گائے ہندوؤں کا کاروبار،ہندوستان میں گئو ماتا کی حقیقت اور پس پردہ حقائق

گائے ہندوؤں کا کاروبار

یہ جو لنگ چنگ کی باتیں تھیں تو ہمیشہ میرے من میں آتا تھا کہ یہ کہاں سے وہ راکشس پیدا ہوجاتا ہے کہ آپ کسی کو مارڈالتے ہو۔ تو میں گجرات میں قریب تین ساڑھے تین مہینے سے رفیق قریشی نام سے رہ رہا تھا اور پہلے احمد آباد میں جو کیٹل ٹریڈنگ کرتے تھے جو قصائی تھے ان کے ساتھ دوستی کی۔ پھر انہوں نے ہی مجھے یہ نام دیا رفیق قریشی، ، راجھستان میں الگ الگ گاؤں میں اور گجرات کے بھی بیسا میں ان غیر قانونی مویشی منڈیاں چلتی ہیں۔۔۔ میں نے خود32 ٹرکوں میں بیٹھ کر الگ الگ دنوں میں سفر کیا اور بیچ راستے میں کس طرح سے بجرنگ دل اسٹارچیکنگ کرتا ہے، گائے کا ٹرک اگر آپ کو لانا ہے تو ساڑھے 14یا 15ہزار روپے، بھینس کے ٹرک کے ساڑھے 6ہزار روپے ،بھیڑ کا ٹرک اگر لارہے ہو تو 5ہزار دینے پڑتے ہیں۔ اور وہ پالن پور میں چوہدری نام کے ہیں بجرنگ دل کے وہ یہ پورا نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ میں تیس بتیس ٹرک لایا تھا اور اس دوران میں ایک بار انکے پاس بھی گیا ان کو ملنے کیلئے کہ مجھے دھندہ بڑھانا ہے تھوڑے پیسے کم کرو۔ اور میں باقاعدہ اسکل کیپ پہن کر گیا۔ پٹھانی ڈریسزوغیرہ پہن کر ہی میں گھومتا اور رہتا تھا۔ تو میں انکے پاس چلاگیا کہ آپ تھوڑا سا فیس کم کرو مجھے دھندا بڑھانا ہے۔ وہ بولے کتنا کریگا؟۔ میں نے کہا میں روز 40 ٹرک لے کر آؤں گا۔ اور مجھے بمبئی تک لیکر جانا ہے۔ تو انہوں نے کہا نہیں نہیں میری ذمہ داری گجرات تک کی ہے آپ کو اگر بمبئی لے جانا ہے تو بلساڑ میں بابو بھائی ڈیسائی نام کا دوسرا شخص ہے ہمارا،اس کو مہاراشٹرا بارڈر کراس کرنے کیلئے الگ سے پیسہ دینا پڑیگا۔ اسکا ریٹ الگ ہے میرا بلساڑ تک کی ذمہ داری ہے۔ تو وہ آپ کو کرنا پڑیگا۔ اور انکا ایک رول ہے کہ چمڑا ان کو دینا پڑتا ہے۔ مطلب جانور کاٹنے کے بعد مفت میں چمڑا ان کو دینا ہے وہ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ میں نے ان کو یہ پوچھا کہ آپکے دھرم میں تو یہ الاؤ ہی نہیں تو انہوں نے کہا کہ تو ابھی آیا نا بیٹھ کر چائے پی تو میں اسکے سامنے بیٹھ گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے دھرم میں الاؤ نہیں تو میں نے کہا کہ آپ پھر یہ گائے کے چمڑے کا بیوپار کیوں کرتے ہو؟۔ وہاں دیوار پر لکشمی کی مورتی تھی، تو اس نے پوچھا یہ کیا ؟۔ میں نے کہا کہ کوئی بھگوان ہے۔ تو اس نے کہا کہ میں اس کی پوجا کروں یا چمڑے کی پوجا کروں؟۔ تو میں نے کہا کہ صاحب ہم بھی تو وہی چاہتے ہیں ہم کو بھی دو پیسہ مل جائیگا۔ تو اس نے کہا کہ تمہارا پیٹ بھرنے کیلئے اتنا کافی ہے جتنا مل رہا ہے نا!۔ اس سے زیادہ جو ہے وہ ہمارا ہے۔ پھر کافی باتیں اس نے بتائیں کہ روز ڈیڑھ کروڑ روپیہ پالن پور کے وہ جو امیر گڑھ کا چیک پوسٹ ہے وہاں پر روز ایک دن میں ڈیڑھ کروڑ روپیہ اکھٹا ہوتا ہے، عید کے بعد آنا تب شاید کچھ تھوڑا بہت کم کرینگے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ بیچ بیچ میں ہم کو لوگوں کو مارتے رہنا پڑتا ہے کیونکہ جب کسی کو مارتے ہیں تو دس پندرہ ہزار بیس ہزار لوگ ڈر جاتے ہیں اور وہ ڈر برقرار رکھنا ہے تو بیچ بیچ میں مارتے رہنا پڑتا ہے۔ تو تو اچانک الگ نمبر کے ٹرک میں ٹریول مت کر کہیں پھنس جائیگا ایک آدھ دن۔ میں نے کہا کیا کرینگے ،سر پیٹ بھرنے کیلئے تو کرنا ہی پڑیگا۔ جب تک زندہ ہیں تب تک یہ کرنا ہے، آپ نے اگر مار ڈالا تو کہاں پیٹ بھرنے کی نوبت آئیگی۔ تو یہ ساری باتیں ہوئی تھی، ہم سوچتے ہیں کہ گاؤ رکشا وغیرہ یہ دھرم کی باتیں وہ کرتے ہیں لیکن وہ بزنس ماڈل ہے اور اس بزنس ماڈل کی انوسٹمنٹ ڈر ہے۔ اور ڈر یہ انوسٹمنٹ بنیادی طور پر فاشزم کی انوسٹمنٹ ہے۔ چاہے آپ کسی بھی فیلڈ میں دیکھو۔ جو ڈی مونیٹرائزیشن کے بعد انہوں نے کہا تھا کی معاشی طور پر ہر آدمی کو گھٹنوں کے بل لاکر رکھ دیا اور آرچک آدھار پر کوئی بھی انسان گھٹنوں کے بل ٹک جاتا ہے تو وہ کسی بھی فاسی وادی حکم کو ماننے کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔ اور وہی ہم نے دیکھا کہ اسکے بعد کیا کیا ہوا، کچھ نہیں۔ اربن مڈل کلاس میں inferiority complex (احساس کمتری) ہوتا ہے، اربن مڈل کلاس کو ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ ہم دیش کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ تو ان میں یہ وہم پیدا کردیا کہ آپ لائن میں کھڑا ہوکر بہت کچھ دیش کیلئے کررہے ہو اور وہ کھڑے ہوگئے اور وہ کھڑے رہنے کی وجہ سے جب ہم جیسے لوگ criticise (تنقید) کرنے لگے تو وہ ہم کو گالیاں دینے لگے کہ بارڈر پر دیکھو کہ جوان کیسے مررہے ہیں؟ ہم چار گھنٹے لائن میں کھڑے نہیں رہ سکتے کیا؟۔ اور یہ اسلئے ہوتا ہے کہ انکا جو احساس کمتری ہے انہوں نے اس کو ٹریٹ کرنے کی کوشش کی اس کوسمجھانے کی کوشش کی۔ اور اسلئے یہ پورا اربن مڈل کلاس انکے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ یہ جاکر کوئی دیکھتا نہیں کہ واقعی میں یہ کیا ہورہا ہے یہ کس طرح سے ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں