کرتے۔

ایک عام جدید تعلیم یافتہ قاری جب مولانا مودودی کی تفسیر دیکھ لیتا ہے تو یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی نے تمام بڑے بڑے مفسرین سے اختلاف کرکے سب کو زبردست مات دی ہے مگر جن علماء کرام نے سید مودودی پر سخت اعتراض کیا تھا تو یہ مولانا مودودی سے حسد نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ رویہ تھا۔ ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ تفہیم القرآن میں شیطانی آیات کا کتنا زبردست قلع قمع کیا گیا ہے کہ الفاظ میں بھی بہت فرق ہے اور مفہوم میں بھی بہت فرق ہے؟
حالانکہ الفاظ اور مفہوم کا فرق قرآنی آیات کے حوالے سے احادیث کے بہت ہی مستند ذخیرے میں بھی موجود ہے لیکن احادیث صحیحہ کے ذخیرے میں اجماعی قرآن کے مقابلے میں خبر احاد اور خبر مشہور کے قرآن کو رد کردیا جاتا ہے۔ اس طرح احادیث صحیحہ کے الفاظ اور مفہوم میں بہت سارے اختلافات ہیں۔ لیکن الفاظ اور مفہوم میں اختلافات کے باجود بھی وہ احادیث قابلِ قبول ہیں۔
جدید تعلیم یافتہ طبقے کا مولانا مودودی کی وجہ سے اسلاف پر اعتماد متزلزل ہوا ہے لیکن مولانا مودودی خودہی جاہل اور جاہلوں کے سرغنہ ثابت ہوئے ہیں۔ مولانا مودودی کی تفسیر کا آخری حصہ ہم نے نقل نہیں کیا ہے۔ بہت اچھے انداز میں انہوں نے بنی اسرائیل ، سورۂ نجم اور سورۂ حج کے زمانہ نزول کے حوالے سے اس کی تردید کردی ہے لیکن اس تردید میں دو اہم باتیں ہیں ۔پہلی بات یہ ہے کہ نفس مسئلہ اور آیت کے مفہوم کو واضح کرنے کی بجائے سورۂ نجم کا معاملہ ہی واضح کیا ہے، حالانکہ سورۂ نجم کی آیات میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ تو سورۂ حج کی اس آیت کی وجہ سے الجھا ہوا ہے۔ جس کے بارے میں سید مودودی نے” تمنا” کے دو معانی اور دو تفسیریں لکھ کر معاملہ مزید الجھا دیا ہے کہ اگر تمنا کے معنی عربی میں اردو کی طرح تمنا کے ہیں تو پھر آیت کی تفسیر یہ ہے اور اگر اسکے معانی تلاوت اور پڑھوانے کے ہیں تو پھر اسکے معانی یہ ہیں۔
حالانکہ مولانا مودودی نے غلط لکھا ہے کہ تمنا کے معانی تلاوت کے بھی ہیں۔ جن تفسیروں میں شیطانی آیت کی نبیۖ کی طرف تلاوت کی نسبت کی تھی تو اس وجہ سے مولانا مودودی نے ”تمنا” کے ایک معانی پڑھنے کے کئے ہیں۔ حالانکہ عربی لغت میں یہ معنی نہیں ہے۔ چونکہ سورۂ نجم کی تلاوت پر کفار مکہ نے نبیۖ کیساتھ سجدہ کیا تھا اسلئے اپنی خفت مٹانے کیلئے یہ جھوٹا دعویٰ کردیا تھا کہ نبیۖ نے شیطانی آیات کی تلاوت فرمائی۔ جب مشرکینِ مکہ کی بڑی تعداد فتحِ مکہ کے بعد مسلمان ہوئی تو ان میں حضرت عباس بھی تھے اور انہی مشر کینِ مکہ کی گھڑی ہوئی کہانی بھی اس وقت لوگوں کے دل میں آگئی جب انہوں نے نسل در نسل اس واقعہ کے کچھ مندرجات اپنے گھروں میں سن رکھے تھے۔ محقق مفسر کا یہ کہنا بالکل بنتا تھا کہ اس واقعہ کی کوئی اصل نہیں ہے۔ یہ زنادقہ کی طرف سے اسلام کے خلاف کوئی من گھڑت سازش ہے۔ جن مشہور مفسرین نے اس واقعہ کو ردّ کردیا تھا تو یہ انہوں نے بالکل زبردست اور صحیح کام کیا تھا۔
جن مفسرین نے اس روایت کو قبول کرلیا تھا تو یہ ان کی انتہائی دیانتداری تھی کہ ایک واقع بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق نقل ہوا ہے تو اصل کے ہوتے ہوئے جزیات میں اختلافات کی وجہ سے اس کی تردید نہیں کی جاسکتی ہے۔ ان کی رائے بھی بہت زبردست ہے اوران کے نزدیک بظاہر آیت کی تفسیر میں بھی زبردست مدد مل رہی تھی اس وجہ سے اس کو قبول بھی کرلیا۔ یہ خیانت اور کم عقلی نہیں تھی لیکن جہاں تک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی طرف آیت کی تفسیر میں خلوص کی بات ہے تو ان کے خلوص پر بھی بالکل شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے مگر جس طریقۂ استدلال کا سید مودودی نے سہارا لیا ہے ،یہ انتہائی جاہلانہ اور علم کے ابجد سے بالکل ہی انوکھی اور نری جہالت کا شاخسانہ ہے۔
قرآن کی سورتوں میں آیات کی ترتیب نزول اور آیات کی تدوین میں بڑا فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی جمع وترتیب کا کام بھی قرآن ہی میں اپنے ذمے لیا ہے کہ اے نبی ! جلدی سے کام نہ لیں۔ان علینا جمعہ وقرآنہ (بیشک ہم پرذمہ داری ہے اس کی جمع وترتیب اورتدوین کی ) ۔ کئی جگہوں پر ایسا ہوا ہے کہ ایک سورة کے شانِ نزول کا زمانہ کچھ ہوتا ہے لیکن اس میں آیات کے نزول کا حوالہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ علماء ومفسرین نے اپنی اپنی کوشش بہت دیانتدارانہ انداز میں کی۔ آیات سے دوسری آیات کی تفسیر کو جوڑ دیا لیکن جب کہیں اس کے مفہوم کو واضح کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور کہیں روایات کا سہارا لینا پڑا تو بھرپور دیانتداری سے اپنی قیمتی آراء کو پیش کردیا۔ سید مودودی نے بھی اپنے طور پر بہت اچھے انداز میں ان کی رائے کو درج کیا ۔جہاں اتفاق تھا تو اتفاق کیا اور جہاں اختلاف تھا وہاں اختلاف کیا اور اپنی طرف سے بھرپور توجیہات بھی پیش کیں۔ البتہ جن علماء کرام نے مولانا مودودی سے اختلاف کیا تو اس کی وجہ بھی بغض وحسد نہیں بلکہ ان کی طرف سے جہالت کا کھلا مظاہرہ تھا۔
اگر آیت کی تفسیر کا مسئلہ حل ہوجاتا تو پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ علماء وفقہاء میں کسی قسم کا کوئی اختلاف باقی رہتا ۔ اساتذہ کرام کا سینہ بہ سینہ ایک دوسرے کو علم منتقل کرنے سے ایک فائدہ یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیا کارنامہ انجام نہیں بھی دیاجائے تو کم ازکم بڑی بڑی ٹھوکریں کھانے سے انسان بچ جاتا ہے۔ دیوبند یا بریلوی علماء کے ہاں درسِ نظامی کی تعلیم کا سلسلہ مکمل کرنے سے تقلید کی بیماری لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے نئی تحقیق کا مادہ بھی دماغ سے نکل جاتا ہے مگر تجدید کا ایسا بھوت بھی سوار نہیں ہوجاتا ہے کہ بڑی بڑی کھائیوں میں بڑی بڑی ٹھوکریں کھانے والا سمجھے کہ وہ براق پر معراج کا سفر کررہاہے۔ علم کو ثریا سے کھینچ لارہاہے۔ ایسی غلط فہمیاں بھی اس کو لاحق نہیں ہوتی ہیں۔ ان کے نالائق شاگرد البتہ تفسیر، احادیث کے ابجد سے بھی ناواقف ہونے کی وجہ سے تجدیدی کارنامہ انجام دینے والے کی دُم پر لٹک کر کچھ فوائد بھی حاصل کرتے ہیں اور کہیں ان کو نئی نوکری بھی مل جاتی ہے۔
آئیے کسی بھی مفادات کے چکر سے ہٹ کرقرآن کی طرف امت کو متوجہ کریں اور ڈوبتی اور ڈولتی ہوئی امت کی کشتی کو زبردست سہارا فراہم کریں۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button