پاکستان دنیا کی امامت کرسکتاہے لیکن کیسے؟

209
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج، عدلیہ،بیوروکریٹ، سیاستدان، صحافی، علمائ، عوام الناس اور تمام طبقات میںاستعدادو صلاحیت،اچھائی اورشعور وآگہی کی کمی نہیں۔انسانیت،اسلام اور اپنی قوم سے والہانہ محبت میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں لیکن ان کو وہ مواقع نہیں ملتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے ذرائع پیسہ، اقرباء پروری،فرقہ وارانہ رنجش، لسانی تعصبات اور طاقت کے سرچشموں کی اشیرباد ہے۔ دولت کمانے کے جائز ذرائع مفقود ہیں تو ناجائز ذرائع لامحدود ہیں۔ جعلی فتوؤں، جعلی تعلیم، جعلی ادویات، جعلی اشیاء خورد ونوش اور جعلی ڈگریوں سے لیکر جعلی سیاستدانوں اور علماء ومفتیان تک سب نے قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔لوٹوں کے ذریعے وزیراعظم اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور ناکارہ پارلیمنٹ وایوانِ بالا کے ذریعے آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے لیکر اُوپر سے نچلی سطح تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ عدالتی نظام ہرسطح پر بالکل ناکام ہے۔نوازشریف ملک سے باہر گیا مگر وزیراعظم کچھ نہیں بتاسکتا ہے کہ کس کے کہنے پر گیا؟۔ کل لاک ڈاؤن یا کرونا کے پھیلاؤ سے نقصان ہوگا تو اس کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈالی جائے گی۔ عمران خان نیازی اینڈ کو لمٹیڈکمپنی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس نے اس نالائق نوازشریف کی قدر لوگوں کو یاد دلادی جس نے کھل کر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے اور قطری خط پیش کرکے اس سے انکار کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ کرونا کے کریک ڈاؤن میں غائب رہنے والے سیاستدانوں کو قوم جان چکی ہے کہ انتخابات کے دور میں کس طرح برساتی مینڈکوں کی طرح ٹراتے نظر آتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی افادیت بالکل ختم ہوچکی ہے لیکن ریاستی نظام بھی عوام کو فائدے پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اسلئے نظام کی تبدیلی کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا ہے۔