پاکستان میں اسلامی نظام کی بات سب کرتے ہیں مگر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کے علمبردار مساجد اور مدارس ہیں۔ جس نصاب کو پڑھ کر طالب علم علماء کرام اور مفتیان عظام بنتے ہیں۔ اس نصاب کی خامیاں دور کرکے فرقہ واریت اور قرآن سے دوری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ آج مساجد میں آذان ہے لیکن روحِ بلالی نہیں۔ علماء ہیں مگر روحِ غزالی نہیں۔ حضرت بلال جیسوں کو ابوجہل جیسے گرم ریت پر لٹاکر وزنی پتھر کے نیچے دبا دیتے تھے۔ درباری علماء امام غزالی کی کتابوں کو مصر کے بازاروں میں جلا ڈالتے تھے لیکن آج کوئی انقلاب رہبر نہیں۔ جس کی وجہ سے بلال جیسے لوگوں کو وقت کے ابوجہل ریت پر لٹا دیں اور غزالی جیسے لوگوں کی کتابوں کو شہروں کے بازاروں میں جلا ڈالیں۔میرے ساتھ کچھ ایسا کرنے میں شاید بخل سے کام نہ لیتے مگر گھر جلا کر دیکھ چکے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ بچ گیا ورنہ منافقین اور مخلصین نے کوئی کمی کوتاہی اور کسر نہیں چھوڑی تھی۔
دنیا میں صراط مستقیم وہ ہے جس کی نشاندہی آخرت میں پلِ صراط سے ہوئی۔ دل ودماغ ذرا بھٹک جائے ،ہاتھ پیر کی لغزش سے انسان کھائی میں گر سکتا ہے۔ ڈگمگانے اورچھلانگ لگانے کی ہمہ وقت گنجائش ہے۔ اللہ کے رسول رحمة للعالمین خاتم النبینۖ سے بڑھ کر ہستی کس کی ذات ہے ؟۔ آپۖ بھی پنج وقتہ نماز کے علاوہ راتوں اور دن کے نوافل میں ہر رکعت کے اندر اھدنا الصراط المستقیم ”ہمیں سیدھی راہ پر چلادے”پڑھتے تھے۔یہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی بارگاہ میں دعا ہوتی تھی جو عبادت کا مغز ہے۔ اس کے باجود کبھی وحی نازل ہوتی تھی کہ جس عورت نے آپ کیساتھ اپنے شوہر کی بابت جو مکالمہ کیا تو اللہ نے بیشک سن لیااور وہ اللہ سے شکایت کررہی تھی ، اس کی بات ہی ٹھیک ہے اور مذہب والوں کا فتویٰ غلط ، فطرت اور عقل کے بالکل منافی ہے۔ کبھی وحی نازل ہوتی کہ نبیۖ کیلئے مناسب نہیں تھا یہاں تک کہ خوب خون بہاتے اور تم لوگ دنیا چاہتے اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ یہ غزوہ بدر کے بعد وحی نازل ہوئی تھی۔ پھرغزوہ احد کے بعد وحی نازل ہوئی کہ ” کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ” اور یہ کہ ”جتنا انہوں نے کیا ہے تم بھی اتنا ہی کرسکتے ہو۔ اگر معاف کردو،تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور معاف ہی کردو، اور معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں”۔
طالبان چوتڑ تک زنانہ بال رکھ کر دوسروں پر خود کش کرتے تھے اور جب ان کو مولانا فضل الرحمن نے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تو میڈیا نے پابندیوں یا خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیا اور آج مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو اور مریم نواز کی موجودگی میں پریس کانفرنس کررہے ہیں لیکن محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل کو وہاں سے شاید چلتا کردیا گیا ہے۔ سیاسی جلسوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے لیکن اس جلسے میں محمود خان اچکزئی اور اختر جان مینگل نے انقلاب اور پاک فوج کے مظالم کی نشاندہی کی تھی اور جلسے کی اہمیت بھی اسلئے تھی۔ اسلامی انقلاب کا نعرہ سب نے لگایاتھا لیکن اسلامی انقلاب کیلئے ایک دونکتے بھی بیان نہیں کئے۔ جس طرح ہمارا ملک پاکستان اسلام اور لاالہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا لیکن بعد میں انگریز کی باقیات پر چلتا رہا ، اسی طرح سے سیاسی جماعتوں کے مفادات کیلئے اسلامی انقلاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے بنیادی نکات کا تعارف ضروری ہے۔
اسلام آزادی کا درس دیتا ہے۔ دین میں بھی زبردستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عبادات میں بھی خوشی اور مرضی کا معاملہ ہے۔ غسل ،وضو اور نماز کے فرائض سے لیکر موجودہ سودی نظام تک کو اسلام کا نام دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب صحابہ نے من گھڑت فرائض اور عبادات پر سزاؤں کا کوئی تصوررکھا تھا تو بعد کے فقہاء کو نئے اسلام بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار مختلف آیات میں طلاق سے رجوع کی بنیاد میاں بیوی میں معروف طریقے سے صلح اور باہمی رضامندی ہی کو قرار دیا ہے لیکن مولوی نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کا بیڑہ غرق کررکھا ہے۔
حضرت آدم و حواء نے جنت میں شجرہ نسب کی ممانعت سے پرہیز نہیں کیا تو جنت سے نکالے گئے۔ جس کی وجہ سے قابیل کا حمل ٹھہر گیا اور قابیل نے خون کیا۔ اسلام نے لونڈی اور غلام سے نکاح کا تصور دیکر جبری نظام کی بنیاد ختم کردی تھی اور نکاح وایگریمنٹ کے ذریعے سے نسلِ انسانی کو تحفظ دیا تھا۔ زنا کے قریب جانے سے روکا ہے اور حضرت علی نے فرمایا کہ ”متعہ حج اور متعہ النساء پر حضرت عمر پابندی نہیں لگاسکتے تھے۔ جب نبیۖ نے ان کو جائز قرار دیا تھا”۔ متعہ حج پرپابندی کی بات اسلئے درست تھی کہ جاہل عوام بدبودار پسینے میں شرابور ہوکر حج کی فضاء کو متعفن بنارہے تھے اور متعہ النساء پر پابندی اسلئے درست تھی کہ کم سن بچیوں کو متعہ النساء کے نام پر شکار کیا جاتا تھا اور اپنی اولاد سے بھی انکار کیا جاتا تھا۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ”اگر حضرت عمر متعہ النساء پر پابندی نہ لگاتے تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بہت بڑا کم بخت”۔ حضرت علی کی بات بالکل درست اسلئے تھی کہ جنت میں بی بی حواء اور حضرت آدم نے بھی اس شجرہ ممنوعہ سے پرہیز نہیں کیا تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ” ہم نے اپنے اختیار سے یہ غلطی نہیں کی ہے”۔ بھوک اور پیاس پر قابو پانا آسان ہے لیکن شہوانی جذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی اور اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔ جدید ترقی سے گوشت کا کولڈ اسٹوریج کی وجہ سے خراب نہ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا بار بار تباہی کا شکار ہورہی تھی ورنہ تو دنیا بہت پہلے ترقی کرچکی ہوتی۔
آج جبری زنا اور غربت کی وجہ سے اسلامی ممالک کاحال بدکاری میں زیادہ برا ہے۔ اسلام کی غلط تعبیرات کی وجہ سے ایران کا متعہ اور سعودی عرب کا مسیار وبالِ جان ہے۔ پاکستان میں ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس بلائی جائے اور اسلام کی تعلیمات اور اسکے نتائج دنیا اور عوام کے سامنے لائے جائیں تو ہم آنے والی مشکل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔پولیس، عدلیہ اور پارلیمنٹ کا موجودہ نظام بدلنے کی بہت ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندوں کی نہیں پیسوں کے نمائندوں کی حکومت ہوتی ہے۔ جس طرح اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کا جواز نہیں اسی طرح جو اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار لیڈر شپ اور حرام کے پیسوں سے جینے والے سیاستدان ہیں ان کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہت اچھا ڈرامہ ہے کہ ملک سے باہر بیوی بچوں کے نام پر رشوت لی جاتی ہے اور ان کا سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جن جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹوں ، سیاستدانوں، تاجروں اور عوام کے کسی بھی طبقے کے بال بچے باہر ہوں ،وہ ملک کی پالیسیوں اور انتظام میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہیں۔ ان کی تمام مراعات بھی واپس لی جائیں۔ اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی ان کیلئے غیر قانونی قرار دی جائے۔ مرتکب لوگوں کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کردی جائے۔ اگر اسلامی مزارعت ہوتی تو جاگیردارانہ نظام اور غلامانہ ذہنیت بالکل ختم ہوجاتی۔ دنیا میں یہود کے سودی نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے سور کا نام دنبہ رکھنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ اسلامی نظام کو اپنی روح کے مطابق لانا ہوگا۔ یورپ ، روس اور ہندوستان سمیت ایک نئے نظام کی تشکیل سے دنیا میں ایک زبردست اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button