اسلام عالم انسانیت کو فطری اختلاف سے نہیں روکتا اور یہی نظام خلافت ہے

جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو فرشتوں نے اعتراض اٹھایا کہ کیا آپ ایسی مخلوق کو زمین میں پیدا کریں گے جو فساد مچائے اور خون بہائے؟۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ قرآن میں معصوم فرشتوں کا اللہ سے اختلاف اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس پر سوال اٹھانا گستاخی، بے ادبی اور نا فرمانی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکو پیدا فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کو سجدہ کرو۔ سارے فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ابلیس نے حکم عدولی کی اور اس وجہ سے راندہ درگاہ کردیا گیا بلکہ ابلیس سے پوچھا کہ آپ نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟۔ ابلیس نے کہا کہ اے اللہ! تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اگر ابلیس کہتا کہ میں وہابی ہوں، تیرے سوا کسی اور کو کیسے سجدہ کروں؟ تو اللہ تعالیٰ اس کو راندہ درگاہ نہ کرتا۔ اگر ابلیس یہ کہہ دیتا کہ اے اللہ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور یہ میری کمزوری ہے کہ اوپر جاسکتا ہوں مگر نیچے نہیں جھک سکتا تو بھی اللہ تعالیٰ اس کی کمزوری کی رعایت کرتا۔ ابلیس کم عقل نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے اس کو آگ سے پیدا کیا ہے وہی اس کو حکم دے رہا ہے کہ مٹی سے بنائے گئے آدم کو سجدہ کرو، جس کو نورانی فرشتے بھی سجدہ کرنے سے انکار نہیں کررہے ہیں تو آگ کی کیا حیثیت ہے۔ اس کو تکبر نے ہلاک کردیا۔ جب تکبر نے آگ سے پیدا ہونے والے عزازیل کو ابلیس بنادیا تو یہ تکبر مٹی سے پیدا ہونے والے انسانوں کو کہاں سے کہاں پہنچائے گا؟۔ آج کے دور کے عزازیلوں کو سوچ سمجھ کر اپنا فیصلہ کرنا ہوگا۔
حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے بھی جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کردی لیکن انہوں نے تکبر نہیں کیا بلکہ عاجزی اور انکساری سے معافی مانگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے جد امجد حضرت آدم ؑ کی راہ پر چلنا ہے یا انہوں نے ابلیس کے راستے کا انتخاب کرنا ہے؟۔ مسلمانوں میں فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیادی وجہ قرآن کریم کی تعلیم سے دوری ہے۔ جب تک قرآن کے ان معاملات کی طرف اُمت مسلمہ نہیں آئے گی جن پر اتفاق رائے موجود ہے اور ان کی حیثیت آیات محکمات کی ہے تو جن آیات متشابہات پر اختلافات ہیں اور امت مسلمہ سیدھی راہ پر چلنے کے بجائے قرآن کریم میں یہود و نصاریٰ کی طرح و یبغونھا عوجا اور وہ اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مفتیان عظام سے دست بستہ اور بہت منت سماجت کے ساتھ عرض ہے کہ ہم سب سے پہلے قرآن حکیم کے ان احکام کی طرف اُمت کو متوجہ کریں جن کی وجہ سے چند مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالم انسانیت کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
موجودہ دور میں ریاستوں کا نظام رائج ہے۔ ریاست کو چلانے والے بادشاہ، ڈکٹیٹر اور جمہوری حکمران کی حیثیت عوام یعنی رعایا کی نہیں ایک روحانی باپ کی ہوتی ہے اور ریاست روحانی ماں ہوتی ہے۔ خوشحال ممالک میں حکمران، ریاست اور عوام الناس کی حالت قابل رشک ہوتی ہے۔ بدحال ممالک میں سب کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کے افراد ماں باپ اور اولاد اپنی خوشیوں کیلئے دن رات محنت کرکے ایک کرتے ہیں اور خوشحال گھر سب کو بہت اچھا لگتا ہے اسی طرح پورے ملک کی خوشحالی سے عوام، حکمران اور ریاست کی حالت زبردست بن جاتی ہے۔ ایک خوشحال ملک کی نیشنیلٹی لینے کیلئے ہرطرح کے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے پاکستان، ایران، افغانستان اور ہندوستان وغیرہ کے باشندے مررہے ہوتے ہیں۔ ہمارا خوشحال اور حکمران طبقہ ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے بڑا خرچہ کرتا ہے۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہمارے ممالک بھی یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں کہ خوشحال ممالک کے شہری بھی ہماری شہریت لینے کیلئے اسی طرح سے ترسیں جیسے ہمارے لوگ ان ترقی یافتہ ممالک کیلئے ترس رہے ہیں؟۔
سعودی عرب، ایران اور افغانستان میں اسلام کے نام پر حکومتیں بنائی گئیں مگر ان ممالک میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں تھا کہ اسلام کے ان علمبرداروں سے کوئی اختلاف کرسکے۔ جنت میں اللہ تعالیٰ سے فرشتوں نے بھی اختلاف کیا اور ابلیس نے بھی اختلاف کیا۔ جس حضرت آدم ؑ کو خلیفہ بنایا گیا تھا انہوں نے بھی حکم کی کھلی خلاف ورزی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خلافت کیلئے معصوم فرشتوں کا انتخاب نہیں کیا بلکہ جس نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اسی حضرت آدم ؑ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ اختلافات کی سب سے بڑی بنیاد یہ ہے کہ اہل تشیع حضرت علی کرم اللہ وجہ کو معصوم سمجھ کر خلافت کا حقدار قرار دیتے ہیں اور اہل سنت والجماعت تمام صحابہ کرامؓ اورخلفائے راشدینؓ کو معصوم نہیں سمجھتے مگر خلافت کا حقدار سمجھتے ہیں۔
قرآن میں بار بار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہے۔ جبکہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے علاوہ یہ بھی اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اولی الامر ہے اس کی بھی اطاعت کرو۔اور اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو۔ قرآن و سنت میں اولی الامر کی حیثیت حکمران کو دی گئی ہے اور خلفاء راشدینؓ اپنے اپنے دور میں وقت کے خلیفہ اور اولی الامر تھے۔ عوام الناس نے خلفاء سے مختلف معاملات میں اپنے اختلاف کا کھل کر اظہار بھی کیا ہے۔ اولی الامر سے اختلاف کا منہج اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس وقت سکھایا تھا جب رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس اولی الامر کی حیثیت سے حکمرا ن تھے۔
کفار اور منافقین میں خطرناک درجہ منافقوں کا تھا جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ عبد اللہ ابن اُبی منافقین کا سردار تھا۔ اس کے بیٹے سچے صحابیؓ تھے۔ نبی ﷺ نے ابن اُبی کی خواہش پر اپنا کرتا بھی کفن کیلئے دیا اور جنازہ بھی پڑھایا اور قبر پر اس کی مغفرت کیلئے دعا بھی فرمادی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس معاملے میں اختلاف کیا تھا۔ یہ فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے نہیں بلکہ اولی الامر کی حیثیت سے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو منافق کا جنازہ پڑھنے اور قبر پر کھڑے ہوکر اس کیلئے دعائے مغفرت سے منع فرمادیا۔ اگر اللہ تعالیٰ قرآن میں عبد اللہ ابن اُبی کی منافقت سے پردہ نہ اٹھاتا تو لوگ اس کو سب سے بڑا عاشق رسول کہتے کہ اس نے نبی ﷺ کا کرتا اپنے کفن کیلئے مانگا اور نبی ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور قبر پر مغفرت کیلئے دعا بھی فرمادی۔ نام نہاد عاشقان رسول کیلئے اس میں بڑی عبرت اور بڑا سبق ہے۔ تبرکات اور نبی ﷺ کی رحمۃ للعالمینی کے سہارے پر جینے والے رئیس المنافقین کی خواہشات اللہ تعالیٰ نے اسلئے خاکستر کردیں تاکہ اُمت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اور جو لوگ اس امید پر جیتے ہیں کہ ساری زندگی بیہودہ حرکتیں کریں اور آخر میں راہ راست پر آئیں تو وہ یہ گھمبیر واقعہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ ابن اُبی نے اپنی زندگی بھی اجیرن کر رکھی تھی اور مسلمانوں کو بھی تکالیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آج عبد اللہ ابن اُبی کی نہج پر چلنے والوں کو وقت سے پہلے توبہ کرنا چاہیے۔
غزوہ بدر کے بعد صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے مشورہ دیا کہ فدیہ لیکر قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے جبکہ حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے اسی کے ہاتھ سے اس کو قتل کروایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اکثریت کے مشورے پر فیصلہ فرمادیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹی سی اقلیت کی تائید فرمادی اور واضح کیا کہ ”نبی کیلئے مناسب نہیں کہ انکے پاس قیدی ہوں یہانتک کہ وہ خوب خون بہائیں تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اگر اللہ پہلے سے لکھ نہ چکا ہوتا تو تمہیں سخت عذاب دے دیتا۔“
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جمہور کے مقابلے میں اقلیت کی تائید کرکے قیامت تک کیلئے یہ سبق دیا ہے کہ ضروری نہیں کہ اقلیت کی بات کو نظر انداز کیا جائے۔ نبی ﷺ نے حکمران کی حیثیت سے فرمایا: میں جس کا مولیٰ (حکمران) علی اس کا مولیٰ۔ اور نبی ﷺ نے حدیث قرطاس میں ایک وصیت لکھ کر دینا چاہی لیکن حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے اللہ نے اختلاف کی نہ صرف گنجائش رکھی تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعے صحابہؓ کی تربیت بھی ایسی ہی کی تھی اور یہی منہج قرآن و سنت میں بہت واضح انداز کے ساتھ مختلف معاملات میں موجود ہے۔ اگر حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وصیت پر مسند اقتدار سنبھالا ہوتا تو تمام پیران طریقت اور علماء و مفتیان اپنے صاحبزادوں کو جانشین بناتے اور بیٹے نہ ہونے کی صورت میں اپنے دامادوں کو جانشین بناتے۔ اہلیت اور نا اہلیت کبھی نہ دیکھتے بلکہ سنت کا حوالہ دیتے۔ یہ اُمت مسلمہ نا اہل جانشینوں کی وجہ سے غرق ہوئی ہے۔ مجدد الف ثانیؒ نے تجدید دین کا کوئی دوسرا کارنامہ انجام نہیں دیا تھا بلکہ نا اہل جانشینوں کیخلاف آواز بلند کی تھی۔ عوام کے مال پر بنائے جانے والے مدارس، مذہبی و سیاسی جماعتیں اور خانقاہیں موروثی بنیادوں پر عوام کا بیڑا غرق کررہی ہیں۔ مولانا حکیم اختر کے نا اہل فرزند حکیم مظہر نے مولانا الیاس گھمن کی خلافت سلب کرنے کا اعلان اسی لئے کیا ہے کہ وہ گھمن صاحب کی صلاحیت سے خوفزدہ ہیں۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں ایک ایک پر نظر ڈالی جائے تو حدیث قرطاس کی اہمیت بہت واضح طور پر عوام کے سامنے آجائے گی جس کو چھپایا جارہا ہے۔
سید عتیق الرحمن گیلانی

اپنا تبصرہ بھیجیں