پاکستان میں چوراور چوروں کاتعاقب براڈشیٹ اور فارن فنڈنگ میں عیاں!

157
0

مشہور تھا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔اب پاکستان کی ریاست، سیاست اور صحافت سے پردہ اُٹھ چکا ہے۔ جو حال اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اصحاب حل وعقد نے کیا ہے،اس سے زیادہ بُرا حال علماء نے اسلام کا کیا ہے

تاہم جس طرح پاکستان واحد ایٹمی ریاست ہے جس کا کریڈٹ سیاست، ریاست اور صحافت کو جاتا ہے اور تمام نااہلیوں کے باوجود اہل پاکستان کی یہ سب سے بڑی خوش قسمتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے علماء ومشائخ نے قرآن وسنت اور اصولِ فقہ کے علاوہ دین اسلام کی روح کو زندہ رکھنے میں بہت زبردست اور بنیادی کردار ادا کیا ہے جو بہت خوش آئند ہے

اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان طلاق یعنی جدائی کا جواز رکھا ہے۔ جس انداز میں عورت کو تحفظ دیا ہے وہ بھی بہت مثالی ہے اور جس انداز میں صلح واصلاح اور باہمی رضامندی کی شرط پر رجوع کی وضاحت فرمائی ہے وہ بھی بہت مثالی ہے اور جس انداز میں باہمی رضا مندی کے بغیر صلح کی گنجائش کا خاتمہ اور یکطرفہ رجوع کو حرام قرار دیا ہے وہ بھی مثالی ہے اور جس تفصیل و ترتیب کیساتھ وضاحتیں کی ہیں وہ بھی بہت مثالی اور لاجواب ہیں لیکن اسکے باوجود جس کم عقلی، ڈھیٹ پن، ہڈحرامی کا مظاہرہ مذہبی طبقے کررہے ہیں ان کو بھی اس مستقل مزاجی اور استقامت پر بہت زبردست داد اور خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں جس طرح براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کیس پر بہت زیادہ بے شرمی، بے حیائی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کرنے میں اصحاب حل وعقد اپنی مثال آپ ہیں اسی طرح طلاق کے مسئلے میں علماء ومفتیان اور مذہبی طبقے کی حالت بھی ان سے بالکل مختلف نہیں ہے۔جس طرح براڈ شیٹ میں لندن کی حکومت ،عدالت اور وکالت نے پیسے بھی بٹور لئے ہیں، شرمندہ بھی کردیا اور لٹکتی ہوئی تلوار بھی سر پر رکھی ہوئی ہے اسی طرح سے علماء ومفتیان حلالے کی دنیا میں اپنے عقیدت مندوں سے ناجائز متعہ کرکے بیڑہ غرق کررہے ہیں۔

براڈ شیٹ کمپنی کے سکینڈل نے بڑے پیسے کماکر اس طرح سے سب کو بے نقاب کردیا جس طرح علماء ومفتیان نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کی تعلیم پر مذہب میں جعل سازی کوبڑے طریقے سے بے نقاب کردیا ہے۔

میڈیا میں سیاستدانوں اور نیب دانوں کی وکالت کرنے والی صحافت کو بے نقاب کرنے کیلئے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ دنیا بھر کے میڈیا چینلوں کے سامنے کھڑا کرکے جھوٹ بولنے والے صحافیوں سے پہلے جھوٹ بولنے کی وضاحت مانگی جائے ،اگر وہ معقول وضاحت پیش نہ کرسکیں تو ان کو ایسے کوڑے مارے جائیں کہ پھر وہ بھول کر بھی جھوٹ بولنے کی کوئی ہمت نہ کرسکیں۔ اسی طرح جن سیاستدانوں نے کرپشن کی ہے ان کو بھی جرم کے اعتراف کیلئے میڈیا پر لایاجائے اور سچ نہ بولنے پر کوڑے مارے جائیں۔ اسی طرح نیب اور اسکے سرپرستوں کو غلط پالیسی اختیار کرنے پر سرِ عام کوڑے مارے جائیں۔ پاکستان کی عزت بننا شروع ہوجائے گی تو افغانستان اور ایران کو دعوت دی جائے کہ ہم ایک مشترکہ ریاستی نظام بناتے ہیں۔ پھر ترکی اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کے اسلامی ممالک کو ایک کیا جائے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر

پاکستان میں بھی جتنے ریاستی ادارے ہیں، سب کی کارکردگی صفر ہے مگر عوام کی نظروں میں صرف سیاستدان و آرمی والے کرپٹ ہیں۔عدلیہ، محکمہ ٔ جنگلات، زراعت، ریلوے، پی آئی اے، تعلیم، صحت، تجارت،میڈیا، انکم ٹیکس، کسٹم،پبلک سروس کمیشن،واپڈا، سول وملٹری بیوروکریسی اور جتنے بھی حکومت ، ریاست اور عوام سے تعلق رکھنے والے ادارے اور افراد ہیں ،سب کی حالت ایکدوسرے سے بدتر ہے لیکن کیا یہ سب ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں؟۔

اللہ تعالیٰ دِ لوں کو پھیرنے والا ہے۔ مشرکینِ مکہ کی جہالت اور کفر کا کیا حال تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام اور ایمان کی دولت سے نواز کر دنیا میں خلافتِ راشدہ کو سپرطاقت بنادیا تھا۔جب وحی کا سلسلہ اور نبوت ورحمت کا دور تکمیل کو پہنچ گیا تو خلافت پر انصار و قریش اور قریش واہلبیت میں اختلاف تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اتفاق سے اسلام کی شوکت کو دنیا میں ایسا دوام بخشاتھا کہ بنوامیہ ،بنوعباس،سلطنت عثمانیہ نے بھی بڑی سپرطاقت کی شکل اختیار کرلی تھی۔ رسول اللہ ۖ کی زندگی میں مختلف موقع پر صحابہ کرام نے اختلاف کیا تھا۔ غزوۂ بدر کے قیدی، سورۂ مجادلہ میں عورت کا مجادلہ اور حدیث قرطاس کے معاملات بہت واضح ہیں ۔آج ہمارا ایکدوسرے سے اختلاف بالکل بنتا ہے لیکن افہام وتفہیم کا راستہ اپنانا ہوگا۔

پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا لیکن اس کو اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ پھر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اب ملتان اور ڈیرہ غازی خان پاکستان کے مراکز ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں جی ایچ کیو (GHQ) اور ملتان میںدارالخلافہ منتقل کیا جائے۔کرپشن کی رقم حق حلال کی کمائی ہوتی تب بھی اس پر اتنی زکوٰة بنتی تھی جتنی رقم پر براڈ شیٹ سے نیب کا معاہدہ ہوا ۔ پاکستان کمزور نہ ہوتا تو برطانیہ سے تاوان وصول کیا جاتا کہ فراڈ کرنے والوں کی کمپنی رجسٹرڈکیوں کی تھی؟۔ پھر فراڈ کرنے والے کو دوبارہ کیسے اس نام پر دوسری کمپنی رجسٹرڈ کرنے دی؟۔ اس وقت نیب کے چیئرمین جنرل ر امجد شعیب نے غلطی کی تو اس کی سزا بھی ملنی چاہیے لیکن اگر اس نے مغالطہ کھایا اور اسکا اعتراف کیا تو پھر دوسرے چیئرمینِ نیب نے یہ تسلسل کیوں جاری رکھا تھا؟۔ پھر پرویز مشرف نے کیوں رعایت دیدی تھی؟۔

جتنے فوج سے متعلقہ لوگوں نے کرپشن کرکے مال بیرونِ ملک منتقل کیا تھا وہ سب ایک سال کی زکوٰة یا براڈ شیٹ سے طے ہونے والی رقم کے مطابق اپنابیس فیصد ( 20%) رکھ کر باقی ساری رقم پاکستان کے حوالے کریں اور اس سے ڈیرہ غازی خان میں جدیدترین جی ایچ کیو (GHQ)بنایا جائے۔ سیاستدانوں اور سول بیوروکریٹوں کو بھی بیس فیصد ( 20%)دیکر ملتان میں ایک جدید ترین دارالخلافہ بنایا جائے۔

نہری سسٹم اور سستی بجلی پیدا کرنے سے پاکستان کی تعمیرِ نو کی جائے۔ پاکستان کا سقوط خدانخواستہ ہوگیا تو پھر افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو بھی دنیا بھول جائے گی کیونکہ یہاں فرقہ واریت، طبقاتی اور نظریاتی بنیادوں پر ایک دوسرے سے نفرت بھڑکائی جاسکتی ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی