بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا.

پنجاب میں سینٹ الیکشن کا کریڈٹ چوہدری پرویز الٰہی اور مرکز میں پی ڈی ایم (PDM)کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمن کو جاتا ہے۔ جمہوریت سرخرو ہوئی مگر نظام کے منہ پر انتخابات نے کالک مل دی

(کالم تیز و تند)  تحریر: قدوس بلوچ

بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا لیکن یہ پتہ کیسے چل سکتا ہے کہ خفیہ بیلٹ میں ضمیر کی آزادی کا معاملہ ہے یا بے دریغ پیسہ اس میں ملوث ہے؟

جہاں قلم اور اسکی سطروں کا تقدس بکتا ہو،جہاں اینکر پرسن اور میڈیا ہاؤس اپنی عزت کا بھرم کسی کی وکالت کرتے ہوئے گٹروں میں ڈبکیاں کھاتادکھائی دے وہاں ضمیر کا کیا سوال ہے؟

پہلے زمانوں میں جب معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ کسی نبی یا رسول کی بعثت سے اصلاح وہدایت کے راستے کھول دیتا تھا۔ یقین وایمان والے اپنے اعمال کی پوری اصلاح کرکے سرخرو ہوجایا کرتے تھے۔ اور کافر ومنافق اپنے حربوں کے ذریعے عتاب وعذاب تک پہنچ جاتے تھے۔ جب سے نبوت کا سلسلہ ختم ہوا ہے تو امت کی اصلاح کیلئے قرآن کی رہنمائی موجود ہے اور علماء کرام و اولیاء عظام نے ہردور میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جب انگریز نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تھا تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے ایک طرف مجاہدین کی قیادت کرنے کی کوشش فرمائی ، دوسری طرف سیاسی محاذ پر اپنی جدوجہد کو تیز کرنے کی مہم کی سرپرستی فرمائی اور تیسری طرف فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنیکے محاذ پر کام کیا۔ فیصلہ ہفت مسئلہ دیوبندی بریلوی اختلافات کا حل تھا۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے حیدر آباد دکنی ماموں نے فرقہ واریت ہی سے توجہ ہٹانے کیلئے وہ بیہودہ حرکت کی ہو جس کی وجہ سے علماء دیوبند نے شیعہ اور بریلوی مکتب کا پیچھاچھوڑا ہو کہ ” اپنے مسلک کو چھوڑو مت اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑومت”۔
مولانا فضل الرحمن میرے بڑے بھائی عبدالقیوم کے ہم جماعت تھے ، ملتان میں ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ میرے والد مولانا عبدالمالک کے مرید تھے۔ علماء دیوبند سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ مذہبی جلسے جلوسوں میں ایک روحانیت ملتی تھی ۔ ہمارا تعلق حضرت حاجی محمد عثمان سے تھا۔ مفتی محمد تقی و مفتی محمد رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق صاحب نے حاجی عثمان سے بیعت کی تھی اور وہ بڑے خلیفہ بھی تھے۔ پھر وقت آیا اور آزمائش کی وجہ سے علماء سمیت بڑے فوجی افسران اور دنیا دار لوگ سب بھاگ گئے۔ جلسوں اور الیکشن میں ہم نے مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرتے ہوئے سید عتیق الرحمن گیلانی کی بھرپور حمایت بھی دیکھی ہے ۔ جب نیب کی طرف سے مولانا کی گرفتاری کا شدید خطرہ تھا تو شہہ سرخی کیساتھ مولانا کی ایسی حمایت کردی کہ دنیا حیران اور پریشان ہوگئی لیکن جونہی خطرہ ٹل گیا تو پھر ہمیں خبر لینے کی بھرپور اجازت بھی مل گئی ۔
ہم نے بہت پہلے کارٹون شائع کیا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں مولانا فضل الرحمن اتحاد کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیں اس کوشش سے کوئی اختلاف بھی نہیں اور صحافت میں اپوزیشن ہی کو سپورٹ کرنا ایک صحتمند صحافت کا تقاضہ ہوتاہے۔ اگر بالفرض مولانا فضل الرحمن کو نیب گرفتار بھی کرلیتی تو جمعیت کے کارکن بھی پی ٹی ایم (PTM)کی طرح جذباتی بن جاتے ۔ن لیگ و پیپلزپارٹی کے قائدین، رہنما اور کارکن بھی اپنے مقاصد کیلئے مولانا کی حمایت اور حکومت وریاست کی مخالفت کرتے۔ ہمارا مقصد مولانا فضل الرحمن کو سیاست کی طرح مذہبی معاملات میں بھی سردمہری کا شکار ہوجانے کے بجائے فعال کردار ادا کرنیکی طرف متوجہ کرنا ہے۔ جو ان کا اصل منصب اور ہدف بھی ہے۔
ہم نے لکھ دیا تھا کہ مشہور ہے کہ اونٹ اور اونٹنی کا ملاپ انسان کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں جانوروں کے چھوٹے جراح ہوتے تھے جن کو سلوتری کہا جاتا تھا۔ ان کا کام جانوروں کے پیٹ میں مرے ہوئے بچوں کو بھی ہاتھ سے ہی نکالنا ہوتا تھا۔ اونٹوں کے معاملے میں بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ پہلے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو ملانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب شاید بلکہ یقینا چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں تحریک انصاف اور ن لیگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پنجاب میں ن لیگ بھی متفق ہوجاتی تو تحریک انصاف کی حکومت کو پنجاب سے چلتا کرنے میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور ق لیگ کیلئے کوئی مشکل نہ تھی لیکن ن لیگ کی چاہت نہیں تھی اسلئے مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ نے پیپلزپارٹی کیساتھ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ہم نے حقائق سے پردہ اُٹھانے میں دیر نہیں لگائی اسلئے ن لیگ اور جمعیت والے دبک کر بیٹھ گئے۔ پھر پیپلزپارٹی کی مدد سے ق لیگ نے سینٹ الیکشن کو پنجاب کے اندر بلامقابلہ انتخابات میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔ایک اچھی اور جاندار صحافت کے بہت ہی زبردست نتائج نکل سکتے ہیں۔ مریم نواز سے پنجاب کے متفقہ سینٹ پر سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ ”میں اس پر تبصرہ نہ ہی کروں تو اچھاہے”۔ سلوتری کے کردار پر راضی ہوتی توتبصرہ بھی کرتی۔
پیپلزپارٹی سے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے تحریکِ عدم اعتماد پر اعداد وشمارمانگ کر پنجاب اور مرکز میں یہ امکان ن لیگ کی وجہ سے مسترد کیا تھا وہ بالکل ہی غلط تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کو بھی مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز کی ایماء پر ڈانٹ دیا تھا۔ جس کا چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہاہے کہ مولانا مجھ پر کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں؟۔
پنجاب اور مرکز میں ق لیگ کیساتھ مل کر ن لیگ کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہوجائے تو مریم نواز کا کہنا بنتا ہے کہ لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ نے وعدہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی مدت پوری ہونے دیگی تو پھر اپوزیشن کا شوشہ چھوڑ کر عوام اور صحافیوں کا وقت بھی ضائع نہ کیا جائے۔ البتہ اگر پی ڈی ایم (PDM) لانگ مارچ کے ذریعے سے حکومت گرانا چاہتی ہے تو بھی اچھی بات ہے۔ نظام میں تبدیلی کیلئے ہل چل کے حق میں ہم بھی ہیں۔ اگر اس ہل چل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نوازشریف کی طرح مریم نواز بھی علاج کی غرض سے چھوٹے سے آپریشن کیلئے باہر چلی جائے تو جتنا خرچہ مولانا فضل الرحمن پر کیا گیا ہے وہ بھی وصول ہوجائیگا۔
ہماری چاہت ہے کہ اہم اسلامی معاملات کو اُٹھاکر بحث کا آغاز کیاجائے تاکہ میثاق مدینہ سے یہود کی سازشوں کیلئے زبردست بند باندھا جاسکے۔ اسلامی مزارعت سے سود خوروں اور مفاد پرستوں کے قلع قمع میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button