نماز ِخوف (کرونا) قرآن کریم میں

267
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
:حٰفظوا علی الصلوٰت والصلوة الوسطیٰ وقوموا للہ قٰنتینO فان خفتم فرجالًا او رکبانًا فاذا امنتم فاذکروا اللہ کما علّمکم ما لم تکونوا تعملون
اپنی نمازوں کی حفاظت کرو اور بیچ کی نماز کی اور اللہ کیلئے فرمانبردار بن کر کھڑے رہو۔ پس اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل اور سواری پر نماز پڑھو۔ پھر جب امن میں آجاؤ تو نماز پڑھو ، جس طرح تمہیں سکھایا گیا، جو تم نہ جانتے تھے البقرہ :239
آج پوری دنیا پر خوف طاری ہے کہ متعدی مرض ” کرونا وائرس” پھیل سکتا ہے۔ مساجد کے علاوہ سفر اور گھروں میں جب یہ خدشہ ہو کہ رکوع و سجود سے کرونا کے وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں تو اللہ نے جہاں نمازوں کی نگہداشت کا خاص طور پر حکم دیا ہے وہاں خوف کی حالت میں پیدل اور سواری پر بھی نماز پڑھنے کی بہت واضح الفاظ میں اجازت دی ہے۔ دنیا سوال اٹھارہی ہے کہ قرآن میں یہ فرمایاگیا کہ انزلنا الکتاب تبیانًا لکل شئی ”اورہم نے کتاب(قرآن) کونازل کیا ہے ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ۔ تو کیا ایسی وبائی مرض کی خوف کی حالت میں نماز کی کوئی کیفیت بیان کی گئی ہے یا نہیں؟۔ تو اللہ نے واضح کیا ہے کہ خوف کی حالت میں نماز پڑھنے کا یہ حکم ہے۔ اگر خوف کے باوجود اس حکم پر عمل نہیں کیا تو پھر یہ اللہ کی نہیں طاغوت کی بندگی ہے۔ یہ آیات حالتِ جنگ کے حوالے سے نہیں بلکہ اس سے آگے پیچھے معاشرتی احکام ہیں۔ نبیۖ فرمایا :وبائی مرض سے ایسے بھاگو، جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ اللہ ہدایت دے ۔