پاکستان میں بیلٹ کی سیاست کو بُلٹ سے جدانہ کیا تو منافقت کی انتہاء ہوگی

48
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس سینیٹ کے چیئرمین کیلئے کھلی دھاندلی قابلِ قبول تھی ،جس سینیٹ کے ارکان کھلی دھاندلی سے پہلے ہی منتخب ہوکر آئے، جس قومی وصوبائی الیکشن میں قانون سے زیادہ رقم خرچ کرکے الیکشن جیتا تو بحث خوش آئند ہے؟

جس ملک کی عدلیہ الیکشن کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، فوج کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، پٹواری کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو اور الیکشن کمیشن بھی بالکل بے بس ہو!

جہاں سیاسی جماعتیں غنڈے استعمال کرتی ہوں، جہاں ریاست کے خلاف غنڈہ گردی کرنے والے اقتدار اور اپوزیشن میں قابلِ اعتماد ہوں، کوئی عدلیہ پر کوئی پی ٹی وی (PTV)پر چڑھ دوڑے!

پاکستان ایک ایسا خوش بخت لیکن بہت بڑا کم بخت ملک ہے کہ جو ایک طرف اپنے مصورعلامہ اقبال کے انقلابی اشعار کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے جس میں انقلاب کی تبدیلی آجائے تو یہ چار سو بدل جائے۔ تیری دعا ہے کہ دنیا بدل جائے، میری دعا ہے کہ تُو بدل جائے۔ اگر تیری ذات بدل جائے تو کیا عجب کہ چارسو بدل جائے۔ دوسری طرف بڑاکم بخت اس لئے ہے کہ ”مجموعۂ اضداد ہے اقبال نہیں ہے” کی طرح تضادات ہی تضادات کا وہ مجموعہ ہے کہ اس عجیب الخلقت قسم کے ملک کی مثال انسانی ہی نہیں حیوانی تاریخ میں بھی نہیں ملے گی اور حیوانی اسلئے کہ جہاں طاقت کا قانون ہوتا ہے وہاں جنگل کے جانور ہی کا قانون ہے۔ جبکہ ایسے ممالک بھی ہیں کہ جہاں قانون کی جگہ طاقت کی حکمرانی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی کو اسلام اور طاقت کی حکمرانی کو کفر قرار دیا جائے تو بیچ کی حکمرانی کی مثال اس منافقت سے پوری طرح مماثلت رکھتی ہے جسکے انجام کو قرآن ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ” منافقین کاا نجام آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوگا” قرار دیا ہے۔

ہم خوش قسمت قوم اسلئے ہیں کہ” رنگ بدلتا ہے آسماںکیسے کیسے” کی وجہ سے ہمارے قومی شعور میں بہت تیزی کیساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی اور زبردست اضافہ ہورہاہے۔ وہ دیکھو ! سینیٹ کا چیئرمین جناب صادق سنجرانی کے سرپر بخت کا نایاب پرندہ ہما بیٹھ گیا۔ جس شخص میں مجھے نہیں پتہ کہ یونین کونسل اور ضلعی کونسل سے لیکر صوبائی وقومی اسمبلی کی کوئی نشست جیتنے کی صلاحیت تھی یا نہیں؟۔ لیکن چیئرمین سینیٹ بننے کی صلاحیت ہرگز بھی نہیں تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں بلوچستان حکومت سے تبدیلی کا آغاز ہونا شروع ہوا تو بڑا واضح ماحول دیکھنے میں آیا کہ تحریک انصاف کے عمران خان، جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری تثلیث کا مقدس زوایہ بناکر پاکستان میں بلٹ کی میگزین صاف کرکے چمکا رہے ہیں اور بلوچستان کی حکومت پر جمہوری رنگ بُلٹ سے فائر کرکے عوامی نمائندوں کی محبوبہ امن کی فاختہ کو زخمی کرکے چاروں شانے چت زمین پر ڈھا رہے ہیں۔ اس فاختہ کا ایک پَر بلوچستان کی قوم پرست جماعت تھی جسکا وزیراعلیٰ انتہائی اچھے سیاسی کارکن اور شریف آدمی عبدالمالک بلوچ تھے۔ جسکے دوسرے ساتھی ان سے بھی شریف اور شریف زادے میرحاصل خان بزنجو تھے۔ جمہوری فاختہ کے دوسرے پَر مسلم لیگ ن کے ثناء اللہ زہری تھے۔ اس فاختہ کے دل کی دھڑکن اور پروں کی پھڑکن کا اہم ترین حصہ ملی پشتون خوا عوامی نیشنل پارٹی کے محمود خان اچکزئی تھے جنکا بھائی گورنر تھا ۔

بلوچستان میں جمہوریت کی تثلیث کی مقدس گائے کو صلیب پر چڑھانے کے بعد تبدیلی سرکار کے بلٹ پروف عمران خانیہ اینڈ آصف زرداریہ نے باہمی اتفاق رائے اور بغل میں بغل بانہوں میں باہیں ڈال کر صادق سنجرانی کو چیئرمین بنادیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس الیکشن کے دوران جماعت اسلامی کے معزز رکن کو ایوان سینٹ ہی میں گلہ دبوچنے کی کاروائی بھی کر ڈالی۔ خیر زیادہ دلچسپ معاملات کے باوجود طوالت کے خوف سے قصہ مختصر یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کے بلٹ میں اقتدار کا نشہ بھی شامل ہوگیا، جب اپوزیشن کے بلٹ میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا اتنا بڑا جادو تھا تو اقتدار میں آنے کے بعد اس میں کس قدر اضافہ ہوگا؟۔ اپوزیشن کی واضح اکثریت نے بلٹ پروف چیئرمین کو چیلنج کرنا شروع کیا تو امجد شعیب سمیت تمام دفاعی تجزیہ نگاروں کی یہی متفقہ رائے تھی کہ ”خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں”۔ دیکھنا نتائج جمہوریت کے برعکس بلٹ اور بلٹ پروف والوں کے حق میں سوفیصد آئیں گے۔جب نتیجہ آیا تو

دنیا ہوئی حیران یہ کیسا پاکستان ہے یہ کیسا پاکستان؟۔ بلٹ کے زور پر یہ چلتا ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ تیراپاکستان ۔ یہ اسلام کی پہچان ہے ، یہ اوریا مقبول جان ہے۔ بڑی شدت اس کا نشان ہے ، یہ منافقت کا قبرستان ہے۔ منافق یہاں بڑا مسلمان ہے۔یہاں جمہوریت کا دسترخوان ہے ، یہاں ڈکٹیٹر شپ کا یہ پکوان ہے۔ یہاں سیاست کا خاندان ہے ، یہاں متبادل نظام طالبان ہے۔ کوئی بندہ رحمان ہے ،کوئی بندہ شیطان ہے۔ یہاں گیٹ نمبرچار (4)کی داستان ہے۔ یہاں پیٹ نمبرون کا ایک گمان ہے۔

ایک دن میں ایک سے چار چار ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرنے والے صابر شاکر اور عمران خان ایک طرف فوجی حکام کی جانب سے وارننگ دیتے ہیں کہ خبردار اگر بلٹ والے کو بلٹ پروف سیاست میں ملوث کیا تو خیر نہیں ہوگی،تو دوسری طرف یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ فوج سے فلاں فلاں کے رابطے ہیں، فلاں فلاں نے معافی تلافی کردی۔ سوشل میڈیا کے اینکرپرسن جس انداز میں گھن گرج سے آسمانی بجلیاں گراتے ہیں اس کی چمک اور احساس ان کو بالکل واضح طور پر ہوجاتا ہے جو بالکل اندھے بہرے نہ ہوں۔ یہ سوشل میڈیا کے کارندے پرانی گاڑیوں سے دھویں چھوڑنے کی طرح ماحولیاتی آلودگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اندھوں بہروں کو بلٹ اور لاٹھی سرکار سے ڈرا دھماکر منہ کالا کرنے والے سیاہ دھویں اور کان پھاڑنے والی آواز کو بارانِ رحمت اور باد صبا کہنے پر مجبور کرنے کی بہتیری کوشش بھی کرتے ہیں۔خدارا ، عقل کے ان اندھوں اور فکر کے ان بہروں کو سرِ عام معافی دے دی جائے۔ ان کے سننے اور بولنے سے ملک کے مفادِ عامہ کا کوئی کام ہونے کے بجائے اچھے خاصے باشعور لوگوں کو مزید بگڑنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ مکھی بننے والے سے یہ کیا کہنا کہ تیری دُم بہت اچھی لگ رہی ہے۔ ماشاء اللہ چشم بدور۔ بس صرف تیری موتی جیسی آنکھوں کی چمک کیساتھ تیرے سر کو اگر سرکارِ ملت نے کلغی سے بھی سجایا ہوتا تو بہت خوب ہوتا۔ کھانے پینے کی کوئی فکر مت کرو ، یہ مرغا بننے کا اعزا ز دنیا میں کسی ملک کو حاصل نہیں ہے یہ بلٹ سرکار کی نذرِ کرم اور پٹھو گرم کا کھیل ہے جو بڑے نصیب والوں کو ملتا ہے۔ مرغا بننے والے کو بات معقول سی اسلئے لگتی ہے کہ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں مرغا بننے سے واقعی بات آگے نکل گئی ہے اور اگر ہماری قوم کی گردن میں جان ہے تو جہاں ہے ،یہ میرا اور آپ کا پاکستان ہے۔

جب پارلیمنٹ کا بلبل نما کبوتر کوئے کی طرح بہت تیزی سے کائیں کائیں کرنا شروع کردیتاہے تو اپنے اپنے گھروں میں ٹی وی دیکھنے والے سامعین کے نوالے ان کے حلق میں اٹکنے لگ جاتے ہیں۔ پھر جب قادر پٹیل شاہین کی طرح جھپٹ کر مراد سعید پر حملہ آور ہوجاتا ہے تو غلطی سے سوشل میڈیا پر کسی خراب سین کے منظرنامے کی طرح دلچسپ لیکن انتہائی شرمناک وارداتیہ بن کرسامنے آتا ہے۔ یہ جمہوریت کا حسن ہے یاپارلیمنٹ کا کوئی بازارِ حسن؟۔ ہمیں تو زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن قارئین کو دلچسپی ہو تو کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایک چیز کی تفصیل مارکیٹ سے مل سکتی ہے ۔ خاص کر اردو بازار لاہور یا کراچی سے۔ مگر اچھا ہے کہ اس دھندے کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کی اہمیت حق مہر عندالطلب جتنی بھی نہیںہے۔فضاؤں میں پرانی گاڑیوں کی آلودگیوں کو موسم بہار کی بارش کون کہہ سکتاہے؟ اور یہ شعر وشاعری اور ادب سے دلچسپی کا باعث مشاہداللہ خان کی وجہ سے پھر بھی تھی!۔وہ بھی اپنی بہادری کے تکلف کے باوجود سیاسی وفاداری سے اپنی صلاحیت کو ضائع کرگئے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم (PDM)کو کمزور کرنے کا سارا الزام ن لیگی میڈیا پیپلزپارٹی پر لگارہاتھا لیکن اب ہم نے جب معاملہ کچھ طشت از بام کردیا تو بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم (PDM) کو بھٹو کی طرح زندہ قرار دیتا ہے اور مریم شریف نے اپنا ٹائر برسٹ کرکے دکھادیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani