کان چھدوانا ناجائز دانت تڑوانا جائز ہے

438
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بچی کے کان چھیدنے کو تخلیق میںمداخلت اور
ناجائز قرار دینے والے نے دانت تڑوا ڈالے

جنرل ضیاء نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی شروع کی تو مفتی اعظم مفتی محمود نے انکار کیا۔ اگر 10لاکھ پر1 لاکھ سود ہو۔ 25ہزار زکوٰة کٹے، 75ہزار سود ملے ، اصل رقم محفوظ ہو تو زکوٰة ادا ہوگی؟۔ مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة کا فتویٰ دیا اور مدرسہ کیلئے جنرل ضیاء سے مالی مفاد لیا۔ مفتی محمود نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی کو چائے پر بلایا مگر دونوں نے انکار کرکیا کہ ہم صبح پیتے ہیں۔ مفتی محمود نے کہا کہ خود زیادہ پیتا ہوںمگر کوئی کم پیئے تو پسند کرتا ہوں۔ مفتی تقی نے کہا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت (پان) لگی ہے۔مفتی محمود نے کہا کہ ”یہ تو چائے سے بدتر ہے”۔ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے مفتی محمود کو پان کھلایا۔ مفتی محمود نے راکٹ سائنس کے دلائل نہیں دینے تھے مگر غش کھاکر گرے، مفتی رفیع عثمانی نے حلق میں دورۂ قلب کی گولی ڈالی، مفتی محمود جان سے گئے۔تبلیغی جماعت نے سودپر فتویٰ مانامگر رائیونڈ جوڑ پر فتویٰ نہ مانا۔ قرآن کی نہ مانیں تو گرگس کی آذان سے کام نہ چلے گا۔ سورۂ مدثر میں واضح معاملات کا پتہ اس وقت چلے گا جب اسلامی انقلاب برپا ہوگا۔

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقے کے عجیب حیلے!!

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

جب ہندوستان میں انگریز کا قبضہ تھا تو مولانا اشرف علی تھانوی کہتے تھے کہ مسلمان جب نماز اور عبادات کیلئے آزاد ہیں تو انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی جہدوجد بیکار ہے۔ جس پر علامہ اقبال نے یہ شعر پڑھاتھا، یہی رویہ بریلوی واہلحدیث علماء کا بھی رہا تھا مگر مولانا تھانوی کے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے تحریکِ ریشمی رومال میں بغاوت کردی تھی۔
ایک بڑی عمر کے کم عقل شخص نے جوانوں سے کہا تھا کہ ”میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں مگر اس کا کفارہ ادا نہیں کرسکتا۔ تم لوگ مجھے زبردستی پکڑکر کچھ کھلادینا، اس طرح میرا روزہ بھی ٹوٹ جائیگا اور کفارہ ادا نہیں کرنا پڑیگا”۔ حالانکہ ہمارے یہاں کہاوت مشہور ہے کہ” اگر نہیں چلوگے تو اٹھاکر لیجاؤں گا لیکن اگر نہیں کھاؤگے تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں”۔ بہرحال اس صاحب کے روزے کو شرارتی لڑکوں نے توڑ کر ایک مذاق کا تماشا بنالیاتھا۔ پہلے علماء ومفتیان نے فتویٰ دیا کہ ”مساجد میں باجماعت نماز پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے”۔ پھر حکومت سے کہا کہ ” ہم تو نمازیوں کو نہیں روک سکتے، البتہ حکومت خود روک لے تو ہم مزاحمت نہیں بلکہ تعاون کرینگے”۔
اللہ واسطے اسلام کا ٹھیکہ چھوڑ دو۔ شوگر مافیا کی طرف سے اربوں کمانے کی جمہوریت میں اور تمہاری طرف سے اسلام کے نام پرتجارت کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ تمہارا کام اسلام کی شیخی کرنا نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام کے ذمے بھی صرف تبلیغ تھی۔ تم قرآن وسنت نہیں اپنی اجارہ داری کی تبلیغ کرتے ہو۔ مرضی ہو تو فتویٰ دیتے ہو کہ نماز باجماعت ترک نہیں کرسکتے اور مرضی ہو تو فتویٰ دیتے ہو کہ گھروں میں نماز پڑھو۔ یہ دھندہ چھوڑ دو، دنیا میں پیٹ پالنے کیلئے راستے اور بھی ہیں۔ پیٹ پالنے کیلئے دین کو ذریعہ معاش بنانے سے بہتر دنیاوی طریقے ہیں۔ دین کا کام گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والوں کے بس کی بات بالکل بھی نہیں ۔

مفتی تقی عثمانی اور تبلیغی جماعت کے معاملات

اسلام کو توبدل ڈالا۔ وائرس کیخلاف پروپیگنڈہ نہ کرکے عوام کو گمراہ نہیں کریں!

وائرس زائرین اور بیرونِ ملک آمد سے آیا۔ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ تھا کہ باجماعت نماز ، خطبۂ جمعہ کو مختصر کیا جائے مگر ترک نہیں کیا جاسکتا۔ قدیم فقہاء اور جامعہ ازہر ودیگر فتاویٰ ہیں، البتہ اجتماع پر پابندی میں حکومت کا حکم ماننا فرض ہے۔ تبلیغی جماعت رائیونڈ اجتماع سے منع نہ ہوئی۔ بارش نے بھگایا تو پھر بھی جماعتیں شکیل دیں۔ مفتی تقی عثمانی نے تبلیغی کا کورونا سے بچنے کا خواب بھی بتایا کہ رسول اللہۖ نے یہ وظیفہ بتایا تھا جو میڈیا پرخوب نشر کیا گیا تھا۔
نعمان مسجد لسبیلہ کراچی میں تبلیغی جماعت کابعدازمغرب گشت، عشاء کے بعد بیان تھا تو مفتی تقی عثمانی کو عصر کی نماز کے بعد درسِ قرآن سے روکا کہ تم اللہ کی راہ میںرکاوٹ بنے ہو۔ مفتی محمود، جمعیت علماء اسلام و دیگر مدارس کے برعکس مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة پر فتویٰ دیا، الائنس موٹرز سے تبلیغی جماعت کا اختلاف تھا تو مفتی تقی عثمانی و مفتی رشید لدھیانوی نے تبلیغی جماعت کیخلاف فتویٰ دیا۔ جب الائنس موٹرز اور حاجی عثمان میں اختلاف ہوا تو مفتی تقی عثمانی نے الائنس موٹرز کا ساتھ دیا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے سود کو اسلامی قرار دیا تو وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے مفتی زرولی خان اور دیگر علماء ومفتیان سے مل کر مفتی تقی عثمانی کو تنبیہ کی مگر مفتی تقی عثمانی نے کسی کی نہیں مانی۔ تبلیغی جماعت والے پہلے دو یا تین افراد میں بھی ایک کو امیر مقرر کرتے لیکن پھر امارت کے ہوس نے اکابر کو امیر مقرر کرنے کے شرعی حکم سے دستبردار کروادیا۔ پہلے عالمی امیر سے محروم تھے پھر پاکستانی امیر بھی نہیں رہا۔ اسلئے جب تک کرونا وائرس پھیلانے کے جرم میں گرفتار نہیں ہوئے، کسی کی بھی بات نہ مانی۔
انسان گناہ کی پیٹھ پر سوار ہو تو توبہ کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ۔ قرآن کی طرف رجوع نہ کیا جائے تو اس سے بڑی اور کافری کیا ہے؟۔سودی نظام کے جواز سے توبہ کریں۔

مفتی تقی عثمانی کے بدلتے فتوؤں کی حالت!!

پہلے نبیۖ پر سودکھانے کی توقع کا حکم لگایا، نیوتہ کو سودکہا پھربینکنگ پراترآیا!

اللہ نے قرآن میں نبیۖ سے فرمایا: فلا تمنن تستکثر”احسان سے توقع نہ رکھو کہ قوم بھلائی کی تبلیغ کے بدلے زیادہ خیر کا مظاہرہ کریگی”۔ (سورہ ٔالمدثر) فطری بات ہے کہ جزاء الاحسان الا الاحسان” احسان کا بدلہ احسان ہے”۔جب جہالت کا معاشرہ ہوتا ہے تو بھلائی کی تبلیغ لوگوں کو بری لگتی ہے۔ نبیۖ کاتبلیغ کے بدلے خیرکثیر کی توقع فطرت تھی لیکن جاہلوں کی طرف سے غیر فطری ردِ عمل کا اندیشہ بھی تھا جس کو اللہ نے واضح کردیا تھا۔
مفتی تقی عثمانی نے بعض نادان مفسرین کی آراء سے یہ تفسیر کرڈالی کہ یہ سود تھا، نبیۖنے مال دینے کے بدلے نعوذباللہ زیادہ مال حاصل کرنے کی توقع رکھی تو اللہ نے روک دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کراچی میں شادی بیاہ کے موقع پر لفافوں کے لین دین کو بھی سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں کیساتھ زنا کرنے کے برابر قرار دیا۔ مفتی تقی عثمانی کے بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کے وعظ چھپ کر بازار میں بک رہے ہیں۔نیوتہ کی رسم میں لفافے کے لین دین پر سود کا فتویٰ اور اپنی ماں سے زنا کے برابر گناہ قرار دینے والوں نے بینکنگ کے سودی نظام کو معاوضہ لیکر جائز قرار دیا۔ وفاق المدارس کے صدر اور اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان سمیت کسی بھی دینی مدرسے کے فتوے اور مزاحمت کو خاطر میں نہیں لایا۔ حاجی عثمان پر فتوے لگائے گئے تو مفتی تقی عثمانی نے اپنے سے بڑے علماء ومفتیان اور اساتذہ کیلئے بھی خود کو سرپنچ بنالیا۔
پھراللہ نے عروج دیا: سنستدرجھم من حیث لایعلمون” ہم انکو ایسی ترقی دینگے کہ وہ سمجھیںگے بھی نہیں”۔ سارھقہ صعودا ”عنقریب میں اس کو چڑھا ؤں گا”۔ اس سے مفتی تقی عثمانی اسلام کی نشاة ثانیہ کے وقت مراد ہوسکتاہے۔ روزنامہ مشرق پشاور میں کسی نے کروناوائرس اور چین مراد لیاہے مگر شیخ الاسلام کوبھی اپنی ذات پر غور کرنا چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی کے عروج وزوال کی داستان

ہم نے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا:اور جب ستارے ٹوٹ جائیں گے

مولانا سید سلمان ندویاور مولانا ابوالکلام آزاد نے تصویر کے جواز کا فتویٰ دیا تومفتی شفیع کی جب کوئی حیثیت نہیں تھی تو دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ نے مضمون چھپوانے کی لالچ دی تو حق بات کو دبانے کی خدمت انجام دی۔ جوہری دھماکہ میں تفصیل سے حقائق موجود ہیں۔
مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کیلئے باپ مفتی شفیع نے دارالعلوم میں ذاتی مکان خریدے تو مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اسلئے ناجائز قرار دیا کہ وقف مال خریدنے اور فروخت کرنے کی گنجائش نہیں۔ نیز ایک آدمی بیچنے اور خریدنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس پر مفتی رشید لدھیانوی کی پٹائی لگادی، سودی زکوٰة کی کٹوتی پر مفاد حاصل کیا۔ حاجی عثمان کیخلاف الاستفتاء مرتب کرکے علماء ومفتیان کی غلط وکالت کی، دارالعلوم کراچی کی مسجد میں ہمارا چیلنج قبول نہیںکیا اور پھر سود ی بینکنگ کو اسلامی قرار دیا۔ مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا سلیم اللہ خاننے حاجی عثمان کی قبر اور مسجدالٰہیہ آکر درونِ خانہ معافی تلافی کرلی، مفتی تقی ورفیع عثمانی معافی مانگیں۔
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور :کرگس کا جہاں اور شاہین کا جہاں اور

مفتی تقی عثمانی اور حاجی عثمان پر فتوے کامنظر!

منہاج الشریعت، سراج الطریقت ،عروج ملت حضرت حاجی محمد عثمان قدس سرہ

پندرھویں صدی کے مجددحضرت حاجی محمد عثمان ایک طرف تبلیغی جماعت کے بزرگ، علماء کے دلدادہ، اولیاء کے سرخیل تھے تو دوسری طرف خلافت علی منہاج النبوةکی تمنا رکھتے تھے۔ علماء ومفتیان آپ سے بیعت تھے۔ بڑے پیمانے پر فوجی وپولیس افسر اور مدینہ منورہ کے پولیس افسر تک بھی آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ اہلحدیث حضرات بھی آپ کے مرید تھے۔ جب آپ کے سرمایہ دار مریدوں نے علم بغاوت بلند کیا تو الاستفتاء کے نام سے دارالعلوم کراچی میں وہ الزام لگائے گئے جو عقل کے بھی بالکل منافی تھے۔پھر جب دوسرے علماء ومفتیان نے ہمارے جال میںپھنس کر اکابرین کے خلاف فتویٰ دیا تو دارالعلوم کراچی والے بچ گئے۔ وہ نہ تو فتویٰ کی حمایت اورنہ مخالفت کیلئے تیار تھے۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی میں بھی وہ فتویٰ شائع ہوا،جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی نے یہ استفتاء لکھا ہے جو حاجی عثمان کے مرید خاص ہیں، اس قسم کے عقائد پر پابندی لگائی جائے۔ حالانکہ سب عقائد شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ ، علامہ یوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا زکریا کے تھے۔ پھر جب روزنامہ تکبیر کراچی کو اصل صورتحال سے ایک سال بعد آگاہ کیا گیا تو اس میں علماء ومفتیان کو دروغ گوئی سے کام لینے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان حالات میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن کا کردار مجذوبانہ تھا، مفتی رشیدلدھیانوی کا کردار متشددانہ تھا اور مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کا منافقانہ تھا۔ نکاح کے معاملے پر بھی دوغلہ پن کا فتویٰ دیا تھا، جس کی تفصیلات دیکھ کر دانتوں کے بعد انکی ناک بھی کٹے گی،انشاء اللہ۔ ہمارا کوئی ذاتی عناد نہیں مگر طلاق کے مسئلے پر میرے استاذ مفتی محمد نعیم کے جرأتمند انہ بیان پر بھی مفتی تقی عثمانی اور اسکے حواریوں نے تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ اب جنگ ہوگی۔

علماء و مفتیان اپنی ہٹ دھرمی چھوڑیں

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کی انتہائی بدترین اور بہت ہی قابلِ رحم حالت

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے علماء ومفتیان کا بڑا نمائندہ اجلاس طلب کیا اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں میڈیا کے صحافیوں کے سامنے اپنے انتہائی بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریری اعلامیہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھ کر سنایا تو اس میں ایک مطالبہ رکھا گیا تھا کہ مساجد سے لاک ڈاؤن کی پابندی ختم کی جائے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن ختم ہے۔ صحافی نے کھلے تضاد پر سوال اٹھادیا۔ مفتی تقی عثمانی نے مائک ہاتھ سے مفتی منیب الرحمن کی طرف کردیاتومفتی منیب الرحمن نے اپنی بات دہرادی کہ لاک ڈاؤن آج سے ختم ہے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے سوال کے جواب میں تحریری مطالبہ دہرایا لیکن جب صحافیوں نے ابہام ختم کرنے پر زور دیا تو علماء نے مزید گفتگو سے بھاگ کر جان کی امان پائی۔ پھر شاہ زیب خانزادہ نے کھینچ تان کر بہت اگلوانے کی کوشش کی کہ مفتی منیب کے بیان کی کیا حیثیت ہے؟ مگرمفتی تقی عثمانی نے آخری حد تک ٹال مٹول سے کام لیکر کہا کہ ہمارا حکومت سے معاہدہ ٹوٹ چکا تھا۔ البتہ آئندہ کیلئے ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

مفتی منیب الرحمن نے اپنے رویہ کو چھوڑ کر بہت ہی قابلِ تحسین اقدام اٹھایا ہے

جب مشترکہ اعلامیہ کے بعد مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن ایکدوسرے سے کھلم کھلا تضاد رکھنے کے باوجودصحافیوں کو اطمینان بخش جواب دینے سے کنی کترا رہے تھے تو پھر کسی اور مؤقف پر ان سے واضح مؤقف رکھنے اور عوام کو رہنمائی فراہم کرنے کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟۔ افسوس کہ مذہبی طبقات پھر بھی سوشل میڈیا پر انکے دفاع کی خدمت کررہے ہیں۔
قرونِ اولیٰ اور قرون اُخریٰ کے ادوار کا تفصیل سے قرآنی آیات میں ذکر ہے لیکن فرقہ واریت کے رنگ بدلتے ہوئے گرگٹوں نے کبھی اس پر توجہ نہ دی اور آج بھی ان سے توقع نہیں کہ حقائق کو ایمان کے تقاضوں کے مطابق مان لیںگے۔قرآن میں صحابہ کرام کو واضح طورپر رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا تمغۂ امتیاز دیا گیا ہے مگر شیعہ سنی کا صحابہ پر اختلاف ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء راشدین المھدیین ” تم پر میری سنت کی اتباع لازم ہے اور خلفاء راشدین مہدیوں کی سنت کی اتباع لازم ہے”۔
جب حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی کے راشد ومہدی ہونے پرہی شیعہ سنی کا اتفاق نہیں تو آئندہ کے مہدیوں پر کیسے اتفاق ہوسکتا ہے؟۔بس اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا میں امام مہدی تشریف لائیںگے اور ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا۔ کیا اس انقلاب کا ذکر بہت واضح انداز میں قرآن کریم میں نہیں ہوسکتا ہے؟۔ ہے اور بالکل واضح طور پر ہے!۔ نبیۖ نے امیر معاویہ کیلئے بھی دعا مانگی تھی کہ ” اے اللہ اس کو ہادی اور مہدی بنادے”۔ مگر اہل تشیع کا مؤقف یہی ہوسکتا ہے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی۔ جبکہ اہلسنت کے نزد ابوطالب کیلئے نبیۖ نے ہدایت کی دعا مانگی مگر اللہ نے فرمایاانک لاتھدی من احببت ۔ہمیں پہلوں کے بارے میں بحث چھوڑ کر اپنا مستقبل گمراہی سے بچانے کی فکر کرنا ہوگی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری اور مفتی رفیع عثمانی بھی حدیث پراب غلطی کا ازالہ کریں

ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح قرآن کریم قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کیلئے بھی رشد وہدایت اور مقربین بارگاہ الٰہی کا ذریعہ بن گیا تھا،اس طرح قرون اُخریٰ میں کم تعداد ہی کیلئے سہی مگر مقربین بنانے کا ذریعہ بن جائیگا اور بڑی تعداد میں لوگوں کے رشدو ہدایت کا ذریعہ آخری دور میں بھی بنے گا۔ جسکا سلسلہ اس درمیانہ دور یانصف آخر سے لیکر بالکل آخری دور تک چلتا رہے گا۔ نبی ۖ نے بارہ خلفاء کا ذکر فرمایا جن پر امت نے متفق ہونا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ” الحاوی للفتاویٰ” میں اس حدیث کی یہ تشریح لکھ دی کہ ” ابھی تک یہ بارہ خلفاء آئے نہیں ہیں جن پر امت کا اتفاق ہوا ہو”۔ ڈاکٹر طاہر القادری و مفتی رفیع عثمانی نے علامہ جلال الدین سیوطی کی اس کتاب کے حوالہ جات نقل کرکے بہت بڑی خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ مہدی کے بعد پھر قحطانی امیر ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ مہدی چالیس تک رہیں گے۔ پھر قحطانی امیر منصور ہوگا، جسکے دونوں کان میں چھید ہوگا۔ وہ مہدی کی سیرت پر ہوگا۔ پھر نبیۖ کے اہل بیت میں سے آخری امیر ہوگا جو نیک سیرت ہوگا”۔ڈاکٹر طاہرالقادری اورمفتی رفیع عثمانی نے ان روایات کے اندراصلی روایت مہدی اور قحطانی کو چھوڑ کر پھر تشریحی روایت سے صرف آخری امیر کا ذکر لے لیا۔ ہم نے اپنی کتابوں میں مسلسل احتجاج کیا کہ اس خیانت سے اعلانیہ توبہ کی جائے مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ علامہ یوسف بنوری کے شاگرد نے اپنی کتاب میں مہدی کے حوالہ سے بہت تفصیل سے روایات کا ذکر کیاہے جہاں مہدی اور قحطانی امیر منصور کے درمیان بھی کافی واقعات ،انقلابات اور امیر مقرر کرنے کا ذکر ہے مگر پھر ملاعمر سے مہدی و منصوربھی مراد لیا ہے۔ علماء ومفتیان اور دانشور مل بیٹھ کر اچھے نتیجے پر پہنچ جائیں۔