موجودہ گھمبیر صورتحال میں مملکت کی درست رہنمائی!سید عتیق الرحمن گیلانی

145
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستانی عدلیہ کے مایہ ناز، قابلِ فخر ایماندار چیف جسٹس سیٹھ وقار کی وفات اور دیوبندی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرح بریلوی کی شاندار شخصیت علامہ خادم حسین رضوی کا ایک ایسا خلاء ہے جو برسوں پورا نہیں کیا جاسکے گا۔ چیف جسٹس سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی سے ہزار اختلافات کے باوجود انکے خلوص، ایمانداری اور عوامی مقبولیت سے انکار کرنا سورج کو انگلیوں سے چھپانا ہے۔ فوج وسول اعلیٰ قیادت کی طرف سے دونوں کیلئے ایک یادگاری تقریب میں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود صحافی نہیں ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹراسرار عالمِ دین اور پی ایچ ڈی نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ پنجاب کو خطابت کا فن قدرت نے دیا ہے۔ مسخروں سے لیکر سنجیدہ افراد تک ایک سے ایک خطیب پنجاب کی زر خیزمٹی سے مل سکتا ہے، زبان کی فصاحت انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن خلوص کا پایا جانا جس کی تصدیق اپنے اور پرائے سب کریں، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے بڑی عوامی مقبولیت پائی ہے ۔قادیانیوں کو ڈاکٹراسرار نے اپنی جہالت سے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ مفتی محمود ، مولانا مودودی اور علامہ شاہ احمد نورانی نے یہ فتوی نہیں دیا تھا۔
رسول اللہ ۖ سے سچا عشق تمام مسلمانوں میں ہے۔جب تک انسان اپنے والدین، عزیز واقارب اور اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ ۖ سے محبت نہ کرے تووہ مؤمن نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ محبت کے جذبات کو اپنے اپنے ماحول کے مطابق بھڑکانا بھی ایک فن ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” بیشک بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھار کے پٹھان تھے اور ہندوستان میں بریلی دو مقامات ہیں۔ ایک رائے بریلی اور دوسرا اُلٹا بانس بریلی۔ رائے بریلوی ہندوستان میں علمی مرکز تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید کے مرشد سید احمد بریلوی سے لیکر حقیقی معنوں میں شیخ العرب والعجم سید ابوالحسن علی ندویکا تعلق رائے بریلوی سے تھا۔ ادب اور علم کے لحاظ سے ہندوستان کا کوئی دوسرا شہر اس کا ثانی نہیں تھا۔ الٹا بانس بریلی تو بالکل جاہل، ان پڑھ اور لٹھ ماروں کا شہر تھا۔ ایک قندھاری پٹھان کو ماحول بھی جٹوں کا مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم مولانا احمد رضا خان بریلوی کے اندر عشق رسول ۖ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے علمی خانوادے سے تصادم کا رسک ہر ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ علماء دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید کی تحریک اور کتابوں کو اس طرح سے قبول کیا جس طرح ملاعمر کی تحریک طالبان اور اقدامات کو اہمیت دی تھی لیکن پھر جس طرح طالبان نہ صرف اپنے پر تشدد مؤقف سے پیچھے ہٹے ہیں بلکہ علماء دیوبند کی بھی اب آنکھیں کھل گئی ہیں۔
اکابر دیوبند نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی وجہ سے تقلید کو دوبارہ قبول کیا بلکہ چاروں مسالک اور چاروں سلاسل سلوک کو شریعت کے مطابق قرار دیا۔ امام ابن تیمیہ نے چاروںفقہی مسالک کو دین میں تفرقہ قرار دیا تھا لیکن ان کی تحریک کامیاب نہ ہوئی ۔ شاہ اسماعیل شہید اور علماء دیوبند کی تحریک پر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے گستاخانہ عبارات کے حوالے سے بھی گرفت کی جسکے بعد علماء دیوبند نے دوسروں پر بھی اپنی گرفت کا سلسلہ جاری رکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلوی کی توثیق فرمائی ہے۔
پنجاب میں دیوبندی بریلوی فسادات کیلئے آگ کی چنگاریاں اورپیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار شیعہ سنی ،بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش کرینگے تو پنجاب سے قادیانیت کا مرکز ربوا چناب نگر بھی اس آگ کی لپیٹ سے بچ نہیں سکے گا۔ محرم میں شیعہ سنی آگ بھڑکانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی فسادات کی کوشش کامیاب ہوگئی تو پھر وہ خون خرابہ ہوگا جس سے ریاست اور حکومت بھی نہیں بچ سکے گی۔ ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ پہلے بھی فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے تھے۔
پاکستان خوش قسمت اسلئے ہے کہ سوشل میڈیا پر ناپاک عزائم رکھنے والے بھی اپنے خبثِ باطن کا پورا پورا اظہارِ خیال کرسکتے ہیں تو دوسری طرف غلط پروپیگنڈے سے ان کا چہرہ بھی بے نقاب ہوجاتا ہے۔ کچھ زر خرید یا جن کی سرشست میں خباثت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے انہوں نے پلاننگ کے تحت شوشہ چھوڑ دیا کہ جسٹس سیٹھ وقار اورعلامہ خادم حسین رضوی کو قتل کیا گیا ہے لیکن جنہوں نے علامہ خادم حسین رضوی کا کلپ چلادیا تو وہ اتنی عقل بھی نہیںرکھتے تھے کہ پوری بات بھی سوشل میڈیا پر ہے اور اسکے بعد ان کا خبثِ باطن بے نقاب ہوگایاپھر بھی شاید پیسوں کی خاطر کسی کی وکالت کرنے کا حقِ نمک ادا کرلیا۔ حکومت بہت بیکار ہے ورنہ ان نامی گرامی نام نہاد صحافیوں کو عوامی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا تاکہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرتے۔
جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ سے پہلے دہشت گردی کا راج تھا۔ سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو لاہور اورملتان سے اغواء کرکے افغانستان پہنچایا گیا لیکن کسی میں آواز اُٹھانے کی جرأت نہیں تھی اور اب سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی کی طبعی موت کو بھی کھلم کھلا قتل قرار دیا گیاہے اور اس کا الزام فوج کے سر ڈالنے کی بہت ناکام کوشش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ان حالات میں فاطمہ جناح کے قتل پر اپنا پروگرام ریکارڈ کرایا ہے جس سے فوج کے بارے میں شکوک وشبہات کو عام کیا جارہاہے اور عمران خان سے کاشف عباسی نے انٹرویو لیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ”سپاہِ صحابہ کے لوگ میرے پاس آئے کہ شیعوں سے ہماری صلح کراؤ، ایجنسیوں کے لوگ ہمیں استعمال کرکے ان کا دشمن بنادیتے ہیں”۔ اب آئی ایس آئی کے دفتر میں وزیراعظم عمران خان اورفوج کے سربراہوں کا اجلاس ایسے وقت میں جب اپوزیشن کے ملتان کا جلسہ روکنے کی تیاری تھی اور اسکے خراب نتائج نکلتے تو حکومت کیساتھ اپوزیشن ریاست کو بھی نشانہ بناتی۔ کیا یہ دانشمندی ہوسکتی ہے؟۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اپوزیشن فوج کو دھائی دے رہی ہے کہ ہمارا ساتھ دو، ورنہ ہم ریاست کے خلاف آواز اٹھائیںگے، اس کی وجہ سے حکومت اور ریاست کو ایک طرف دھکیلا جارہاہے ، تو دوسری طرف فوج کی منطق کہ حکومت کی تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے سے ممکن ہے ،اگرچہ یہ منطق بالکل درست ہے لیکن جب سینٹ کے الیکشن کے نتائج دیکھے جائیں تو سب ایک ڈرامہ سے زیادہ کوئی سنجیدہ بات نہیں لگتی ہے۔ ریاست، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی جگہ پر مجبور اور درست بھی ہیں اور غلط بھی ہیں ۔ سوشل میڈیا کا طوفان عوام الناس کے ذہنوں کو متأثر نہ بھی کرے تو بھوک وافلاس اور جبری نظام تنگ آمد بہ جنگ آمد کی طرف دھکیل رہاہے۔ عوام کی نظرمیں یہ گر چکے ہیں اور پاکستانی ریاست اور عوام کو ایک پیج پر لانے کیلئے اسلامی انقلاب ناگزیز ہوچکا ہے۔
اسلامی انقلاب سول وملٹری بیوروکریسی اور عوام کی ملی بھگت سے بھی اسلئے آیا چاہتا ہے کہ ریاستی قوت سے نہتے عوام طاقت کے زور پر لڑ نہیں سکتی ہے اور مقتدر طبقہ اپنے لئے اخلاقیات کا کوئی معیار بنانے کیلئے تیار نہیں جسکے نتیجے میں طبقات کی جنگ پر بیچاری عوام خوشیوں کے شادیانے بجائے گی اور آخر کار مقتدر طبقات بھی لڑمر کر آخری حد تک پہنچنے سے پہلے پہلے اقتدار کی نکیل کسی ایسے فرد کے سپرد کردینے میں عافیت سمجھیںگے جو کسی کا بھی کٹھ پتلی نہ ہو۔ اسلام کو عالم اسلام نہیں پوری دنیا ہی قبول کرے گی اور وہ اسلام ملا کا اسلام نہیں ہوگا بلکہ اللہ اور فطرت کا اسلام ہوگا۔