موجودہ ججوں کا ساراکچرا افتخار محمد چوہدری کی بے اصولی اور نالائقی کا کرشمہ ہے !

42
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میثاق جمہوریت میں پی سی او (PCO)کے ججوں کی عدم بحالی تھی، افتخارمحمد چوہدری کی بحالی بلٹ سے ہوئی ۔اپنے آپ کو معاف کرکے چیف جسٹس نے دوسروں کونکال دیا،موجودہ ججوں کاساراکچرا اسی بے اصول نالائق کا کرشمہ ہے !

چیف جسٹس آف پاکستان نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو میثاق جمہوریت سے پھر جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے لیکن عدالت کے سامنے ایک یاد داشت پیش کرنے کی ضرورت ہے!

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میثاق جمہوریت کے منافی پیپلزپارٹی کی بزدلی کا فائدہ اُٹھاکر پی سی او (PCO)جج افتخار محمد چوہدری کو بحال کروایا ، موجودہ ججوں کا سارا ملبہ اسی اقدام کا نتیجہ ہے

چیف جسٹس آف پاکستان نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کامیثاق جمہوریت سے ہٹ جانے پر بہت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن چیف جسٹس اور موجودہ ججوں کے سامنے ایک یادداشت پیش کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جو اصولوں کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک بہت بڑی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہمارا ملک اخلاقیات سے زیادہ اصولی بحران کا شکار نظر آرہاہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے دائرے سے باہر سیاسی معاہدے کی طرف جھانک رہے ہیں۔ جس کا اپنا کام قانون کی وضاحت اور آئین کی تشریح ہے۔
افتخار محمد چوہدری نے نہ صرف پی سی او (PCO)کے تحت حلف اٹھایا تھا بلکہ ججوں کے اس فیصلے میں بھی شامل تھے جس میں پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف و صدرمملکت کی حیثیت سے تین سال تک اپنی من مانی کے مطابق قانون سازی کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ جس کے ضمیر نے ایک منتخب حکومت کو ختم کرنے پر ٹھنڈا ٹھار ستوکا شربت پی لیا تھا لیکن جب اسکی اپنی نوکری کی بات آئی تو پولیس والے سے بال نوچوائے لیکن اس کیلئے تیار نہیں ہوا تھا۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوا تھا کہ آئندہ کسی پی سی او (PCO)جج کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ جب افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا معاملہ آیا تھا تو میثاق جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ پی سی او (PCO)کا حلف اٹھانے والے جج افتخار محمد چوہدری کو بحال نہ کیا جائے لیکن چوہدری اعتزاز احسن اور نوازشریف کی قیادت میں لاہور سے وکلاء کا جلوس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کررہاتھا تو آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے صدر مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر دباؤ ڈال کر افتخارمحمد چوہدری کو بحال کروالیا۔ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو چیف جسٹس بحال نہیں ہوسکتاتھا۔
میثاق جمہوریت کو توڑتے ہوئے افتخار محمد چوہدری کی بحالی نے عدالت میں بلٹ کا بارود بھی بھر دیا تھا۔ اس نے انتہائی بے شرمی ، بے غیرتی ، بے ضمیری، بے حیائی اور اورپتہ نہیں کس کس چیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کی طرف سے بالکل میرٹ پر بھرتی ہونے والے سارے ججوں کو نہ صرف فارغ کردیا بلکہ انتہائی ذلت امیز سلوک کرتے ہوئے ان کی ناک رگڑوانے کی بھی پوری پوری کوشش کی تھی جس پر محترمہ عاصمہ جہانگیر نے بھی بہت سخت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ پرویزمشرف نے جس طرح ڈاکٹر عطاء الرحمن کو کراچی یونیورسٹی کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا اور ڈاکٹر منظور احمد کو اسلامک انٹرنیشنل کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا۔ ڈاکٹر عامر طاسین کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین میرٹ پر لگایا تھا اسی طرح سے عدالت کے جج بھی میرٹ پر لگائے تھے اپنے مامے چاچے نہیں لگائے۔
افتخارمحمد چوہدری نے مسلم لیگ ن کیساتھ مل کر عدلیہ کو اپنی مرضی سے بالکل گند سے بھر دیا ہے جس کی سزا آج پوری قوم کو مل رہی ہے۔ چیف جسٹس کے داماد کو کراچی میں جب میرٹ کے خلاف شادی حال کا ٹھیکہ نہیں ملا تھا تو اس کا سارا نزلہ فوجیوں پر گرادیا۔ جسٹس شوقت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کیلئے کیا کچھ نہیں کیا ہے؟۔ جس طرح نوازشریف کیلئے اتوار کے دن بھی عدالت لگتی تھی تو اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں ملتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان کو جلاب لگ گئے تھے کہ اگر نوازشریف کو نہیں چھوڑا تو توہین عدالت کے کیس میںوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرح نااہل ہوجاؤں گا۔ ججوں کی اکثریت وکالت کی پریکٹس کرنے کے بعد جج بنتی ہے ۔ وکیلوں میں کوئی کوئی تو بہت اچھا بھی ہوتا ہے لیکن ایسے بھی بہت ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اس کی ماں یا بیوی کو آغواء کرلے اور آغواء کار اس کو اس کی ماں کے خلاف بھی وکیل رکھ لے تو پیسہ کمانے کیلئے اس سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔ یہی بے غیرت، بے شرم ، بے ضمیر اور بے حیاء وکیل بھی جب جج بن سکتے ہیں تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔
جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنا جرم پی سی او (PCO)کے تحت حلف اُٹھانا اور تین سالوں تک پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دینا معاف کیا اور جنہوں نے عدلیہ میں نوکری کی خاطر حلف اٹھایا،کوئی خلافِ قانون کام نہیں کیا اور کسی کو کوئی ریلف بھی نہیں دی تھی لیکن ان کو صرف نوکری سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ توہین آمیز رویہ بھی اختیار کیا گیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے محکمے میں بھرتی ہوتے تو پھر عدلیہ اس کو اس طرح خلاف قانون فارغ کرنے پر لامحالہ بحال بھی کرتی۔ جن کو اپنے ذاتی بغض وعناد کی وجہ سے فارغ کیا اور پھر موجودہ ججوں کو نظریہ ضرورت کے تحت نوکری پر رکھا گیا ، آج وہی جج پاکستان کی عدلیہ میں بیٹھے ہیں؟۔ علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر اور دوسرے وکلاء نے جس طرح ججو ں کی بحالی کیلئے قربانی دی تھی وہ ججوں کی حالتِ زار دیکھ اپنے کردار کا رونا روتے تھے۔ چوہدری اعتزا ز احسن نے تو نوازشریف کو اس وقت دوبارہ بری کروادیا تھا کہ جب کورٹ میں دوبارہ کیس چیلنج کرنے کی قانونی مدت بھی بالکل ختم ہوگئی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کو لندن کی عدالت نے جتنے ارب جرمانہ کرکے رقم پاکستان کو بھیج دینی تھی اتنی ہی رقم کا یہاں اس پر جرمانہ لگایا گیا اور پھر وہ رقم اس جرمانے کی مد میں قبول کی گئی۔ گویا بالکل مفت میں بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی بنانے کیلئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی چال کی عدالت نے اپنی بدترین بد چلنی دکھادی۔ جب یوسف رضا گیلانی کہہ رہا تھا کہ میں صدر کے خلاف خط اسلئے نہیں لکھ سکتا ہوں کہ اس کو آئین نے تحفظ دیا ہے تو اس کو نااہل قرار دیا گیا تھا اور جس پرویزمشرف کی آئین میں ملک پر قبضے کا کوئی قانون نہیں تھا اس کو تین سال تک آئین سازی کا حق دیا گیا۔
ریکوڈک پر جتنا جرمانہ پاکستان پر عائد کیا گیا ہے اس کی ذمہ دار نااہل عدلیہ ہے اور ججوں سے جرمانے کی تمام رقم وصول کرنے کیلئے زبردست اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھ لیا جائے کہ ججوں کی بیگمات نے کس طرح سے کن دھندوں کے تحت اتنے پیسے کماکر بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں؟۔ شاہ رُخ جتوئی اور مصطفی کانجو کا ایک طرح کیس تھا تو شاہ رخ جتوئی کو راضی نامے کے باوجود نہیں چھوڑا گیا اور مصطفی کانجو ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جو سپریم کورٹ کے سامنے کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنی جوان بچیوں کی عصمت دری ہی کا خوف ہے اسلئے اس کیس سے پیچھے ہٹ رہی ہوں۔ اگر انقلاب کیلئے دنیا میں جہنم تیار کی گئی تو دوسرے سنگین مجرموں کو بھٹہ خشت میں ڈالا جائے گا لیکن ججوں اور وکیلوں کو اسٹیل مل کے لوہے میں ایندھن کے طور پر ڈالا جائے گا کیونکہ ان کی وجہ سے انصاف کا فقدان ہے۔