وزیراعظم آج تک اپنا کوئی وعدہ پورانہ کرسکا

289
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لاہور ،اسلام آباد اور ملتان میں ”میٹروبس” کو تنقید کا نشانہ بنانے والے عمران خان نے پشاور کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ ملتان میں میٹروپر فلائی اوور کی وجہ سے سستے علاقے بھی متأثر نہیں ہوئے جبکہ پشاور میں واحد اور مہنگاترین یونیورسٹی روڈ تباہ کرکے رکھ دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس کے بلند دعوے کئے گئے مگر پختونخواہ میں فوج تعینات کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے میڈیا، علمائ، میڈیکل اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون کا شکریہ ادا کرکے بڑا اہم پیغام قوم کو دیدیا کہ ” کرونا جیسی آزمائش سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا ہے”، یہ کریڈٹ پاک فوج کو ہی جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے وائرس اتنا جلدی نہیں پھیل رہاہے جتنا دنیا میں پھیل گیا۔ یہ حکومت کی غفلت ہے کہ ایران و دوسرے ممالک سے وائرس امپورٹ ہوا، خارجہ وداخلی پالیسی غلط نہ ہوتی تو لاک ڈاؤن کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ علماء اور تبلیغی جماعت کو ڈنڈے کے زور پر نہ روکا جاتا تو یہ رُکنے والے نہ تھے۔ قرآن میںنمازِ خوف واضح ہے جس سے وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہیں رہتالیکن سودی نظام کو جواز بخشنے والے مفتی اعظموںاور شیخ الاسلاموں کو آیت البقرہ239دکھائی نہیں دی۔
ایران، تبلیغی جماعت اورعلماء و مفتیان اپنی اپنی جہالت پراوروائرس پھیلانے کے ذمہ دار طبقے اپنی غفلت پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم، زلفی بخاری ، شاہ محمود قریشی اور ذمہ دار طبقات مجرمانہ غفلت پر صرف معافی ہی نہ مانگیں بلکہ جرمانہ اداکریں۔ پوری قوم لاک ڈاؤن کی سزا اسلئے بھگت رہی ہے کہ وائرس زدہ افراد کو لایا گیا اور اس شر سے بچنے کی تدبیربھی نہیں کی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے مذہبی حلقوں کی اصلاح کے بجائے تعصبات کا رنگ دیدیا ،وہ خود بھی جاہل ہے،اسلئے عمران خان جیسے لوگ برسراقتدار آگئے ہیں۔