اسلام کی نشاة ثانیہ میں حلالہ سے چھٹکار ا ہوگا تو پھر برہمن بھی اسلام قبول کریں گے؟

اسلام کی نشاة اول میں قرآن کے لعان کا حکم دنیا کیلئے ناقابل عمل تھا،اسلئے پختونوں نے اسلام کو سمجھے بغیر قبول کرلیا لیکن ہند کے راجپوتوں نے قبول نہیں کیا،اسلام کی نشاة ثانیہ میں حلالہ سے چھٹکار ا ہوگا تو پھر برہمن بھی اسلام قبول کریں گے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین (3)کروڑ خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرینگے۔ ایک خاندان میں اوسطاً آٹھ (8) افراد ہیں ۔پاکستان کی چوبیس (24)کروڑ آبادی نہیں ،وزیراعظم نشہ میں بولتے ہیں کیا؟

رسول اللہۖ نے فرمایا کہ لوگ معدنیات کی طرح ہیںجو اسلام سے پہلے جاہلیت میںسونا ،چاندی، تانبہ اورکوئلہ تھے تو وہ اسلام کے بعد بھی ایسے ہی ہیں۔ اچھوت کی اپنی فطرت ہے

پٹھان اور سکھ اس بات میں مشہور ہیں کہ پہلے کام کر تے ہیں اور پھر سوچتے ہیں۔ جب طالبان کی دہشت گردی کا بازار گرم ہوا تو پاکستان بھر سے امریکہ کے مقابلے میں طالبان کی تائید ہوئی لیکن پٹھان نے بلاسوچے سمجھے اپنا تن ،من ،بدن اور وطن قربان کردیا۔عبداللہ محسود گونتاناموبے سے سزا کاٹ کر آیا تھا تو اسکے بھائی کو خودکش جیکٹ کیساتھ ٹانک سے گرفتارکیا گیا جو کراچی میں خود کش حملہ کرنے کیلئے جارہاتھا۔ امریکہ اس کے پیچھے افغانستان میں بیٹھا تھا اور یہ حضرت کراچی میں کسی مسجد، بازار اور سرکاری عمارت کوچوتڑ پر بارود باندھ کر اُڑا رہا تھا۔
وانا کے وزیر قوم نے ازبکوں کیساتھ رشتے ناطے بھی کئے تھے۔ پاک فوج نے اگر وزیرقوم کی مدد نہیں کی ہوتی تو القاعدہ اور طالبان کے دہشت گردوں نے ان کی خواتین کو بھی اٹھالینا تھا۔ جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سندھ میں وزیرستان کی عوام کے املاک کو نقصان پہنچا تو طالبان پر پشتون قوم کا دباؤ آیاجس کی وجہ سے بیت اللہ محسود نے بیان جاری کیا کہ عورت کو قتل کرنا ہمارا شعار نہیں ہے، حالانکہ فضول بک رہاتھا اسلئے کہ کوٹکئی جنوبی وزیرستان میں خاندان ملک کی فیملی کو مارا تو حافظہ بچی بھی شہید کی۔ ٹانک سے لیڈی ڈاکٹر کو اغواء برائے تاوان کیلئے جنوبی وزیرستان لے گئے تو ان کی غیرت سستی شہرت کے طالب شہیر سیالوی کی طرح تھی جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کادن مناتا ہے مگریہ نہیں دیکھتا کہ کن بے غیرتوں نے یہ کام کیا تھا؟۔
جب پاکستانی جرنیلوں نے نوازشریف کی حکومت ختم کر کے اقتدار سنبھالا تو عافیہ صدیقی کو پکڑکر امریکی فوج کے حوالہ کیا لیکن مہابھارت نے بھارتیوں سے بدسلوکی کا بدلہ امریکن کو ننگا کرکے لیا جس پر بھارت نے عزت کمائی اور ہمارے لئے امریکی نے درست کہا تھا کہ ”پاکستانی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں”۔
بھارتی ہندوؤں نے مسلمانوں کیساتھ تحریک خلافت کی بحالی میں بھی حصہ لیا تھا۔ جب اماں بولی کہ بیٹا جان خلافت پر دے دینا۔ محمد علی جوہر کے اخبار نے برصغیر میں”کامریڈ” کے نظرئیے کو پھیلایا تھا۔ آج لتا حیا جیسی راجپوت برہمن شاعرہ کا کردار ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کیلئے بہت واضح ہے لیکن اچھوت ہندو مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں اچھوت مذہبی، سیاسی اور فوجی طبقات کا اقتدار ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانی عوام تباہ ہیں۔
پشتونوں کو چوتڑ تک بال رکھنے والے کم اصل اور بدکردار طالبان نے تباہ کیا اور پنجاب کو شہیرسیالوی جیسے تباہ کریںگے جن کی مونچھ ان کی دُم کی جگہ پر ہونی چاہیے۔ انگریز نے فوجی چھاؤنیوں کیساتھ لال کرتیوں کے ذریعے غیرتمند برصغیر کے ماحول کو خراب کردیا ۔شرابی جرنیل یحییٰ خان سے پرویزمشرف اور ڈانس پارٹی کے ذریعے عمران خان کو لانیوالوں تک ایک ایک معاملہ آبِ شرم سے لکھ کرگٹر کے نالے میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ پاک سر زمین پر ناپاک سودی نظام کیوں ہے؟۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بیٹی اپنے ماحول کی وجہ سے غیرمسلم کز ن کیساتھ بھاگ گئی تھی۔ قائدملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیوی بیگم راعنا لیاقت کا بس چلتا تو میراجسم میری مرضی کیلئے بہت پہلے خواتین کو نکال دیتی لیکن اس وقت نکلنے کیلئے جدید فیشن ایبل لڑکیاں اتنی تعداد میں موجود نہیں تھیں اور اب لاہور سے اسلام آباد، ملتان اور کراچی تک اگر عمران خان کے جلسوں کو فوجی افسران کی دلیر بیٹیاں کامیاب بناسکتی ہیں تو عورت آزادی مارچ میں بھی کامریڈ بن کر وہ نکل سکتی ہیں اور یہ جنسی آزادی اور ہم جنس پرستی کیلئے نہیں نکلتی ہیں کیونکہ اس پر پابندیاں نہیں۔ پاکستان سے دوبئی تک عزتوں کے سوداگریہ کام کررہے ہیں۔ بغیر ماں باپ جھولوں والے بچوں کے ایدھی سے لیکر سویٹ ہاؤس تک بہادر لوگوں نے ٹھکانے بنائے ہیں۔ جنرل حمیدگل اور عمران خان کی پیشکش عبدالستار ایدھی نے ٹھکرا دی تھی اور خلافت کا ڈرامہ رچانے والے کو سکیورٹی اہلکاردیکھتے رہ گئے اور زمرد خان نے پکڑکر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
پشتو شاعر رحمان بابا نے کہا تھاکہ ”دوسروں کی راہ میں کھڈہ مت کھودنا،تمہارا بھی وہی راستہ ہوسکتا ہے” طارق ساگر نے کہاہے کہ تحریکِ لبیک عورت مارچ والوں کو کیوں نہیں روکتی ہے؟۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام کے دھرنے میں افغان طالبان کا جھنڈاکون لے جاتاہے؟۔شاید فرانس کے جھنڈے کا عورت مارچ کی انتظامیہ کو پتہ بھی نہیں ہوگا لیکن کسی نے پہنچادیاہوگا۔ جس طرح ایک خواجہ سرا نے اپنا پوسٹر انکے خلاف اُٹھایا تھا جو اس کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنارہے تھے اور عورت مارچ والوں نے اس کی بھرپور طریقے سے وضاحت بھی کی لیکن پھر بھی عورت مارچ کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا گیا تو مارچ میں سرپر کفن باندھ کر نکل آئیں۔ یہ اچھا ہوا کہ فرانس کے پرچم کا پروپیگنڈہ نہیں ہوا، ورنہ لاہور اور اسلام آباد میں فرانس کے پرچموں کی بہار نظر آتی۔
آئی ایس آئی کے خالد خواجہ اور کرنل امام کوطالبان نے قتل کیا تھا ،اوریامقبول جان اور شہیرسیالوی تحریک لبیک کے کام آسکتے ہیں۔ ایک کو داڑھی لمبی رکھنی پڑجائے اور دوسرا مونچھ ہی کاٹ ڈالے پھر بھی قدرت اپنی جگہ پریہ کرشمہ دکھاسکتی ہے۔
ہمارے خاندان نے طالبان کو بہت زیادہ سپورٹ کیا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے ہمیں بہت بے دردی کیساتھ مار دیا ورنہ تاریخ میں ہمارا شمار بھی ان ظالموں کو سپورٹ کرنیوالے انتہائی بزدل اور بہت ہی زیادہ بے غیرت لوگوں میں ہونا تھا۔ آج پختونوں اور پاکستان کے کرتے دھرتوں کا یہ فرض بن رہا ہے کہ اچھوت قسم کے شیخ الاسلام علماء اورمفتی اعظم کا غلط تصور ختم کرکے اجتماعی بنیادوں پر حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی سے مذہبی طبقات کی جان چھڑائیں،جسکے نمایاںاثرات افغانستان کے علاوہ پوری دنیا پر بھی پڑینگے۔ سکھ اور برہمن راجپوت بھی اسلام قبول کرکے ہندسے ہندوانہ رسم کو خودہی مٹادیں گے۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button