مہدی و دجال کا حدیث صحیحہ میں تصور مگر ڈاکٹر طاہرالقادری و مفتی محمد رفیع عثمانی وغیرہ نے بڑا مغالطہ دیاہے

مہدی و دجال کا وہ تصورجو حدیث صحیحہ میں ہے مگر ڈاکٹر طاہرالقادری و مفتی محمد رفیع عثمانی وغیرہ نے بڑا مغالطہ دیاہے،قرآن سے استفادہ ہدایت ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے بھائی مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی نے بیان دیا کہ ”شیعہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو تعمیرِ پاکستان میں ہمارے ساتھ تھے۔ ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے” جس پر کالعدم سپاہ صحابہ جماعت اہلسنت کے مولانا احمد لدھیانوی اورمولانا منظور مینگل نے سخت ردِ عمل دیا۔ پھر جب علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر مولانا منظور مینگل نے کہا کہ ”ہمارے علماء دیوبند کی آنکھیں نیچی ہیں اور علامہ خادم حسین رضوی نے ختم نبوت وناموسِ رسالت کیلئے قربانی دی ہے ” تو مفتی زرولی خان نے کہا کہ ”جب ہم حج پر جاتے ہیںتو اللھم لبیککہتے ہیں ۔یہ جاہل لبییک یارسول اللہ کہتا ہے۔ دیوبند کی آنکھیں اور ٹانگیں بھی اوپر ہیں۔ جس نے خادم رضوی کی مغفرت کیلئے دعا کی وہ نکاح کی تجدید کرے”۔
مولانا منظور مینگل نے مفتی رفیع عثمانی پر چڑھائی کی اور اسکا بدلہ مفتی زر ولی خان سے پالیا۔ مولانا مینگل سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے علامہ خادم حسین رضوی کے درجات کی بلندی کیلئے پشاورپی ڈی ایم کے جلسے میں دعا مانگی تھی لیکن پانی سے اللہ نے ہر جاندار کو پیدا کیا ہے اور پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ کمزور جگہ پر چڑھائی کرتا ہے۔ جب سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت علماء اسلام ف پنجاب کے نائب امیر تھے تو جمعیت کے پلیٹ فارم سے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگاتے تھے۔ جب سپاہ صحابہ مضبوط ہوگئی تو مولانا فضل الرحمن پر کافر کا فتویٰ لگانے کیلئے نعرہ لگایا کہ ” کافر کافر شیعہ کافر ، جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ اگر سعودی عرب حرم کی حدود میں شیعہ کو داخل ہونے دیتے تھے ، حالانکہ وہاں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے تو سعودی حکمران مسلمان مگر مولانا فضل الرحمن کافر؟”۔
مولانا محمد منظور نعمانی نے سعودیہ سے پیسہ لیکر شیعہ پر پاکستان کے علماء ومفتیان سے فتویٰ لگوایا۔ حالانکہ اس کا آغاز انکے اپنے ملک ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند سے ہوسکتا تھا لیکن شاید بھارت کی خفیہ ایجنسی سازش کو پکڑ لینے میں کامیاب ہوتی کہ پیسوں کے ذریعے بھارتی شہریوں کو لڑایا جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر چل رہاہے ۔اے آر وائی کے کاشف عباسی سے کہا کہ” سپاہ صحابہ والے میرے پاس آگئے کہ شیعہ سے ہماری صلح کراؤ۔ آئی ایس آئی نے ہمیں ان سے لڑادیا ”۔ پاکستان کو سعودیہ نے اللہ واسطے مدد نہیں دینی تھی جو ملازم ، مزدور اور تاجروں کا پیسہ بھی ہڑپ کرجاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی تاریخ اچھی نہیں اسلئے اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ علماء بھی حق کیلئے کبھی نہیں اٹھتے ہیں۔ عوام بے شعور نہیں بلکہ مفادات کے جہالتوں کے مارے ہوئے ہیں۔
بریلوی مکتبۂ فکر کے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کی امید انقلاب تھی اورامام مہدی کی آمد سے مایوس ہوگئے۔ تو احادیث کا ذخیرہ اٹھاکربیان جاری کیا کہ ”امام مہدی کی آمد پونے آٹھ سوسال بعد(2004)ہجری میں ہوگی”۔
حدیث میںدو سو (200)سال کا ذکر ہے۔ بنو امیہ کے بعد بنو عباس کے دور میں مہدی نام اسلئے رکھا گیا کہ امام بننے میں آسانی ہو۔ ایک روایت ہے کہ مہدی عباس کی اولاد سے ہوگا۔ عمر بن العزیز کا تعلق بنی امیہ سے تھا تو اس پر بھی گمان نہیں مہدی کا اطلاق کیا گیا لیکن پھر یہ کہہ کر اس کی تردید کی گئی کہ اگرچہ مہدی یہ بھی ہیں لیکن اصل مہدی آئیںگے تو پوری دنیا میں عدل قائم ہوگا اور اس دور میں ایسا نہیں ہوا۔ اہلسنت خلافت راشدہ پر مہدی کا اطلاق کرتے ہیں خلفاء راشدین کو مہدیین کہتے ہیں۔ جو مہدی کی جمع ہے۔ یعنی حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سب مہدی تھے۔ نبی ۖ نے فرمایا علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین” تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کی اتباع لازم ہے” اور اس صحیح حدیث کو علماء جمعہ کے خطبات میں پڑھتے ہیں۔
اوریا مقبول جان نے احادیث اور علم الاعداد کی بہت ساری پیش گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنا بیان ریکارڈ کیا ہے کہ” 2021 کے شروع میں عرب وایران پر اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے اور ٹرمپ جاتے جاتے دھماکہ کرسکتا ہے اور2021 میں امام مہدی کا ظہور بھی ہوسکتا ہے”۔
جب دو سو (200)سال نکلنے کے کافی عرصہ بعد علماء مہدی کے ظہور سے مایوس ہوگئے توحدیث کی تشریح ہزار سال کے بعددو سو (200)سال گزرنے سے کردی، پھرجب تیرہویں صدی کی آمد آمد ہوئی تو امام مہدی کے ظہور کی باتیں پھر سے شروع ہوگئیں، شاہ ولی اللہ نے لکھ دیا کہ” مہدی نکلنے کیلئے تیار ہیں”۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنے مرشد سید احمد بریلویکو مہدی قرار دیا اور کتاب ”منصبِ امامت ” لکھ دی، مدینہ کے علاوہ خراسان سے بھی ایک دوسرے مہدی کا حوالہ دیا اور پشاور سے خلافت کے قیام کی جدوجہد شروع کردی تھی۔ تحریک کی ناکامی کے باوجود کئی عقیدتمندسمجھتے تھے کہ سید احمد بریلوی غائب ہیں، دوبارہ آکر قیام کرینگے۔ 1970میں ایک عورت نے اپنی شرمگاہ میں آلہ رکھ کر دعویٰ کیا کہ اسکے پیٹ میں مہدی ہیں۔ پاکستان ودیگر اسلامی ممالک نے سرکاری دوروں کی دعوت دی۔ مولانا احتشام الحق تھانوی ومولانا محمدشفیع اوکاڑوی نے مہدی ہونے کی تصدیق کی ۔ لاکھوں افراد کیساتھ مل کر اس عورت کے پیچھے نماز پڑھ لی ۔ جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹروں نے اس عورت کا فریب پکڑ لیا اور اس نے اعتراف کیا کہ سستی شہرت کیلئے دعویٰ کیا۔
علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ، مفتی محمد رفیع عثمانی اور مفتی نظام الدین شامزئی نے مہدی کے حوالے سے احادیث درج کی ہیں جس مہدی کے بعد قحطانی امیر کا ذکر ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی نے اپنی اپنی کتاب میں علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ” کے حوالے سے یہ حدیث بھی نقل کی کہ ” مہدی کے بعد قحطانی امیر ہونگے مہدی کے بعد سوراخ دار کانوں والے قحطانی امیر چالیس سال تک رہیںگے۔ پھر آخری امیر مہدی آئیںگے جو نیک سیرة ہونگے”۔ ہم نے کئی دفعہ اپنی تحریرات میں مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور مفتی رفیع عثمانی اس حدیث کی درست وضاحت کریں کہ قحطانی امیر سے پہلے اور قحطانی امیر کے بعد والے ان دونوں مہدیوں میں کیا فرق ہے؟۔ لیکن یہ دونوں گونگے شیطان بن کر حق کی آواز بولنے کی ہمت نہیں کرسکے ہیں۔
روایات میں قحطانی امیر سے منصور مراد لیا گیا جو عدل میں مہدی کی طرح ہونگے۔ مولانا یوسف بنوری کا شاگرد اپنی کتاب میں مہدی کے حوالے سے بڑی تفصیلات سے لکھتا ہے کہ ” مہدی کے بعد انقلابات آئیںگے اور پھر منصور ہونگے” ۔ منصور سے مراد ملا عمر ہیں۔ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے استاد مولانا محمد ہمیں منطق کی کتاب ”قطبی” پڑھاتے تھے۔ جب کسی بات کا جواب آگے آنا ہوتا تھا اور کوئی طالب علم سوال کرتا تو کہتے کہ ” کیماڑی ابھی آئی نہیںاور تو نے نیٹی جیٹی پر شلوار اتار دی”۔مہدی کی آمد سے پہلے منصور مراد لینا کونسی علمی دانش ہے۔
الحاوی للفتاویٰ میں علامہ جلال الدین سیوطی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” احادیث میں بارہ امام کا ذکر ہے جس میں سے کوئی ایک بھی ابھی تک نہیں آیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا”۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ”تصفیہ ما بین شیعہ وسنی ” میں لکھ دیا کہ بارہ اماموں کا احادیث میں ذکر ہے جو ابھی تک نہیں آئے۔ مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں واضح ہے کہ ان بارہ اماموں کا تعلق حضرت حسن اور حضرت حسین کی اولاد سے ہوگا۔ پہلے چھ افراد امام حسن اور پھر پانچ افراد امام حسین کی اولاد سے ہوںگے۔ آخری شخص پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری امام سے فرمائیںگے کہ ” نماز کی امامت خود کرو، اسلئے کہ آپ بعض میں سے بعض کیلئے امام ہو” تو اسکا مطلب یہ ہوگاکہ اس سے پہلے امت میں انتشار کا نہیں امامت کا دورہوگا۔
شیعہ بھی یہ حدیث مانتے ہیں کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جسکے اول میں میں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ”۔ شیعہ عالم دین نے اپنی کتاب ” الصراط السوی فی احوال المہدی” میں لکھ دیا کہ ” درمیانہ زمانہ کے مہدی سے ہوسکتا ہے کہ عباس کی اولادکا مہدی مراد ہوں”۔ حالانکہ اس مہدی کا تو بڑا مرکزی کردار ہوگا۔ ہلاکت سے بچنے کیلئے وہ ثالث ثلاثہ تین افراد میں تیسرے ہونگے۔ پہلے دور میں ہلاکت سے بچنے کاسبب رسول اللہۖ پھر درمیانہ زمانے میں ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ مہدی اور آخر میں حضرت عیسیٰ ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ ہونگے۔
الصراط السوی فی احوال مہدی میں یہ راویت بھی نقل کی گئی ہے کہ ” مہدی کے بعد گیارہ افراد اور آئیںگے جو حکومت کریںگے” اور اس پر شیعہ عالم نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر یہ درست مان لی جائے تو پھر اس کا آخری امیر ہونا آخری نہیں رہے گا۔ حالانکہ اگر درمیانے زمانہ سے حقائق کو تسلیم کیا جائے تو پھر یہ تشویش بے معنی رہ جاتی ہے۔ مہدی کے حوالے سے علامہ بدرعالم میرٹھی نے اپنی کتاب ” ترجمان السنة” میں جو جاندار حاشیہ لکھ دیا ہے اور اس کو مفتی نظام الدین شامزئی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مولانا یوسف لدھیانوی نے اسکی تائید کردی ہے ۔ وہ کمال کا حاشیہ ہے جو ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی ختم کرنے کیلئے بہترین بنیاد بھی ہے۔
بعض علماء نے ملاعمر کو خراسان کا مہدی بھی قرار دیا ہے تو مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا ، اس نے دجال سے اپنی امت کو متنبہ کیا اور میں تمہیں تنبیہ کررہاہوں۔ ہوسکتا ہے کہ دجال آئے تو تم اس کو پہچان نہ سکو، بیشک دجال تم سے ہے اور اللہ اس کو پہچانتا ہے۔وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی دوسری آنکھ انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔تمہارے مال، جان اور عزت کی حرمت ایسی ہے جیسے آج کے دن (یوم عرفہ) کی حرمت اس مہینے (ذی الحج )میںاور اس شہر (مکہ) میں ہے۔خبردار میرے بعد کافرنہ بن جانا کہ تم ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (آخری خطبہ)
دجل کا معنیٰ فریب ہے۔ طالبان نے جس طرح کی دہشت گردی کرکے مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کی حرمت ختم کردی تھی جب تک وہ ایسا نہ کرتے تو کوئی بھی ان کو دجالی لشکر نہیں قرار دے سکتا تھا۔ ابن ماجہ میں ابوبکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ خراسان کی طرف سے دجال آئیگا، اس کی اتباع ایسی قومیں کریں گی جن کے چہرے کمان کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے۔ ازبک اور پٹھانوں نے دجالی لشکر بن کر جس طرح کی تباہی مچائی تھی ، مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کی حرمت ختم کردی تھی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے اور لوگ اس دجل کو سمجھنے سے قاصر تھے یابڑا خوف تھا اسلئے اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتے تھے۔
علامہ طالب جوہری نے مہدی کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ” دجال مشرق سے نکلے گا اور اسکے مقابلے میں حسن کی اولاد سے ایک شخص ہوگا۔ اس روایت میں دجال سے مراد معروف دجال نہیں بلکہ دوسرا دجال ہے اور بعض روایات میں اسکے مقابلے میں حسین کی اولاد سے تعلق ہونے کا ذکر ہے لیکن حسن کی اولاد کے حوالہ سے تفصیلات ہیں۔ اس سے مراد سید گیلانی ہیں”۔
علامہ طالب جوہری کا تعلق اہل تشیع سے تھا اور کتاب کی اشاعت 1987ء میں ہوئی تھی۔سنی شیعہ علماء مل بیٹھ کر امت کے سامنے اتحاد واتفاق اور وحدت کا نقشہ پیش کریں۔ ہمارے نقش انقلاب کی ڈاکٹر اسرار احمد کے علاوہ بریلوی دیوبندی بہت سے علماء کرام نے تائید کی ہے لیکن کسی نے آج تک اس کی تردید نہیں کی ہے۔ 1991ء کی دہائی سے مسلسل ہم یہ نقش انقلاب پیش کررہے ہیں۔
جب الطاف حسین پر لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے چھاپہ پڑگیا تو بڑے پیمانے پر نقد پیسے برآمد ہوئے ۔ ایم کیوایم نے چندوں کی رسیدیں بناکر جمع کردیں اور معاملہ ختم ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمن پر نیب کے الزامات کیسے ثابت ہونگے جبکہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر اور قطری خط لکھ کر مکر جانے کے باوجود اقامہ پر سزا کھائی ہے؟۔ ہماری عدالتیں مجرم کو سزا نہیں دے سکتی ہیں، نیب پر کسی کا بھی کوئی اعتماد نہیں ہے۔البتہ علمی بنیاد پر انقلاب آئے گا۔
حکومت اور ہماری ریاست اگر اسلام اور مدینہ منورہ کی ریاست سے مخلص ہیں تو پھر علمی میدان میں پہلے کام کرنا ہوگا۔ حال ہی میں تحفظ مساجدمدارس کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مولانا غفور حیدری کے ساتھ قاری محمد حنیف جالندھری ترجمان وفاق المدارس پاکستان نے کہا کہ ” پاکستان کی عدلیہ میں عائلی قوانین میں خلع کا حق غیراسلامی ہے۔ ہم اس کیلئے تحریک چلائیںگے”۔
جاہل عوام کو جاہل مذہبی طبقات نے سڑکوں پر نکال لیا تو ریاست و حکومت کیلئے وہ مشکلات پیدا ہونگی جسکا تصور بھی مشکل ہوگا۔ میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” میں نہ صرف طلاق و خلع کی وضاحت کی ہے بلکہ علماء کے نصاب ”درسِ نظامی” میں قرآنی آیات کے حوالے بہت واضح احمقانہ غلطیوں کی بھی زبردست نشاندہی کردی ہے۔
قرآن میں خلع کا ذکر آیت انیس(19)سورۂ النساء میں ہے لیکن علماء آیت229البقرہ میں تین طلاق کے بعد کے حکم سے خلع مراد لیتے ہیں۔ آیت کی درست تفسیر بھی ان سے نہیں ہوسکتی ہے۔اسلامی نظریانی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی اور دارالعلوم کراچی سمیت ملک بھر سے ذمہ دار ومخلص علماء کرام اور دانشوروں کی ٹیم تشکیل دی جائے تو نتائج نکلنے میں وقت نہیں لگے گا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے تحفظ مساجدمدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” حلف نامہ میں ترمیمی بل کی سازش کامیاب ہوگئی تھی۔ قومی اسمبلی سے بھی یہ بل پاس ہوگیا۔ جب سینیٹ میں پاس ہونے کیلئے پیش ہورہاتھا تو چیئرمین موجود نہیں تھا اسلئے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے میری صدارت ہی میں یہ بل پاس ہونے کیلئے پیش ہورہاتھا۔ مجھے خوف تھا کہ ویسے تو یہ بل پاس ہوجاتا تو بھی بڑی بات نہیں تھی اس لئے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی پاس ہوجاتا مگر میری صدارت میں پاس ہوجاتا تو پھر کیا ہوتا؟۔ پھرجب سینیٹ میں رائے شماری ہوئی تو بل پاس نہیں ہوا۔ جس پر حکومت نے حلف میں ترمیم کے بل کو مشترکہ اجلاس میں پیش کیاتھا۔ مولانا غفور حیدری کی اس تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیرداخلہ شیخ رشید کی بات سوفیصد درست تھی کہ اس جرم میں جمعیت علماء اسلام بھی مکمل طور سے شریک تھی۔
مولانا غفور حیدری کو معلوم تھا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہوا اور سینیٹ سے بھی پاس ہوجائیگا لیکن اس کی اپنی صدارت میں یہ کارنامہ نہ ہو۔ اگر پتہ نہیں تھا تو خوف کس بات کا تھا ؟ اور پتہ تھا تو اپنی صدارت میں رائے شماری کی سازش کیسے کامیاب ہونے دی؟۔ شیخ رشید وہ واحد شخص تھا جو پکار پکار کرکہہ رہاتھا کہ جمعیت علماء اسلام والو! تم ختم نبوت کیخلاف سازش پر خاموش کیوں ہو؟، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو کیا منہ دکھاؤگے؟۔ پھر جماعت اسلامی نے بھی آواز اُٹھائی۔ پھر فیض آباد دھرنے کے نتیجے میں وہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں متعلقہ وزیر کو فارغ کیا گیا۔
جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری عبدالغفور حیدری اپنے بیان میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ نیب کا قانون متنازعہ ہے لیکن اسلام کو تحفظ دینے کے بجائے اس کیخلاف سازش میں شریک ہونے کا جرم کتنی گھناؤنی بات ہے؟۔ مولانا منظور مینگل نے ٹھیک کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی بازی جیت گئے ،علماء دیوبند کی آنکھیں نیچی ہیں۔ عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہیں یا نہیں لیکن اس بات کی نشاندہی موجود ہے کہ مولوی کے اسلام کے خلاف ہیں پھر ایوب خان پر مفتی محمود نے اعتراض کیوں نہ کیا؟ الزام یہ ہے کہ مفتی محمود نے ایک لاکھ کی رقم ایوب خان سے وصول کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کو بطور رشوت ایک ایک پلاٹ اسلام آباد میں دینے کی پیشکش کی تھی تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کے علاوہ کسی نے بھی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی امیر مولانا عبدالرؤف گل امام نے مجھ سے کہاتھا کہ ”مولانا فضل الرحمن کی آپ نے پہچان کرائی ، اسکے والد بھی یہی چیز تھے۔ پہلے ہمیں اسلام آباد میں پلاٹ لینے پر برا لگا تھا لیکن ہم نے سوچا کہ اکابر ہیں بہتر سمجھتے ہیں”۔مولانا فضل الرحمن اور مفتی محمود اچھے انسان مگر فرشتے نہیں، کمزوریاں سب میں ہیں۔
حامد میر کے پروگرام میں انصار عباسی نے مولانا راشد محمود سومرو کے سامنے پرویزمشرف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کو زمینیں دینے کا انکشاف کیا تھا لیکن انصار عباسی کو گھر تک شہبازشریف نے روڈ بناکر دیا ہے اسلئے وہ اس وقت مولانا کے خلاف میدان میں آئیںگے جب نوازشریف اور شہباز شریف کی طرف سے اشارہ ہوگا۔
ہمارا اصل ہدف اسلام کے احکام سے مفاد پرستی کے دھبے ختم کرنا ہیں اور اب اس کا زبردست وقت آچکا ہے۔ حکومت مشکلات میں ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)نے19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا ہے اور علامہ سعد رضوی نے فرانس کا سفیر نکالنے کیلئے17جنوری ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ سندھ، بلوچستان، پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی بغاوت کا جذبہ اُٹھ چکا ہے ۔ مسئلہ عمران خان کا نہیں وہ تو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہے۔

Leave a Reply

Back to top button