پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغازمگرسمجھو توسہی! عتیق گیلانی

733
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اسلئے نازل نہیں فرمایا کہ یہ مذہبی طبقے کا ایک کاروبار بن جائے۔ مسٹنڈے لوگ فرقہ واریت کے نام پر ایکدوسرے کی مخالفت کا بازار گرم کرکے نفرتوں کے بیج بوتے رہیں اور اپنا کاروبار چمکائیں اور عوام رشد وہدایت کی دولت سے محروم رہے ۔یہ تو قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا آخری ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایا کہ انک لاتھدی من احببت ” بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں”۔روایت میں ابوطالب نے آپۖ کی چاہت کے باوجود اسلام قبول نہ کیا۔ نبی ۖ نے عمر بن خطاب و عمرو بن ہشام عمروین میں ایک کیلئے ہدایت مانگی جو عمر بن خطاب کے حق میں قبول۔ عمرو بن ہشام ابوجہل ہی رہا۔ عرب دو الگ ناموں کوایک کرتے ۔ حسنین کا معنی دو حسن ہیں اور مراد حسن و حسین ہیں۔ عمرو اور عمر دو الگ نام ہے۔ آخر میں واؤ لگانے سے عمر و کا تلفظ اردومیں عمروعیار غلط مشہور ہے۔ یہ عَمر ہے اور بغیر واؤ کے عُمر ہوتا ہے۔
رسول اللہ ۖ کے ذریعے اللہ نے اقدار دکو بدل دیا تھا۔ نسب وسرداری اور دنیا داری ومالداری کو سب کچھ سمجھنے والے ابوجہل، ابولہب، امیہ، عتبہ اور ابوسفیان وغیرہ کے مقابلے میں بلال حبشی، صہیب رومی، سلمان فارسی اور حضرت ثوبان وغیرہ کے کردار نے عزت اور جگہ بنالی۔ حضرت ابوبکر و عمر ، حضرت عثمان و علی اور حضرت حسن نے خلافت راشدہ کا اعزاز حاصل کیا۔ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں نے حضرت حسن کی شخصیت کو خاص وہ اہمیت نہ دی، جسکے وہ مستحق تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”خبردارظلم نہ کرنا، خبردارظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا ! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔جنگ جمل وصفین میں ایک دوسرے کی گردنیں ماریں ۔آج تلخ یادوں کو مختلف انداز میں زندہ کیا جارہا ہے اور نبیۖ نے فرمایا تھا کہ میرے بیٹے حسن کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروادے گا۔ حضرت حسن کے کردار سے خونریزی رُک گئی مگر طرزِ خلافت امارت میں بدل گیا۔ بنوامیہ پھر بنوعباس نے اقتدار کوخاندانی بنیاد پر قابو میں رکھا۔
جب خلافت کے استحقاق پر بحث چل پڑی تو دیندارطبقہ بنوعباس سے زیادہ اہلبیت کو حکومت کا حقدار قرار دیتاتھامگر ابن الوقتوں نے فیصلہ کیا کہ اہلبیت نبی ۖ کے چچازاد علی کی اولاد ہیںاور بنوعباس نبیۖ کے چچا عباس کی اولاد ہیں جس کی وجہ سے بنوعباس خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت ابوطالب کو غیرمسلم قرار دینے کیلئے کہانی گھڑی گئی یا حقیقت تھی؟ مگر بنوعباس کے خلفاء کو سپورٹ کیا گیاتھا۔ پھر یہ بھی بھول بیٹھے کہ چچا اور بھتیجے کی اولاد کی بنیاد پر خلافت کے استحقاق کا مسئلہ بنتا تھا تو پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی خلافت کا کیا بنتا ہے جو چچاتھے اور نہ چچازاد بلکہ بنی ہاشم کے خاندان سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے؟۔ ڈھیرسارا مواد سیدھے سادے طریقے سے فرقہ واریت کی پیچیدگیوں کیلئے زبردست ایندھن بن گیا۔ شیعہ ، اہلسنت، معتزلہ اور بہت سے غالی اور عالی گروہوں نے جنم لیا تھا۔
احادیث کی کتب میں فضائل اہلبیت اور فضائل صحابہ کے حوالہ سے بڑا مواد تھا مگر معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچتا۔ محققِ عصرِ رواں علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کی ضخیم تصنیف” تفتازانیہ” میں درسِ نظامی کے حوالہ سے ایک بڑی معروف شخصیت علامہ سعدالدین تفتازانی کے حوالے سے بحث ہے کہ وہ صحیح اہلسنت کے نمائندے تھے یا اہل تشیع سے متأثر تھے؟۔ درسِ نظامی کے طلبہ ہی نہیں فرقہ وارانہ ، مسلکانہ اور مذہبی معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ بڑا تحفہ ہے۔ اعتدال و توازن کی بنیادپر باکمال لوگ لاجواب سروس کی عمدہ کوشش ہے۔ تاہم انسان میں ماحولیاتی کمزوری ہوتی ہے اور اس سے کسی نہ کسی حد تک سب متأثر ہوتے ہیں اور کوئی اس سے مبرا نہیں ہوتا ہے لیکن مخالف بھی اس علمی گفتگو اور اسکے اندازِ بیان کو داد ضرور دیں گے۔
میرے نزدیک تو فرقہ واریت کی بھول بھلیوں اور پگڈنڈیوں سے نکلنے کیلئے یہ کہنے میں بھی حرج نہیں کہ اسلام کا یہ حشر کیا گیا ہے کہ جس طرح تفتازانیہ میں کتاب کی تمام علمی مباحث کو چھوڑ کر تفتازان اور تفتازانی کی نسبت کو چھوڑ کر” تفتا”کے لفظ کوالگ اور” زانی” کے لفظ کو الگ کرکے صاحبِ تصنیف کا مذاق اڑایا جائے۔ جس کا وہم وگمان بھی علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کے افکار میں نہیں۔ سہیل وڑائچ نے ایک دن جیو کیساتھ علامہ اقبال سے خاص شغف رکھنے والے کا انٹرویو لیا۔ نیٹ پر موجود ہے جس میں وہ علامہ اقبال کی فارسی شاعری سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”ہم پر علماء ومشائخ کا بڑا احسان ہے جن کے توسط سے اسلام ہم تک پہنچا ہے، مگر اللہ اور رسول ۖ اور جبریل حیران ہونگے کہ ہم جو اسلام لائے تھے اور ان لوگوں نے اسلام کا جوحال بنارکھا ہے اسکا اس اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ”۔
مفتی سیدشاہ حسین گردیزی نے لکھاہے کہ ” قرآن حکیم ہے لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری دیتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا فرمان اذا وسد الامر الیٰ غیر اہلہ تنظر الساعة جب معاملہ غیر اہل کے سپرد ہوجائے تو پھر قیامت ہی کا انتظار کیا جائے، انصاف وہیں ملے گا، اس نظام اور اس دنیا میں اس کی امید عبث ہے”۔ تفتازانیہ، صفحہ:13
اگر علامہ شاہ حسین گردیزی مولانا مودودی، مولانا احمدرضاخان بریلوی اور مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ سمیت قرآن کے تمام معروف مترجمین کا اسی آیت پر محاسبہ یا اصلاح کرتے تو یہ تفتازانیہ کی ابحاث سے زیادہ مفید ہوتا ۔سورہ بقرہ کی اس آخری آیت کا اتنا غلط ترجمہ مشہورکیا گیا ہے کہ اللہ کے کلام قرآن پاک کے اندر بھی تضاد نظر آتا ہے اور انسانی فطرت سے بھی اس کا مفہوم قطعی طورپر ہم آہنگ نہیں لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ اللہ ہم سے کیا کہہ رہا ہے بلکہ ہم بہت خشوع وخضوع کیساتھ اپنے اوپر جھوٹی رقت طاری کرکے تلاوت کے ثواب کو ہتھیانے کے درپے ہوتے ہیں۔ فلم اور ڈرامہ کے اداکاروں کی طرح عوام کو کسی حد تک انٹرٹین کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کے گر سمجھ گئے ہیں۔
میری سکینڈ وائف ( دشتی بلوچ تربت ) نے مجھ سے فون پر کہا کہ ” اللہ بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے قرآن میں کہا ہے کہ میں انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر میں نے دیکھ لیا کہ مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ آپ کی ڈانٹ سے پڑگیا تھا”۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ قرآن کو سمجھنا اب مشکل نہیں رہا، جب سوال اٹھتا ہے تو جواب آتا ہے۔ درسِ نظامی کی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قرآن سمیت ہر معاملے پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مفاد پرست ٹولے نے درسِ نظامی پر آج قبضہ کررکھا ہے۔ ذلک الکتٰب لاریب فیہ فاتحة الکتاب کے بعدالبقرہ کا الم کے بعد پہلا جملہ ہے۔ جس پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ذٰلک اسم اشارہ دور کیلئے ہے جبکہ کتاب قریب ہے لہٰذا ھذا الکتاب ہونا چاہیے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے روایت نقل کی، جو ضروری علم کے حوالہ سے ہے، فرمایا کہ ” علیکم بالعلم وعلیکم بالعتیق تم پر علم کی پیروی لازم ہے اور تمہارے اوپر عتیق کی پیروی لازم ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین”تمہارے اوپر میری سنت کی پیروی لازم ہے اور رشدوہدایت والے خلفاء کی پیروی لازم ہے”۔خلفاء راشدین نے مہدیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے خلافت کو خاندان کی لونڈی نہیں بنایا تھا۔ بخاری کے استاذ نعیم بن حماد نے یہ روایت چار مرتبہ اپنی کتاب ”الفتن” میں نقل کی ہے کہ عن عبداللہ بن عمروقال : قال رسول اللہ ۖ اذا ملک العتیقان عتیق العرب و عتیق الروم کانت علی ایدیھما الملاحم
حدیث نمبر1315،1349،1358،1417، عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ دوعتیقوں کوجب اقتدار ملے گا تو انکے ہاتھوں سے جنگیں جاری ہونگی ، عتیق العرب اور عتیق الروم ۔ قیامت تک بہت سی شخصیات کا احادیث میں ذکر ہے۔کئی مہدیوں اور دجالوں کا ذکر ہے۔ اگر میں اپنے بارے میں کہوں کہ میں وہ عتیق ہوں جسکا ذکر مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب میں ہے تو کوئی کم عقل یہ سوال اٹھائیگا کہ میں وہ ہوں کا جملہ غلط ہے اسلئے کہ وہ دور کیلئے آتا ہے ،آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ میں یہ عتیق ہوں۔ اردو کے اہل زبان یہ سمجھتے ہیں۔ قرآن کی آیت ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ابوجہل وابولہب نے سوال نہ اٹھایا کہ عربی غلط ہے مگر جو لوگ گرائمر کی مدد سے عربی سیکھتے تھے انکے ذہن میں سوال اٹھ گیا۔ درسِ نظامی میں سوال وجواب رٹے رٹائے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے”۔ ترجمہ کرنیوالوں نے اپنا غلط رنگ جمایا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ ” اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ نفس پر اس کی طاقت سے بڑا بوجھ پڑتا ہے جبھی تو اس کی روح پرواز کرتی ہے۔ اگر اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو پھر کیا اللہ کوئی کم عقل مولوی ہے؟۔ جو سکھائے کہ ربنا ولاتحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا لاتحملنا مالا طاقة لنا بہ”اے ہمارے ربّ! ہم پروہ بوجھ نہ ڈال جس طرح ہم سے پہلوں پر آپ نے بوجھ ڈالا تھا ،اے ہمارے ربّ! ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا”۔ اللہ تعالیٰ انسان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھر اسی آیت کی یہ دعا بے معنیٰ ہوگی۔ اللہ نے یہ فرمایا :اللہ ہرنفس کو وسعت کے مطابق مکلف بناتا ہے( یعنی دائرہ اختیار کے مطابق اس سے پوچھ گچھ ہوگی) آرمی چیف ، وزیراعظم اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کیلئے ناک رگڑوائی ۔ایران امریکہ کی جنگ چھڑنے کے خدشے پر پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم بلاسوچے سمجھے کر ڈالی مگر جس آئین میں قرآن و سنت کا سب سے اہم اور بنیادی کردار قرار دیا گیا ہو ،اسکے ترجمے میں بہت بڑی غلطی کو برداشت کرنا اسلام اور پاکستان دونوں کیساتھ غداری ہے۔ پارلیمنٹ کا مقصد اقتدار کیلئے ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچنا ہی رہ گیا ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے شعور کا راستہ روکا گیا تو بڑا تصادم ہوسکتا ہے۔
مفتی شاہ حسین گردیزی نے حدیث لکھی کہ ”معاملہ نااہلوں کے سپردہوجائے تو پھر ساعہ کا انتظار کیا جائے”۔ ساعة سے مراد قیامت نہیں بلکہ دنیا میں دوبارہ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام کی خوشخبری بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ، مودی، عمران خان اور دنیا بھر کے موجودہ حکمرانوں پر تاریخ کے بدترین نااہلی کا گمان نہیں یقین ہے اور اس سے بڑی نااہلی کیا ہے کہ عمران خان کرپشن کیخلاف آیااور کہتا ہے کہ حکومت نے ناجائز سبسڈی دی اور ذمہ دار حکومت سے باہر جہانگیرترین ہے جس نے جہاز بھر بھرکر لوٹوں کے ذریعے لوٹوں کی مخالفت کرنے والے کی حکومت قائم کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان، ٹرمپ کے دور میں امریکہ جل رہاہے اور سعودی عرب بدترین کرائسس میں ہے۔ایران نے جہاز گرانے کے بعد حقائق کا انکار کیا پھر اعتراف بھی کرلیا۔ یہ حکمرانوں کی نااہلی کی انتہاء ہے جو دنیا پر مسلط ہیں۔
قرآن میں باربار پڑھی جانے والی سات آیات پر مشتمل سورۂ فاتحہ اور قرآن کا خاص طور پر ذکر ہے۔ بعض مصاحف میں فاتحہ کی آیات کے نمبر دینے سے اجتناب کیا گیا ہے اور بعض میں آیت کے گول نشانOکے بغیر ہی غلط نمبر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ ایک گول نشان کااضافہ کرنے کی جرأت بھی کسی سے نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے کہ 114سورتوں میں صرف ایک توبہ کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں ہے تو کسی نے جرأت نہیں کی ہے کہ اسکا اضافہ کردیتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح سورتوں کے اپنے نام ہیں،اسی طرح عام زباں میں سورہ کی ابتدائی آیت سے مراد بھی وہی سورت لی جاتی ہے۔ جیسے سورة الاخلاص اور قل ھواللہ احد سے مراد ایک ہی سورت ہے۔ چونکہ بسم اللہ سورتوں کے آغاز میں موجود ہے اسلئے بسم اللہ کو چھوڑ کر بعض روایات میں آیا ہے کہ ہم نے نماز کی ابتداء پر الحمدللہ رب العٰلمین سنا ہے جس کا مقصد یہی تھا کہ صحابہ کرام سورۂ فاتحہ سے نمازکا افتتاح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں کم عقل اور متعصب طبقات نے اس کو دوسرا رنگ دیدیا کہ صحابہ بسم اللہ کے بغیر ہی نماز پڑھتے تھے۔پھر اس بحث کو مزید الجھاؤ کا ذریعہ بنادیا گیا کہ کس کے نزدیک بسم اللہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی؟، کس کے نزدیک فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں؟۔ کس کے نزدیک دونوں کی گنجائش ہے؟۔ پھر یہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنادیا گیا کہ امام شافعی کے نزدیک بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا حصہ ہے اور امام مالک کے نزدیک قرآن کا حصہ بھی نہیں ہے۔ احناف کے نزدیک اصل اور درست بات یہی ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اگر قرآن کی کسی آیت پر شک کیا جائے تو بندہ کافر بن جائیگا مگر بسم اللہ پر شک کرنے یا اس کا انکار کرنے سے کوئی کافر نہیں بنتا۔ بریلوی دیوبندی نصابِ تعلیم کی کتابوں ”نوالانوار” اور ” توضیح تلویح” میں یہی تعلیم دی جارہی ہے۔
پڑھایا جاتاہے کہ کتابت کی صورت میں قرآن نہیںاور فقہ وفتوے کی کتابوں میں مسائل ہیں کہ قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا اور سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن امتحان میں ناکامی کی وجہ سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی چھوڑ کر گئے تھے اور بفضل تعالیٰ مجھے پہلے سال کے ابتدائی مہینوں میں علم الصرف اور قرآن کی کتابت پر بحث کرنے میں ایک معتبرمفتی کو بدترین شکست دینے کی وجہ سے علامہ تفتازانی کا خطاب مل گیا تھا۔
علماء ومشائخ سب کے سب نیک وصالح ضرور گزرے ہیں اور مجھے عربی کے اس شعر کو دل سے بہت عقیدت کیساتھ گنگنانے میں بڑا زبردست لطف آتا ہے۔
احب صالحین ولست منھم لعل اللہ یرزقنی صلاحا
ترجمہ:” میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں مگر خود ان میں سے نہیں ہوںشاید کہ اللہ تعالی ان سے اس محبت کی برکت سے میری بھی اصلاح فرمادے”۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا بذکراللہ تطمئن القلوب ” خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے”۔ آیت کے سیاق وسباق میں واضح ہے کہ یہاں آیت میں ”ذکر”سے مراد قرآن پاک ہے۔ کافروں کو اعتراض تھا کہ اللہ کی آیات ہمارے لئے اطمینان بخش نہیں اسلئے دوسری آیات نازل ہونی چاہییں۔ انکے جواب میں اللہ نے ایمان والوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ آیات سے مطمئن ہیں۔
ہم نے علماء وصوفیا کی زباں سے سن کر یقین کرلیا کہ ذکرکے وظائف مراد ہیں اور اس پر کسی دور میںخوب عمل بھی کیا بلکہ ہماری وجہ سے طلبہ اور علماء میں تصوف ہی کے ذریعے دینداری کی ایک نئی لت بھی پڑگئی۔تصوف اور تشدد دونوں کو بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم بفضل تعالیٰ میں نے ہر میدان میں عتیق ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ جب ہماری خانقاہ کے علماء ومشائخ تصوف کی دنیا میں مست تھے تو ہم نے ان کو جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست سکھائی اور جب ہمارے شیخ حاجی عثمان پر فتوے لگے تو بڑے بڑے علماء ومشائخ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے تھے اور ہم نے طوفانوں کارخ بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگائی تھی۔
طوفان کررہاتھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے
جب مجاہدین امریکہ کیلئے لڑبھی رہے تھے اور شکایت بھی تھی تو ان کو خلافت کے راستے سے ہم نے پہلی بار آشنا کیا تھا۔ تصویر کو ناجائز سمجھا تو ایک دنیا کو اس کا مخالف بنادیا اور جب بات کھل گئی تو لگی لپٹی کے بغیر نام نہاد مفتیان اعظم کا پول کھولنے میں کوئی دیر نہیں لگائی ۔ نتیجے میں تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے جو لاؤڈاسپیکر پر نمازو آذان دینے کے قائل نہیں تھے،سرِ عام ویڈیو کے ذریعے اپنے بِلوں سے باہر آگئے۔ وہ پختون اور علماء جو کسی کو بھی مہدی کا نام لینے پر قتل کرتے تھے ،کسی حدتک پختون قبیلے کے ملاعمرسے بھی خراسان کے مہدی کا گمان کرنے لگے۔
مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے ” مہدی منتظر” پر کتاب لکھی۔ اپنے سے بڑا نام مولانا بنوری کا لکھ دیا ، دور سے لگتاہے کہ مولانا بنوری کی کوئی کتاب ہے۔ جس میں تفصیل سے مہدی کی حکومت قائم ہونے کے بعد کئی شخصیات اور انقلابات کا ذکر ہے۔ پھر ان کے بعد منصور کا ذکر ہے اور اس کو بھی مہدی قرار دیا گیا ہے۔ موصوف نے تمام تفصیلات کا ذکر کرنے کے باوجود لکھ دیا کہ ”ملاعمر وہی منصور تھا”۔ جب وہ مہدی آیا ہے اور نہ اسکے بعد انقلابات آئے ہیں تو پھر منصور کیسے آگیا؟۔
پاکستان میں نظام ہے، عدالت ہے، ریاست ہے، میڈیا ہے، حکومت اورعلماء ہیںبلکہ اب تو ایک سوشل میڈیاکا بھی بہت بڑا کردار ہے۔اپنا مثبت پیغام عوام تک اور اہل اقتدار تک پہنچانا بہت آسان ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے بارہ خلفاء کا ذکر احادیث کے حوالے سے کیا ہے اور لکھ دیا ہے کہ ابھی تک یہ بارہ خلفاء نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا اور یہ سب قریش سے ہونگے۔ حضرت علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف (مرشد سیدعطاء اللہ شاہ بخاری) نے اپنی تصنیف ”تصفیہ ما بین شیعہ وسنی” میں لکھ دیا ہے کہ ”یہ بارہ خلفاء ابھی تک نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا”۔ ہم نے نقشِ انقلاب، اخباراور کتابوں میں حدیث صحیحہ کا نقشہ بھرپور طریقے سے واضح کیا جس کی تمام مکاتب کی معروف شخصیات نے بھرپور حمایت کی، ڈاکٹر اسرار، پروفیسر غفور،جے یوآئی کے امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف، علامہ طالب جوہری ، مولانا عبدالرحمن سلفی اور اتحادا لعلماء کے مولانا عبدالرؤف۔
کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز” میں سینکڑوں علماء کی تائیدات تھیں۔میرے استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالیٰ نے لکھا کہ ” اسلام کی نشاة ثانیہ والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھنا ہوگا کہ اس امت کی اصلاح اسی طرح سے ہی ہوسکتی ہے جس طرح اس کی ابتداء میں اصلاح ہوئی تھی یعنی پہلے تعلیم تربیت اور پھر نظام کی طرف آنا ہوگا” ۔ مولانا فضل الرحمن کی نوشہرہ دیوبند کا نفرنس میں امام کعبہ کی آمد پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے بھی عربی میں خیر سگالی کے کلمات کہے تھے اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے بھی کلمات کہے تھے۔ دونوں کی عربی ، علم واستعداد اور لہجے اور قابلیت کا اندازہ اس مختصر آزمائش سے لگایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالی نے عربی کی تقریر میں پاکستان ، پاکستانیوں کی لاج رکھ لی اور مفتی تقی عثمانی کو مولانافضل الرحمن نے شاید اپنے باپ کا بدلہ لینے کیلئے سب کے سامنے ایکسپوز کردیا تھا۔بالکل جاہل پختون اس سے زیادہ اچھی اردو بول لیتے ہیں جو ایک عالم فاضل عربی بول رہا تھا۔
کچھ تو مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة اور بینکاری کے نظام کیلئے خالصتاًمفاد کی خاطر بھی اپنے فتوے دئیے ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ بھی لگتاہے کہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہاہے جس کے ہمارے پاس دستاویزی ثبوت بھی ہیںاور ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بڑا نالائق ہے۔ قرآن کے ترجمے کی جو ریڑ ھ ماری ہے اور جو تفسیر لکھی ہے تو اس سے اسکی نالائقی پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔ جب بھی ان سے سنجیدہ رابطے کی کوشش کی ہے تو انکار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم انکے خلاف بول نہیں سکتے۔ ہماری تحریرات میں لٹھ مار کی کیفیت نمایاں ہے لیکن انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور ہمارے پاس ان کی بہت کمزوریاں ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ہمارے مرشد حاجی عثمان نے شدید مخالفت کے دور میں ہمارے ساتھیوں کا کوڈ نام رکھا تھا، میرا نام ڈنڈے مار رکھا تھا۔ مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے مہدی کے حوالے سے جو کتاب میں پاکستان کے ڈنڈے والی سرکار کی طرف سے کردار کا ذکر کیا ہے۔اگر پاکستان کے اصحاب حل وعقد ہمیں کوئی کردار دیں تو پھر وہ دن دور نہیں کہ قرآن وسنت اور پاکستان کے جمہوری آئین کی مدد سے دنیا بھرمیں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائیگا۔ علامہ اقبال کی شاعری کو پھر ہر پاکستانی گائے گا۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے تو فیق
مولانا ابوالکلام آزاد نے حضرت علی ، حسن علیہ السلام اور فاطمہ علیہا السلام لکھ دیا تو کل مولانا آزاد پر شیعہ کی طرف راغب ہونے کا فتویٰ لگ سکتا ہے اور صحیح بخاری کو بھی اسی بنیاد پر شیعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرزائی، شیعہ بریلوی کا فتویٰ لگانے والے اس بات کو سمجھ لیں کہ ختم نبوت اور سپاہ صحابہ کے مرکزی قائدین بھی ہمارے شانہ بشانہ ہونگے۔ صرف اس سے بھی قادیانی اور شیعہ پر بڑی زد پڑتی ہے کہ احادیث صحیحہ میں بارہ خلفاء قریش میں آئندہ ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کا تعلق حنفی مسلک سے ہے اورمذہبی تعلیمی نصاب” درسِ نظامی ” دونوں کا ایک ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھ دیا ہے کہ ”سندھ ، بلوچستان، پنجاب، فرنٹئیر(پختونخواہ) ، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز یہی خطہ ہے ۔اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئے تو ہم اس سے دستبردار نہ ہونگے۔ حنفی مسلک کے بنیادی اصول قرآن کی طرف رجوع سے یہ انقلاب آئیگا۔ ایران کے شیعہ بھی اس کو قبول کرینگے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ حنفی مسلک کے علاوہ یہاں کے لوگ کسی بات کو قبول نہیں کرینگے”۔ مولانا سندھی کی تحریر قرآن کی آخری پارے کی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی روشنی میں ہے اور اتفاق کی بات یہ کہ مولانا سندھی مسلم لیگ کے نہیں کانگریس کے رکن تھے اور ان کا کسی ایک خطے اور قوم پر توجہ دیکر قرآنی انقلاب برپا کرنے کی تحریک پاکستان سے پوری ہوسکتی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو بھی مسلم اکثریت والے علاقوں میں ہم قرآنی انقلاب برپا کرکے ہندوستان بلکہ دنیا کو جہالتوں کے اندھیروں سے نکال سکتے تھے۔ اسلام نفرتوں اور تعصبات کا خاتمہ کرکے انسانی بنیادوں پر انقلاب کا داعی ہے لیکن سرکاری مولوی حضرات ہمیشہ دوسروں کے آلۂ کار بن کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اسٹیبلشمنٹ کے پیداوار نوازشریف کی چشم وچراغ مریم صفدر نواز کے پیروں کے ناخن پر منظور پشتین کو قربان کردیں گے اور قوم پرستوں اور ملاؤں نے ہی اسلام، جمہوریت اور اپنی قوم کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت تھی، جہاں پختونوں اور اسلام کا اقتدار قائم ہوتا مگر قوم پرستوں اور ملاؤں نے مل کر عطاء اللہ مینگل کووزیراعلیٰ بنادیا تھا اور صوبہ سرحد میں قوم پرستوں کی اکثریت تھی مگر مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔ یہ لوگ نہ تو جمہوری ہیں ، نہ قوم پرست ہیں اور نہ اسلام کے وفادار بلکہ پرائے گو پر پادمارکر شرم بھی نہیں کھاتے ہیں۔ قوم ،وطن اور اسلام سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے لیکن اس سے بھی کوئی بڑی منافقت نہیں کہ پہلے ہندوستان کو اسلام کے نام پر دولخت کردیا کہ وطن سے محبت بولہبی ہے پھر اسلام کو وطن پر قربان کیا کہ سب سے پہلے پاکستان۔
دَ خپلے خاورے لُٹے وی کہ کانڑی
ما تہ خکاری د جنت د گلو پانڑی
مرگ پہ ژوند زما لہ چا گلہ نشتہ
کہ دے نہ کرل غنم بیا بے وانڑی
جناور ڈیر دی خو یو سپیی بل خر
پریدہ کہ سوک غاپی کہ سوک ہانڑی
د اللہ سرہ د بندگانو سہ کمی دہ؟
پہ خپل فضل زمونگ قام چھانڑی
اصلی خبرہ د تقویٰ و دکردار دہ
بے خوی سید نہ اعلیٰ یو خہ کٹانڑی
چرتہ ابولہب وابوجہل چرتہ بلال
داسے قریش نہ خلق حبشی خہ گانڑی
وینہ د پلار آدم، مینہ د مور حواء دہ
کزشہ دے تعصب لہ بالا مانڑی
پنجاپی تہ ولے وای تور شاہین
پختون دے پڑے کڑو د زانڑی
ملا پہ خپل جنت ھم اُور لگہ وی
کہ مومی بُٹی د اخزی او لانڑی
دَ وران نصاب کہ اصلاح اُو نہ شوہ
نو ورک بہ شئی د جماعت ملوانڑی
داہل حق دتاریخ بدلہ مے واخستہ
دفتوے ماہر بربنڈ دی تنڑپتانڑی
دانقلاب پہ کنڑ غرب بہ زر پوہ شے
ماگڑدولی دی دکفر ڈیر چپانڑی
عتیق ستانہ غٹ غٹ شیخان زغلی
تہ کارمہ لرہ پہ چنڑی چانڑی
” اپنی مٹی کے ڈھیلے ہوں یا پتھر، مجھے جنت کے پھولوں کے پتے دکھتے ہیں۔ موت و زندگی پرمیرا کسی سے گلہ نہیں، اگر گندم بوؤ نہیں تو پیسوگے۔ جانور دنیا میں بہت ہیںایک گدھا،دوسرا گھوڑا،چھوڑدو کوئی بھونکے یا کوئی ڈھینچو ڈھینچو کرے۔ زمین پر اچھے بندوں کی کیاکمی مگر اللہ نے فضل سے ہماری قوم کا انتخاب کیا۔ اصلی بات تقویٰ وکردار کی ہے، بد خصلت سید سے اعلیٰ وارفع اچھا خانہ بدوش ہے۔ خون باپ آدم کا محبت ماںحواء کی ہے، اُتروتعصب کے بلند مورچہ سے۔ پنجابی کو کیوں کہتے ہو کالے شاہین، پختونوں کو بنادیاہے کونجوں کی رسی۔ملا پھر اپنی جنت کو بھی آگ لگاتا ہے، اگر اسے کانٹے دارجھاڑیاں یا لائیاں مل جائیں ۔بگڑے نصاب کی اگر اصلاح نہ کی تو مسجدکے ملوانڑے( مُلے) صفحہ ہستی سے غائب ہونگے۔میں نے اہل حق کی تاریخ کا بدلہ چکادیا، فتوے کے ماہر ننگے تتر بتر ہوگئے ہیں۔انقلاب کی گھن گرج کو جلد سمجھ جاؤگے، میں نے کفر کے کافی چیتھڑے اُڑادئے ہیں۔ عتیق تم سے بڑے بڑے شیخ علماء بھاگتے ہیں،آپ غرض نہ رکھو ،ان طلبہ ملبہ سے”۔
جب خان عبدالغفار خان ، عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے گاندھی ، نہرو اور سردار پٹیل سے نہ صرف محبت رکھی بلکہ افغانستان کو چھوڑ کر بھارت کیساتھ متحدہ ایک ہندوستانی قومیت کا راگ الاپا توہم سندھی، بلوچ اور پنجابیوں سے پختونوں کو کیسے جدا کرسکتے ہیں؟۔ جمعیت علماء اسلام کو ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کابھارت میں سیکولر اسلام پسند ہے تو پاکستان طالب زدہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ ہم تو وہ ہیں کہ اپنے وطن کے ڈھیلوں اور پتھروں کو بھی جنت کے پھولوں کی پتیاں سمجھتے ہیں۔ جس طرح نوح علیہ السلام کی بیٹے کنعان اور ابراہیم علیہ السلام کی باپ آذر سے محبت فطرت کا تقاضہ تھی اسی طرح اپنے قبیلے، شہر، علاقے، ملک اور براعظم سے محبت فطرت کا تقاضا ہے۔جب عقیدے اور نظرئیے میں دورنگی آتی ہے تو پھر ہمیشہ انسان قوتِ پرواز سے محروم رہتا ہے۔ منافق ادھر کا رہتاہے اور نہ ہی ادھر کا۔ لا الی ھا اولاء ولا الی ھا اولاء وابتغ بین ذٰلک سبیل ” نہ وہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ ادھر کے ،دونوں کے بیچ میں راستہ تلاش کرتے پھرتے ہیں”۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے مسلک کی بنیاد پر جو اصولِ فقہ کی تعلیم دی جارہی ہے تو اس کی بنیادی روح یہ ہے کہ قرآن کی واضح آیات کے مقابلہ میں احادیث صحیحہ کو بھی بالکل رد کردیا جائے، کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہیں ہوسکتی ہے اور اگر حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو پھر میرے مسلک کو دیوار پر دے مارا جائے۔ جو حدیث صحیحہ ہی میرا مذہب ہے۔ علامہ اقبال نے ہندوستان کے بارے میں کہا تھا کہ ”میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے یعنی ہندوستان” مگر اپنے مؤقف سے پھر رجوع کرلیا تھا۔ امام ابوحنیفہ اپنے مؤقف پر ڈٹے تھے۔ احناف کا سب سے اچھا اور اہم اصول یہ بھی ہے کہ ضعیف احادیث میں تضاد ہوتو بھی رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تطبیق دی جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلکِ حنفی کے نام پر قرآن کو بھی تضادات کا مجموعہ بنادیا گیا اور یہ سب جہالتوں کا ہی نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا کی قید سے رہائی پائی تھی تو امت کے زوال کے دواسباب بتائے ،قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی۔ مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان نے لکھا کہ ” فرقہ پرستی بھی قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا کہ ” ہم نے مسلکوں کی وکالت کرتے ہوئے اپنی زندگی ضائع کردی، قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے”۔ جنہوں نے زندگی بھر درسِ نظامی کی خدمت کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا وہ نصابِ تعلیم کو سمجھتے تھے کہ اس کا کیا کردار ہے؟مگر جن نالائق در نالائق در نالائقوں نے اس کواپنا سہل ذریعہ معاش سمجھ رکھا ہے انکے دل میں نہیں بلکہ پیٹ کی اوجھ اور دماغ کی رگ میں درد اُٹھ رہاہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی عصر حاضر میں مساجد کے علماء و مقتدی اور مدارس کے مفتیان اپنا حال دیکھ سکتے ہیں۔ سیاسی مذہبی علماء اور مذہبی لبادے والے فرقے ، جماعتیں اور تنظیموں کو اپنا عکس دکھائی دے سکتا ہے۔ سود کو حلال کرنے کیلئے تقلید کی بھی ضرورت نہیں ہے اور باقی ہر اس کام میں تقلید کی ضرورت ہے جن کو سود کی طرح مختلف ادوار حیلے باز اور سرکاری ملاؤں نے بدل ڈالا تھا۔ احادیث میں تو مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیاگیا ہے اور امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا مزارعت کے ناجائز اور سود ہونے پر اتفاق تھا مگر جنہوںنے اس حکم کو بدل ڈالا تھا تقلید ان حیلہ سازوں کی ہورہی ہے جن کا مسلک سرکار کی سرپرستی کیوجہ سے ہر دور میں سکہ رائج الوقت رہا ہے۔ مفتی محمود سے مولانا فضل الرحمن تک اور مفتی زرولی خان،مولانا سلیم اللہ خان ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور پاکستان کے مدارس نے مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کی طرف سے پہلے زکوٰة اور سودی بینکاری پر کسی کی بات نہیں مانی لیکن سکہ رائج الوقت سرکارکی سرپرستی کی وجہ سے عثمانی برادران ہی رہے ہیں۔ آنیوالے دور میں تاریخ کے تمام سرکاری مرغوںشیخ الاسلاموں کی طرح مفتی تقی عثمانی اور انکے فرزندوں کا ہی نام رہے گا۔ مولانا آزاد کی کتاب” تذکرہ” میں شیخ الاسلاموں کی اہل حق کے خلاف حقائق کی تاریخ پڑھ سکتے ہیں لیکن اس دور کے شیخ الاسلام کچھ کچھ قابلیت بھی رکھتے تھے اور حکومت نے باقاعدہ ان کو عہدے کا اہل سمجھ کر شیخ الاسلام کا منصب سونپا ہوتا تھا۔ یہ لوگ تو اپنے آپ ہی شیخ الاسلام بنے پھرتے ہیں۔ ان سے کوئی اپنا پوچھ ہی لے کہ بھیا شیخ الاسلام کس نے بنایا ہے؟۔
پہلی بات یہ ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث میں کوئی تضاد نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے علاوہ تمام صحابہ میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کا مسلک درست تھا اور چوتھی بات یہ ہے کہ طلاق وحلالہ کے حوالے سے درسِ نظامی کی تعلیم کا تقاضہ یہی ہے کہ باہمی صلح کی بنیاد پر معروف طریقے سے عدت میں، عدت کی تکمیل پر اور عدت ختم ہونے کے عرصہ بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے اور باہمی صلح اور معروف طریقے کے بغیر عدت کے اندر بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔ جن احکام کو قرآن وسنت و اسلاف نے پیش کیا ان کو غلط رنگ دیا گیا،وہ غیرمسلم کیلئے بھی قابلِ قبول ہیں۔