وزیرستان کی عوام میں اسلام کو نافذ کرنے کی صلاحیت۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پاکستان اور ہندوستان کو انگریز نے آزاد کردیا تو افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس بھارت کی جیل سے آزاد ہوا۔ حالانکہ افغانستان میں اسکے کزن نادر شاہ اور ظاہر شاہ کی حکومت تھی۔ اس بات سے افغانی یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کا دشمن دوسرا نہیں، جب تک خود ایکدوسرے کی دشمنی اختیار نہ کریں۔ جب پاکستان کی آزادی کے بعد بھی انگریز کی باقیات نے امیر امان اللہ خان کے خاندان کو مجرم سمجھا تو پاکستان کے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی سخت ضرورت ہے۔امیرامان اللہ خان کا بیٹا جنڈولہ فقیر بیٹنی کے پاس پہنچا لیکن اس نے کہا میں پاکستان کی حکومت سے تمہیں نہیں بچا سکتا ہوں اور یہ مشورہ دیا کہ محسود قبائل میں یہ طاقت ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان سے آپ کو پناہ دے سکتے ہیں ، چنانچہ عبدالرزاق بھٹی آف شیخ اُتار علاقہ گومل ضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان امان اللہ خان کے بیٹے کو سردار امان الدین کے دادا رمضان خان کے پاس لے گئے۔ رمضان خان نے اس کو پناہ دیدی۔ پھر جب وہ اپنی مرضی سے کسی وقت پاکستان کے سیٹل ایریا میں آئے تو حکومت نے اس کو گرفتار کرلیا۔ جیل ہی میں عبدالرزاق بھٹی نے کیمونسٹ نظریہ سے توبہ کرکے جماعت اسلامی میں شمولیت بھی اختیار کرلی۔ پاکستان کی ریاست کا اس امیر امان اللہ خان کے بیٹے سے یہ سلوک تھا جس کی حکومت کی بحالی کیلئے علامہ اقبال نے چندہ مہم سے باقاعدہ کوشش کی تھی۔
جب افغان جہاد سے لوگ امریکی ڈالر کما رہے تھے تو وزیرستان اور قبائل نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ کچرہ چننے والے افغانیوں کی جانوں پر رقم بٹورنے والے مجاہد علماء ، رہنما اور جرنیل کوئی اور ہی تھے۔ اگر ہمایون اختر اور اسکے بھائی کی دولت کچرہ چننے والے افغانیوں میں بانٹ دی جائے تو ہمارا افغانستان کیساتھ بھائی چارہ بحال ہوگا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے والی ہماری پاکستانی ریاست اس بات کو سمجھ لے کہ تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی جناب داوڑ کنڈی کا والد ہیروئن کیس میں کراچی سے پکڑاگیا اور جیل سے وزیرستان پہنچا تو امریکہ اور دنیا بھر کے دباؤ پر فوج کو استعمال کرنے کی دھمکی پر بھی وزیرستان کی عوام نے اس کو حوالہ کرنے سے انکار کیا تھا، اسی طرح جب ایمل کانسی نے وزیرستان کی سرزمین پر پناہ لی تو اس پر آنچ نہیں آئی لیکن مقتدر طبقات نے دھوکہ کرکے اس کو بھی امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ افغان حکومت پر ہماری ریاست کے کٹھ پتلی صحافیوں نے ہمیشہ سخت تنقید کی ہے لیکن یہ نہیں دیکھا ہے کہ ہمارے اپنے کرتوت کیا ہیں؟۔
27اکتوبر یوم طلبہ یونین آزادی کے موقع پر ان عمر رسیدہ خواتین کو دکھایا گیا جو طلبہ یونین سے لاعلمی کا اظہار کررہی تھیں لیکن وہ ریاست سے شکایت کررہی تھیں کہ ہیروئن پر قابو نہیں پایا جارہاہے جس سے ہماری نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان کو بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر بنایا تھا اور اس کیلئے پختون جنرل نصیراللہ بابر استعمال ہوا۔ امریکہ کا مقصد وہاں ہیروئن کی کاشت تھی اور جب طالبان نے ہیروئن کی کاشت بند کردی تو امریکہ کے ڈرگ اور اسلحہ مافیا نے افغانستان کے بعد عراق ، لیبیا اور شام پر جنگوں کو مسلط کیا تھا اور جس شدت پسندی کو بلیک واٹر کے ذریعے کھڑا کیا وہ دنیا کیلئے ڈراؤنا خوب بن کر رہ گیا۔ امریکہ اس دہشت گردی کے مقابلے میں ایک طرف صوفیت کو لایا تو دوسری طرف توہین رسالت کے حوالے سے پارہ چڑھادیا، جسکے پیچھے جو یہودی لابی کام کررہی ہے ،اس کا توڑ صرف اور صرف وزیرستان کے لوگ ہی کریں گے۔ مولانا اکرم اعوان نے قسم کھاکر کہا تھا کہ ” وزیرستان کے لوگوں سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لینا ہے”۔ علامہ اقبال نے بھی محراب گل افغان کے تخیلاتی نام سے وزیرستان کے محسود اور وزیر کا ذکر کرکے ان سے شکایت کی ہے کہ ابھی یہ خلعت افغانیت سے عاری ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی ایک مرد قلندر ضرور پیدا ہوگا۔
ایک فرد سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ فرد کی قوم میں ایسی صفات کا ہونا ضروری ہے جو امامت پراکثریت میں صادق آتی ہوں۔ وزیرستان کے لوگ ہی تھے کہ جب دنیا طالبان اور افغانستان کے خلاف جنگ کررہی تھی تو بھگوڑوں کو محسود اور وزیر پناہ دے رہے تھے۔ امریکہ کو شکست دینے کے بدلے ہر قسم کی قربانی کیلئے یہ قوم تیار تھی لیکن بد قسمت قوم کی قیادت ایک طرف آلتو ،فالتو اور پالتو طالبان کے ہاتھ میں تھی اور دوسری طرف انگریز کا کچرہ قبائلی عمائدین قوم کی نمائندگی کررہے تھے۔ جس کی وجہ سے وزیرستان کے لوگ فوج اور طالبان کے درمیان چکی کے دوپاٹوں میں پیس کر رکھ دئیے گئے۔ فوج اور طالبان کے درمیان سیاسی اور مذہبی دلالی کرنی والی قیادت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ جب نقیب شہید کے مسئلے پر محسود قبائل کا لشکر اسلام آباد پہنچا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں ان کو ڈرا دھمکا کر بھیج دیا کہ ” ہماری دوتہائی اکثریت تھی، وزیراعظم نوازشریف کو فوج نے وزیراعظم ہاؤس سے پکڑ لیا تو عام لوگوں کی کیا اوقات ہے کہ فوج سے لڑسکے”۔ محسود قبائل کالشکر سرکاری ملکان کیساتھ راتوں رات دھرنے کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ہم نے نوجوانوں کا درد محسوس کیا اور شام غریباں میں حوصلہ دیا کہ وزیراعظم نے تم سے گیم کرلیا۔ فوج پر تنقید سے بھی کچھ نقصان نہیں پہنچے گا۔ ریاست کو ایسے مخلص لوگوں کی ضرورت ہے کہ جو ملک وقوم کیلئے کام کریں۔ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے کا نعرہ لگانے میں بھی حرج نہیں۔ اپنی تحریک کی بنیاد دوچیزوں پر رکھ لو۔ ایک دل کا درد اور دوسرا تعصبات سے پرہیز۔ فوج کے خلاف کیا سے کیا کچھ بولنے والے اقتدار کی دہلیز پر پہنچ سکتے ہیں لیکن تعصبات ابھارنے والے ناکام ہی ہوتے ہیں اور ان کی آخری منزل دلالی کے سوا کچھ نہیں ہوتی ہے۔
PTMکے دھرنے میں اسٹیبلیشمنٹ کے مہروں کو تقریر کی اجازت مل گئی۔ ن لیگ، تحریک انصاف ، مولانا فضل الرحمن، سپاہِ صحابہ کے رہنما مگر پیپلزپارٹی کو جذبہ خیر سگالی کی اجازت بھی نہیں دی جارہی تھی۔ آج محسن داوڑ کہتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشکور ہوں جس نے کراچی، کوئٹہ اور ملتان کے جلسے میں مدعو کیا تھا۔ ن لیگ کی مریم نواز نے PDMمیں شامل ہونے کے باوجود PTMکو گجرانوالہ میںنہیں بلایا تھا جس کا PTMوالوں نے شکوہ بھی کیا تھا۔ پشاور جلسے میں PDM کی میزبان جمعیت علماء اسلام اور ANPتھے۔ یہ دونوں بھی ن لیگ کے دلال ہیں اور ان کی وجہ سے PTMکو پشاور کے جلسے میں آنے نہیں دیا گیا۔ اگرمولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی کو پختونوں سے باہر کیا جائے تو پختونوں کی اکثریت بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے اسلئے منظور پشتین نے مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ نے ANPکے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔ البتہ قبائل میں بالخصوص اور سیٹل ایریا میں بالعموم PTMہی جمعیت علماء اسلام اور اے این پی کیلئے ایک نئی سوکن ہے ،اسی وجہ سے ایکدوسرے پر اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی شروع ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر سے ہیروئن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا لیکن وزیرستان کی عوام کو اللہ نے یہ طاقت دی ہے کہ ہیروئن کا خاتمہ کرسکتے ہیں،اس طرح اسلام کیلئے بھی یہ لوگ زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔ منظور پشتین نے عورت کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاکر آغاز کردیا اور عوام بھی بڑے پیمانے پر حقائق کی طرف جاسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button