پندرہ روزہ ’’طبقاتی جد وجہد‘‘ کی کچھ ’’جھلکیاں.. محنت نے دولت کو للکارا ہے!

694
0

مئی1886ء کو امریکی سرمایہ دار ریاست کے ہاتھوں شکاگو میں جب مزدوروں کے پرامن جلسے کو خون میں ڈبو دیا گیا۔ مزدوروں کے ریاستی قتلِ عام کے بعد انکے قتل کا مقدمہ مزدور رہنماؤں پر چلاکر ان کو پھانسی دیدی گئی۔۔۔ ایک مزدور کو زندگی کی سہولیات حاصل کرنے کیلئے ایک دن میں کئی جگہ گھنٹہ دو گھنٹہ کام کرنا پڑتا ہے تب زندگی رواں دواں رہ سکتی ہے… معلوم دنیا کی تاریخ’’ طبقاتی کشمکش ‘‘ کی ہے، غلام کی آقا، مزارعہ کی جاگیردار، مظلوم کی ظالم اور مزدور کی سرمایہ دار کے خلاف… یومِ مئی مزدوروں کا عالمی دن، ناقابلِ مصالحت طبقاتی کشمکش کاعلمبردار
تحریر۔قمرزمان خان:اگرچہ محنت کش طبقہ اپنی جدوجہد سے اپنی منزل تک نہیں پہنچا مگرشکستوں اور فتوحات کی مختلف لہروں سے نظر آتا ہے کہ اس کشمکش نے ظلم سے کافی …
فوجی اداروں میں بدعنوانی: فوج میں تطہیر کی حدود…21اپریل کو فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے حوالے سے منظر عام پر آنیوالی کاروائی میں لیفٹیننٹ جنرل ایک میجر جنرل3بریگڈئیرزایک کرنل اور 12افسران کو برطرف کیا گیاہے لیکن ابھی واضح نہیں ہواہے کہ کیا ان کا کورٹ مارشل بھی ہوگا یاانکو اس کرپشن میں سزائیں بھی ملیں گی کہ نہیں؟
تحریر: لال خان۔ ویسے تو یہاں میڈیا معمولی واقعات ، خصوصاً معمول بن جانیوالی کرپشن کی خبروں اور افواہوں ہی سے چائے کے کپ میں طوفان کھڑا کردیتا ہے لیکن جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں تطہیر کے تأثر سے تو سونامی برپا ہوجائیگا۔۔۔
جنرل راحیل کا یہ بیان تھا کہ ’’ ہرطرف مکمل احتساب کیا جانا لازم ہے….اگر ہم بد عنوانی کی غلاظت کا خاتمہ نہیں کرینگے تو دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی ہے‘‘ عمومی طور پر حزبِ اختلاف نے اس بیان کو نوازشریف اور انکے خاندان کے حالیہ پانامہ لیکس سکینڈل سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔لیکن چونکہ اس پیسے کی سیاست کے تمام دھڑے کسی نظریاتی بنیاد سے عاری ہیں اسلئے انکے تجزئے و بیان بڑے ہی سطحی اور محدود ہوتے ہیںیہی وجہ ہے کہ یہ سیاستدان کسی دوررس تناظر یا پروگرام یا لائحۂ عمل سے بھی عاری ہیں، انکی چونکہ ساری دلچسپی مال بٹورنے میں ہوتی ہے، اسلئے انکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اقتدار کے ذریعہ اس لوٹ میں زیادہ حصہ داری رکھنے والے سیاسی دھڑوں کو کسی طریقے سے پچھاڑا جائے ، چاہے فوجی کاروائی کے ذریعہ ہی سے کیوں نہ ہو۔ جمہوریت کے یہ چمپئن تو بوقتِ ضرورت فوجی حکومتوں میں بھی حصہ داری حاصل کرلیتے ہیں اور اس وقت کوئی بھی حاوی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو کسی نہ کسی فوجی اقتدار میں کسی نہ کسی قسم کی شراکت اور مراعات حاصل نہ کرتی ہو۔
جنرل راحیل شریف کی غیرمعمولی کاروائی کسی اور ہی مسئلے اور تشویش کی غمازی کرتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور اسکی ریاست میں کسی نہ کسی سطح پر کرپشن موجود ہوتی ہے۔ کچھ اداروں میں کرپشن کم اور کچھ میں زیادہ ہوتی ہے لیکن پاکستان کی موجودہ فوج جس کے بنیادی ڈھانچے انگریز سامراج کی برصغیر میں کھڑی کی جانے والی فوج پر مبنی اور انہی کا تسلسل ہیں اس میں کرپشن کی گنجائش کم ازکم انگریز سامراج نے بہت کم چھوڑی تھی، اسلئے نہیں برطانوی سامراج بڑا دیانتدار اور نیک تھا بلکہ اسلئے کہ ریاست کے فوج جیسے کلیدی ادارے میں کرپشن کا بڑے پیمانے پر پھیل جانا پوری حاکمیت کیلئے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ انگریز سامراج نے مارکس کے الفاظ میں’’ ہندوستان پر قبضہ ہندوستان(برصغیر) کی فوجوں کے ذریعہ ہی کیا تھا۔‘‘۔ یہاں تک کہ 1857ء کی جنگِ آزادی میں سکھوں، کشمیر کے مہاراجہ اور دوسرے مقامی قبائلی ، علاقائی اور نسلی لشکروں کی حمایت انگریز کو نہ ملتی تو ان کو یہاں کے مقامی فوجیوں اور عوام نے شکست دے دینا تھی ۔ اور ان کو ہندوستان پر مکمل قبضہ کی بجائے یہاں سے فرار ہونا پڑتا۔انہوں نے بنگال سے آغاز کیا،اور تقسیم اور لالچ کے ذریعے مقامی راجاؤں، مہاراجاؤں کو غداریوں پر راغب کرکے انہیں استعمال بھی کیا اور نوازا بھی۔ پھر یہ پالیسی ہرطرف جاری رکھی۔لیکن پھر انہوں نے یہاں کی برادریوں، نسلوں، ذاتوں کی اقسام اور انکے سماجی کرداروں کی پرکھ بھی حاصل کی اور انہیں استعمال کرنے کی پالیسی بھی اختیار کی۔ اس طرح جغرافیائی لحاظ سے بکھرے ہوئے معاشروں کی معاشی وسماجی خصوصیات اور حتی کہ مختلف خطوں کے افراد کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر برٹش انڈین آرمی تشکیل دی۔ ان میں خصوصاً شمال مغربی پنجاب کے سنگلاخ علاقوں اور وادیوں سے ( سنگ دل افرادکی) زیادہ بھرتیاں کی گئیں۔ یہ کوئی حادثاتی امر نہ تھا کہ برطانوی فوج کے عروج میں بھاری نفری سکھ جاٹوں،راجپوتوں اور دھن، بھون،دنہار، کالا چٹاوغیرہ جیسے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے فوجیوں کو سویلین آبادیوں سے الگ سخت ڈسپلن کے تحت چھاؤنیوں میں ہی محدود رکھا، اگر کسی فوجی کو کنٹومنٹ کی حدود سے شہر میں کسی نہایت ضروری کام سے بھی جانا ہوتاتھا تو اس کیلئے نائٹ پاس حاصل کرنا ضروری ہوتا تھا۔ دوسری جانب فوجی سپاہی اور افسران دہقانوں، چھوٹے کسانوں یا درمیانے درجے کے زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں نسل در نسل مغرب سے برصغیر آنے والے حملہ آوروں کیلئے لڑنے کی روایات بھی موجود تھیں اور پھر انکے خلاف بغاوتوں کی ریت بھی پائی جاتی تھی۔
پاکستان بننے کے بعد یہاں کا حکمران طبقہ اپنی تاریخی نااہلی، مالیاتی کمزوری،تکنیکی پسماندگی کے تحت جدید صنعتی سماج، سرمایہ دارانہ ریاست اور پارلیمانی جمہوریت قائم کرنے سے قاصر تھااور نظام کو برقرار رکھنے اور اسے چلانے کیلئے روزِ اول سے ہی اقتدار میں فوج کا کلیدی کردار رہا۔ اقتدار میں آکر فوج اور بالخصوص فوجی اشرافیہ یا جرنیلوں کی دو لت اور طاقت کے باہمی رشتے میں شمولیت ناگزیر ہوجاتی ہے۔جوں جوں فوجی اقتدار کی شرح بڑھتی گئی، فوج کا سرمایہ اور کاروبار امور میں کردار بھی بڑھتا چلاگیا۔ اسی طرح یہاں کے سرمایہ دار طبقے کا وجود ہی کرپشن اور چوری سے مشروط ہے، چنانچہ وقت کیساتھ بدعنوانی ریاست کے ہر ادارے میں پھیلتی چلی گئی ضیاء الحق کے دور میں یہ عمل تیز تر ہوگیا۔
جنرل راحیل شریف کا یہ اقدام کرپشن اور کالے دھن کے اس پھیلتے ہوئے زہر کے تریاق کی کوشش معلوم ہوتا ہے جس سے ادارے کے ڈھانچوں اوروجود تک کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ایسے میں یہ ادارہ نہ اس ریاست کے کسی کام کا رہیگا اور نہ اسکا وجود اور ساکھ برقرار رہ سکے گی۔ فوج کے کرپشن میں ملوث ہونے کی داستانوں کی کتابیں ڈھیروں ہیں لیکن یہ واقعہ حکمرانوں کی شدید تشویش اور سنگین کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ریاستی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ قدم بہت چھوٹا ہے اور بہت تاخیر سے اٹھایا گیا ہے، تاہم حکمران طبقات کے دانشور ، تجزیہ نگار اور درمیانے طبقے کے کچھ افراد اس سے بھی خوش ہیں کہ چلو کچھ تو ہواہے!۔ راحیل شریف کی اُبھاری گئی ساکھ کا بھی شاید ان کے شعور پر بوجھ ہوگا۔ اس اقدام سے اس ادراک کا یہی کردار ہوسکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن اس بحران کی وجہ نہیں بلکہ اسکی ناگزیر پیداوار ہے۔ریاست ، معیشت اور سیاست کے اس بحران کی دو بنیادی وجوہات ہیں پہلے تو پاکستان کے بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دار طبقے میں اتنی سکت ہی نہیں کہ یہاں کے سرمایہ دار ٹیکس اور بل ادا کریں، محنت کشوں کو انسانی اجرت اور سہولیات بھی دیں، ہر کام جائز طریقے سے کریں اور ساتھ ہی اپنا شرح منافع بھی برقرار رکھ سکیں۔دوسری جانب بدترین استحصال ، نابرابری اور غربت سے ذلت اورمحرومی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس میں ہر سطح اور ہر ادارے میں دو نمبری کے بغیر گزارہ نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اقدام ایک بے قابو ہوتے ہوئے عمل کے خلاف صرف ایک وارننگ ہے لیکن جب بدعنوانی نظام کا ناگزیر جزو بن جائے اور اُوپر سے نیچے تک سماج اور ریاستی مشینری کے رگ وپے میں رچ بس جائے تو جرنیلوں،افسر شاہی اور سیاستدانوں وغیرہ کے خلاف انفرادی کاروائیاں ختم نہیں ہوسکتی۔سوال پھر پورے نظام پر آتا ہے۔ بدعنوانی ختم کرنے کیلئے ذاتی ملکیت اور دولت کا خاتمہ درکار ہے۔ یہ کسی جرنیل کا نہیں سوشلسٹ انقلاب کا فریضہ ہے۔(کامریڈلال خان صاحب)۔
اوکاڑہ میں انجمن مزارعین پر فوجی آپریشن: محافظ یا غاصب؟۔تحریر امان اللہ مستوئی: ایک آپریشن جو پچھلے چندروز میں دوبارہ جاری کیا گیا وہ وسطی پنجاب میں انجمن مزارعین کیخلاف ہے۔ یہ غریب کسان نہ دہشت گرد ہیں نہ بھتہ خوراور سب سے بڑھ کر یہ غیر مسلح ہیں لیکن ان پر بھی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے مقدمے ہی درج ہورہے ہیں اور ریاستی جبر پوری وحشت سے کیا جارہا ہے۔ انجمن کے 13کارکنوں کوکئی دنوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے ۔ ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔(جدوجہد)