پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت، معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے.

چہرے نہیں اب نظام کی تبدیلی
پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت،
معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن ایک متفقہ بل پیش کریں۔ جس پر پاک فوج، عدلیہ ،صحافیوں ، علماء ومفتیان اور دانشوروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے ۔
(1) حدیث صحیحہ،امام ابوحنیفہ اور جمہور ائمہ کے نزدیک زمین کو مزارعت ، کرایہ اور کسی بھی طرح کا نفع اٹھانے کیلئے دینے کو ممنوع قرار دیا جائے۔ جب کسانوں کو مفت میں زمین مل جائے گی تو کاشتکار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے قابل ہونگے۔ ضرورت کی چیز خرید سکیںگے تو ہمارے تاجروں کے کارخانے، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے اور بازاروں اور دکانوں میں ریل پیل ہوگی۔ کاروبارِ زندگی رواں دواں ہوگا۔ جب سود حرام ہونیکی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ مدینہ کی جس ریاست نے دنیا کی سپر طاقت کو شکست دی تھی تو اس کی وجہ کاشتکاروں اور تاجروں کی ہی خوشحالی تھی۔اگر وہ خود بھوکے مرتے یا قرض پر چلتے تو دنیا کو مظالم سے چھٹکارا دلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تھے۔ ملک میں محنت کشوں کی خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا تو پھر ریاست، حکومت اور عوام الناس سب خوشحال ہونگے۔ جاگیردار اپنے لئے مہنگی گاڑی، بیرون ملک سفر اور عیش وعشرت کا سامان کرتا ہے تو ایک طرف کاشتکار بھوکا مرتا ہے تو دوسری طرف مقامی تاجروں کا کاروبار نہیں چلتا ہے۔
(2) ریاست اور حکومت سے عوام الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے یہ ختم کی جائیں۔ ٹریفک اور عام پولیس سے لیکر نچلی سطح سے اعلیٰ عدالت تک لوگوں کو جس غضب سے گزرنا پڑتا ہے اس کا احساس وہی کرسکتا ہے جس کو ان سے واسطہ پڑجائے۔ پیٹ کے چکر میں ریاست کے اہلکار عوام سے وہ سلوک کرتے ہیں جو اپنے جانوروں سے بھی کوئی نہ کرے۔ ہماری چھبیس (26) خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ دن دیہاڑے زمینوں، دکانوں اور پلاٹوں پر قبضے ہوجاتے ہیں۔ جعلی کاغذات کے چکر چلائے جاتے ہیں۔ پیسہ اور طاقتور طبقہ کی وجہ سے مظلوم سالوں اپنے حق کیلئے رُلتا ہے مگر اس کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی نے کہا کہ اُوپر انصاف کا جھنڈا ، تلے انصاف بکتا ہے ایسی عدالتوں کو بمع عملہ ڈھادو۔
(3) ریاست، حکومت اور سیاسی پارٹیوں نے پرائیوٹ بدمعاش رکھے ہیں۔ظالموں کا خاتمہ کرنے کیلئے پورے معاشرے میں گلوبٹوں کو ہرقیمت پر تاریخی سبق سکھانا ہوگا اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور بالکل ختم کرنا ہوگا۔ شریف عوام کے ٹیکس کی رقم سے اور شریف شہری پر بدمعاشوں کو مسلط کرنے والوں کو بھی سخت سے سخت سزا دینی ہوگی۔ البتہ یہ بھی نہیں ہوگا کہ کسی علاقہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہو اور عوام حملہ آوروں کو چھپائیں کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ریاست جانے اور اس کا کام جانے۔ خطرناک باغیوں کو پھانسی سے لیکر اصلاحی سینٹروں تک منتقل کرنے کی ایسی قانون سازی کی جائے کہ کوئی خاتون اپنے بے غیرت شوہر، بیٹے اور بھائی کیلئے کبھی احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔
(4) آرمی چیف اور دیگر عہدوں میں مدت کی توسیع کا قانون ختم کیا جائے اسلئے کہ پھر پرویز مشرف کی طرح وردی کو کھال قرار دینے والے پاک فوج کے پروفیشنل افسروں کے حقوق معطل کریںگے۔ ایسے نالائق لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی نہیں دی جائے جو اس اہم عہدے کو سنبھالنے کی صلاحیت سے عاری ہوں۔ اس کی وجہ سے پاک فوج میں بھی بد دلی پھیلتی ہے۔ سینئر جرنیلوں میں سے ٹاس پر نام نکالا جائے تاکہ کسی جرنیل کو منتخب کرنے کا سہرا کسی وزیراعظم یا آرمی چیف وغیرہ کے بھی مرہونِ منت نہ ہو۔
(5) مجرم کی غلط پشت پناہی اور کسی کیساتھ ناجائز کرنے پر وکیل، جج اور پولیس والے کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ کسی بھی سرکاری محکمہ میں رشوت پر پھانسی کی سزا مقرر کی جائے۔ ووٹ خریدنے اور بیچنے والی پارٹیوں اور ارکان اسمبلی کو تختہ دار پر لٹکانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ وردی یا وردی کے نام پر لوگوں کو تنگ کرنے والوں کو چوکوں پر لٹکایا جائے۔ ام المؤمنین اور عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن اب کرپٹ سیاستدان کی ہتک عزت اور عام آدمی کی سزا میں بہت فرق ہے۔ پاکستان کے آئین کو اسلامی بنانے کیلئے حلالہ کی لعنت میں ملوث علماء نے بھی کوئی کردارادا نہیں کیا ہے اور خواتین کے شرعی، معاشی، معاشرتی ،اخلاقی اور سیاسی حقوق بھی غصب کررکھے ہیں۔ یہ چند نمونے ہیں اور اگر اخلاص کا مظاہرہ ہوا تو ملک کی بچت ہوگی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button