پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز

246
0
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
ہر گھر میں طالبان میزبان کوئی مہمان تھے۔ بوڑھے، عورت ، بچے جوان سبھی قدردان تھے۔ لوگ دھماکوں، خود کش سے پریشان تھے۔ ہم دلیری پر شادمان تھے۔ پاکستان پر قبضہ اپنے ارمان تھے۔ فضل الرحمن ، عمران خان ایک طالبان خان تھے۔ اپنے سر کی خیر مانگتے جب طوفان تھے ۔کشتی ڈوب جاتی تو قصور وار بادبان تھے۔
آج وزیرستان کاایک محسودپشتو کی اس زبان میں فیس بک پر کہہ رہاہے جس کو دوسرے پختون بھائی سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں کہ ”طالبان پھر آگئے ہیں، اب زیادہ نہیں کم ہیں، ہم ان کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اگر یہ پھر بڑھ گئے تو پھر جرگہ اور دھرنا سب کچھ بھول جاؤگے۔ یہ صرف مارنا اور ذبح کرنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔ خود کش حملوں کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ ان کی فکر کرو، وقت سے پہلے پہلے”۔
فضل خان ایڈوکیٹ پر کچھ دن پہلے قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اللہ تعالیٰ حفظ وامان میں رکھے۔ اسکے کھلے خط کی ایک ایک سطر اپنے بچے کے غم میں دل کے خون سے لکھی ہوئی ہے جس میں بچے کی ماں کا بھی درد پورا پورا جھلک رہاہے۔ ہم وہ نہیں کہ دوسرے کے دکھ پر بے حسی کا مظاہرہ کریں اور فتوے لگانے میں ملوث ہوجائیں لیکن حقائق کو بہت مشکل وقت میں بھی سچائی کیساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پوری پختون قوم کا جذبہ طالبان کیساتھ تھا اسلئے قتل وغارت کے باوجود ہماری ریاست ، فوج ، پولیس، عدالت اور جمہوری حکومت سب بے بس نظر آتے تھے۔ فضل خان ایڈوکیٹ صاحب! اگر 2014ء میں تمہارے معصوم پھول کی شہادت سے تمہارا اپنا ضمیر جاگ گیا تو بھی بڑی بات ہے۔ جب آرمی نے فیصلہ کیا کہ طالبان کو شمالی وزیرستان سے بھی بے دخل کرنا ہے تو ردِ عمل کا پہلے سے خطرہ تھا۔ عمران خان 2014ء میں پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیا کرتاتھا۔ شمالی وزیرستان میں احتجاجی مظاہرین کی لاشیں گھروں تک پہنچ گئیں لیکن معذرت کیساتھ احتجاج کی نمائندگی کرنے والے علی وزیر اور محسن داوڑ زندہ وتابندہ ہیں۔ شمالی وزیرستان کے ڈاکٹر گل عالم وزیر پہلے بھی اپنے قبیلے کے بڑے خان تھے اور آج بھی ہیں۔ پہلے طالبان کے ساتھی نہیں بلکہ بہت بڑے دلال تھے اور اب PTMکے بڑے رہنما ہیں۔ پہلے مذہب کے نام پر امریکہ نے پختونوں کا کباڑا کیا تھا اوراب قوم پرستی کے نام پر کررہی ہے۔ وائس آف امریکہ ، BBCاور اسکے تمام ذیلی ذرائع ابلاغ کے ادارے قوم پرستی کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں۔ پختون اب مذہب نہیں تو قوم پرستی کے نام پر ایک دفعہ پھر قربانی کیلئے تیار ہورہاہے لیکن جب اس دام کا شکار ہوںگے تو اپنی تمام کوتاہیاں دوسروں کے کاندھے پر ڈالیںگے۔ میرا وائس آف امریکہ نے انٹرویو لیا لیکن نشر نہیں کیا گیااور میں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ نشر نہیں ہوگا، جس طرح جیو نے ہمارا پروگرام ریکارڈ کرنے کے بعد نشر نہیں کیا۔
ہماری ایک عزیزہ اور رشتہ دار نے اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے خون میں نہلادیا اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ وہ دوسروں کیلئے فسادی کا کردار ادا کرسکتا تھا۔ بھارت میں بھی ISISداعش والے پہنچے ہیں تو کیا بھارت نے ان کو اپنا مہمان ٹھہرایا ہواہے؟۔ اگر بھارت کی ریاست مسلمانوں کو تباہ کروانے کیلئے یہ سب کچھ امریکہ کے کہنے پر کررہی ہے تو مسلمانوں کو خود استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور جب داعش کا دہشتگرد پکڑا جائے اور بیگم صاحبہ کہے کہ ” دہشت گردی کا منصوبہ تھا اور میں منع کررہی تھی لیکن میری بات نہیں مانی اور اب اس کو معاف کیا جائے”۔
وزیرستان وقبائل میں پہلے بھی اغواء برائے تاوان وقتل کے کیس ہوتے تھے پھر طالبان کو ایکس ٹینشن ملی تو اپنی فطرت دکھادی۔ دیپالپور پنجاب میں بال بچے دارخاتون ایڈوکیٹ دوسری مرتبہ اغواء ہوئی تویہ ریاستی سازش ہے؟۔ بلوچوں کے گھر جلانے والے پشتو زبان بولتے ہیں۔ میرے دوست واحباب بلوچ بھی ہیں۔ ایک تعزیت میں بیٹھاتھا ۔ پختونوں کا بلوچوں کے ہاتھ قتل بڑی خبر تھی۔ بلوچوں نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گھر والی کا چاچا تربت کا بلوچ ہے ، اس کو پٹھان سمجھ کر بلوچ قتل کررہے تھے۔اپنی غلطی کو ایجنسی کے سر ڈالنا مسئلے کا حل نہیں ۔ایف سی میں وہی لوگ بھرتی ہونگے جن کا کوئی قتل ہواہوگا۔ وزیرستان میں فوج پرحملہ ہوا تو منظور پشتین کے پڑوسی نے بتایا کہ” ایک پنجابی سپاہی شعبان زندہ بچا تھا تو اس نے PCOسے ماموں کو فون کیا کہ قید ہوں، میری ماں کو نہیں بتانا۔ اس خون خرابے کے بعد طالبان سے نفرت ہوگئی”۔اگر اس وقت محسود قوم اٹھ کر دہشتگردی کا خاتمہ کرتی تو بہت برے دن نہ دیکھنے پڑتے۔
جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر اور سپاہ ِ صحابہ کے مولانا نیاز محمد ناطق بالحق سے میری جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اچھی دوستی تھی۔ مولانا مسعود اظہر کہہ سکتا ہے کہ ”میری پچھاڑی اللہ نے بنائی ہے تو کیا اس کا تقدس کعبہ سے زیادہ ہے؟”۔ چوتڑ کو خوشبو لگانے والا ابوجہل فصاحت وحکمت کی بات کرتا تھا لیکن مؤمن عزت کو اللہ نے اپنی عطاء قرار دیاہے ۔ ایک بلوچ بڈھا غصے میں کعبہ مادر، کعبہ مادر کہتا تھا تو ایک چھوٹی بچی نے پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے؟۔ اس نے کہا کہ مجھے کیا پتہ؟۔ ہندوستان میں امریکہ داعش کے ذریعے دہشت گردی پھیلائے۔ اور ہمارا مولانا مسعود اظہر کعبہ مادر اعتراف کرکے احسان اللہ احسان کی طرح محفوظ مقام پر جائے پھر پتہ چلے کہ امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر نے پاکستان کی ریاست اور بھارت دونوں کو تباہ کرنے کیلئے اپنا پلان بناکر ڈرامہ رچایا تھا۔ فوجی افسران غداری میں تختہ دار پر چڑھ گئے مگریہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا کے امریکی ایجنٹوں کو جب ہماری ریاست نہیں پکڑ سکتی ہے تو فوج میں بیٹھے ہوئے لوگ کس طرح سے کسی کے دسترس میں آسکتے ہیں؟۔بھارت میں مولانا مسعود اظہر آزادی سے ہر ہفتے حالاتِ حاضرہ پر ضربِ مؤمن میں لکھتاتھا، اس سے سازش کی بد بوآرہی تھی۔بھارت میں بھارتی ریاست، امریکی سی آئی اے اور وہ مسلمان خاندان جو داعش کیلئے کام کرتا ہے سب ملکر بھارت اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں لیکن مسلمان سیدھے ہیں۔
وزیرستان کی عوام اور منتخب نمائندے پاک فوج کیساتھ مل کر کھلے عام اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھیں۔ حکومت، فوج اور عوام ایک پلیٹ فارم پر مجرموں کو پکڑیں اور کسی بھی ایسے گڈ یا بیڈ کو اجازت نہ دیں جو اپنے ماں باپ سے الگ رہتا ہو۔ جب عوام ریاست کیساتھ بھرپور تعان کرینگے اور اپنے بھائی، بچے اور احباب دہشت گرد کو اپنے ہاتھوں سے انجام تک پہنچائیںگے تو امن وامان کا معاملہ بالکل حل ہوگا۔
بلوچ بڑی تعداد میں مرکھپ گئے اور اب آئندہ اپنی نسل بچانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔ ایک بے گناہ بلوچ سے پہلے ایک بے گناہ پشتون کے قتل پرردِ عمل آتا تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔وزیرستان میں قتل وغارت کے شروع میں طالبان پر قابو پایا جاتا تو اتنی تباہی وبربادی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ PTMکے لوگوں کو پتہ ہے کہ صرف فوج کی مخالفت سے طالبان ان کی حمایت کرینگے لیکن جب دوبارہ قومیت کے نام پر یہ کھیل شروع ہوگا تو کسی کے پاس جنت میں جانے ، حوریں پانے کا بھی کوئیسرٹیفکیٹ نہیں ہوگا۔ پشتون غیرت کے نام پر اپنی بیٹیوں، بہنوں، بیویوں اور ماؤں کو اسلامی حقوق دینا شروع کریں تو اس جبر سے نکلنے میں مشکل نہیں ہوگی جو ہم اور پوری دنیا پر مسلط ہے۔ کہیں ایک اور ڈرامے کاہم شکار نہ ہوجائیں۔
فیزبک پر پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز