نشان حیدر، نشان ذی النورین، نشان فاروق اعظم، نشان صدیق اکبر… حنیف عباسی

500
0

نوشتۂ دیوار کے نمائندے حنیف عباسی نے اعلیٰ فوجی اعزازات کے حوالہ سے پارلیمنٹ، حکام کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ نشانِ حیدر سے بڑھ کردوسرے سول وملٹری اعزاز بھی قانون کا حصہ بنائے جائیں۔ ملک وقوم کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ملک ریاض کو نشانِ ذی النورین سے نوازا جائے۔ تاکہ دیگر لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے اپنے ملک میں لگانے میں دلچسپی اور عزت و اعزاز سے ترغیب پائیں۔ جنرل راحیل نے مشکل ترین ہنگامی صورتحال میں ملک کو کھڈے لائن سے بچایا، اسلئے ان کو 7سٹار نشانِ صدیق اکبر دیا جائے، تاکہ قومی خدمات کے حامل افراد کو سادگی کے نام پر بیوقوف نہ کہا جائے۔اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پرفوج کا استحکام وقت کا تقاضہ ہے، جنرل زبیر ملک کے استحکام کیلئے نشانِ فاروق اعظم کا بنیادی کارنامہ انجام دیں ۔خلفاء راشدینؓ کے نام سے قومی اعزازات ملی یکجہتی کیلئے ضروری ہیں۔جنرل یحیےٰ خان کو بھی بالکل ہنگامی صورتحال کا سامنا تھا، اگر اس وقت قومی اعزازات میں رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے بغیر بھی نشانِ ذی النورین، نشانِ فاروق اعظم اور نشانِ صدیق اکبر ہوتے تو سقوطِ ڈھاکہ مشرقی پاکستان بچانے میں جنرل یحیےٰ خان کو اہل تشیع ہونے کے باوجود نشانِ صدیق اکبر پر بڑا فخر ہوتا۔
قومی اعزازات سے فرقہ واریت کو ختم کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ پاک فوج پاکستان کے استحکام کیلئے بنیادی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے، نشانِ حیدر کا تعلق صرف محاذِ جنگ سے ہے۔ پاکستان میں جنگی محاذوں سے زیادہ مارشل لاؤں کے ادوار مسلط رہے ہیں جن سے پاک فوج کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچاہے۔ کرپشن کے حوالہ سے بھی یہ ادارہ دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں رہا، جنرل راحیل شریف کی آمد سے قبل یہ زوال کے انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ پاکستان کے دوانگریز آرمی چیف سمیت جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک مقامی جرنیلوں کو عزت و احترام سے نہیں دیکھا جاتا، جنرلوں کی اولاد اور جنرلوں کے پیداوار سیاستدان بھی جرنیلوں کو سرِ عام برا بھلا کہتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے نہ صرف قوم اور بین الاقوامی عزت واحترام کا مقام حاصل کیا بلکہ حکومت اور اپوزیشن سمیت ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں بھی بڑی عزت پائی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی باوقارشخصیت نے پہلی مرتبہ آرمی چیف کے منصب پر فائز ہوکر نہ صرف یہ کہ زبردست عزت کمائی بلکہ اس منصب کو بھی جنرل راحیل کی وجہ سے عزت حاصل ہوئی ہے۔
جب آنیوالے وقت میں یہ کہا جائے کہ عزت پیسوں سے ملتی ہے، جنرل راحیل نے کرپشن کی عزت حاصل نہیں، منصب کا فائدہ نہ اٹھایا، مارشل لاء نہیں توسیع ہی لے لیتے تو صداقت ، کردار، شجاعت اور عدالت کے تقاضے پر عمل کرنے والی قوم میں امامت کے صفات کبھی پیدا نہ ہوں گے بلکہ ہمارے اندر پست ذہنیت کی پسماندگی سرائیت کر جائے گی۔ جو قومیں نوسربازوں، کرپٹ اور چالاک وعیار لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں وہ قوم ہمیشہ تنزلی کا شکار رہتی ہے۔ جنرل راحیل نے قومی ترقی کیلئے سادگی سے ہنگامی بنیادوں پر جو کارنامہ انجام دیا ہے ،اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ جنرل زبیر حیات جوائنٹ چیف آف سٹاف کی حیثیت سے ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے قوم کے انتظام و انصرام میں حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے احساسات پیدا ہوں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے کمال ایمان سے کرپشن اور بدا نظامی کا راستہ روکنے میں اپنا کردار ادا کیا تو حضرت فاروق اعظمؓ نے بہترین انتظامی اجتماعی عدل وانصاف کا نظام کھڑا کرکے دنیا کی ہیت کو بدل ڈالا تھا۔ شارعِ فیصل کراچی کی ایک طرف فضائیہ اور دوسری طرف نیوی ہے۔ عوام کیلئے وسیع بہترین سڑکوں کی ابتداء کی جائے تو جنرل زبیرحیات اپنے عہدے کو بہت زبردست عزت بخش سکتے ہیں، شارع فیصل کے دونوں اطراف بہترین مارکیٹ، آفس، ہوٹل اور رہائش گاہوں سے فضائیہ اور نیوی کو بھی بڑی آمدن حاصل ہوگی۔ کراچی شہر کا حلیہ بھی بالکل بدل جائیگا۔ جب شہر کچرے سے کچراچی بن جائیگا تو سب کا نقصان ہوگا۔ پاک فوج نے کراچی کے امن کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے ہیں لیکن اندرون سندھ، پنجاب اور دوسرے شہروں کا بھی کوئی خاص مزہ نہیں ہے۔ جب پاک فوج بہترین طریقے سے بنیادی اقدامات اٹھائے گی تو دیرپا امن اور خوشحالی مقدر بنے گی۔
قومی اعزاز کیلئے ملک ریاض کا نام بھی اسلئے لیا کہ ان کے ذریعے بیرون ملک مقیم لوگ اپنے سرمایہ باہر سے پاکستان میں لگارہے ہیں۔جب تعمیری سوچ کو اعزاز کیساتھ بڑھایا جائیگا تو بہت کرپٹ لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے پاکستان لانے میں عزت محسوس کریں گے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں میں لوگوں کو توبہ کرنے اور اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے تو عوام میں تخریب کاری کی بجائے تعمیری سوچ کو پذیرائی حاصل رہتی ہے۔ باعزت روزگارسے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ ایک شخص ملک ریاض ملک کی تعمیر وترقی اور روزگار کی فراہمی میں اتنی بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں تو پاک فوج نے بھی اس میدان میں زبردست پیش قدمی کرنی ہوگی۔ جنرل زبیر حیات اپنے منصب کے لحاظ سے جو خدمات انجام دے سکتے ہیں وہ آرمی چیف کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ آرمی چیف بری فوج کا سربراہ ہوتاہے، نیوی اور فضائیہ کے سربراہوں کی حیثیت اسلئے نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کہ ان کا عملہ زیادہ نہیں ہوتاہے۔ جنرل زبیر حیات کو قسمت سے آرمی چیف بھی بڑے خاکسار، ملنسار اور بڑوں کیلئے مثالی تواضع وانکسار رکھنے والی شخصیت جنرل قمر جاوید باجوہ ملے ہیں جن کی ہرممکن مدد حاصل رہے گی۔قرضوں سے ملک نہیں چل سکتے۔ پاک فوج اپنی مدد آپ کے تحت بڑے ہی منافع بخش ، حوصلہ افزاء اور تعمیرملت کے بنیادی پروگرام میں بہترین حصہ لے کر دفاع کے بوجھ کو بھی اپنے کاندھوں پر اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ سے بالاتر پاک فوج کواپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کیساتھ طبقاتی کشمکش کے بجائے تعمیرِ ملت پر بھی اپنی توجہات مرکوز کرنی ہوگی اور مارشل لاء کی طرف جانے کے بجائے اپنی عوام سے مضبوط تعلقات مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔جنرل راحیل نے ساتھیوں کیساتھ جو بنیاد رکھ دی ہے اس پر تعمیرکی بہت ضرورت ہے ۔