کیا یوم انقلاب کی خبر سے بے خبر ہیں؟

409
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!

سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔

 

قرآن میں متشابہات کی تفسیر زمانہ کرتاہے مگر واضح آیات ابہام کی متحمل نہیں !

والمرسلٰت عرفاOفالعٰصفٰت عصفاOوالنٰشرٰت نشراOفالفٰر قٰت فرقاOفالملقےٰت ذکراOعذرا او نذراOانما توعدون لواقعO
”قسم ہے معروف طریقے سے بھیجی جانے والیوں کی، جوپھر طوفانی کیفیت برپا کرتی ہیں اور نشر ہوجاتی ہیں اچھی طرح سے نشر ہونا۔پھر تفریق پیدا کرتی ہیں اچھے طریقہ سے۔پھر وہ نصیحت کو (دلوں میں) القاء کردیتی ہیں۔کوئی عذر پیش کرتا ہے اور کوئی ڈرتا ہے۔ بیشک جس (یوم انقلاب عظیم)کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور واقع ہونے والا ہے۔(سورۂ : المرسلات)
سیدابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک والمرسلات عرفا” پے در پے بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں” ۔دوسرے العٰصفٰت عصفا” بہت تیزی اورشدت کیساتھ چلنے والیاں”۔ تیسرے النٰشرٰت نشرا” خوب پھیلانے والیاں”۔چوتھے الفٰرقتِ فرقا: الگ الگ کرنے والیاں۔ پانچویں الملقےٰت ذکرا ”یادکا القاء کرنے والیاں”۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیںاسلئے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ پانچوں صفات ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ چیزوں کی۔ اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں ۔ایگ گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور دوسرے دو فرشتے۔ چوتھا کہتا ہے کہ پہلے تین فرشتے دوسرے دو ہوائیں۔ایک گروہ کی رائے یہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں”۔تفہیم القرآن میں مختلف تفاسیر ہیںلیکن اگلے صفحات پر غور کریں۔

 

مفسرین نے قرآن کی واضح آیات کومختلف آراء کی ہواؤں کے رحم وکرم چھوڑ دیا!

مفسرین خود ہی مختلف آراء میں سرگرداں ہونگے تو عوام اور کافروں کی کیا رہنمائی ہوگی؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار انبیاء کرام اور انکے معاندین کا ذکر کیا ہے، انبیاء کرام کے ذریعے واضح رسالات اور پیغامات کا ذکر کیا، صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر کیا ہے۔ جب بھی یہ رسالات یا پیغامات لوگوں تک پہنچی ہیں تو اس کے ذریعے سے طوفان کھڑے ہوئے ہیں اور جب یہ خوب نشر ہوتے ہیں تو حق و باطل کے درمیان تفریق وامتیاز کھڑی کردیتی ہیں۔ عوام اور خواص کے دلوں تک جب حقیقت پہنچ جاتی ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں لوگوں کو عذر یا خوف در پیش ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ دن پہنچ جاتا ہے جس میں دنیا ہی کے اند ر باطل کے عذاب اور اہل حق کی نجات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ جب تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا تو یہ رسالات وپیغامات بھی لوگوں کو معروف طریقے سے ملتے رہے لیکن جب ختم نبوت کے بعد ان رسالات کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا تو قرآن کی شکل میں قیامت تک کیلئے یہ محفوظ ہے۔ البتہ قیامت سے پہلے بھی عظیم انقلاب کی خبر ہے جس کو مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ”ا حیائے دین ” میں واضح کیا ہے اور سب مسلمان اپنے اپنے دائرے میں اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب اسلام ہربنگلہ اور جھونپڑی میں داخل ہوگا لیکن قرآن کی طرف توجہ کی ضرورت شاید کسی نے محسوس نہیں کی الاماشاء اللہ کہ اس یوم الفصل کی بات بہت واضح ہے۔
یوم موعود سے مرادقیامت نہیں بلکہ انقلابِ عظیم کا دن ہے۔قرآن آسمانی کتب و صحائف کا مجموعہ ہے اور ایک دن دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب قرآنی انقلاب کے تحت جمع ہوںگے۔ قرآن اسلئے نازل نہیں ہوا کہ نزول کے وقت کے بعد قیامت تک اسکے راز پوشیدہ رہیں بلکہ دنیا میں ایک لمبے عرصہ تک قرآن کی بنیاد پر دنیا نے ہدایت سے فائدہ اٹھاناہے۔

 

قرآن میں استعارات کی زبان متشابہات کا راز کھلے توپھریہ محکمات بنتے ہیں

جب انقلاب کا دن آجائیگا تو چاند، سورج اور ستاروں کی طرح پوجے جانے والے لوگوں کی حیثیت ماند پڑجائے گی۔ مذہب اور سیاست میں آفتاب ومہتاب کی لیڈر شپ تو ویسے نہ ہوگی مگر ستارے سمجھے جانے والے بھی اپنی حیثیت ایسی کھو دیںگے جس طرح روزانہ دن کے نکلتے ہی ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ آسمان سے خوشیوں کی بہار آئے گی اور علم کے بڑے پہاڑ سمجھے جانے والے اُڑ جائیںگے۔ فرشتوں کی مدد کا وقت آجائیگا۔ فیض احمد فیض نے جس انقلاب کا ذکر اپنے اشعار میں کیا تھا وہ منظر نقارۂ خدا بن کر عوام میں بجنا شروع ہوجائیگا۔
المرسلات میں آگے اللہ فرماتا ہے۔ فاذا النجوم طمستOواذا السماء فرجت Oواذالجبال نسفت Oواذا لرسل اقتتO لایّ یوم اجلتOلیوم الفصلOوما ادراک ما یوم الفصلO ویل یومئذٍ للمکذّبینO………… ”پھرجب ستارے ماند پڑجائیںگے اورجب آسمان سے خوشیاں آئیںگی۔ جب پہاڑ اُڑ جائیںگے۔ جب فرشتوں کی آمد کا وقت پہنچے گا۔ یہ کس دن کیلئے جلدی کررہے ہیں۔ فیصلے کے دن کیلئے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟۔ تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہ کیا اور پھر انکے بعد والوں کو انکے پیچھے (ہلاک ) نہیں لگایااور ہم ایسا ہی مجرموں کیساتھ (دنیا ہی میں )کرتے ہیں۔ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۔ پھر ہم نے اسے بنایامحفوظ ٹھکانے میں۔ معلوم مدت تک اور ہم نے تقدیر مقرر کی اور ہم اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، تباہی ہے ہلاکت والوں کیلئے ۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والا نہ بنایا۔ زندگی اور اموات میں”۔ عربی میں فرج عام طور پرخوشی ہی کو کہتے ہیں۔انقلاب مؤمنوں کیلئے خوشیوں ہی کا باعث بنے گا۔

 

قیامت سے پہلے دنیا میں عظیم انقلاب کے ذریعے بھی قرآن کا اعجاز ثابت ہوگا

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت سے پہلے دنیا میں بھی عظیم انقلاب کے ذریعے خاکہ پیش کردیا ،تا کہ لوگوں کیلئے حق اور باطل کا راستہ قیامت کے دن تک واضح رہے گا لیکن انسان پھر آخر انسان ہے اور جب تک دنیا قائم رہے ،انسان غفلت کا شکار ہوتا رہے گا۔وسعت اللہ خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے جو تحریر لکھ دی وہ جلی حروف کیساتھ ہی نہیں مرثیہ وغیرہ کی طرح میڈیا کے تمام چینلوں پر بار بار پڑھ کر سنانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
سورۂ واقعہ میں قیامت کا پورا نقشہ ہے جس میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہونگے۔ ایک مقربین جو پہلوں میں سے بڑی جماعت اور آخرین میں تھوڑے ہونگے۔ دوسرے اصحاب الیمین جو پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تیسرے کو اصحاب المشئمہ قرار دیا گیاہے۔ مقربین کو جو شراب پیش کی جائے گی تو اس سے سر چکرائے گا اور نہ عقل میں کوئی فتور آئیگا۔ دنیا میں بھی انقلاب کے ذریعے آخرت کا نقشہ سامنے آئیگا۔
مرسلات میں فرمایا: وجعلنافیھارواسی شٰمخٰت وا سقینٰکم مائً فراتاOویل یومئذٍ للمکذبینO……….”اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ بنائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا اور تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ پس اب چلو،اس کی طرف جسکے ذریعے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو اس سایہ کی طرف جو تین قبیلے( اقسام) والا ہے۔ جو نہ سایہ دار ہے اور نہ شعلے سے مستغنی کرنے والا ہے۔ بیشک یہ محل کی طرح بگولے پھینکے گا۔ گویا کہ وہ سرخ اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ یہ دن ہے جب وہ بولتے نہ ہونگے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ معذرت پیش کریں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے”۔صرف طلاق و حلالہ پر تین کتابیں،کافی مضامین اور فتاویٰ لکھ دئیے مگر ڈھیٹ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

 

مجرموں کو تھوڑا فائدہ اُٹھانے کا ذکر ہے اسکا تعلق دنیا کے انقلاب ہی سے ہے!

درسِ نظامی کی بنیادی تعلیم، قرآن کی تحریف، سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے اور نبیۖ کی سخت ترین توہین کے ارتکاب سے لیکر ایک ایک چیز کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ انقلاب کا وقت آئیگا اور ہم دلائل کے آگ کے بڑے بڑے بگولے سے نشانہ بنائیںگے تو یہ بالکل سرخ اُنٹوں کی طرح نشانہ بننے کیلئے تیار ہونگے۔ پھر وہ بولیںگے بھی نہیں اور حلالہ کی لعنت کا شکار کرنے والی مخلوق اس قابل بھی نہیں ہوگی کہ ان کو معذرت کی اجازت دی جائے۔
اللہ نے مرسلات میں فرمایا: ھٰذا یوم الفصل جمعنٰکم والاوّلینOفان کان لکم کید فکیدونO ویل یومئذٍ للمکذبینO ……..’.’یہ جدائی کا دن ہے۔ہم نے تمہیں اور پہلوں کو جمع کرلیا( جیسا پہلوںکو اہل حق کے سامنے مجبور کردیا تھا ،اسی طرح تمہیں کردیا) پس اگر تم کوئی چال چل سکتے ہو تو کرکے دکھاؤ۔تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ بیشک متقی لوگ اس دن سایہ میں ہونگے اور لوگوں کی نظروں میں(چڑھے ہونگے) اور پھلوں تک ان کی رسائی ہوگی ،ان میں سے جو وہ چاہتے ہونگے۔کھاؤ ، پیو مزے سے جو تم نے عمل کئے۔ بیشک ہم اس طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیتے ہیں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ تم بھی کھاؤ اور تھوڑا فائدہ اٹھالو بیشک تم مجرم ہو۔ تباہی اس دن جھٹلانے والوں کیلئے اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ ،تو نہیں جھکتے تھے۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس( واضح کلام کے احکام) کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیںگے؟”۔ (سورہ المرسلات)
ہم دعوت دیتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن ، علامہ شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ درسِ نظامی اور مذہبی طبقات کی طرف سے دین کو مسخ کرنے کے رویہ پر میڈیا میں ہی ہم سے بات کریں تو بھی انقلاب آجائے گا۔

 

اطلاق النار بندوق کی فائرنگ کو کہتے ہیں، قرآن زمان وکمان پر حاوی ہے

ہم نے دیکھا کہ حاجی عثمان کے ساتھ علماء ومفتیان نے کیا رویہ رکھا تھا۔ اس کی تفصیل کبھی سامنے آئے گی۔ لوگ حیران ہونگے کہ بڑے بڑوں نے کس قدر ضمیر فروشی کا مظاہر ہ کیا تھا۔ اور ہماری جیت کے باوجود کھڈے کھودنے والوں کو کتنی رعایت دی گئی۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے کس طرح مولانا فضل الرحمن کے ایماء پر کھڈا کھودا تھا مگر پھر وہ انجام کو پہنچ گئے، اس کی بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ جب کبھی موقع ملے گا اور ضرورت ہوگی تو ایک ایک بات آمنے سامنے بیان کرنے میں بہت مزہ آئیگا۔پھر وہ وقت آیا کہ طالبان نے میری وجہ سے ہمارے گھر کو نشانہ بنایا۔ میزائل، راکٹ لانچروں اور بموں کیساتھ چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں کیساتھ دھماکوں سے گونجتا رہااور بہت سے معجزانہ طور پر بچ گئے اور کئی ساروں کو شہادت کی منزل پر پہنچادیا۔ پچھلی تحریر میں سورہ الانشقاق کا ذکر کیا تھا اور اب اس سے متصل سورۂ البروج کے اندر ”یوم موعود” کے حوالے سے حقائق دیکھ لیں۔
والسماء ذات البروج Oوالیوم الموعودOوشاہدٍ ومشہودٍOقتل اصحاب الاخدودO النار ذات الوقودOاذھم علیھا قعودOوھم علی مایفعلون بالمؤمنین شہودO ومانقموا منھم الا ان یؤمنوا باللہ العزیزالحمیدOالذی لہ ملک السمٰوٰت والارض واللہ علیٰ کل شی ء شہیدOان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریقO………….”قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور جس دن کا وعدہ ہے اورگواہ اور جس کی گواہی دی جائے۔ مارے جائیں گڑھے کھودنے والے، ایندھن والی آگ کی۔جب وہ اس پر بیٹھے تھے اور مؤمنوں کیساتھ جو ہورہاتھا ،اس پر گواہ تھے۔

 

اللہ تعالیٰ نے ماضی کی طرح مستقبل کے حالات بھی قرآن میں بیان کئے ہیں!

اور ان سے انتقام نہیں لے رہے تھے مگراسلئے کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جوبڑا زبردست اور تعریف کے لائق ہے۔وہی جس کیلئے آسمان اور زمین ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بیشک جن لوگوں نے آزمائش میں ڈلا مؤمنین و مؤمنات کو اور پھر انہوں نے توبہ نہیں کی تو ان کیلئے عذاب ہے جہنم کا اور ان کیلئے عذاب ہے جلانے والا۔ بیشک جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے باغات ہیںجس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ بیشک وہ پہل کرتا ہے اور لوٹاتا ہے اور معاف کرنے والا محبت کرنے والا ہے۔ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ کیا آپ کو لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟۔ فرعون اور ثمود کی۔ بلکہ کفر کرنے والے جھٹلانے میں لگے رہتے ہیں اور اللہ نے ان کو پیچھے سے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں”۔
اللہ نے مجرموں کو معافی مانگنے کا راستہ دیا ہے لیکن انقلاب عظیم قربانیوں کے بغیر نہیں آسکتا تھا۔ نکاح وایگریمنٹ ،طلاق وخلع ، اسلامی حدود اوراسلامی خلافت کے تقاضوں سے علماء ومفتیان آگاہ کرنے پر کان دھرتے تو ہم بھی مشکلات کے شکار نہ ہوتے اور تائید کرنے والے بھی معاشرے میںاپنا بھرپور کردار اداکرتے۔ سب کے سب سرخرو ہوتے۔ جب ہم اسلام کے نام پر بینک کے سود کو اسلامی قرار دینے کے باوجود علماء ومفتیان کو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کے القاب سے نوازیںگے تو غیر مسلموں کو کس اسلام کا سبق دیںگے؟۔ سوشلزم کے بعد دنیا میں کپٹلزم بھی ناکام ہوگیا ہے۔ اسلام واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک فطری نظام دے سکتا ہے۔ جمہوریت دولت کی لونڈی اور سیاستدان بھونڈے لوٹے ہیں۔ اگر درست اسلامی نظام کا معاشرتی اور بین الاقوامی ایجنڈا پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسکاخیرمقدم کرے گی۔

 

حضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں عروج ملت کا روشن تارہ تھے

اپنے دور میںحضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں ایک روشن ستارے تھے، جن کی وجہ سے مخلوقِ خدا کو بہت فائدہ پہنچ رہاتھا۔ اعتکاف کیلئے 700آدمی بیٹھنے کیلئے تیار تھے مگر 350 افراد سے زیادہ کیلئے مسجدالٰہیہ خانقاہ چشتیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں جگہ نہیں تھی۔
دیوبندی ،بریلوی، جماعت اسلامی، اہلحدیث ، تبلیغی جاعت کے بڑے علماء ومفتیان اور فوجی افسران ، پولیس افسران وغیرہ سب بیعت تھے۔ سعودی عرب کے عرب بیعت تھے اور شام کے عرب بھی بیعت تھے۔آپ نے کہا تھا کہ تین قسم کے افراد میرے مرید ہیں۔ ایک تو دنیا دار ہیں، یہ تیسری جنس کھدڑے ہیں چھوڑ کر بھاگ جائیںگے۔ ایک آخرت والے ہیں جن کی حیثیت عورتوں کی ہے، ان میں مردانہ قوت نہیں ہوتی ہے۔پھر بھی بہرحال بہتر ہیں۔ تیسرے اللہ والے ہیں، یہ میدان کے مرد ہیں۔ انہوں نے اصل کام کرنا ہے۔ پھر وہی کچھ ہوا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے ساتھ نکل کر خانقاہوں سے ادا کی رسمِ شبیری۔ماشاء اللہ
سورۂ البروج کے بعد سورۂ الطارق میں اللہ فرماتا ہے۔ والسماء والطارق Oوماادرٰک ما الطارقOالنجم الثاقبO………….”اور قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے؟۔ چمکتا ہوا تارہ ہے۔ ہر ایک جان پر ضرور کوئی نگہبان ہے۔ پس انسان دیکھ لے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟۔پیدا کیا گیاہے اچھلتے پانی سے۔جو پیٹھ اور سینے کے بیچ سے نکلتا ہے۔بیشک وہ اس کو لوٹانے پر بھی قادر ہے۔اس دن تو پوشیدہ راز واضح ہونگے۔تو اسکے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ مددگار۔قسم ہے لوٹانے والے آسمان کی اور پھٹنے والی زمین کی۔ بیشک یہ فیصلہ کن بات ہے اور نہیں ہے کوئی مذاق۔وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں۔ کافروں کومہلت دو،ذرا اپنے حال پر چھوڑ دو”۔