کورونا وائرس پر علماء کا افسوسناک رویہ

492
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں معاملہ واضح ہونے کے باوجود علماء ومفتیان کا بدترین رویہ!

جب اللہ تعالیٰ نے معاشرتی مسائل کے درمیان نمازِ خوف کا حکم واضح کردیا ہے کہ ” نماز پر محافظت کرو، اور درمیان کی نمازکی۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پھر پیادہ یا سوار ہوکر۔ پھر جب امن کی حالت میں آجاؤ ،تو اللہ کو یاد کرو(معمول کی نماز پڑھو) جس طرح تمہیں سکھایا گیاہے جو تم اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ (البقرہ :آیات۔ 239,238)
رسول اللہۖ نے فرمایا: ” جب آذان کی آواز سنوتو گھرکی نماز قبول نہیں ہوگی ۔ جماعت میں شرکت ضروری ہے مگر خوف یا بیماری کی وجہ سے انفرادی نماز درست ہے”۔سنن ابی داؤد
قرآن اور سنت کے اس پیغام کو عام کردیا جاتاتو مذہبی طبقے سے زیادہ عام تعلیم یافتہ لوگ بھی قرآن وحدیث سے زبردست رہنمائی لیتے۔ علماء نے اپنے کم عقل مقلدین کے ذہنوں میں یہ بٹھادیا کہ”مسجد میں جماعت کی نماز اور جمعہ چھوڑنا جائز نہیں۔ جامعہ ازہر اور قدیم فقہاء کے فتوے ہم نے چھان مارے، کوئی ایسی نظیر نہیں ملی، البتہ نماز مختصر کی جاسکتی ہے”۔ پھربہت جلد اپنا فتویٰ ایسا بدل دیا جیسامنہ کا بتیسہ بدل کر کم عقل بچوں کو حیران کیا جاتاہے۔

گدھے کے پاس ڈھینچو ڈھینچو کے سوا کیا ہے؟ بس پدو مارمار کے گزارہ کرنا ہے

جب چین میں کورونا وائرس کی خبر آئی اور پاکستان کی میڈیا پر بحث ہوئی کہ حکومت کو چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس لانا چاہیے یا نہیں ؟۔ تو وبا والی حدیث اینکر پرسن حضرات نے بیان کی کہ چین کے اس علاقہ سے آنے اور جانے کی بات شریعت کے بھی منافی ہے۔پاکستان کی سرزمین پر وبا کی بازگشت سنائی دی تو حجازمقدس میں مساجد کی نمازوں اور حرم کعبہ میں طواف پر پابندی کی خبر عام ہوئی۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اورمفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کی طرف سے مساجدمیں جمعہ اور پنج وقتہ نماز کی پابندی کا فتویٰ آیا اور سیاسی لیڈروں نے مساجد اور ڈھیٹ تبلیغی جماعت کے خلاف سازش کرنے کی خوب افواہیں پھیلانا شروع کردیں۔
پھر مفتی تقی عثمانی نے اپنا آڈیو پیغام ریکارڈ کروایا اسلئے کہ شکل دکھانے کے قابل نہ رہا ہوگا کہ ” موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جب حکومت نے جمعہ کی نماز پر پابندی لگادی ہے تو فقہاء کی کتابوں میں یہ مسائل مل گئے ہیں کہ ” اگر جمعہ فوت ہوجائے تو گھر میں باجماعت نمازکی اجازت نہیں، اسلئے کہ اندیشہ ہے کہ جمعہ کے مقابلے میں الگ سے لوگ اپنی جماعت کرائیں گے اور دوسرا یہ کہ جماعت مکرر ہوگی۔لیکن لوگ گھروں میں باجماعت نماز پڑھیںاسلئے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں باتیں نہیں ۔ جمعہ کا مقابلہ ہے اورنہ جماعت کی تکرار ہے۔ البتہ گھروں میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں مگر جو لوگ جمعہ پڑھارہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے۔ اگر اس میں غلطی ہوتومیری ہے اور درست ہوتو اللہ کی طرف ہے”۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن قرآنی آیت و حدیث کا حوالہ دیناکیوں گوارا نہیں کرتے؟ اوربدلتی ہوئی صورتحال پر اپنا اجتہاد کیوں جھاڑتے ہیں؟۔ جمعہ فوت ہونیکی صورت میں تو بات ہی دوسری ہے، جب یہاں جمعہ فوت ہوا نہیں تو اسکا حوالہ دینا بالکل غلط ہے۔(

میڈیا، حکومت اور علماء ومفتیان کو چاہیے کہ قرآنی آیت اور حدیث کی تشہیر کریں

جب اللہ تعالیٰ نے جہاں نمازوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے وہاں خوف کی حالت میں پیادہ اور سواری پر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو جمعہ اور جماعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہ وقت تھا کہ قرآن کی آیت اور حدیث پیش کرکے اسلام کا روشن ترین چہرہ دنیا کے سامنے ہی لایا جاتا۔ علماء ومفتیان کہتے کہ خوف اور بیماری دونوں کا عذر اجتماعی طور پر اکٹھا ہوا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام مکان وزمان کے احاطوں پر اللہ رب العالمین جل جلالہ عم نوالہ کا دین ہے جس کے رسولۖ قیامت تک کیلئے واقعی رحمت للعالمین ہیں۔ اسلام کی ناک بلند کرنے کا وقت ہے مگر گدھے ڈھینچوڈھینچو کرنے اور پدو مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو چاہیے کہ خاتون پولیس افسر کی طرف سے اپنی ڈیوٹی کا فریضہ پورا کرنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے خراج تحسین پیش کرنے کا اہتمام کریں اور جنہوں نے خاتون ایس ایچ او کی مارکٹائی کی ہے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کریں۔اوریا مقبول کا سوشل میڈیا پر بیان اگرسچا ہے کہ ایک بزرگ نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ نے جنرل باجوہ کو خواب میں تحفہ دیا جس کو جنرل قمر باجوہ بائیں ہاتھ سے لے رہے تھے تو حضرت عمر نے ان کا دائیں ہاتھ آگے کروادیا تو کورکمانڈر کے علاوہ پاک فوج کی نیوی اور فضائیہ کو بھی شامل کرکے قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ پوری قوم بلکہ پوری دنیا کے سامنے پیش کریں۔ پاک فوج کا ترجمان میجر جنرل افتخار جب قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ دیںگے تو پاکستان کے آئین کا روشن چہرہ بھی سامنے آجائیگا۔ پارلیمنٹ نے قرآن وسنت کا دفاع کیا کرنا ہے ؟۔ یہ تو اپنا بوجھ قوم کے سر سے اتارکر غریب عوام تک روٹی روزی کی رسائی کا اہتمام کریں تو ہی مہربانی ہوگی اورجب صدرجنرل پرویز مشرف کے گرد جمع ہوسکتے ہیں تویہ اور کیا نہیں کرسکتے ؟۔

قرآن میں سورۂ قیامت کے بعدسورۂ دھر میں زمانے کے اتار چڑھاؤ کا ذکر؟

جب پوری دنیا نے کروناوائرس سے ایک خوفناک منظر کا سامنا کیا ہے تو علماء کرام کو چاہیے کہ قرآن کے ذریعے عوام الناس کو رہنمائی فراہم کریں۔ سورۂ الدھر میں اللہ فرماتا ہے کہ
ھل اتٰی علی الانسان حین من الدھرلم یکن شیئًا مذکورًاOانا خلقنا الانسان من نطفة امشاج نبتلیہ فجعلنٰہ سمیعًا بصیرًاOانا ہدینٰہ السبیل اماشاکرًا و اما کفورًاOانا اعتدناللکٰفرین سلٰسلاواغلٰلًاوسعیرًاOان الابراریشربون من کاسٍ مزاجھا کافورًاOعینًا یشرب بھاعباداللہ یفجرونھا تفجیرًاOیوفون بالنذرویخافون یومًا کان شرہ مستطیرًا O و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینًا ویتیمًا واسیرًاOانما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزائً ولاشکورًاO ”کیا انسان پر زمانے کا وہ وقت نہیں آیا جب وہ قابلِ ذکر چیز نہیں تھا۔ بیشک ہم نے انسان کو (ماں باپ) کے مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا تو اس کو سننے والا دیکھنے والا بنایا۔بیشک ہم نے اس کو راستہ دکھایا یا تووہ شکر کی زندگی بسر کرے یا ناشکری کی زندگی بسر کرے۔ بیشک ہم نے ناشکری کرنے والوں کیلئے زنجیریںاور طوق اور دیوانی کی کیفیت کا تعین کردیا ہے۔ بیشک اچھے لوگ ایسے کپ پی رہے ہونگے جن کا مزاج(صفت جراثیم کش) کافوری ہوگا۔چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے بندوں کو پلایا جائیگا اور اس سے جہاں چاہیںگے نہریںنکالیںگے۔ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہونگے اور اس دن کا خوف کھائیںگے کہ جس کا شر بہت پھیل چکا ہوگا۔اور اپنی چاہت سے کھانے کھلائیںگے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ (کہتے ہونگے کہ) بیشک ہم اللہ کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں۔ تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ہیں”۔ آیات کروناکا ہی منظر ہیں۔

مجدد ملت حاجی عثمان قدس سرہ نے روزانہ سورہ دھر کی تلاوت کو معمول بنا رکھا تھا

سورہ دھر کی ان آیات میں برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں اور حکمرانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہندی قومیت پر بننے والے ہندوستان میں مسلمانوں کیساتھ کیا سلوک ہورہاہے اور پاکستان میں اسلام کیساتھ کیا سلوک ہورہاہے؟۔ شکر کرنے یا ناشکری پر اللہ کی طرف سے کیا سلوک ہوسکتا ہے؟۔ پاکستان میں اسلام نافذ نہیں ہوا مگر شکر ہے کہ مذہبی تعصبات کے جس ڈگر پر چل رہا تھا ،اس سے باز آگیا۔ ہندوستان مذہبی تعصبات کے خلاف بناتھا مگر آج وہاں مسلمانوں کی شہریت بھی ختم کی جارہی ہے۔ شکر تو پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے بھی ادا نہیں ہواہے لیکن علماء ومفتیان نے بھی اسلام کا حلیہ بگاڑ رکھا تھا۔
قرآن کی تفسیر زمانہ کرتا ہے۔ کافوری مزاج کے جراثیم کُش کپوں اور نہریں نکالنے کے معاملات کی ضرورت دنیا میں ہوتی ہے جنت میں نہیں، مولانا مودودی نے لکھ دیا تھا کہ ” یہ مطلب نہیں ہے کہ کدال پھاوڑے لیکرنالیاں کھودیںگے”۔تفہیم القرآن۔انقلاب کا آغاز ہوگا تو برصغیرپاک وہند میں مذہبی تفریق کے بغیر سب اللہ کے بندوں کی پانی کے ذریعے ہی خدمت کی جائے گی اور جدید مشنری سے نہریں کھود کر محروم انسانوں کو خوشحال بنایا جائیگا۔ اس طرح نذریں پوری کرنا اور اس دن سے ڈرنا جسکا شر بہت پھیل چکا ہے۔مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے کا تعلق بھی دنیا ہی سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا وائرس نے تو انسانوں میں نفرت کی فضا ء ختم کردی ہے لیکن صرف بھارت کے حکمران ہی نفرتوں میں مگن نظر آتے ہیں۔ انسانیت کی بنیاد پر اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا تو مسلمان، ہندو، سکھ ، عیسائی، بدھ مت، پارسی اور قادیانیوں سمیت سب لوگ ایک پیج پر پوری دنیا کو برصغیر پاک وہند سے عظیم انقلاب کی بنیاد ساتھ دیںگے۔ سازش اور سازشی عناصر کا خاتمہ بالکل ہوگا۔

سورۂ قیامت میں قیامت کا ذکر ہے اور سورۂ دھر میں زمانے ہی کا ذکر ہے!

اچھے لوگ مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو اللہ کیلئے کھانا کھلانے کا اہتمام کریں ، کہیں کہ ہم اس کا بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ۔ جس طرح وزیراعظم عمران خان اپنی سیٹ پکی کرنے اور ٹی وی پر اشہارات نشر کرکے بینظیر انکم سپورٹ کی رقم سے اپنا شکریہ ادا کرواتا ہے۔
جو لوگ غریبوں کی مدد کررہے ہیں وہ اس بدنما اور سخت دن سے ڈرتے ہیں جس کا سامنا دنیا کر رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا: انّا نخاف من ربنا یومًا عبوسًا قمطریرًاOفوقٰھم اللہ شرِ ذٰلک الیوم ولقّٰھم نضرة و سرورًاO ………” ہم اپنے رب کا خوف کھا رہے ہیںبدنما سختی کے دن سے۔ پس اللہ انکو اس دن کے شر سے محفوظ کردیگا اور انکو تازگی اور خوشیوں کی حالت بخشے گا۔ اور ان کو بدلہ دیگا بسبب انکے صبر کے۔ باغات اور ریشم کا۔ بیٹھے ہوںگے مسندوں پر جہاں ان کو سورج کی دھوپ اور سردی کی ٹِھر نہیں ستائے گی۔ باغات کی چھاؤں پڑرہی ہونگی اور خوشے جھکے ہونگے اور انکے آگے چاندی کے برتنوں اور شیشے کے کپوں کی گردشیں ہوںگی۔ شیشے بھی چاندی کے ڈیزائنوں سے مرصع ہوںگے۔ان کو ایسے کپوں سے پلایا جائیگا جس کا مزاج(صفات) ادرک ( غیربادی) ہوگا۔ ایسا چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل رکھا جائیگا اور انکے گرد ایسے لڑکے (ویٹر) گردش کررہے ہونگے جن کی ڈیوٹی ہمہ وقت (24گھنٹے) ہوگی۔جب آپ ان کو دیکھ لوگے تو گویا موتی بکھیر دئیے گئے ہوں۔اور جب پھر دیکھ لوگے اور پھر آپ دیکھ لوگے تو نعمت ہی نعمت ہوگی اور بہت بڑی سلطنت کا ایک ہی ملک ہوگا۔ ( دنیا بھر طرزِ نبوت کی خلافت کا قیام عمل پاکستان سے آچکا ہوگا)۔ان پرکپڑا ہوگا باریک ریشم کاسبز اور گاڑھے رشیم کا۔(پاکستان کی قومی شناخت) ،زیب تن ہونگی چاندی کی گھڑیاںاور ان کو انکا رب کوئی پاک مشروب پلائیگا”۔شریعت کا لحاظ رکھا جائیگا۔

علماء ومفتیان کو چاہیے کہ نازک موڑپراسلام کا درست معاشرتی نظام مانیں!

جب تھوڑے سے اجنبی افراد کے ہاتھوں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا تو اس سے پہلے علماء کو چاہیے کہ طلاق وخلع اور دیگراسلام کا درست معاشرتی نظام دنیا کے سامنے ضرور پیش کریں۔
اسلام کو اجنبیت سے نکالنے والے مقربین بارگاہ اور ان کی تائید کرنیوالے علماء ومفتیان کو یہ بہت بڑا انقلاب بہت خوشیوں اور مسرتوں کیساتھ نصیب ہوگا جس میں ہرمکتبۂ فکر کے علماء اور عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اصحاب الیمین بن کر شامل حال ہوگی۔ اللہ نے اسکا نقشہ کچھ اس انداز میں کھینچاہے کہ سارے انقلاب عظیم کو انکی محنت وکوشش کے رہین منت قرار دیا
انّ ہٰذا لکم جزائً وکان سعیکم مشکورًاO” بیشک یہ تمہارا بدلہ اور تمہاری محنت شکریہ کی مستحق ٹھہر گئی”۔جب انقلاب آئیگا تو سب کو تائیدات کا وہ بدلہ ملے گا جس پر ان کے دل خوشیوں سے پھولے نہیں سمائیںگے۔ ٹانک کے مولانا فتح خان فرماتے تھے کہ انقلاب کا آنا بہت مشکل کام ہے لیکن اگر انقلاب آگیا تو عتیق علماء کی بہت قدر کریگا۔ ہماری چاہت یہ ہے کہ کسی کی تذلیل نہ ہو مگر حلالہ اور غیر اسلامی معاملے پر گناہ اور کفر کا ارتکاب نہیں کرسکتے۔
اللہ نے نبیۖ سے فرمایا:ان نخن نزلنا علیک القراٰن تنزیلًاOفاصبرلحکم ربک ولاتطع منھم اٰثم او کفورًاO”پس اپنے رب کے حکم کیلئے صبرکرو اور اطاعت مت کرو،ان میں سے کسی کی گناہگار اور ناشکرا ہوکر۔اور اپنے رب کا نام سویرے و شام کو یاد کرو اور رات میں اس کیلئے سجدہ کرو اور رات کو اس کی تسبیح بیان کرو لمبی مدت تک۔ یہ لوگ بیشک یہ جلدی حاصل ہونے والی دنیا چاہتے ہیںاور چھوڑ رہے ہیں اس دن کو جو بہت بھاری ہے۔ ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے اعصاب کو مضبوط کیا۔ جب ہم نے چاہا تو ان کے جیسوں کو بدل ڈلا”۔ سورہ دھر غور اور تدبر کیساتھ پڑھ لیں تو آنکھ کھلے۔ رہنمائی ملے گی۔

سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!

سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔