پاکستان کے مسائل کا حل اور اہل اقتدار کی ترجیحات وا ہداف

674
0

پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اہل اقتدار کی ترجیحات اور اہداف ہی نہیں ہیں۔ ہمارا سب سے بڑامسئلہ پانی کا ہے، قدرتی پانی کا بہاؤ پاکستان کی عوام کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفہ ہے۔ پینے کا صاف اور میٹھا پانی ہمارے لئے نعمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، کھڑی فصل تباہ اور آبادیاں خانہ بدوشی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، سیلاب ہرسال طوفانِ نوح کا منظر پیش کرتا ہے۔ اللہ کی سب سے بڑی دولت پانی کی نعمت جس سے اللہ نے ہر جاندار چیز کو پیدا کیا ہے، جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں وہ ہمیں دستیاب ہونے کے باوجود طوفان کی طرح بہاکر سمندر کی نذر ہوجاتا ہے لیکن ہم بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں،اگر اہل اقتدار کو عوامی مسائل اور پاکستان کو درپیش چیلنج کی کوئی فکر ہوتی تو پانی کے ذخائز بناکر پاکستانیوں کو کربلائے عصر کی تکلیف سے کوئی تو نجات دلاتا؟۔ اے این پی والوں نے پختون پختون کی رٹ لگاگر مہاجروں میں بھی لسانیت کو ہوا دی، کراچی کو پختونوں کا سب سے بڑا شہر کہنے والوں نے کراچی میں ہی پختونوں کو تعصب کی نذر کردیا۔ حب الوطنی اور قربانیوں کا جذبہ ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ نوشہرہ ہم سے زیادہ فوج کی سرزمین ہے جہاں عام لوگوں سے زیادہ فوجی اداروں کی بہتات ہے،اگر کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ ڈوب بھی جائے تو کراچی کے پختونوں کیلئے اتنی چھوٹی سی قربانی ہم دینگے۔
کراچی، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور پختونوں کے مفاد میں دریائے سندھ پر کالاباغ ہی نہیں پورے دریائے سندھ پر ڈیم ہی ڈیم بنائے جاتے تو آج زیرزمین اور سطح زمین پر پانی کے بہت بڑے ذخائر ہوتے، سستی بجلی و انرجی سے پاکستان اور پاکستانی قوم خوشحال ومالامال ہوتی اور صحت وزراعت سمیت ہرشعب ہائے زندگی میں ہم خود کفالت کی زندگی گزارتے۔ ہماری ریاست کا معیار بہت بلند ہوتا، عرب سے تیل خریدنے کی بجائے اپنے تیل وگیس کے قیمتی ذخائرسے فائدہ اٹھاتے۔ آج بھی رونے دھونے کی ضرورت نہیں، ستارایدھی کو فوجی پروٹوکول دینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوجاتے بلکہ شارعِ فیصل پر کارساز سے ڈرگ روڈ تک سروس روڈ پر قبضہ ختم کرکے چوڑے فٹ پاتھ کی جگہ پر سڑک کی توسیع سے عوام کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔پرویز مشرف نے کارساز پر فلائی اُور کیلئے تھوڑی سی فوجی زمین نہ لی ہوتی تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تھا۔ آج ڈکٹیٹر کے دور میں کراچی کے ترقیاتی کام اور جمہوری دور میں کراچی کا بیڑہ غرق کرنے کا تصور کیا جائے تو جیسے ترقی وعروج کے پہاڑسے زوال وانحطاط کی کھائی میں گرگئے ہوں۔
عوام کامزاج حکمرانوں نے اللہ کی غیب میں پرستش کرنے کے بجائے چڑھتے سورج کے پجاریوں والا بنایا ہے۔ کشمیر میں(ن) لیگ کی جیت جمہوریت کے تابناک مستقبل نہیں بلکہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ آج نوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے اور پھر کشمیر میں الیکشن ہوجائیں تو نوازشریف کیخلاف ووٹ دیا جائیگا۔ یہ عوام کا مزاج بن گیا ہے کہ جو ٹیم جیتنے کا چانس رکھتی ہے بچے بھی اسی کے طرفداربن جاتے ہیں۔ سعد رفیق دوسروں کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ ’’جائیں گے تو سب ایک ساتھ جائیں گے‘‘۔ سندھ بلوچستان اور پختون خواہ میں تو پہلے سے مارشل لاء نافذ ہے، اگر پنجاب میں لگ جائے تو دوسروں کو کیا فرق پڑیگا؟۔ چوہدری نثار کو سندھ کی بڑی فکر ہے لیکن پنجاب میں اغواء ہونے بچوں کو انسان نہیں شاید کتے کے بچے سمجھا جاتا ہے،اسلئے وہاں رینجرز کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
جنرل راحیل شریف نے چیف جسٹس سندہ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کوبھلے ٹانک سے بازیاب کرواکر بڑا کارنامہ سرانجام دیا لیکن کیا لاہوراور دیگر شہروں میں اغواء ہونے والے بچوں کا کوئی حق نہیں، گداگری کے پیشہ کیلئے اغواء کئے جانے والے بچے کسی ستارایدھی کا انتظار کریں؟۔ قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کرکے گھناؤنے کردار والوں کو کیا اسلئے کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جاسکا کہ وہ دہشت گردگروپوں کیساتھ مل کر کاروبارِ سرکار کو چلانے میں معاونت کریں؟۔یہ عجیب مخمصہ ہے کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے کے دن گنے چنے لگتے ہیں جہاں حکمرانوں کا کوئی ضمیر ہی نہ ہو۔ پانامہ لیکس پرتین وزیراعظموں کا استعفیٰ اور پاکستان کے وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کوئی معمولی بات نہیں ۔ زرداری ڈھیٹ بن کر رہ جاتا تو اس کی ڈھٹائی سمجھ میں آتی تھی اسلئے کہ دوسروں کے خلاف وہ حبیب جالب کی زبان اور شاعری میں تو بات نہ کرتا تھا۔ ان پارساؤں کا ڈھیٹ بن جانا انتہائی خطرناک ہے،اور اس سے زیادہ خطرناک بات شہبازشریف، چوہدری نثار اور نوازشریف کا جمہوریت کے پردے میں پناہ لینا ہے جن کی ساری زندگی جمہوریت کے خلاف کھلی کتاب کی طرح رہی ہے۔
اصحاب حل وعقد سب سے پہلا کام یہ کریں کہ دریائے سندھ پر خرچہ کرکے جگہ جگہ پانی کو ذخیرہ بنانا شروع کریں،پاکستان،سندھ اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی کی سخت ضرورت ہے،پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے ،سستی بجلی پیداکرنے کی زبردست صلاحیت ہے ۔
نامزد وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ نے اگر لوگوں کو دعوت دی کہ دریائے سندھ پر پانی کے ذخائر کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تو بڑے پیمانے پر لوگ اس نعمت کو عام کرنے کیلئے چندہ دینے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔ تھرکے لوگوں کی مدد کے نام پر جتناسرمایہ خرچ ہوا ہے، اس سے کم سرمایہ پر دریائے سندھ میں پانی کو ذخیرہ بناکر خوشحالی کی لہر لائی جاسکتی ہے بلکہ مسائل کا مستقل حل بھی نکل سکتا ہے۔ جس موسم میں خشک سالی ہوتی ہے اس وقت دریائے سندھ بالکل خالی ڈیم کا منظر پیش کرتا ہے اور اس میں پانی کو ذخیرہ کیاجائے تو زمین کے اندر میٹھے پانی کے ذخائر سے سندھ کی قسمت بدل جائیگی۔ پھر سندھ کی عوام کا سب سے اہم اور بڑا مطالبہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا ہوگا۔
پانی کے ذخائر سے سندھ کی بنجر زمین کو زرخیزبنانے میں دیر نہ لگے گی اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی ملے گا تو عوام کا ایک بنیادی اور دیرینہ مسئلہ حل ہوجائیگا۔ ڈیفنس جیسے علاقہ میں بھی پانی نہیں تو غریب آبادی کے مکینوں کا مسئلہ حل کرنے میں کس کودلچسپی ہوسکتی ہے؟۔ دریائے سندھ کے ذخائرسے نہروں کے ذریعہ بھی کراچی کو پانی دینے کا بندوبست ہوسکتا تھا لیکن آمریت اور اس کی پیدوار جمہوریت نے مل کر اور باری باری کبھی بھی عوامی مسائل کے حل کو ترجیح نہ سمجھابلکہ جن جن ذرائع سے سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع کما سکتا تھا وہی حکمرانوں کی بھی ترجیح رہی ہے، حد تو یہ ہے کہ کراچی میں سرکاری زمینوں پربدمعاش لینڈ مافیاز، سرمایہ داروں، حکومتوں، ریاستی اداروں اور غریبوں تک سب نے اپنا ہاتھ صاف کیا ہے، البتہ غریب کو قانون کا سہارا نہ مل سکا،اسلئے وہ کچی آبادی ہے اور طاقت کے بل پربدمعاشوں اور پیسہ پربدقماشوں نے قانون ہاتھ میں لیکر بھی قانون کو ٹشو پیپر کی طرح بڑے احترام کیساتھ اپنا گند صاف کرنے کیلئے استعمال کیا ۔
جب قانون کو طاقت اور پیسوں کی لونڈی بنایا جائے تو اہل اقتدار و حکمران طبقہ کی ترجیحات کو سمجھنا دشوار نہیں ہوتا، ایک طرف چھڑی والوں کااقتدار ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کے گماشتوں اور چہیتوں کو جمہوریت کے نام سے حکمران بنایا جاتا ہے۔ سیاستدان سچ کہتے ہیں کہ وہ حکمران تو ہوتے ہیں لیکن انکے پاس اقتدار اور اختیار نہیں ہوتا ۔ نیوی کا شارع فیصل کے سروس روڈ پر قبضہ ہوجائے اور لوگ رل رل کر روز روزٹریفک میں پھنستے رہنے کو معمول کی مجبوری اور حالات کا جبر سمجھیں اور دوسری طرف صدیوں کی آبادیوں کو لیاری ایکسپریس وے کیلئے چند ہزار کی قیمت دیکر ملیا میٹ کردیں تو پتہ چلتا ہے کہ عوام ترجیح نہیں ۔ ایک دن کارساز سے ڈرگ روڈ تک لوگ خالی گاڑیاں چھوڑ کر ایک آدھ دن کیلئے صرف اپنا احتجاج نوٹ کرادیں کہ وہ فٹ پاتھ جس پر کوئی چلتا بھی نہیں ، سروس روڈ کی جگہ پر پہلے نرسیاں بنائی گئی تھیں اور پھردہشت گردی کے خوف نے قبضہ کرایا ۔ جس کی وجہ سے عوام کو روز روز بہت تکلیف ہوتی ہے اور پھر چند دنوں بعد پروٹوکول کیلئے سڑک ،آفس سے چھٹی اور بہت رش کے وقت بند کردی جاتی ہے۔
جنرل راحیل شریف نے اگر واقعی قوم کی خدمت کرنی ہے تو کارسازاور نیشنل اسٹڈیم سے ائرپورٹ کی طرف جانے والے نیوی کے علاقوں میں عوام کیلئے بڑی بڑی شاہراروں کے ذریعہ سے سہولت فراہم کریں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام میں مسجد اور قبرستان کو کسی بھی صورت میں گرانا جائز نہیں مگر سڑک کی توسیع کیلئے مسجد اور قبرستان کو بھی گرایا جاسکتا ہے۔ یہ پریشر بالکل بھی ختم کردینا ضروری ہے کہ قبرستان سے عوامی ، مسجد سے مذہبی طبقات اور فوجی علاقہ سے اہل اقتدار کے جذبات مجروح ہونگے۔ فوج، مذہبی طبقات اور عوام سب مل کر ایسا کام کریں جس سے ثابت ہو کہ مخلوقِ خدا کیلئے سہولت کے دروازے کھل گئے ہیں ۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ پیسوں کی حکومت اور تاجروں کی تجارت ہے۔جمہوری پارٹیوں میں جمہوریت نہیں بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں میڈیا اور عوام کو رائے کی آزادی ملی، آج ن لیگ کی حکومت نے پی ٹی وی کو(ن: ش: ٹی وی )نواز شریف شہبازشریف ٹی وی بناکر رکھ دیا ہے۔
ہاکس بے غریب عوام کیلئے ایک زبردست تفریح گاہ ہے لیکن جولائی کی آخری اتوار کو مشاہدہ ہوا کہ جگہ جگہ ’’سمندر تمہارا دوست نہیں‘‘ لکھا گیا تھا۔ رینجرز کے سپاہیوں نے دن دھاڑے عوام کو وہاں سے نکالنا شروع کیا، بغیر کسی وجہ کے سڑک پر ٹریفک پولیس اور عام پولیس کے ذریعہ روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کا مقصد صرف اور صرف یہ لگتا تھا کہ آنے جانے والوں کو شدید تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کیا جائے۔ ہاکس بے سے شہر کی طرف جانے والی شاہراہ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی اور آنے والی سڑک کی تھوڑی سی جگہ چھوڑ دی گئی تھی جہاں سے ایک گاڑی بمشکل گزرسکتی تھی، باری باری آنے جانے والی گاڑیوں کو گزار کر خواہ مخواہ بیچاری عوام کو تکلیف دی جارہی تھی۔ عراق اور لیبیا کی فوج اور حکمرانوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت تھی اگر اپنے ہی اہل اقتدار عوام کو محروم کرنے اور کنارہ لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو کل کلاں اللہ نہ کرے اس فوج کی جگہ غیرملکی فوج بھی قبضہ کرسکتی ہے اور پھر رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔