پاکستان میں پٹھان پنجابی،بلوچ اورسندھی میں کس کو اقتدار دیا جائے تو تبدیلی آئیگی؟؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم اُلوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ان اللہ لذوفضل علی الناس ولٰکن اکثر الناس لایشکرونO(القراٰن:سورة البقرہ آیت243)

کیا آپنے ان لوگوں (بنی اسرائیل کے قبائل )کے حالات پر غور نہیں کیا،جن کو اپنے مُلک سے مہاجر بناکر نکالا گیااور وہ ہزاروں میں تھے، موت سے بچنے کا خوف ان پر طاری کیا گیا ۔

پھراللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ!۔ پھر اللہ نے ان کو زندگی بخش دی ، بیشک اللہ لوگوں پر اپنا فضل کرتا ہے مگر لوگوں میں اکثرشکر ادا نہیں کرتے ہیں۔ ( پختون قبائل کی بڑی عکاسی ہے)

پاکستان بنا تو ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین اور فوج میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے سول وملٹری بیوروکریسی نے پاکستان پر حکومت کی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے مہاجر پنجابی اتحاد ختم کرکے سندھی پنجابی اقتدار کا آغاز کیا اور بنگلہ دیش میں اکثریتی پارٹی جیتنے کے باجود بھی مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے میں دیر کردی اور اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگاکر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کردیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا اور پھر جب دھاندلی کا حربہ استعمال کیا اسکے خلاف قومی اتحاد کے نام پر تحریک نظام مصطفی ۖچلی ۔ ڈیڈی جنرل ایوب خان کی گود کے بھٹو پر اتنے اثرات تھے کہ لاڑکانہ میں اپنے مخالف امیدوار کو کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کرکے کاغذات نامزدگی بھی داخل نہیں کرانے دئیے ۔
پھر اپوزیشن کو جسکے قائد عبدالولی خان تھے، حیدر آباد جیل میں بند کردیا تھا۔ پختون، بلوچ، سندھی اور پنجابی سیاسی قائدین ، رہنماؤںاور کارکنوں پر بغاوت کا مقدمہ چل رہاتھا۔جب اپوزیشن لیڈر ولی خان سے کہا گیا کہ آپ کیلئے جیل میں کمرہ سجادیا گیا ہے اور یہاں سے آپ نے پھانسی کے پھندے پر لٹک جانا ہے تو ولی خان نے کہا تھا کہ یہ کمرہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جیل کاٹنے کیلئے تیار کیا ہے۔ پھر وقت آگیا کہ مارشل لاء لگ گیا اور بھٹو نے اسی کمرے میں ہی اپنی جیل کاٹی۔ بلاول بھٹو زرداری کو معلوم نہیں ہوگا کہ جب بلوچستان کی جمہوری حکومت ختم کرکے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی جگہ اکبربگٹی کو گورنر بنایا گیا تو جب عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو اغواء کرکے ماردیا گیا تھا تو اس وقت اس کا نانا ذوالفقار علی بھٹو ایک طاقتور اورتاریخی مگر کٹھ پتلی وزیراعظم تھا۔ جو دھاندلی سے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اور اپنے وقت کے بدترین ڈکٹیٹروں سے بڑاکٹھ پتلی ڈکٹیٹر تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو بیوقوف جیالوں کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کی ساری سیاسی لیڈر شپ ممتاز بھٹوسے غلام مصطفی کھراور مولانا کوثر نیازی تک نہر میں ڈوبتی ہوئی کشتی کو دیکھ کر کنارے پر بھاگ گئی۔مولانا نے”اور لائن کٹ گئی” کتاب لکھ دی تھی۔ کھر نے خواتین سے نکاح اور چھوڑ نے کا سلسلہ جاری رکھا اسلئے کہ اداکارہ ممتاز کو بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کیلئے لاڑکانہ بلوایا تھا۔ جس پر حبیب جالب نے ” لاڑکانہ چلو ورنہ تھانہ چلو” مشہور غزل لکھی تھی۔ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند۔ جب طالع آزما بھٹو کی دوستی کرلی تھی تو عورتوں کے معاملے میں طالع آزما بننا ہی تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد اورمہاجرین کے نام اپنے ملک وقوم کو خوب پالا تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گمنام ہیرو آئی ایس آئی کے جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادوں کے گھر سے کتنی دولت برآمد ہوئی ہے لیکن مجاہد ایک بیٹا بھی نہیں بنا ہے۔ پٹھان کہتے تھے کہ جب اختر عبدالرحمن نے ہندوستان سے ہجرت کی تھی توگدھا گاڑی پر آئے تھے اب اتنی دولت کہاں سے آئی ہے؟۔ جنرل ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بناکرا رکان کو پانچ پانچ کروڑ دئیے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے مجلس شوریٰ کی رکنیت سے فائدہ اٹھایا تو بیرون ملک سے دودھ پیک کرکے بیچنے کی کمپنی متعارف کروائی۔ چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کی مال منڈی میں ہر مہینے آٹھ دس دن ڈیڑھ روپے کلو والا دودھ چارآنہ میں ملتا تھا اور لوگ منوں دودھ خریدتے تھے۔ لاہور سے اوکاڑہ ، ساہیوال اور چیچہ وطنی راوی کے کنارے صحت مند دودھ کم قیمت پر ملتا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی میں تقریری مقابلہ ہوا تو ” عقل وڈی کے منجھ ” میں منجھ وڈی والے نے مقابلہ جیتا تھا۔ میں اسی سکول میں تھا ۔ بھٹو کو اسی دور میں پھانسی دی گئی تھی۔مقرر نے کہا تھا کہ عقل انسان میں خوف پیدا کرتی ہے، عقل ہوتی تو (1971ئ) کی فوج نے ملک کا دفاع کرنے کے بجائے ہتھیار ڈال دینے تھے (1965ئ) کی جنگ ہم نے عقل سے نہیں بھینسوں کا دودھ پینے کی وجہ سے جیت لی تھی۔
نجم سیٹھی ہوسکتا ہے کہ اپنے نام رشتہ دار کے اثاثوں کی وجہ سے بھی نوازشریف اور دیگر سیاستدانوں سے کئی لاکھ گنا زیادہ ٹیکس جمع کراتے ہوں۔ پہلے نیب کا خوف نہ ہونے کے باوجود بھی لوگ سرکار سے لوٹے ہوئے مال اور املاک کو چھپاتے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے نیسلے کے جوس کی پارٹنر شپ اورتعلیمی ادارے وغیرہ کے مالک جس نے کافی رشتہ داروں کو روزگار دلایا ہے جس کی جتنی تعریف نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن نے کی ہے اس سے زیادہ کی جگنو محسن خود مستحق اور زبردست سیاستدان ، ادیب اور صحافی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کی شوریٰ کے ارکان سے غلطی منوانا اور جنرل ضیاء کے شوربے نواز شریف کی مداح ہونا بھی سیاست کا کمال ہوسکتا ہے اور ضرورت اور مجبوری بھی ہوسکتی ہے لیکن نظریہ کی سیاست عنقاء بن گئی ہے یاکہیے کہ ڈائناسور کی طرح ناپید ہے۔ البتہ کسی کی تعریف کے گن گانا یا تعریف سے گھبرانا یا مخالف کے پیچھے پڑجانا یا مخالفت سے گھبرانا بھی چھوٹی ذہنیت اور خاندانی پسماندگی کی علامت ہے جس سے جگنو محسن بالاتر ہیں۔مجھے ان کے نظرئیے اور کردار کا کچھ پتہ نہیں لیکن دبنگ باتوں سے قدکاٹھ بڑا لگتا ہے۔
جب ایم آرڈی کے رہنماؤں نے (1988ئ) کے الیکشن میں حصہ لیا تھا تو قائدین کے مقابلے میں پارٹیوں نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ البتہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بینظیر بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔ تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی نے سوات اور ن لیگ نے چھانگا مانگا کو اپنی مویشی منڈی بنایا تھا مگر جمعیت علماء اسلام ف کے ارکان خریدوفروخت سے بے نیاز آزاد گھوم رہے تھے۔ عمران خان کی خاتون اول بشریٰ بی بی کا سسر غلام محمد مانیکا بھی اس وقت مسلم لیگ ن سے بکاتھا۔ مولانا فضل الرحمن نے صدر قذافی کی طرف سے یونیورسٹی کو ملنے والی رقم بھی مسترد کرکے اس دور میں تحریک عدم اعتماد کی شمولیت سے پیچھے ہٹنے کی بات قبول نہیں کی تھی۔ پھر جب ولی خان کو مولانا حسن جان کے ذریعے ہروایا تھا تو جمعیت کے نظریاتی لوگ مولانا فضل الرحمن کو برا بھلا کہہ رہے تھے اسلئے کہ مفتی محمود وزیراعلیٰ مفتی ولی بھائی بھائی سے بنے تھے۔
بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو پیپلزپارٹی کو صلے میں اقتدار مل گیا، زرداری صدرمملکت اور یوسف رضا گیلانی سرائیکی اور راجہ پرویز اشرف پوٹھوہاری وزیراعظم بن گئے۔ نواز شریف کو ٹبر کیساتھ جلاوطن کیا گیا تو اس کو پھر تخت لاہور کے ذریعے پاکستان کا اقتدار مل گیا اور پھر عمران خان کو اقتدار ملا لیکن وہ نیازی پٹھان ہونے کے باجود نیازی کہنے پر بھی خار کھاتا ہے۔ پختونوں کو بڑے پیمانے پر شہید کیا گیا اور بڑے پیمانے پر بے گھر کیا گیا مگر ان میں کسی کو اقتدار میں نہیںلایا گیا ہے اسلئے اس مرتبہ اقتدار کا حق کسی پختون کا بنتا ہے۔کوئی نیک سیرت اور باصلاحیت اچھا بیوروکریٹ بھی پاکستان میں اچھی تبدیلی لاسکتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button