گستاخانہ کارٹونوں کے معاملے پر ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا مؤقف بدلا اور علامہ خادم حسین رضوی نے چندوں کا حق ادا نہیں کیا

106
0

فرانس نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرکے گالی دینے کو آزادیٔ رائے کانام دیا ہے جو بہت قابلِ مذمت ہے ۔ جب بھی کسی مسلمان کو موقع ملے گا تو کاروائی کرکے دکھائے گا۔البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو علامہ خادم حسین رضوی اسلئے گالیاں دیتا ہے کہ پہلے توہینِ رسالت پر پاکستان میں ایک مؤقف تھا اور اب کینیڈا کے شہری بننے کے بعد اپنا مؤقف یکسر بدل دیا ہے۔ اس سے تو اچھا کینیڈا کا حکمران ہے جس نے کسی طبقے کے جذبات کو آزادیٔ رائے نہیں قرار دیا ہے۔ جب آسیہ کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا تو ریاست کے خوف سے علامہ خادم حسین رضوی نے بھی چندوں کا حق ادا نہیں کیا ۔مولانا سمیع الحق کو قتل کیا گیالیکن علماء کا ردِ عمل نہیں آیا۔فرانس کے خلاف بھی توقع سے بہت کم ردِ عمل آیابلکہ فرانس کے خلاف احتجاج کرنیوالے بینک منیجر کو توہین رسالت کے بہتان پر شہید کیا گیا تو لوگوں کے جمِ غفیر نے تھانے پر قبضہ کرلیا۔ چھلانگیںلگاتے ہوئے مجاہد گارڈ کو عقیدت سے ایک استقبال کرنے والے شخص نے ہاتھ لگایا تو گارڈ زمین پر خوف کے مارے گرنے لگا تھا۔ جب اسلام کا نزول ہورہاتھا تو یہودونصاریٰ کے مذہبی عناصر اتنے شدت پسند تھے کہ اہل کتاب کا ایک طبقہ حضرت عیسیٰ کو زنا کی اولاد اور دوسرا طبقہ آپ کی ماں کو خدا کی بیوی کہتاتھا۔ اسلام نے دونوں طرح کے اعقتادات رکھنے والی خواتین سے نکاح کی اجازت دی اور مسلمانوں کی اولاد کو یہ تعلیم دی کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ اس سے بڑھ کر تحمل وبردباری کی تعلیم یہ تھی کہ اماں عائشہ پر بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی جو قیامت تک کسی ادنیٰ عورت پر بہتان لگانے کی ہے۔ اگر دنیا کو اسلام کی عظمت کا پتہ چل جائے تو فرانس سمیت پوری دنیا میں رحمة للعالمینۖ کو مسلمانوں سے زیادہ احترام کی نگاہوں سے دیکھا جائیگا۔ 20گریڈ کے افسر اور چوکیدار کی عزت برابر نہیں ہے اور قوم کی دولت لوٹنے والے سیاستدانوں کی عزت کھربوں میں ہوتی ہے لیکن کارکن کی عزت کوڑی کی نہیں۔ اسلام نے جو مساوات قائم کی تھی اس کی مثال دنیا کے کسی نظام میں نہیں ہے لیکن اسلام بیان کرنے سے مذہبی لوگ دُم گھسیڑنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ تھوڑی بہت تفصیلات ادارایہ صفحہ نمبر2پر دیکھ لیجئے گا۔