پشتون تحفظ موومنٹ(PTM)کو تعصب موومنٹ نہیں بنائیں!!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہمارے ساتھی بلال میمن ایک متحرک کارکن ہیں۔ تحریکوں کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کراچی نے 16دسمبر آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ کے حوالے سے6ویں برسی منانے کا اہتمام کیا تھا۔ بلال میمن ساتھیوں سمیت مدعو تھے تو میں بھی پہنچ گیا۔ تقریب کا وقت3بجے تھا لیکن کافی دیر کردی گئی۔
تقریب کی ابتداء تلاوت قرآن سے ہوئی ، استعینوا بالصبر والصلوٰة … اللہ سے مدد طلب کرو، صبر اور نماز کیساتھ…… کی آیات سے پڑھی گئی۔ پھر سورہ یاسین کا ختم ہوا۔ پھر پہلے مقرر جاوید محسود کو دعوت خطاب دی گئی اور اس نے گلہ کیا کہ مجھے ہی ہر جگہ پہلی تقریر کی دعوت دیکر مشکل میں ڈالا جاتا ہے، سانحہ پشاور کے شہداء کو رسم و روایت کے مطابق یاد کرنے کیساتھ تحریک سے والہانہ وابستگی اور پشتونوں کیساتھ مظالم کی تلافی وغیرہ باتیں کی ہوں گی کوئی قابلِ ذکر بات مجھے یاد نہیں رہی ہے۔
پھر مجھے ایک مہمان کی حیثیت سے دعوت دی گئی ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں سننے کیلئے آیا تھا یہ پتہ نہیں تھا کہ سنانا بھی پڑے گا۔ میرے ذہن میں تھا کہ بہت بڑا پروگرام ہوگا لیکن کم تعداد میں لوگ تھے۔ میں نے پوچھا کہ پشتو میں بات کروں یا اردو میں؟۔ انہوں نے کہا آپ مرضی ہے۔ میں نے کہا کہ اردو آج کل زیادہ لوگ سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا کا دور ہے اچھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک میرا پیغام پہنچے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں سندھی، بلوچ، پنجابی ، سرائیکی اور پشتون ہیں اور میرا تعلق پشتون بیلٹ سے ہے۔ جب اسلام کی نشاة اول ہوئی تو عرب میں آزاد و غلام کا تصور تھا، ایک جاہل قوم تھی لیکن جب اپنے اندر سے جاہلیت کو ختم کردیا تو دنیا کی سپر طاقتوں قیصر وکسریٰ کو شکست دی۔ جب انسان کے پاس اللہ نے کوئی نعمت عطاء کی ہوتی ہے اور وہ اس نعمت کی قدر نہیں کرتا تو وہ چھن جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی برائی آجاتی ہے۔ پشتونوں خاص طور پر قبائل کے پاس آزادی کی نعمت تھی۔ جب دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی میں لوگوں سے کہتا تھا کہ وزیرستان میں جتنی آزادی تھی اس کا تصور یورپ میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے پرنسپل عارف خان محسود ایک دور میں کمیونسٹ بن گئے۔ اس نے وہاں بہت بڑے جلسے عام میں کہا کہ ” جب اللہ کے ہاتھ ، پیر، ناک، کان کچھ بھی نہیں تو وہ ایک بوتل ہے”۔ لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے ہاتھ بھی اسکے گریبان تک نہیں گئے۔ سب اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کررہے تھے۔ پھر وہ بیمار ہوگئے اور توبہ کرلی ، سچے پکے مسلمان بن گئے۔ یہ آزادی بہت بڑی نعمت تھی جو دنیا میں کسی کو بھی میسر نہ تھی۔ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ اس سے ہم نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ مثلاً میرا اور جاوید کا جھگڑا ہوا۔ مجھے اپنے مفاد میں شریعت نظر آتی تو میں شریعت پر فیصلہ کرتا اور جاوید کو پشتوکا قانون مفاد میں لگتا تو وہ اس قانون پر زور دیتے۔ اس طرح لڑائی جھگڑے اور قتل کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں نے ایک تحریک چلائی تھی جس کی داستان لمبی ہے کہ ایک قانون کو ختم کردیا جائے تو فساد ختم ہوجائیگا۔ بہرحال ہم نے اس آزادی کا فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم پر جبر مسلط ہوگیا۔ چند گھنٹے پہلے میری اپنے بچپن کے کلاس فیلو اور دوست سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنا قصہ سنایا تھا؟۔ میں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک مولوی صاحب سے ہمارا جھگڑا ہوا، محلے والوں نے مجھے کہا کہ آپ فیصلہ کرو، میں نے کہا کہ اس مشکل میں مجھے ڈال رہے ہو؟۔ فیصلہ طالبان نے کیا تھا، مولوی نے اپنی منشاء رکھی تھی ، طالبان نے فیصلہ کیا کہ سرکاری پائپ بھی مولوی کو دیدو اور پیسے بھی دو۔ اور پھر پوچھا کہ فیصلہ پسند ہے؟۔ میں نے کہا کہ پسند نہیں لیکن ڈر کی وجہ سے قبول کررہا ہوں۔ دوست نے بتایا تھا کہ یہ کہتے ہوئے میری سانس خشک ہوگئی تھی۔ میں نے واضح کیا کہ پنجابی ،بلوچ ، سندھی سب میرے بھائیوں کی طرح اور بھائیوں سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ پشتون قوم میں سب سے بڑی خوبی ہے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری، اے کشتہ سلطانی و ملائی وپیری۔ سب سے زیادہ آزاد قبائل اور وزیرستان کے لو گ آزاد منش ہیں۔ کتنی مدت سے بلوچوں نے قربانیاں دیں لیکن اتنے عرصہ پٹنے کے باجود وہ کوئی پذیرائی حاصل نہیں کرسکے جبکہ پی ٹی ایم (PTM)نے بہت ہی کم عرصہ میں وہ مقام حاصل ہے کہ آج پی ڈی ایم (PDM)کا بیانیہ پی ٹی ایم (PTM)کا بیانیہ ہے۔ جماعت اسلامی کی فوج سے اشیرباد واضح ہے لیکن آج وہ بھی کہتی ہے کہ فوج کو اپنی بیرکوں میں واپس جا نا چاہیے۔ دیر میں محسن داوڑ کیساتھ جو کچھ ہوا تھا میں نے اداریہ میں جماعت اسلامی کی مذمت کی تھی ۔ایک مہمان کیساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے کسی ایک قوم اور جگہ سے ظلم ختم ہوجائے تو پوری دنیا سے ظلم ختم ہوسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کیلئے اپنی قوم سے محبت کی بنیاد پر تحریک چلانے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسولۖ سے فرمایا کہ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا مودة فی القربیٰ ” ان سے کہہ دو کہ میں آپ سے صرف قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل و ابولہب اور ابوسفیان سے کہا گیا کہ آپ کی زبان، شہر اور قوم قریش میں سب شریک ہیں، مجھے اس قرابت کی محبت اور لحاظ چاہیے۔ پوری دنیا ظلم سے بھر چکی ہے اگر کسی جگہ سے بھی ظلم ختم ہو تویہ پوری دنیا سے ظلم کے خاتمے کیلئے بنیاد بنے گا۔
میرے بعد پی ٹی ایم (PTM)کے نائب محمد شیر اور آرگنائزر نوراللہ ترین کی تقریربھی ہوئیںجن میں ایک طرف مضبوط بیانیہ تھا تو دوسری طرف متعصبانہ روش بھی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ دریا خان اور کوٹ سبزل خیبر پختونخواہ اور سندھ کے سرحد کے پار پنجاب کے علاوہ ہم اسلام نہیں چاہیے ۔یہ بات بھی ہو کہ پنجابیوں کو ہم نے زبردستی سے مسلمان بنایا تھا تو تعصب کے علاوہ کچھ نہیں بنتا ۔ اگر یہ تاریخ ہے اور قابلِ فخر ہے تو پھر ماننا پڑیگا کہ ادلے کا بدلہ ملتا ہے۔ پھر اگر ہمارے اندر طالبان بنائے گئے اور ہمیں اپنے علاقوں سے ہنکایا گیا۔ تعصبات کا چولہا جلے تو پنجاب ، سندھ اور بلوچ علاقوں سے پختونوں کو بے دخل کیا جائے تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM) کے متعصبانہ بیانیہ سے پشتون تحفظ نہیں تعصب موومنٹ کا تصور اُبھرے گا۔ چند افراد کو پشتونوں کی نمائندگی کا حق نہیں۔نوراللہ ترین کا اظہار کہ ”میں موت کی قیمت پر بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ لکھ کردوںگاکہ پی ٹی ایم (PTM)سے میرا کوئی تعلق نہیں ”۔اس بات کو عیاں کررہا تھا کہ بہت لوگ پی ٹی ایم (PTM)کو چھوڑ کر لکھ کر دے چکے ہیں۔ اگر متعصبانہ رویہ برقرار رہا تو بہت سی تحریکوں کی طرح پی ٹی ایم (PTM)بھی صرف چندے اکٹھا کرنے کیلئے رہ جائے گی اور یہ انسانوں کا محبوب مشغلہ ہے جو جاری رہتا ہے۔
اگر ریاست نے پشتونوں کو تعصبات کی طرف جان بوجھ کر دھکیلا ہے تو پھر یہ پی ٹی ایم (PTM)بھی اسی کی بنائی ہوئی ہے جس کو ریاست نے نہیں پشتونوں نے خود مسترد کیا ہے۔پی ٹی ایم (PTM)کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ ایسی جذباتی تقریریں کرنے کا فائدہ دشمنوں کو ہی پہنچ سکتا ہے جس کی وجہ سے تھانوں میں ایف آئی آر کٹے اور تھانہ ایکشن لینے پر مجبور ہو ۔ وانا جنوبی وزیرستان میں امن وامان کی فضاء ہے۔ میرانشاہ شمالی وزیرستان کے جلسے میں بھی وہ لہجہ نہیں تھا جو کراچی اور سندھ پولیس کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ ہم نے خصوصی شمارے میں ریاست سے اپیل کی تھی کہ پی ٹی ایم (PTM)سے نرم رویہ اپنایا جائے لیکن علی وزیر کی گرفتاری نے ایک بھونچال پیدا کردیا ہے۔ جن پر گوجرانوالہ میں بغاوت کے مقدمات ہیں وہ بھی آزاد ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button