کوئی پانچ سال کی بچی نہیں چھوڑتا، پدر شاہی بلا بن چکی جو عورت کے خون پر پلتی ہے، عصمت شاہجہان

433
0

پریس کلب میں عصمت شاہجہان کا خطاب
( (بلال خان، علی خان، شاہجہان ،عبید خان، اسفند یار وزیر ) کامریڈ عصمت شاہجہاں صدر وومین ڈیموکریٹک فرنٹ، عورت آزادی مارچ 2020اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا : سلام دوستو! ساتھیو! آپ سب کی جرأت کو لال سلام۔ آج دہشت و وحشت کے خوف کو جو آپ لوگوں نے توڑا آپ سب کو لال سلام۔ اور آج سیکولر پاکستان کا فیصلہ ہوگیا!۔

اسلام آباد،  پاکستان کا پولیٹکل سینٹر اسٹیج ہے اور پھر یہ پریس کلب پر لڑائی پانچ دن سے جاری رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این او سی ہمیں بھی دی گئی اور ان کو بھی دی گئی۔ یہ کیوں کیا گیا؟ان سوالات پر میں بعد میں آؤں گی لیکن آج جشن کا دن ہے اپنی بات رکھنا چاہوں گی اس مارچ کے حوالے سے۔ سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتی ہوں ان تمام آرگنائزرز کا جنہوں نے ہمیں مکمل سپورٹ دی۔ ساتھ میں جو آرگنائزنگ کمیٹی ہے جنہوں نے دن رات کام کیا ان کی محنت کو اس خوف کو توڑنے کیخلاف آج نکلنے پر ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔ میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو خط لکھا کہ ان کو این او سی دیدیں ،میں باقی جو اسلام آباد کی لیفٹ  کی پارٹیاں ، وومن ایکشن فورم خاص طور پر ہمارے ساتھ کھڑی رہی اور عوامی ورکر پارٹی کی ٹیم انتھک ہمارے ساتھ کھڑی رہی۔ بھلے وہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہو یا بینر پوسٹر ہو، یا گاڑی ہو، ہر جگہ وہ کھڑے رہے اورر ساتھ ہی ساتھ لیفٹ کی جن پارٹیوں اور تنظیموں کے لوگ آئے ہیں انکا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں،  اور تمام لوگ جو آج یہاں اکھٹے ہوئے۔پورے پاکستان کو جو آج یہاں سے پیغام جارہا ہے ان سب کو میں ایک بار پھر لال سلام پیش کرتی ہوں۔

ساتھیو! یہ آج پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں عورت نکلی ہے، پاکستان میں دہائیوں سے عورت مزاحمتی سیاست میں ہے اور سڑکوں پر ہے۔ بھلے وہ ایوب خان کے دور میں طاہرہ مظہر علی خان کی ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن ہو جسکا ہم تسلسل ہیں،  یا وہ ویمن ایکشن فورم ہو جس نے ضیاءکی  آمریت کو للکارا۔یا ہیلتھ ورکرز ہوں اور لیڈی ٹیچرز ہوں جنہوں نے پاکستان میں  آئی ایم ایف  کی کٹوتیوں کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔یا ہماری بلوچ بہنیں ہوں جو مسخ شدہ لاشوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑی رہی ہیں۔ یا ہماری پشتون بہنیں ہوں، جنکے گھروں میں لیویز کے اہلکار گھس جاتے ہیں۔ بہت ساری مزاحمتی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور ہم انہی مزاحمتی تحریکوں کا تسلسل ہیں۔ریاست پاکستان نے نہ صرف ان مزاحمتی تحریک کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ عورتوں، محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے زخموں کے اندر پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی، کیوں کی گئی ؟ جو پیچھے نظر آرہا ہے وہ کیا ہے؟

ہم سمجھتے ہیں کہ رائٹ ونگ جب عورت کو موبیلائز کرتا ہے یہ بنیادی طور پر پدر شاہی مفادات کیلئے کرتا ہے۔ تو پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی کیونکہ جنگی مفادات کیلئے ایک جنگجو اور ظالم لڑنے والا مرد چاہئے تھا۔ وہ masculinity (مردانگی) اس ریاست نے تشکیل دی۔ اس جنگ کے لئے  جو لٹریچر، مواد ، کتابیں، ویڈیوز، نظرئیے اور ہتھیار لائے گئے وہ نظریئے، ہتھیاراور کتابیں اب چلتے چلتے چلتے ہماری گلی اور محلوں میں پہنچ چکی ہیں۔ اور اب کوئی پانچ سال کی بچی بھی نہیں چھوڑتا۔ اب پدر شاہی ایک جنونی عفریت اور بلا بن چکی ہے جو عورت کے خون پر پلتی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ جو لوگ اس عورت کے جسم سے مماثلت رکھتے ہوں ان کی بھی خیر نہیں چاہے وہ صنف آزاد ہمارے خواجہ سرا بہن بھائی ہوں یا نابالغ بچے ہوں۔ تو تاریخ کے اس پڑاؤ میں ہم یہاں پہنچے ہیں کہ جنگ کیلئے جس پدر شاہی کو تشکیل دیا گیا اب وہ ایک عفریت بن چکی ہے۔ اور اس عفریت کے پیچھے ایک اور عفریت کھڑی ہے اور وہ ہے جنگی اقتصاد اور اسکے پیچھے سامراجی عفریت کھڑی ہے۔ اب یہ کئی جنگیں ہیں جو ہمیں لڑنی ہیں۔

ہم تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم نے ایک راستہ چننا ہے۔ یا صنفی انقلاب کا یا جنسی اور پدر شاہانہ بربریت کا۔ میں اسلام آباد کے اس اسٹیج سے پورے پاکستان کو پیغام دیتی ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ ہم نے وہ راستہ چننا ہے، ایک راستہ ہم کو چننا ہے اور ہم کو سخت فیصلہ کرنا ہے اور ہم کو منظم تحریکیں چلانی ہوں گی۔ یہ وقتی اور کبھی کبھار کی ون ڈے مارچ سے کچھ نہیں ہونے والا۔ منظم تنظیموں میں آئیں اور کام کریں جو بھی آپ کے نظرئیے کے قریب ہو اس میں ضرور آئیں۔

میں اسلام آباد میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا میں اس کی بھی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ آج کے دن ہمیں بتایا گیا کہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے یونٹس میں تحریک لبیک ،شریعت کونسل اور جمعیت علماء اور سپاہ صحابہ کے لوگ گئے،  اور انہوں نے کہا کہ” اگر آپ گئے، تو آج پھر آپ ادھر رہیں گے کیسے”؟ تو انہوں نے ہمیں فون کئے ، کہ ہم نہیں آسکتے، کیونکہ ہمیں یہاں رہنا ہے۔ منصوبہ یہ تھا ،کہ محنت کش آبادی سے عورتوں کو نہ نکالو۔ اور اس مارچ کو بدنام کرو کہ یہ تو مڈل کلاس این جی او مافیا ہے۔ تو محنت کش عورتوں کو آج نہیں آنے دیا گیا ۔ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں  کے ڈرائیوروں کو مارا گیا ،اور یہ ہماری چوتھی گاڑی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں دھمکیاں دی گئیں ، ویڈیو ز بھیجے گئے۔ اور ہمیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ نکلیں گے،تو ہم دو بجے وہاں ہوں گے، یہ کردیں گے ،وہ کردیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں۔ خوش اس بات پر ہیں کہ آج آپ وہ بات کررہے ہیں جو ہم کرتے رہے ہیں۔ آج آپ کو عورت کے سوال پر بولنا پڑ رہا ہے۔ ہم اتفاق کرتے ہیں جماعت اسلامی نے جو چارٹر ریلیز کیا ہے  کہ ہم یہ چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ،عورت کو جائیداد میں حصہ دو۔

ہم آخر میں کچھ میڈیا کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے میڈیا نے پچھلے مارچ کے دو پوسٹر اٹھائے،  تقریباً ہر شو میں ایک مولوی کو بلایا مولوی   ہاتھ نہ آیا،  تو ملوانی کو بلایا ،اور ان   پربات کی۔ایک وطیرہ بنایا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کے میڈیا نے ۔کہ سوشلسٹوں کو  کفار کہو، قوم پرستوں کو غدار کہو اور عورتوں کو بدچلن کہو۔ یہ کلنک لگانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔اور میڈیا بھی یہ سن لے کہ آپ چار اشتہار چلاتے ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فیمنسٹ تحریک کی عورتیں آئیں گی اور آپ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اسی سے چلے گی کہ  ایک پوسٹر پر بات ہوگی۔ دیکھ لیں گے آج عورتیں کیا کہہ رہی ہیں۔ اور یہ پوسٹر پڑھ لیں۔ اور خبردار جو کسی نے اب پوسٹر کی بات کی!

آخری بات کہنا چاہتی ہوں کہ یہ ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ بھی سن لے۔ جو پچھلے چار پانچ دن سے ہمارے اوپر کریک ڈاؤن اور ہمارے اعصاب کو جو پیرالائز کرنے کی کوشش کی گئی ،وہ سن لیں کہ یہ سب ساتھ ہیں ،ہم سب ساتھ ہیں،ہم سب ساتھ ہیں،  ہم سب ساتھ ہیں۔

 آخر میں  بس  کہنا  چاہتی ہوں کہ یہ جو این جی اوکی فنڈنگ کا برا الزام لگا ہے، اور جو لوگ یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ یہ فنڈنگ کس کی ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ  پہلے یہ بتائیں کہ  آپکی فنڈنگ کس کی ہے؟۔ تو میں نے کہا کہ فنڈنگ تو آپ لیتے ہیں ۔تینتیس ملین ڈالر کی  جنگ کے لئے فنڈنگ آپ نے لی، غیرممالک سے خیرات آپ نے لی،دنیا بھر سے قرضے آپ نے لئے۔ اور جب ہم لوگ اس  فنڈنگ کے  خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آپ بولتے ہو کہ فنڈنگ کس نے کی؟  ہم نے ہزار پانچ پانچ دو دو سو روپے جمع کرکے یہ سارا انتظام کیا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو این جی او کا ڈرامہ کرکے ہم پر الزام لگارہے ہیں۔ ہم مزاحمتی تحریک ہیں کان کھول کر سن لیں سب۔ آئندہ کسی نے یہ کہا کہ ہم این جی او ہیں ، این جی او کی فنڈنگ ہے، یا فارن فنڈنگ ہے، سب کو اطلاع  عامہ ہے،کہ ایک دھیلا بھی ہم نے کسی سے لیا ہو۔آج اسٹیج پر یہ بتارہی ہوں۔ اور یہ این جی او کی فنڈنگ کا الزام جو ہے ،   "پروجیکٹ جہاد” کا یہ خود کھاتے رہے ہیں۔ اور این جی اوز کا بھی کھلاتے رہے ہیں۔ وہ بھی پروجیکٹ جہاد کی وجہ سے آج یہاں تھیں۔ کچھ تو ہیومن رائٹس کے نام پر آگئیں۔ لیکن مذہبی این جی اوز کی جو فنڈنگ ہوئی وہ تو بالکل ہی مطلب ……۔ تو ہم ان کو ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں ۔ہماری کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ آخری بات رکھنا چاہتی ہوں کہ ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے جدوجہد جاری رہے گی!

 اور ہم ایک ہی ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان پاکستان میں "عورت ایمرجنسی ڈکلیئر کرے۔ جب تحریک لبیک سے بات ہوسکتی ہے ، سپاہ صحابہ سے بات ہوسکتی ہے تو فیمنسٹ تحریک سے کیوں بات نہیں ہوسکتی؟ ہم سے بات کرو ہم تنگ ہیں۔ ہمیں مارا جارہا ہے۔ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔

عورت آزاد،سماج آزاد۔ عورت آزاد،  سماج آزاد۔ جب تک عورت تنگ رہے گی ، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔ عورت آزادی مارچ،  زندہ باد،زندہ باد۔

تبصرۂ تیز وتند قدوس بلوچ

ہمارا مقصد کمزوروں کو تحفظ دینا ہے۔محترمہ عصمت شاہجہان کا یہ خطاب پچھلے شمارے کے فرنٹ پییج پر مین لیڈ کیساتھ لگا تھا۔ اس شمارے میں بھی ہم نے شائع کیا۔ محترمہ عصمت نے ٹی وی اینکروں کو بڑی درست نشاندہی کی کہ پچھلے سال کے ایک دو پوسٹر پر بات کی گئی لیکن اس مرتبہ تو یہ پوسٹر بڑی تعداد میں تھے اور زیادہ قابلِ اعتراض تھے۔ بھگدڑ مچ گئی تو غلط پوسٹر اٹھانے والے بھاگ بھی گئے۔ جب ہم خالی دوسروں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنانے کے بجائے اپنی بھی اصلاح پر توجہ دیںگے تو بات مؤثر ہوگی۔ ہم نے خواتین کے حقوق کیلئے جو آواز اُٹھائی تو یہ تاریخ کا بڑا روشن باب ہے اور اسی سے انقلاب کا رستہ کھلے گا۔اور یہ افراد نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔