اسلامی احکام کو پشتون قوم نے اگر من حیث القوم رائج کرنیکی کوشش شروع کردی جواپنی پشتوں میں بارود ڈال کر خودکُش دھماکوں سے زیادہ آسان ہے تو اس سے پاکستان، افغانستان اور ہندوستان میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی رُوح دوڑ جائے گی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں شجرہ ملعونہ کو فتنہ قرار دیا گیا ہے، سورۂ نور میں لعان کے حکم پر پشتون عمل نہیں کرسکتے مگرسورہ ٔ بقرہ میں حلالہ کی لعنت کے فتنے سے فقہاء نے دوچار کیا جس سے نکل جائیں گے!

قرآن کی وجہ سے صحابہ کرام نے عروج حاصل کیا،آج قرآن پر دنیا عمل پیرا ہے لیکن مسلمان اندھیر نگری کا شکار ہیں اور جب قرآن کی طرف رجوع ہوگا تو عروج ملنے میں دیر نہ لگے گی !

ایک شخص اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ تجھے تین طلاق۔ جب علماء ومفتیان اس کو فتویٰ دیتے ہیں کہ جب تک کسی اور شخص سے حلالہ نہیں کروائے گا تو اس کیلئے یہ بیوی حلال نہیں ہوگی۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اگر بیوی سے حلالہ کی لعنت کیساتھ رجوع کرتا ہے تو عزت خراب ہوجاتی ہے لیکن ایمان بچ جاتا ہے تو وہ عزت کی قربانی دے کر اپنا ایمان بچانا ضروری سمجھ لیتا ہے۔ مدارس میں قرآن وسنت، صحابہ اور اہل حق کے خود کو بڑے علم بردارسمجھنے والے حنفی علماء کی اکثریت ہے۔ میرا اپنا اور میرے آبا واجداد کا بھی حنفی مسلک سے تعلق ہے۔ میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان سے اصولِ فقہ کی کتابیں پڑھی ہیں اور وفاق المدارس پاکستان سے ان کی سند بھی حاصل کرلی تھی۔
اصولِ فقہ میں حنفی مسلک کی بنیاد یہ ہے کہ پہلے قرآن کو اولیت حاصل ہے، دوسرا نمبر سنت کا ہے، تیسرا نمبر اجماع کا ہے اور پھر قیاس ہے۔ قیاس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قرآن ، سنت اور اجماع میں سے کوئی دلیل ہو تو اس پر مسئلے کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ قیاس کی ایسی ہی مثالیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جب قرآن میں کوئی بات ہو تو سنت کی ضرورت نہیں ہے اور سنت میں کوئی بات ہو تو اجماع کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ طالب علمی میں درسِ نظامی پڑھانے کا مقصد طلبہ میں علم پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ علم کی تحصیل سے فارغ ہوگیا ہے۔ یہ جاہلوں کا شیوا ہے کہ خود کو فارغ سمجھیں۔
حنفی مسلک کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر حدیث کی خبر واحد قرآن کی آیت سے ٹکرائے تو پہلے تطبیق یعنی موافقت کی کوشش کی جائے گی تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو۔ لیکن اگر دونوں میں تضاد ہو تو پھر قرآن پر عمل ہوگا اور اس کے مقابلے میں خبرواحد کو چھوڑ دیا جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورۂ بقرہ آیت (230) میں اللہ نے فرمایا: حتی تنکح زوجاً غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ قرآن کی اس آیت میں عورت کو نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسکے مقابلے میں حدیث ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے”۔ قرآن کی اس آیت اور حدیث میں تطبیق نہیں ہوسکتی ہے کہ دونوں پر عمل ہو اسلئے حنفی مسلک کے مطابق یہ حدیث ناقابلِ عمل ہے۔
اصول فقہ کی تعلیم کے وقت طلبہ قرآن وحدیث سے واقفیت تو دُور کی بات عربی پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ہیں اسلئے اصول فقہ کی کتابوں ”اصول الشاشی ”اور” نورالانوار” میں یہ سمجھنابھی بڑی بات ہوتی ہے کہ کتاب کی عبارت کا مفہوم کیا ہے؟۔ نسبتاً ذہین طلبہ تکرار کی بنیاد پر بڑی مشکلوں سے خود بھی ترجمے کا مفہوم رٹ لیتے ہیںاور دوسروں کو بھی رٹا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے میرے اندر ذہنی صلاحیت رکھی تھی ۔ مجھے یہ خیال آیا کہ قرآن وحدیث میں پہلے تطبیق کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر اگر قرآن کے مقابل حدیث ہو تو حدیث کو چھوڑنا چاہیے۔ قرآن کی آیت (230)کے ان الفاظ میں طلاق شدہ عورت کو نکاح کی اجازت دی گئی ہے جبکہ طلاق شدہ اور کنواری کے احکام معاشرے اور شریعت میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا قرآنی آیت سے مراد طلاق شدہ اور حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے۔ مولانا بدیع الزمان نے میری بات میں بہت وزن قرار دیکر آئندہ کیلئے حوصلہ افزائی فرمادی تھی۔
مفتی عبدالمنان ناصر اور قاری مفتاح اللہ صاحب بھی ہمارے اساتذہ کرام تھے اور میری طرف سے کتابوں پر اعتراض ہوتا تھا تو فرماتے تھے کہ عتیق زیادہ ذہین اور درست بات کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا کہ جب درسِ نظامی کے ساتویں درجے میں تفسیر کی آخری کتاب” بیضاوی شریف” پڑھی تو اس میں سورۂ بقرہ کی تفسیر میںلکھا ہے کہ المO سے کیا مراد ہے؟۔ اللہ ہی اس کو جانتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الف سے اللہ، لام سے مراد جبریل اور میم سے مراد محمدۖ ہیں۔ یعنی اللہ نے جبریل کے ذریعے یہ کتاب محمد ۖ پر نازل کی ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ اس تفسیرمیں دو تضادات ہیں۔ جب اللہ کے سوا کسی کو الم میں پتہ نہیں تو پھر یہ کہنا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعے اس کو حضرت محمدۖ پر نازل کیا ہے تو یہ سب کو معلوم ہے۔ متضاد چیزیں تو نہیں ہوسکتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پھر تو الف ، جیم ، میم ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ جبریل کا پہلا حرف جیم ہے لام نہیں ہے۔ استاذ نے کہا کہ عتیق کی بات ٹھیک ہے اور بیضاوی نے بالکل غلط لکھ دیا ہے۔ یہ متضاد تفسیر نہیں بنتی ہے۔
سورۂ بقرہ کی طلاق و رجوع سے متعلق آیات میں مسلکی تضادات کی تفسیر کو مسلمانوں اور کفار کے سامنے پیش کیا جائے تو پوری دنیا ہم پر تعجب کرے گی کہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب میں جو تعلیم دی گئی ہے جس کی وجہ سے صحابہ کرام نے پوری دنیا کو اندھیر نگری سے نکال دیا تھا ،آج مسلمان خود کتنے اندھیرے کی فضاء میں قرآن کی تعلیم کے نام پر رہتے ہیں؟۔ جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمن میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ مجھے مفتی محمد تقی عثمانی اور دیگر علماء کرام کے سامنے بٹھادیں اور پھر دیکھ لیں کہ کس کی بات میں وزن اور کس کی بات میں جہالت ہے؟۔ پاکستان میں مدارس اور علماء کرام کی کمی نہیں ۔ مولانا سمیع الحق کا بیان ہمارے اخبار ”ضرب حق ” میں شہ سرخی کیساتھ چھپا تھا کہ” درس نظامی کا نصاب کوئی قرآن وسنت نہیں ۔اس میں تبدیلی کی گنجائش ہے اور غلطیوں کو دور کرنا چاہیے”۔جب تحریک طالبان نے میری وجہ سے میرے گھر پر حملہ کیا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے جامع مسجد ٹانک جمعہ کی تقریرمیں طالبان کو خراسان سے نکلنے والے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ محسود قوم کو پتہ تھا کہ جب ٹانک اور پاکستان کے معروف علماء اپنی تقاریر اور تحریر کے ذریعے میری حمایت کررہے ہیں تو چند ملوثی قسم کے دہشت گردوں کو حملہ کرکے دہشت گردی کا حق نہیں پہنچتا ہے۔
آیت (230) البقرہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے کی آیات میں بھی تسلسل کیساتھ عورت کو اس کے شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کی وضاحتیں کی گئیں ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ناراضگی اور طلاق کے بعد جب تک عورت راضی نہ ہو تو شوہر کو رجوع کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے۔ اگر علماء یہ وضاحت کرتے کہ باہمی اصلاح اور معروف طریقے کے بغیر رجوع کرنا حلال نہیں حرام ہے تو بہت مناسب ہوتا اور یہی قرآن کی آیات کا واضح ترجمہ اور مفہوم بھی ہے۔
حدیث میں ولی کی اجازت کواس آیت سے ٹکرانا بھی موقع محل کی مناسبت سے بالکل غلط ہے۔ طلاق کے بعد ولی اسکے نکاح میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے بلکہ اس کا شوہر بنتا ہے اور شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کیلئے تسلسل کیساتھ اصلاح اور معروف کی شرط بالکل واضح ہے۔ جب تک اس انتہائی درجے کے الفاظ کا استعمال نہ کیا جاتا تب تک عورت کی جان شوہر نے نہیں چھوڑنی تھی۔ قرآن کی اس آیت (230) کے ان الفاظ نے بہت سی خواتین کی جان انکے شوہروں سے بھی چھڑائی ہے۔ صحابہ کرام نے اپنی زبان میں قرآن کو سمجھا تھا اسلئے وہ رجوع کیلئے عدت میںاور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا معاملہ سمجھتے تھے۔ باقی دنیا میں اہل کتاب عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد تھی جنکے ہاں طلاق کا شرعی تصور بھی نہیں تھا۔ عورت شادی کے بعد زندگی بھر طلاق نہیں ہوسکتی تھی اور یہی تصور ہندو، یہود اور دوسرے مذاہب میں بھی تھا۔ لوگوں کا کلچر بھی یہی تھا۔
جب قرآن نے بار بار واضح فرمایا ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع ہوسکتا ہے، معروف طریقے سے عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے تو کوئی ایسی ٹھوس حدیث اس کے مقابلے میں ہونا چاہیے کہ رسول اللہۖ نے رجوع سے منع فرمایا ہو۔ اگر کوئی حدیث ہوتی بھی کہ نبیۖ نے ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع سے منع فرمایا ہو تو اسکے مقابلہ میں قرآن کی آیات کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تھا کہ جب قرآن رجوع کی مشروط اجازت دیتا ہے اور یہ شرط باہمی اصلاح اور معروف طریقے کی ہے تو اگر نبیۖ نے واضح طور پر رجوع سے منع بھی فرمایا ہوتا تو حنفی مسلک میں پھر بھی قرآن کے مقابلے میں احادیث کو چھوڑ دیا جاتا ۔ لیکن حلالے کی لعنت نے اس امت کو بہت بڑے فتنے اور آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس کی وجہ سے یہ فائدہ بھی ہوا ہے کہ بہت ساری خواتین جو جان چھڑانا چاہتی تھیں ان کی جانیں اپنے ناپسندیدہ شوہروں سے چھوٹ گئی ہیں۔
قرآن کی سورۂ بنی اسرائیل آیت (60) میں شجرہ ملعونہ کو لوگوں کیلئے فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ سورہ نور کی آیت میں لعان کرنے کا حکم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی کیساتھ کھلی ہوئی فحاشی میں دیکھ لے تو قتل نہیں کرسکتا ہے بلکہ لعان کے ذریعے دونوں ایکدوسرے کی جان چھڑائیں گے۔ یہ حکم بھی لوگوں کیلئے بڑی آزمائش تھی۔ پشتونوں نے اجتماعی اسلام قبول کیا تھا مگر اللہ کی کتاب کو سمجھا نہیں تھا اور جب سمجھ لیا تو کہا کہ پشتو نیم کفر ہے ۔ہم اس پر عمل نہیں کرینگے۔ پشتون قوم بنی اسرائیل کا قبیلہ تھا اور اہل کتاب کا یہ ٹریک ریکارڈ تھا کہ” بعض کتاب پر ایمان لاتے تھے اور بعض کتاب کا انکار کرتے تھے”۔
پشتون اور سکھ میں قومیت کا فرق تھا لیکن مزاج میں یہ ہم آہنگی تھی کہ پہلے کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور بعد میں سوچتے ہیں۔ پشتونوں نے اسلام اور سکھ نے گرونانک کے نئے دین کو قبول کرلیا۔ سکھ اپنے مذہب کی بنیاد پر حکومت کرچکے ہیں، پشتون نے ابھی اسلام کے نام پر دنیا میں حکومت قائم کرنی ہے ۔ جب پشتونوں کو پتہ چلے گا کہ حلالہ کی لعنت اسلام میں نہیں ہے تو علماء ومفتیان کو متحرک کرینگے اور حلالہ کی لعنت کو جڑ سے ختم کرینگے ۔ خواتین کو بھی قرآن کے مطابق حقوق دینگے۔ پشتوں میں بارود بھر کر خود کش حملوں سے زیادہ آسان یہی ہے کہ اسلام کے نام پر بے غیرتی کا خود ساختہ معاملہ ختم کیا جائے۔ پختونخواہ ، بلوچستان اور افغانستان کے پشتون اجتماعی فیصلہ کرینگے تو اس کے اثرات پنجابی، بلوچ، سرائیکی، سندھی، مہاجر، کشمیری اور خطے پر پڑیںگے۔ پھر ہندوستان کے برہمن جو اپنے اصل کے اعتبار سے یہود اور ابراہیمی ہیں اسلام کو قبول کرلیں گے۔ اچھوت تو بہت پہلے ہی مسلمان ہوگئے لیکن قریش نے قومی حیثیت سے اسلام کو قبول کیا تو پھر دنیا نے اسلام کو قبول کیا، اسی طرح سے ہندوستان کے برہمن بھی اسلام کو اپنی مرضی اور خوشی سے قبول کرینگے تو علامہ اقبال کا قومی ترانہ ”ساری دنیا سے اچھا ہندوستان ہمارا میرعرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے” ہم سب مل کر پڑھیںگے۔ کرونا نے انسانیت جگانے کی بنیاد رکھ دی ۔ انگریز نے زبردستی سے ہندو رسم ”ستی” کا خاتمہ کردیا تھا اور اب ہندو قوم کو مردے جلانے کی رسم کا بھی از خود خاتمہ کرنا چاہیے اسلئے کہ بیمارہندو جب لاش جلانے کے ڈھیر دیکھتے ہیں تو پھر ڈپریشن بھی موت کا باعث بنتی ہے۔ اسلام نے لاش کی حرمت کی بنیاد انسانیت کی وجہ سے رکھی ہے۔ مسلمانوںمیں یہ تعصبات جاہلیت کی وجہ سے تھے کہ ہندوؤں کی لاشوں کو جلانے پر خوش ہوتے تھے۔
مذہبی لوگ جب قرآن کی طرف رجوع کریںگے تو حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلیشمنٹ کیلئے آلۂ کار کے طور پر استعمال نہیں ہوںگے بلکہ مسلمان عوام مرد اور خواتین کے دل جیت لیںگے۔ عدالت، سیاست ، قوم پرست اور مذہبی طبقے اسٹیبلیشمنٹ کی گرفت سے نکل چکے ہیں۔ تحریک لبیک آخری مہرہ تھا جس نے پنجاب پولیس کے خلاف تاریخی کاروائی کی ۔ فوجی سپاہی اور لبیک کے کارکنوں نے ایکدوسرے کے حق میں نعروں سے سوشل میڈیا میں ہیجان پیدا کردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو انصاف ملا ، اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی یا ججوں نے اپنے پیٹی بند کو رعایت دی؟۔ یہ سوال بڑا اہم ہے ۔ الطاف بھائی نے شاید نوازشریف سے پیسہ لیکر فوج کیخلاف محاذ کھول دیا۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں کی وقعت نہیں ۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے حامی صحافیوں نے اپنی اور اسٹیبلیشمنٹ کی مٹی پلید کرکے رکھ دی ۔نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اپنے لئے اقتدار کا راستہ تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنے اقتدار کیلئے چودہ (14) افراد کو قتل کرنے والے نواز شریف اور شہبازشریف کو پنجاب والے بھی مسترد کردینگے لیکن پشتونوں کو بڑی جاندار اور غیرمتعصبانہ تحریک چانے کا پاکستان اور دنیا کیلئے آغاز کرنا پڑے گا۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button